سید راحت حسین رضوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

آیت الله العظمی علّامہ سید راحت حسین رضوی گوپالپوری، ہندوستان کے ایک شیعہ عالم دین، مجتہد اور مرجع تقلید تھے ـ صوبہ بہار میں گوپال پور ضلع سیوان کے رہنے والے تھے ـ

ولادت[ترمیم]

آپ کی ولادت 5 رجب المرجب سنہ [[1297 ہجری]] میں ہوئی جو تاریخ ولادت امام علی النقی علیہ السلام ہے ـ آپ کے والد کا نام طاہر حسین تھا ـ

تعلیم[ترمیم]

ابتدائی تعلیم پانچ سالگی میں شروع کیا. اردو کی کتابیں اپنے مانموزاد بہائی جناب مولوی سید سخاوت حسین صاحب مرحوم سے پڑہیں اور فارسی کی کتابیں اپنے چچازاد بہائی جناب مولوی سید امیر حسین صاحب مرحوم سے. اس کے بعد موضع کجهوه ضلع سارن میں عربی کی ابتدائی کتاب میزان الصرف اپنے نسبتی بہائی جناب عالم با عمل فاضل کامل اورع عصر سید با خدا جناب مولانا سید حسن صاحب قبلہ مرحوم یعنی والد فخر الحکماء سید علی اظہر صاحب قبلہ سے صرف میر تک پڑهکر درحالیکہ نیچے کی کتابیں سب زبانی حفظ تهیں 11 ماه رجب المرجب سنہ 1312 ہجری کو بغرض تحصیل علم حسین آباد ضلع مونگیر میں جناب مولانا سید محمد ضامن صاحب قبلہ مرحوم کے ساتھ وارد ہوئے- 16 شوال المکرم 1312ھ تک یہاں قیام کرکے نحو میر کو پوری اور شرح مأة عامل کو حتی حرف جرّ تک پڑها لیکن یہاں کی تعلیم کو ناکافی پاکر 17 شوال مذکور کو مظفرپور چلے گئے وہاں مسجد محلہ کمره میں قیام کیا اور شرح مأة عامل کا ایک سبق جناب علامه فاضل مولانا سید عابد حسین صاحب قبلہ سے جو علوم عربیہ میں ماہر تهے پڑها اور ایک سبق اسی کتاب کا جناب نواب محمد تقی صاحب سے اور کتاب کو مدرس مولوی سید خالق بخش سے مکمل کرکے 17 ذی الحجه 1312ھ بغرض عزاداری سید الشهداء امام حسین علیہ السلام وطن آئے. بعد عاشور پهر واپس جاکر هدایة النحو کا ایک سبق مولانا سید عابد حسین صاحب کی خدمت میں اور ایک سبق اس کا اور ایک سبق کتاب ابواب الجنان کا جناب عالم عامل فاضل کامل صاحب لواجع الاحزان و مواعظ المتقین جناب مولانا سید محمد مہدی صاحب قبلہ کی خدمت میں شروع کیا اور مرحوم ہی سے شرح جامی اور شرح تهذیب تک پڑهکر بعد 1315ھ میں شرائع الاسلام اور میبدی اور معالم الاصول کو مولانا سید عابد حسین قبلہ سے پڑھا اور حسابیات کو نواب محمد جان سے سیکهی اور قرائت کو جناب قاری مرزا محمد صاحب سے سیکهی اور بعد میں مدرسه ایمانیہ مظفرپور مین جناب نظیر حسن صاحب کے پاس مختصر المعاني شروع کی اور شرح لمعہ کتاب الحج تک اونکے خدمت میں پڑھا اور کتب تفاسیر و احادیث کو خود سے مطالعہ کرتے رہے اور مسائل طبی کی کتابیں اس طرح مطالعہ کیا کے اکثر مسائل طبی پر مسلط ہو گئے اور امراض کے نسخہ کو تجویز کرنے پر قادر ہو گئے۔ سنہ 1319ھ میں بغرض تحصیل علوم لکہنؤ کا سفر کیا اور مدرسہ سلطان المدارس میں نام لکهوایا اور چوںکہ امتحان کا وقت قریب اور سلسلہ تدریس بند ہوچکا تها اور کتب الحج کے مباحث یلد تهی لہذا امتحان میں. شرکت کی اور دوسرے نمبر پر فائز آئے اور اسکےبعد بفضل خدا جب تک لکہنؤ میں قیام رہا آپ اول نمبر میں کامیاب ہوتے رہے. اس امتحان کے بعد جناب حجۃ الاسلام و آیۃ اللہ فی الانام باقر العلوم مولانا سید محمد باقر صاحب اعلی الله کے خدمت میں شرح لمعہ اور جناب جلالت مآب عالم جلیل مولانا سید ظہور الحسن صاحب سے حماسہ اور متنبی اور مطول شروع کیا. تین مہنے بعد بیمار ہوئے اور وطن واپس چلے آئے اور صحت و سلامتی کے بعد اپنے استاد سید عابد حسین کے بعد مدرس دوم مقرر ہوئے اور تا قیام لکہنؤ مولانا سید محمد باقر سے شرح لمعہ تا کتاب المیراث اور قوانین کو تا مبحث اوامر اور نہج البلاغہ کو ان کی خدمت میں پڑهی اور شرح تجرید کو مولانا عابد حسین سے پڑھا.

بعض اہم اساتيد[ترمیم]

. کچھ اساتذہ جن سے کسب فیض کیا :

سفر عراق[ترمیم]

ستائیس برس کی عمر میں سنہ 1324ھ میں بغرض تکمیل علم فقہ و اصول نجف اشرف روانہ ہوئے، ـ اور وہاں کے نامی فقہا کے سامنے زانوئے ادب تہ کیا، ـ ان فقہا میں سے بعض کے اسماء گرامی یہ ہیں :

آپ کے درس اجتہاد (خارج) کے اساتذہ حسب ذیل ہیں :

  • محمد کاظم خراسانی
  • فتح اللہ اصفہانی (شیخ الشریعہ)

ان تمام اساتذہ سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ اجتہاد کے بلند مرتبہ پر فائز ہو گئے ـ

ہندوستان مراجعت[ترمیم]

سنہ 1334ھ میں وقت کے اکثر فقہا سے اجازہ اجتہاد لے کر آپ ہندوستان واپس آئے ـ اور تبلیغ دین کے ساتھ ساتھ تصنیف و تالیف میں مشغول ہو گئے ـ

ایک زمانے میں لکھنؤ میں مدرسۃ الواعظین کی مدیریت کے فرائض بھی انجام دیے ـ

عمر کے آخری حصہ میں آپ اپنے وطن گوپالپور واپس آ گئے ـ

علمی حیثیت[ترمیم]

علامہ شیخ آقا بزرگ تہرانی نے آپ کو عالم جلیل اور فقیہ کامل کہہ کر یاد کیا ہے ـ [1]

آپ بلطف خدا منطق کلام فلسفہ ادب ہیئت تفسیر حدیث طب درایت رجال فقہ اور اصول مین پوری مہارت رکہتے تهے.

آپ اپنی جامعیت کی وجہ سے عراق میں بهی بہ نسبت اپنے ہمچشم اور ہمدرس طلاب عرب و عجم و ہندی کے بہت زیاده ممدوح و ممتاز رہے.

چودہویں صدی کے علماِ ہندوستان میں سے سوائے چار بزرگوں کے کوئی پانچواں نہیں ہے جو ہندوستان سے کافی فضل و کمال حاصل کرنے کے بعد عراق میں نو دس سال قیام کر کے شرح لمعہ اور قوانین سے لیکر آخر کتب درسی تک دوباره اور پوری ختم کیا ہو اور چھ سات سال درس خارج پڑهکر ہندوستان واپس آیا ہو. ایک مولانا سید امجد حسین صاحب اعلیٰ اللہ مقامہ جو سب سے پہلے مشرّف ہوئے اور دوسرے جناب مولانا باقرالعلوم سید محمد باقر رضوی علیہ الرحمہ و الرضوان اور تیسرے مولانا سید سبط حسین صاحب جو خاندان اجتہاد سے ہیں اور چوتهے جناب مولانا سیّد راحت حسین صاحب قبلہ گوپالپوری.

تالیفات[ترمیم]

آپ نے صدقہ جاریہ کے عنوان سے آنے والی نسلوں کے لیے اردو زبان میں بہت سی اہم کتابیں تالیف کیں، ـ ان میں سے بعض کتابوں کے نام یہاں پیش کیے جا رہے ہیں :

1: تفسیر انوارالقرآن : یہ تفسیر صرف سورہ آل عمران تک ہے جو کسی زمانے میں رسالہ الشمس میں قسط وار شائع ہوا کرتی تھی ـ اس تفسیر کو مکمل کرنے کے لیے آپ کی عمر وفا نہ کرسکی ـ یہ تفسیر ہندوستان میں لکھی جانے والی واحد ایسی تفسیر ہے جس میں مختلف عناوین جیسے صرف و نحو، تفسیر از نظر اہلسنت، تفسیر از نظر شیعیت کے تحت ہے۔ افسوس صرف ایک بار شائع ہوئی اور اب کافی عرصے سے نایاب ہے

شیخ آقا بزرگ تہرانی نے اس تفسیر کا تذکرہ اپنی مشہور کتاب الذریعۃ الی تصانیف الشیعۃ میں کیا ہے ـ [2]

2: الانتصار فی حرمۃ وطیء الادبار

3: غنا اور اسلام

4: نماز میں ہاتھ باندھنے کا حکم

5: سبیل الھدی (علم اور علما کی فضیلت میں)

6: مختصر القواعد (علم نحو پر مشتمل)

7: رفع الالتباس عن سند زیارۃ الناحیۃ

8: قاطع اللجاج فی میراث الازواج [3][4]

9: مرشد امت : جس میں حدیث سيكون بعدي اثنا عشر خليفة کے بارے میں بحث كی ہے

اولاد[ترمیم]

اللہ نے اپکو چار فرزند عطا کیا جو سب کے سب اپنے وقت کے بڑے علما میں شمار ہوتا تھا ١. آیۃ اللہ سید محمد صاحب ٢. آیۃ اللہ سید علی صاحب صاحب تفسیر رموز التنزیل و فرقہ ناجیہ (مقیم اترولہ) 3. حجۃ الاسلام و المسلمین سید محسن صاحب پرنسپل مدرسۃ الواعظین

وفات[ترمیم]

ماہ رمضان سنہ 1376ھ میں آپ کی وفات ہوئی ـ [4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. نقباء البشر فی القرن الرابع عشر، ج: 2، ص: 716
  2. الذریعۃ الی تصانیف الشیعۃ، ج: 2، ص: 438
  3. نقباء البشر فی القرن الرابع عشر، ج: 2، ص: 717
  4. ^ ا ب موسوعۃ طبقات الفقھاء (جعفر سبحانی)، ج: 14، ص: 254

توشه آخرت رساله عملیه آیت‌الله العظمی سید راحت حسین بقلم‌ استاذ الاساتیذه سید رسول احمد رضوی گوپالپوری