سید حسن بادشاہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ابوالبرکات سید حسن بادشاہ قادری سلسلہ قادریہ کے بڑے معروف مشائخ میں سے ہیں۔

ولادت[ترمیم]

آپ جمادی الآخر 1023ھ میں ٹھٹہ (سندھ ) کے مقام پر عارف کامل عالم اجل سید عبد اللہ صاحب المشہور ’’ صحابی رسول ﷺ‘ ‘ کے ہاں کے کتم عدم سے منصٔہ شہود پر جلوہ گر ہوئے ۔ جناب سید عبد اللہ صاحب حما سے بغرض تبلیغ و سیاحت سند ھ تشریف لائے تھے اور سلسلہ و رشد و ہدایت جاری فرما کر سرزمین ہندوستان کو قرآن و حدیث سے منور فرمایا۔ آپ کے والد عبد اﷲ شاہ صحابی کا مزار آج بھی سندھ کے مشہور و معروف شہر ٹھٹھہ کے قبرستان مکلی میں ہے ۔

القابات و خطابات[ترمیم]

آپ کو سیدحسن علاقہ ہائے کشمیر و پونچھ میں شاہ ابو الحسن اور صوبہ سرحد میں سید حسن بادشاہ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ اہل پشاور آپ کو ازراہ خلوص و عقیدت ’’ میراں سرکار ‘‘ کے دل پسند نام سے یاد کرتے ہیں۔ مؤخر الذکر نام حضور کی اس نسبت کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے جو آپ کوغوث اعظم کی ذات بابرکات سے ہے ۔

نسب[ترمیم]

برصغیر ہند و پاکستان، خصوصاً کشمیر و صوبہ سرحد کے معروف بزرگ ابوالبرکات سید حسن بادشاہ قادری کا سلسلۂ نسب غوثِ اعظم سید عبد القادر جیلانی ؒتک پہنچتا ہے ،

تعلیم و تربیت[ترمیم]

آپ کا گھر علم و حکمت اور تصوف و عرفان الٰہی کا دار العلوم تھا۔ آپ کا ماحول یاد الٰہی اور اتباع سنت نبوی ﷺ کی نورانیت سے جگمگا رہا تھا۔ اسی وجہ سے آپ نے اپنی خاندانی عظمت و شرافت علمی فضلیت اور فقر نبوت سے وافر حصہ پایا۔ آپ کی تعلیم و تربیت اپنے والد گرامی کے زیر سایہ ہوئی، چونکہ آپ کا گھر علم و فضل اور فقر و طریقت کا گہوارہ تھا لہٰذا آپ نے چھوٹی عمر میں ہی (یعنی 16برس کی عمر میں ) جملہ علوم درسیہ کی تکمیل کر لی۔ 17 برس کی عمر میں درس تدریس کا کام سنبھالا اس کے ساتھ ساتھ کمال استقامت و استقلال سے منازل سلوک و تصوف طے کرنے میں مصروف ہو گئے۔

بیعت و خلافت[ترمیم]

آپ اپنے والد محترم سید عبد اللہ سے سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت ہوئے تھے۔ نیز صاحب مجاز و معنعن بھی تھے۔ آپ کے سلسلہ عالیہ قادریہ کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس سلسلہ کے ہرایک فرد نے اپنے والد سے ہی فیض اور خرقۂ خلافت حاصل کیا۔ اور تمام فیوض باطنی کا اکتساب کیا۔ اس سلسلہ طیبہ کے سب کے سب افراد صاحب ولایت تھے۔ اور استقامت فی الدین میں درجۂ کمال تک پہنچے ہوئے تھے۔ دنیوی لحاظ سے بھی ایک بلند اخلاق، صاحب عزت و شرافت شہری تھے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے لے کر سید حسن اور اُن کے بعد اب تک سب کے سب افراد بفضلہ تعالیٰ صاحب کرامت تھے۔ اور آج تک ان کے مزارات، ان کی پاکیزہ زندگی اور عظمت کے شاہد ہیں۔ جہاں ہر وقت تلاوت قرآن مجید، درود شریف اور یادالٰہی ہوتی رہتی ہے۔ اور یہ سلسلہ عالیہ اسی طرح اللہ کے فضل و کرم اور حضورﷺ کی برکت سے اس وقت تک جارہ ہے۔ مؤرخ کشمیر مفتی سید محمد شاہ صاحب سعادتؔ ایک مرحمت نامہ میں تحریر فرماتے ہیں ’’ اپنے والد سید شاہ عبد اللہ صاحبؒ سے روحانی تعلیمات کا سرمایہ حاصل کیا‘‘۔ والد کے انتقال کے بعد آپ ریاضت و مجاہدہ اور مکمل خلوت کے لیے سات برس تک دریائے شور تشریف لے گئے، جب آپ کمالات ظاہری و باطنی سے مزین ہو گئے تو تبلیغ اسلام کے لیے ہندوستان کے کونے کونے کا سفر کیا۔ آپ کی کوششوں سے ہزاروں لوگ مسلمان ہوئے۔ غرض کہ تبلیغ کرتے کرتے پنجاب پہنچے۔ لاہور میں قیام فرمایا مگر آپ کو سید شیخ عبد القادر جیلانی کی طرف سے پشاور میں رہ کر کشمیر، ہزارہ، کابل، غزنی اور ہرات تک تبلیغ کرنے کا حکم ملا،

ورود پشاور[ترمیم]

1082ھ میں آپ پشاور پہنچے، پشاور سے ایک میل کے فاصلہ پر ایک قصبہ سلطان پور (حلقہ بگرام ) میں قیام کیا۔ سات سال تبلیغ کے بعد 1089ھ میں، ہزارہ اور پھر کشمیر روانہ ہوئے۔ آپ نے 1091ھ میں کشمیر پہنچ کر تشنگانِ ہدایت کو علومِ باطنی سے سیراب کیا۔ کشمیر سے واپس پشاور پہنچ کر چند ماہ آرام فرمایا اور پھر کابل کا سفر کیا۔ آپ نے سرزمین سرحد، پنجاب، افغانستان اور کشمیر کے تمام خطوں میں سلسلہ قادریہ کو عروج و کمال تک پہنچایا ۔

سفر کشمیر[ترمیم]

آپ نے اس تمام علاقہ کا مرکز پشاور کو بنایا اور تبلیغی سفر کے لیے نکلے، آپ نے 1089ھ میں جناب عنایت اللہ گجراتی کو صاحب مجاز کر کے یہاں کی خانقاہ کی تعلیم و تربیت کا تمام کام سپرد کر کے خود براستہ دھمتوڑ، پکھلی، ہزارہ کشمیر روانہ ہوئے۔ جناب مؤرخ کشمیر مفتی سعادت فرماتے ہیں کہ ’’ آپ نے 1091ھ میں کشمیر پہنچ کر تشنگان ہدایت کو علوم باطنی سے سیرات کیا۔ خواجہ عبد الرحیم قادری، میر افضل اندارابی، شاہ عنایت اللہ قادری وغیرھم حاضر ہو کر آپ کی توجہات اور فیوض رحمت سے بہرہ اندوز ہوئے۔ جناب علامہ وقت محمد افضل صاحب نے مرید ہو کر خرقہ خلافت بھی حاصل کیا۔ اس سفر میں بھی ابوالمکارم شاہ محمد فاضل ہم رکاب تھے۔ بقول سید غلام آپ چھ ماہ کشمیر رہے، تبلیغ، سخاوت، بخشش کا طریقہ جاری رکھا، لنگر جاری کیا۔ سینکڑوں غرباء، فقراء، عاجز، مسافر اور بے وسیلہ لوگوں کی خدمت کی۔ خواجہ بہا الدین متو اپنی کتاب بنام غوثیہ شریف میں فرماتے ہیں ۔’’ آپ کے لنگر سے چھ سو آدمی روزانہ پیٹ بھر کر کھانا کھاتے۔ اور جو مفلوک الحال ہوتے ان کو کپڑا بھی عنایت فرماتے۔ آپ کا اپنا ارشاد ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر اتنی نوازشیں کی ہیں اور اس قدر دولت مرحمت فرمائی ہیں کہ اگر تمام دنیا کے لوگ جمع ہو کر مجھ سے نفقہ طلب کر یں تو سب کودوں اور کسی قسم کی کمی نہ ہو۔ آپ کے اس جودو وعطا کو دیکھ کر صاحب تاریخ اعظمی (کشمیر ) فرماتے ہیں آپ کی بے لوث تبلیغ اسلام اشاعت سنت رسول انام ﷺ، یاد الٰہی، خدمت فقراء اور زہد وریاضت کی شہرت اتنی عام ہوئی کہ ہر طرف سے لوگ جوق در جوق آنے لگے۔ چھ ماہ کے بعد آپ نے واپسی کا قصد فرمایا۔ اپنی جگہ اپنے چھوٹے بھائی حضرت ابوالمکام سید شاہ محمد فاضل ؒ کو خلافت عطا فرما کر کشمیر میں مریدین کی تعلیم و تربیت اور تبلیغ کے لیے مقرر فرما کر پشاور واپس ہوئے۔

سفر کابل[ترمیم]

آپ نے کابل کا سفر تین بار کیا۔ ان تینوں سفروں میں صوفیا، علما، مشائخ اور فقرأ سے ملتے رہے۔ ہزار تشنگان ہدایت کو سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت کر کے عرفان الٰہی سے سیراب کیا۔ گورنر کابل امیر خان سلسلہ بیعت میں داخل ہوئے۔ دوسری بار گورنر کابل امیر خان کی دعوت پر کابل تشریف لے گئے۔ آپ نے تمام حکام کو جمع کر کے ان کووعظ و نصیحت فرمائی۔ شریعت اسلامیہ کی پابندی، غریبوں مسکینوں کے حقوق کی حفاظت، خصوصیت کے ساتھ غریب اور نادار طالب علموں کی اعانت کی ترغیب دی۔ بیواؤں اور یتیموں کے وظائف ان حکام سے مقرر فرمائے۔ آپ نے کابل میں بھی لنگر جاری رکھا۔ اس سفر میں آپ غزنی ہرات اور دوردراز مقامات پر بغرض تبلیغ تشریف لے گئے۔ تیسرا سفر بالکل تنہائی کا تھا۔ اس سفر میں صرف ان حضرات سے ملے جو منتہی سالک تھے اور جن کا مقصد اعلیٰ مقامات اور مدارج علیا طے کرنا تھا۔ البتہ لنگر بدستور سینکڑوں افراد کو روزانہ ملتا۔ یہ سفر صرف چند دن کا تھا۔ غرض کہ ان تمام سفروں میں آپ نے انتہائی پختہ عزم و یقین کے ساتھ تبلیغ اسلام فرمائی۔ قرآن مجید کی تعلیم عام کی۔ اشاعت سنت نبوی ﷺ کے لیے کوئی دقیقہ نہیں اٹھا رکھا اور سلسلہ عالیہ قادریہ کو اس عروج وکمال تک پہنچایا کہ آج جبکہ 267 برس آپ ؒ کو بیت چکے تھے سرزمین سرحد پنجاب، افغانستان اور کشمیر کے گوشہ گوشہ میں آپ کی روحانی تعلیم کے چشمے ابل رہے ہیں اور لوگ ان سے فیضیاب ہو رہے ہیں۔

شادی[ترمیم]

پشاور شہر کے قریب بطرف مغرب ایک گاؤں کوٹلہ محسن خان کے نام سے مشہور ہے۔ اس کے ایک بڑے خان نے جس کو وہ ’’ ارباب ‘‘ کہتے ہیں۔ اپنی صاحبزادی کی پیش کش کی، آپ نے قبول فرمایا۔ اس کے بطن سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک فرزند عطا فرمایا، جو اپنے کا محدث جلیل، فقیہ اعظم، شیخ الشیوخ بنا۔ ان کا نام سید زین العابدین ؒ تھا۔ اس شادی کے کچھ عرصہ بعد آپ نے موضع کنڑ کے صحیح النسب سادات گھرانے میں شادی کی خواستگاری کی یہ گھرانہ عظیم المرتبت ولی اللہ غوث خراسان حضرت سید علی ترمذی المعروف پیربابا کا گھرانہ تھا۔ یہ صاحبزادی جس کے ساتھ آپ کی شادی ہوئی حضرت پیر بابا کی پوتی تھی ۔

کرامات[ترمیم]

سید غلام فرماتے ہیں ’’ کرامات ایشاں مثل قطرات و مطرات لا یعدو لا یحصٰی است‘‘ یعنی آپ کی کرامات باران رحمت الٰہی کے قطروں کی طرح ان گنت اور بے شمار ہیں۔ جناب محدث جلیل شاہ محمد غوث فرماتے ہیں ’’خوارق عادات ازیں شاں سجدے ظہور یافتہ کہ تحریر آں دریں مختصر گنجائش ندارد‘‘ یعنی آپ کی کرامات اس حد تک ظاہر ہوئیں کہ ان کی تمام تفصیل اس مختصر مقالہ میں نہیں سما سکتیں۔ اولیاء کرام سے کرامات کا صدور ایک مستحسن امر۔ مگر اولیاء کرام نے ہمیشہ شریعت مطہرہ اور حضورﷺ کی سنت مبارکہ کو مضبوطی کے ساتھ پکڑا۔ ان کی زندگی کا مقصدہی اتباع سنت ہوتا ہے تاکہ اس کے ذریعہ قرب الٰہی حاصل کریں۔ دوسرے امور ان اولیاء کرام کی نظر میں ضمنی حیثیت رکھتے ہیں سید غلام صاحب ؒ فرماتے ہیں۔ آپ کا ایک خادم ہر وقت گذشتہ اولیاء کرام کی کرامتیں بیان کرتا اور پھر آپ سے کرامت طلب کرتا۔ آپ ؒ نے اس کو فرمایا۔ اے درویش کرامت کے درپے نہ ہو۔ یاد الٰہی میں ہمہ تن مشغول رہ۔ حضورﷺ کی سنت مطہرہ کی متابعت کر، کیونکہ نجات اسی میں ہے، لیکن وہ کرامت طلب کر تا رہا۔ اتفاق ایسا ہوا کہ آپ ’’ امر بالمعروف ‘‘ کے لیے دوآبہ (ہشتنگر ) تشریف لے گئے۔ راستہ میں دریا بہتا ہے جس کو بذریعہ کشتی عبور کرنا پڑتا ہے۔ آپ اس وقت ایک عراقی گھوڑے پر سوار تھے اور وہی خادم رکاب تھامے ہوئے تھے۔ جب آپ کشتی کے قریب پہنچے تو آپ نے گھوڑے کو لگام کھینچی، گھوڑا بجائے کشتی کے دریا میں کود گیا۔ وہ خادم جو رکاب تھامے ہوئے تھے دریا میں گر پڑا۔ تمام مرید اور معتقد گھبرا گئے کہ آپ مع خادم و سواری دریا میں غرق ہو گئے ہیں۔ لیکن تھوڑی دیر بعد آپ مع سواری اور خادم دریا کے دوسرے کنارے پر نظر آ گئے۔ اب حیرانی و تعجب کا عالم تھا۔ کوئی آپ کے قدم چومتا کوئی ہاتھ، آپ کے کپڑے گھوڑا اور خادم بالکل خشک تھے۔ آپ ؒ نے اس خادم کو فرمایا ’’یا عبد اللہ دیدی قدرت اللہ را‘‘ یعنی اے اللہ کے بندے اللہ تعالیٰ کی قدرت کا مظاہر دیکھ لیا۔ اس نے عرض کیا ہاں جناب، پھر آپ نے فرمایا کہ پہلے تو گذشتہ اولیاء کر کرامات بیان کرتا تھا اب اپنی آنکھوں سے یہ واقعہ بھی دیکھ لیا، مگر یہ بات یاد رکھنا ’’ یہ سب کچھ جو تم نے دیکھا اور سنا بچوں کا کھیل ہے۔ اصلی مقصد کچھ اور ہے۔ نیز سالک کے لیے یہ کرامات جتلانا باعث آفت ہے اور راہ سلوک میں بہت بڑی رکاوٹ ہے‘‘

وفات[ترمیم]

قطب الاقطاب سلطان العارفین غوث زماں ابوالبرکات سید حسن بادشاہ گیلانی قادری 21 ذی قعد 1115ھ بوقت وفات پائی۔ آپ کا مزار اقدس یکہ توت پشاور میں مرجع خلائق ہے، جہاں ہر سال عرس 21 ذیقعد کو منایا جاتا ہے۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تذکرہ علما و مشائخ سرحد جلد اوّل، صفحہ 49 تا 64،محمد امیر شاہ قادری ،مکتبہ الحسن کوچہ آقہ پیر جان یکہ توت پشاور