سید ذاکر رضا چھولسی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بارہ امامی شیعہ عالم
سید ذاکر رضا چھولسی
سید ذاکر رضا چھولسی

معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش 1 دسمبر 1970(1970-12-01)
رہائش فرخ آباد، ہندوستان
قومیت
نسل بھارتی
مذہب اسلام
فرقہ اثناعشری شیعہ
عملی زندگی
تعليم اسلامیفقہ و اصول فقہ
پیشہ عالم ؛ اسلامک اسکالر
ویب سائٹ
ویب سائٹ پیام اسلام ؛ Payam-e-Islam

مولانا سید ذاکر رضا رضوی چھولسی صاحب قبلہ، دور حاضر کے باصلاحیت علمائے اعلام میں سے ایک ہیں۔ آپ مذہبی ادارہ پیام اسلام فاؤنڈیشن کے بانی و مؤسس ہیں۔

اجمالی تعارف[ترمیم]

مولانا سید ذاکر رضا چھولسی کا آبائی وطن ایران کا شہر سبزوار تھا، سبزوار سے آپ کے آباؤ اجداد ہجرت کر کے ہندوستان آئے تھے؛ سید علی سبزواری کے بیٹے سید علی اصغر سبزواری جن کا مزار چھولس سادات کی کربلا میں واقع ہے، یہی سادات چھولس کے مورث اعلیٰ شمار کیے جاتے ہیں۔ آپ کی ولادت 1 دسمبر 1970 ء میں چھولس سادات کے ایک متدین گھرانہ میں ہوئی۔[1]. مولانا ابتدائے زندگی سے آج تک تبلیغ و تشہیر اور درس انسانیت میں مشغول ہیں۔ آپ مولانا سید غافر رضوی چھولسی صاحب قبلہ کے برادر حقیقی ہیں اور آپ کے والد گرامی قدر کا اسم شریف جناب سید احسن رضا رضوی صاحب ہے۔ مولانا کی پیدائش کے وقت چھولس سادات کا ضلع بلند شہر تھا لیکن حال حاضر میں اس بستی کا ضلع گوتم بدھ نگر (نوئیڈا) ہے جس کو خلاصہ کے طور پر جی بی نگر بھی کہا جاتا ہے۔ مولانا نے تشہیر انسانیت کی خاطر پیام اسلام فاؤنڈیشن نامی وبلاگ، یوٹیوب چینل اور فیس بک کا پیج بھی بنایا ہے اور اس کے علاوہ مسجد و منبر بھی مولانا کے لیے تشہیر انسانیت کا وسیلہ قرار پائے ہوئے ہیں۔[2] [3] [4] [5]. موصوف کا شمار علمائے چھولس سادات میں ہوتا ہے۔ مولانا کا تذکرہ چھولس سادات کی لکھی ہوئی منظوم تاریخ میں بھی ملتا ہے، یہ کتاب اردو میں لکھی گئی ہے اور اس کے مؤلف جناب جمیل اختر رضوی صاحب چھولسی مرحوم ہیں۔[6]

تعلیمی دور[ترمیم]

مولانا نے ابتدائی تعلیم اپنے وطن چھولس سادات میں ہی حاصل کی اور کلاس پنجم تک وہیں تحصیل علم میں مشغول رہے آپ نےسنہ1983ء میں کلاس پنجم کی سند ممتاز درجہ کے ساتھ حاصل کی ۔ پھر جولائی سنہ1983ء میں صنف روحانیت میں اضافہ کی خاطر ناصریہ عربی کالج جونپور کے لیے عازم سفر ہوئے؛ آپ نے اس مدرسہ میں دو سال تعلیم حاصل کی اور سنہ1985ء میں جامعہ باب العلم نوگانواں سادات کا عزم کیا۔ سنہ1985ء سے سنہ1994ء تک باب العلم نوگانواں سادات میں زیرتعلیم رہے۔ باب العلم میں رہتے ہوئے ہی سنہ1990ء میں آپ نے اردو ایم اے کا فارم بھرا اور آگرہ یونیورسٹی سے ایم اے اردو کی ڈگری حاصل کی۔[7].

تعلیمی اسناد[ترمیم]

آپ نے جامعہ اردو علی گڑھ سے اس کی تمام ڈگریاں حاصل کیں یعنی ادیب سے لیکر معلم تک کی تمام اسناد آپ کی صلاحیت کا منھ بولتا شاہکار ہیں؛ اسی طرح الہ آباد عربی فارسی بورڈ سے آپ نے منشی سے لیکر فاضل تک کی اسناد حاصل کیں۔ آپ نے کون سے سنہ میں کون سی ڈگری حاصل کی اس کی تفصیلات مندرجہ ذیل ہیں:

عربی فارسی بورڈ الہ آباد سال جامعہ اردو علی گڑھ سال آگرہ یونیورسٹی سال ٹیچنگ سال
منشی 1987ء ادیب 1985ء ایم اے اردو 1992ء ٹی ای ٹی 2013ء
مولوی 1988ء ادیب ماہر 1987ء
کامل 1989ء ادیب کامل 1988ء
عالم 1990ء معلم 1996ء
فاضل فقہ 1992ء
فاضل طب 1993ء
فاضل ادب 1996ء

۔[8]

تبلیغی سرگرمیاں[ترمیم]

مولانا ذاکر رضا رضوی صاحب اپنے اعتبار سے اپنی تعلیمات مکمل کرنے کے بعد ترویج انسانیت اور دین انسانیت کی تشہیر میں مشغول ہو گئے۔ سنہ 1995ء سے سنہ 1998ء تک قصبہ بڈولی سادات ضلع مظفر نگر میں خدمت خلق انجام دی۔ سنہ 1999ء سے سنہ 2000ء تک خورجہ میں سرگرم عمل رہے۔ سنہ 2000ء سے سنہ 2017ء تک شمس آباد ضلع فرخ آباد صوبہ یوپی میں امام جمعہ و الجماعت اور ایک برجستہ خطیب کی حیثیت سے پہچانے جاتے رہے اس کے ساتھ ساتھ آپ ایک بہترین استاد بھی ہیں آپ نے شمس آباد میں تدریس کے فرائض بھی انجام دئے۔ اسی عرصہ میں آپ نے سرکاری ٹیچنگ میں درخواست دی اور اختبار و مصاحبہ نیز انٹرویو وغیرہ کے بعد آپ کو سرکاری ٹیچنگ میں قبول کر لیا گیا اور آپ نے سنہ 2017ء میں اردو سرکاری ٹیچنگ کو جوائن کیا۔ آپ کی سروس فتح گڑھ ضلع فرخ آباد میں تعیین ہوئی۔ آپ فتح گڑھ میں سرکاری ٹیچر کے علاوہ ایک امام جماعت اور برجستہ خطیب کے عنوان سے بھی پہچانے جاتے ہیں یعنی سرکاری ٹیچنگ کے باوجود خود فتح گڑھ کی داخلی امامت موصوف نے اپنے ہی ذمہ لے رکھی ہے۔[9] [10]۔

شجرہ چھولس سادات[ترمیم]

مولانا موصوف نے اپنے والد گرامی جناب سید احسن رضا رضوی صاحب کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے چھولس سادات کا شجرہ بھی آمادہ کیا یعنی جناب آدم سے لے کر اپنے بچوں تک کے افراد کا شجرہ آمادہ کیا ہے۔ اس شجرہ کا مقصد یہ ہے کہ آنے والی نسلیں اپنے شجرہ اور اپنی گزشتہ پشتوں سے واقف رہیں۔ شجرہ کے آخر میں موصوف نے یہ بھی گزارش کی ہے کہ ہمارے بعد آنے والی نسلیں اس سلسلہ کو آگے بڑھاتی رہیں تاکہ اپنے آباؤ اجداد کی معرفت حاصل ہوتی رہے۔ اس شجرہ پر مولانا سید غافر رضوی چھولسی صاحب قبلہ (اسلامک ریسرچ اسکالر دہلی) نے نظر ثانی کی ہے اور یہ شجرہ پیام اسلام فاؤنڈیشن نے شائع کیا ہے[11] ۔ یہ شجرہ اسی صفحہ پر بیرونی روابط میں موجود ہے، شجرہ چھولس سادات ۔ Shajra Chholas Sadat پر کلک کریں اور شجرہ کا مطالعہ کریں۔

شاعری و سخنوری[ترمیم]

مولانا کا شمار اپنے زمانے کے بہترین شاعر وں میں ہوتا ہے۔۔ آپ نے بے شمار نوحہ جات، مراثی قصائد، فضائل و مناقب اور بہت سی نظمیں، تحریر کی ہیں۔ آپ نے ویسے تو بہت سے نوجات لکھے مگر نوحہ "بابا علی علی" بہت مقبول ہوا۔ جسے انجمن عباسیہ (عباس نگر چھولس سادات) کے نوحہ خواں "مرحوم عروج چھولسی" نے اپنی بہترین آواز میں پڑھا تھا۔ آج کل یہ نوحہ مرحوم کی آواز میں یوٹیوب پر بھی دستیاب ہے۔[12]. موصوف کے بہت سے اشعار ہمیں حالات حاضرہ پر بھی ملتے ہیں جن میں سے چار مصرعے آیت اللہ باقر النمر کی شہادت پر آپ نے کہے تھے۔۔۔۔

قطعہ حالات حاضرہ
حسین، لے گئے جنت میں انکو اے ذاکرؔ
شہید جتنے ہوئے ہیں جناب نمر کے ساتھ
جو ظلم کرتے ہیں مظلوم پر ، یزیدی ہیں
بروز حشر وہ ہوں گے یزید و شمر کے ساتھ
 آپ نے بہت سی دعاؤں  کا منظوم ترجمہ بھی کیا ہے جس میں سے ایک ترجمہ "دعائے توسل منظوم" انشاء اللہ بہت جلد منظر عام پر آنے والا ہے۔[13]

ادارہ پیام اسلام اور مولانا[ترمیم]

اس جدید ترین ٹیکنالوجی کے دور میں نوجوان نسل دین اسلام سے دور ہو رہی ہے۔ اسی کو مد نظر رکھتے ہوئے مولانا نے مارچ 2014 میں  ادارہ "پیام اسلام فاؤنڈیشن"  کی بنیاد ڈالی۔ جس کے ذریعے تعلیماتِ اہلبیت کو مثبت انداز میں نوجوان نسل کے لیے با آسانی فراہم کیا جائے۔ 

اسی لیے مولانا نے اس ادارہ کے ذریعہ انٹر نیٹ سہولیات فراہم کیں تاکہ دنیا کے سامنے اسلام کا حقیقی چہرہ پیش کیا جاسکے اور گمراہ فکر افراد کو راہ نجات پر گامزن کیا جاسکے حالانکہ یہ کام ہر انسان کا فرض ہے لیکن ہر انسان اس فرض کو ادا نہیں کرپاتا ہے البتہ جو شخص اس ذمہ داری کو محسوس کرلیتا ہے وہ اس راہ میں قدم اٹھاتا ہے اور پیام اسلام فاؤنڈیشن بھی اسی کی ایک مثال ہے جو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے آگے بڑھ رہا ہے۔[14]


حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

|٭| پیام اسلام |٭| -- |٭| شجرہ چھولس سادات ۔ Shajra Chholas Sadat |٭| -- |٭| بزم اھلبیت |٭| -- |٭| سوانح عمری مولانا |٭| -- |٭| مولانا کا یوٹیوب چینل |٭| -- |٭| بزم ضیاء |٭| -- |٭| افکار ضیاء |٭| -- |٭| اخبار ضیاء |٭| --