سید حسین الدین شاہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سیّد حسین الدین شاہ
ذاتی
پیدائش(1933ء)
مذہباسلام
والدین
سلسلہچشتیہ
مرتبہ
مقامراولپنڈی پاکستان
دورانیسیویں، بیسویں صدی
پیشروسید ضیاء الدین شاہ

سیّد حسین الدین شاہ اُستاذ العلماء، شیخ الحدیث، مصلح اُمت، محسن اہلسنت اور راولپنڈی کی معروف علمی و روحانی شخصیت ہیں۔

ولادت[ترمیم]

علامہ ابوالخیر سیّد حسین الدین شاہ بن علامہ سید ضیاء الدین شاہ 1933ء میں موضع سلطان پور ضلع اٹک (علاقہ حسن ابدال) کے ایک علمی و روحانی گھرانے میں پیدا ہوئے۔

تعلیم[ترمیم]

آپ نے فارسی کی مروجہ کتب سکندر نامہ تک اپنے عم مکرم سید حسن شاہؒ سے پڑھیں۔ قرآن پاک حافظ محمد صدیق (دربار شریف) اور اپنے والد گرامی کے شاگرد رشید مولانا حافظ عبدالغفور مہتمم جامعہ غوثیہ راولپنڈی سے اپنے گاؤں سلطان پور کیا۔درسِ نظامی کی تمام کتب متداولہ 1947ء سے 1953ء تک اپنے آبائی گاؤں سلطان پور، دار العلوم عزیزیہ بھیرہ اور دربارِ عالیہ گولڑہ شریف میں پڑھیں اور فنون میں آپ نے جن اساتذہ سے استفادہ کیا، ان کے اسماء گرامی یہ ہیں:

  • فقیہ العصر سید ضیاء الدین شاہ متوفیٰ1393ھ (آپ کے والد)
  • سیّد غلام محی الدین شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ رضویہ راولپنڈی (آپ کے برادرِ اکبر)
  • مولانا محب النبی ھاشمی متوفیٰ1396ھ
  • مولانا فریدالدین ھاشمی متوفیٰ1392ھ
  • مولانا خدا بخش بھیروی
  • مولانا محمود شاہ شاگردِ رشید مولانا لطف اللہ علیگڑھی
  • 1376ھ میں آپ نے محدثِ اعظم مولانا محمد سردار احمد سے جامعہ رضویہ مظہر اسلام فیصل آباد میں درسِ حدیث لے کر سندِ فراغت حاصل کی۔
  • علامہ محب النبی ھاشمی نے آپ کو خواجۂ خواجگان پیر سید مہر علی شاہ سے حاصل احادیث اور دیگر علوم کی اجازت بھی عطا فرمائی۔

بیعت و ارادت[ترمیم]

آپ نے خواجہ غلام محی الدین المعروف بابوجی (گولڑہ شریف) کے دست حق پرست پر بیعت کا شرف حاصل کیا۔ علاوہ ازیں رہبرِ شریعت پیشوائے طریقت علامہ ضیاء الدین مدنی نے آپ کو سلسلہ قادریہ میں بیعت کی اجازت عطا فرمائی۔

تدریسی زندگی[ترمیم]

آپ نے تدریسی زندگی کا آغاز 1953 میں دار العلوم عزیزیہ بھیرہ سے کیا اور شافعیہ اور سراجی تک کتب کی تدریس کی، اور اسی سال تدریس کے آغاز سے پہلے ختم نبوت کے لئے تین ماہ رجب شعبان رمضان شاہ پور اسیر رہے، دورۂ حدیث کے دوران چند ماہ سرگودھا میں جمعہ پڑھاتے رہے۔ اور چند ماہ پھلروان اور تقریباً دو سال گکھڑ منڈی میں خطبۂ جمعہ ارشاد فرمایا۔ 1956میں ایک سال مدرسہ رفیع الاسلام ملکوال تدریس کی اس کے علاوہ چار سال جامعہ غوثیہ مظہر الاسلام بھابڑا بازار راولپنڈی میں تدریسی فرائض سر انجام دیئے، 1958ء میں جامع مسجد فضل الٰہی المعروف مسجد سبزی منڈی راولپنڈی کے خطیب مقرر ہوئے۔ اور چند سال بعد 1964ء میں اسی مسجد میں عالم اسلام کی معروف دینی درسگاہ مرکز اہل سنت گلستان مہر علی جامعہ رضویہ ضیاء العلوم کی بنیاد رکھی جہاں کے طلبہ پاکستان اور بیرون ممالک میں دین کی خدمت میں مصروف عمل ہیں۔ آپ پیرانہ سالی کے باجود بھی اب بھی اس دار العلوم میں پڑھا رہے ہیں۔

دورہ جات[ترمیم]

علاوہ ازیں آپ تبلیغِ دین کے سلسلہ میں ملک کے مختلف حصوں خصوصاً آزاد کشمیر، ہزارہ اور اٹک میں تبلیغی دورے فرماتے ہیں۔ مئی 1978ء میں آپ نے جنوبی افریقہ کے مختلف شہروں ڈربن، جوہانسبرگ، اسکارٹ، لیڈی سمٹھ اور کیپ ٹاؤن کے علاوہ انگلینڈ میں چار ماہ کا تبلیغی دورہ کیا۔

تصنیفات[ترمیم]

1958ء میں آپ نے اولیائے کرام کے تصرفات کے موضوع پر ایک کتاب بنام ’’ہدیۃ الاحباب فی التصرفات ما فوق الاسباب‘‘ تحریر فرماکر چھپوائی۔

تحریک پاکستان[ترمیم]

تحریکِ پاکستان کے دوران میں اگرچہ آپ کا بچپن تھا، لیکن پھر بھی سنی گھرانے کے ایک فرد ہونے کی حیثیت سے آپ پاکستان کے قیام کی خاطر اپنی ہمت اور بساط کے مطابق کام کرتے رہے۔ آپ کے برادرِ اکبر سیّد عبدالرحمٰن شاہ اپنے علاقہ میں نیشنل گارڈ کے سالار تھے اور آپ بھی اس گارڈ میں شامل تھے۔

تحریک ختم نبوت[ترمیم]

تحریکِ ختمِ نبوت 1953ء میں جبکہ آپ تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ مختلف مقامات پر تحریک کے حق میں تقاریر کیں اور بھیرہ ضلع سرگودھا سے گرفتاریاں پیش کرنے والے قافلے کے امیر مقرر ہوئے، سرگودھا سے آپ نے گرفتاری پیش کی اور تحفظ ناموس مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر تین ماہ شاہ پور جیل میں پابندِ سلاسل رہے۔ تحریکِ ختمِ نبوت 1974ءمیں آپ مجلس عمل تحفظ ختمِ نبوت کی مرکزی مجلسِ عمل کے رکن رہے۔ پالیسی ساز اجلاسوں اور مختلف علاقوں کے جلسوں میں شرکت اور تنظیم سازی کے علاوہ آپ نے اپنے زیرِ اہتمام مرکزی راہنماؤں کے جلسے کرائے اور مختلف کتب خانوں سے مرزائیوں کی کتابیں مہیا کرکےاسمبلی مین پیش کرنے کے لیے قائدین کو مواد مہیا کیا۔ا س تحریک میں آپنے ملک بھر کے مشائخ کو بلاکر اپنے دار العلوم میں مشائخ کانفرنس منعقد کی اور مرزائیوں سے سماجی بائیکاٹ کی تائید کرکے تحریک کو تازہ کمک پہنچائی۔

تحریک نظام مصطفےٰ[ترمیم]

تحریکِ نظامِ مصطفےٰ میں آپ نے گرفتاریاں پیش کرنے کے لیے کارکن تیار کیے۔ اپنے دار العلوم جامعہ رضویہ اور جامعہ کے زیرِ اہتمام مساجد سے گرفتاریاں پیش کرائیں۔ اس طرح عملی طور پر راولپنڈی میں تحریک کو آگے بڑھا رہے تھے اور اس وقت جبکہ دیگر جماعتیں بالخصوص جماعتِ اسلامی کے پاس گرفتاریاں پیش کرنے کے لیے کارکن نہیں تھے۔ آپ کے طلبہ اور معتقدین نظامِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے نفاذ کے لیے گرفتاریاں پیش کر رہے تھے۔ ایوب خان کے دور میں جب ادارہ تحقیقاتِ اسلامی کے چیئرمین ڈاکٹر فضل الرحمٰن کی غیر اسلامی تحریرات پر پورا ملک سراپا احتجاج بن گیا اور اس کی برطرفی کا مطالبہ ہونے لگا، تو اس وقت کے وزیرِ قانون جناب ایس ایم ظفر سے علما کے ایک وفد نے ان کی کوٹھی پر ملاقات کی، اس موقع پر ڈاکٹر فضل الرحمان بھی موجود تھا۔ ڈاکٹر موصوف سے علامہ سیّد حسین الدین شاہ نے دو گھنٹے مناظرہ کیا، یہاں تک اسے اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنا پڑا اور اس کا یہ نتیجہ نکلا کہ ابھی یہ وفد گھر بھی نہ پہنچا تھا کہ ڈاکٹر فضل الرحمٰن کو برطرف کر دیا گیا۔

حج و عمرہ[ترمیم]

آپ نے دو مرتبہ 1962اور 1976ء میں حج بیت اللہ شریف اور زیارت روضۂ مطہرہ کا شرف حاصل کیا۔ 1978ء میں افریقہ اور انگلینڈ کے تبلیغی دورے کے دوران میں آپ نے دو مرتبہ عمرہ اور زیارت کی سعادت حاصل کی۔

آپ کچھ عرصہ جمعیت علما پاکستان کے مرکزی مجلسِ عاملہ کے ارکان رہ چکے ہیں۔ اب آپ تنظیم المدارس (اہل سنت) کے صوبائی ناظم (برائے صوبہ پنجاب، سرحد اور آزاد کشمیر) اور مرکزی جماعتِ اہل سنّت کے نائب ناظم اوّل بھی رہے اور 2003ء سے تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان کے سرپرست اعلی ہیں۔ [1][2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تعارف علماء اہل سنت ص 94، محمد صدیق ہزاروی، مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ لاہور
  2. تعارف علماِ اہلسنت