سید حسین بلگرامی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سید حسین بلگرامی
معلومات شخصیت
پیدائش 18 اکتوبر 1842  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
گیا ضلع  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 3 جون 1926 (84 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
حیدرآباد، دکن  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ سیاست دان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان انگریزی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر

نواب سید حسین بلگرامی، عماد الملک بہادر، سی ایس آئی (1842ء تا 1926ء)[1][2][3] ایک بھارتی سول سرونٹ، سیاست دان، ماہر تعلیم اور آل انڈیا مسلم لیگ کے ابتدائی رہنماؤں میں سے ایک تھے۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

سید حسین بلگرامی 1844ء میں سادات بلگرامی کی نسل سے گیاہ میں پیدا ہوئے اور کلکتہ کے پریذیڈنسی کالج سے تعلیم حاصل کی۔ 1864ء میں ان کی شادی ہوئی اور ان کے چار بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔

کیریئر[ترمیم]

لکھنؤ کے کیننگ کالج میں 1866ء سے 1873ء[1] تک کے طویل عرصے تک عربی پروفیسر کے عہدے پر فائز رہنے کے بعد انہوں نے حیدرآباد کے نظام[2] کی خدمت سنبھالی۔ وہ سر سالار جنگ کی وفات تک اس کے پرائیویٹ سیکرٹری رہے۔ اس عرصہ میں سر حسین بلگرامی نے سر سالار جنگ کے ساتھ انگلستان کا ایک یادگار سفر بھی کیا جہاں انہیں ملکہ وکٹوریا سے ملنے اور ان سے بات کرنے کا موقع ملا اور دوسرے ممتاز افراد جیسا کہ ڈسرائیل ، گلیڈسٹون، لارڈ سیلسبری، جان مارلے و دیگر کے ساتھ بھی ملاقات ہوئی۔[4]

بعد ازاں وہ حیدرآباد نظام کے پرائیویٹ سیکرٹری کے طور پر مختلف کام سر انجام دیتے رہے۔ 1887ء سے 1902ء تک انہیں نظام حکومت کی طرف سے عوامی مشاورتی ادارے کا ڈائریکٹر تعینات کیا گیا۔ 1991ء سے 1902ء میں وہ یونیورسٹی کمیشن کے ایک رکن تھے۔ اس کے بعد جلد ہی انہیں 1907ء سے 1909ء میں انہیں ریاستی کونسل کے سیکرٹری اور امپیریل قانون ساز کونسل کا رکن بنا دیا گیا۔ خرابی صحت کے باعث 1907ء میں وہ نظام کی خدمات سے ریٹائر ہو گئے۔[1]

ان کا سب سے اہم کام ماہر تعلیم کے طور پر تھا۔ انہوں نے ایک تعلیمی ادارے کی بنیاد رکھی جو آگے چل کر نظام کالج کہلایا۔ 1885ء میں انہوں نے لڑکیوں کے لیے ایک اسکول قائم کیا جو بھارت میں اس قسم کا پہلا اسکول تھا۔ تین صنعتی اسکولوں (تاکہ زوال پزیر صنعتوں کو دوبارہ ابھرنے کا موقع مل سکے) کے قیام میں ان کا کلیدی کردار رہا جس کے لیے انہوں نے مقامی صنعتوں کے تین بڑے مراکز اورنگ آباد، حیدرآباد اور ورانگل کا انتخاب کیا۔ انہوں نے ایک ریاستی لائبریری بھی قائم کی۔[5]

اپنی خدمات کے لیے انہیں نواب علی خان بہادر، موتامن جنگ، عماد الدولہ اور عمادالملک کے القاب سے نوازا گیا اور برطانوی راج کے لیے ان کی خدمات پر بھارتی حکومت نے انہیں سی ایس آئی سے نوازا۔[4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ The Indian Biographical Dictionary۔
  2. ^ ا ب Francis Robinson۔ Separatism Among Indian Muslims: The Politics of the United Provinces۔ Cambridge University Press۔
  3. Eminent Mussalmans۔ G. A. Natesan Publishers, Madras. India۔
  4. ^ ا ب "Eminent Mussalmans"۔ archive.org۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2016-03-29۔
  5. "Eminent Mussalmans"۔ archive.org۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2016-03-29۔