سید شاہ جمال اولیاء

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سیدنا شیخ جمال الاولیاء (سید شاہ جمال اولیاء)
پیدائش 973ھ
وفات 1047ھ
رہائش کوڑہ جہان آباد ، ضلع فتح پور، اتر پردیش، بھارت
مضامین بسلسلہ

تصوف

Maghribi Kufic.jpg

پیدائش سے قبل بشارت

آپ کی پیدائش سے پہلے ہی فقیر خدا بخش جن کی عمر ایک سو بیس برس کی تھی ، انہوں نے بشارت دی۔ کہ مخدوم جہانیاں کے گھر میں جمال آئے گا، یہاں تک جب آپ کی ولادت باسعادت 973ھ مطابق 1566ء میں ہوئی، تو آپ کا مبارک نام شیخ جمال رکھا گیا۔

نام و نسب

سادات جعفری، عریضی، حسینی خاندان میں پیدا ہوئے، آپ کا اصل نام سید جمال ہے، آپ کے والد کا نام شاہ حمید الدین (عرف مخدوم جہانیاں ثانی) ہے۔ سید شہاب الدین اوّل سالار روم تک آپ کا شجرہ نسب درج ذیل ہے۔.

سید جمال بن شاہ حمید الدین عرف مخدوم جہانیاں ثانی بن شاہ بہاء الدین بن مخدوم قطب الدین سالار بڈھ بن سید ہسبۃ اللّٰہ ثانی بن رضی الدین (عرف راجن) بن سید شہاب الدین (معروف بہ ہسبۃ اللّٰہ اوّل) بن سید حسن (معروف بہ سالار خواجگی و میان خوجن) بن سید شہاب الدین دوم بن عماد الدین بن شمس الدین بن نجم الدین بن سید شہاب الدین اوّل سالار روم۔

خاندانی حالات

شاہ جمال اولیاء کے والدِ گرامی مخدوم جہانیاں ثانی بہت بڑے بزرگ گزرے ہیں، آپ ہی کی تصنیف سے ایک کتاب اسرار جہانی جو اذکار و اشغالِ صوفیہ پر مشتمل ہے۔ یہ کتاب کلکۃ میں طبع ہو کر شائع ہوئی ہے۔آپ بہت بڑے علمائے محققین میں سے تھے۔ایک وقت کتب درسیہ کے لیے معین تھا۔تو دوسرا وقت ذکر و شغل و تلقین و توجہ کے لیے وقف تھا۔ بڑے بڑے علما وقت مستفیض درس ہونے کی غرض سے حاضر خدمت ہوتے تھے،نیز بڑے بڑے صوفیائے وقت ان کے خلفاء کی فہرست میں شمولیت کا شرف رکھتے تھے۔ من جملہ ان کے صاحبزادے شاہ جمال اولیاء ایک خاص امتیازی شان کے مالک ہیں اور ان کے صاحبزادہ کے خلیفہ سیّد محمد کالپوری اپنے شیخ کے عظیم خلفاء میں شامل ہیں اور علم شریعت میں آپ ہی کے ایک شاگرد ملا عبد الرسول صاحب تھے جو ملا لطف اللہ صاحب کے استاد تھے اور ملا لطف اللہ ملا احمد جیون کے استاد تھے اور ملا احمد جیون شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر کے استاد اور نور الانوار تفسیر احمدی کے مصنف ہیں۔

شاہ جمال الاولیاء کے ایک برادرحقیقی جن کا نام مولانا شاہ مبارک تھا ان کے نبیرہ کے اولاد میں ایک بزرگ (ملا ابو سعید دانشمند)ہوئے ہیں۔ یہ بہادر شاہ بن عالمگیر کے استاد معظم تھے اور دانشمند آپ کا شاہی خطاب ہے۔

تعلیم اور درس و تدریس

نیوتنی کے رہنے والے قاضی ضیاء الدین عثمانی عرف قاضی جیا نے احمد آباد (گجرات) جاکر ملّا وجیہ الدین گجراتی سے محقق دوّانی کے علوم و فنون حاصل کر کے جب نیوتنی آکر درس و تدریس رشد و ہدایت کا سلسلہ شروع کیا تو جدید علوم فلسفہ و کلام کی شہرت ہوئ۔ شاہ جمال اولیاء تعلیم سے فارغ ہوئے تو ان کے والد گرامی شاہ حمید الدین عرف مخدوم جہانیاں ثانی نے آپ کو قاضی قاضی ضیاء الدین کے پاس مزید علوم حاصل کرنے کے لیے روانہ کیا جہاں کم و بیش پانچ سال رہ کر تعلیم کے ساتھ ساتھ سلسلہ قادریہ میں قاضی ضیاء الدین سے مجاز ہو کر کوڑہ واپس تشریف لائے۔ [1]

راہ سلوک کی منزلیں طے کرنے کے بعد آپ اپنےوطن تشریف لائے اور وہاں مستقل قیام فرما کر درس و تدریس و افادہ علوم ظاہر و باطنی میں مشغول ہوئے۔ اور آپ کی خدمت میں رہ کر سید محمد کالپوی بن ابو سعید کالپوی قدس سرہٗ العزیز نے مطول سے بیضاوی تک پڑھا۔ اور بھی کثیر علما و مشائخ نے آپ سے اکتساب فیض فرمایا۔ فاضل اجل، عالم اکمل علامہ مولانا عبدالرشید جونپوری (مصنف مناظرہ رشیدیہ)ان کے مرید وخلیفہ ہیں۔

سید شاہ جمال اولیاء کی مسجد جو تقریبا 450 سال پرانی ہے آج بھی موجود ہے.

تصوف بیعت و مجاز

آپ نے بلا واسطہ ارواح مبارکہ سیدنا محی الدین شیخ عبد القادر جيلانی، خواجہ بہاؤ الدین نقشبند اور شاہ بدیع الدین قطب المدار سے فیض اویسیہ حاصل فرمایا۔ اور بزرگان عصر سے فیض و خرقہ خلافت چاروں سلاسل میں اخذ فرمایا۔

  • سید شاہ جمال اولیاء سلسلہ قادریہ رضویہ کے انتیسویں امام و شیخ طریقت ہیں۔ آپ نے سلسلہ قادریہ قاضی ضیاء الدین سے حاصل کیا۔
  • سہروردیہ سلسلہ بھی خاندان میں پہلے سے موجود تھا، جس کے آپ مجاز تھے، اس کے علاوہ آپ نے شیخ قیام الدین بن قطب الدین بن من اللّٰہ بن بہاءالدین جونپوری سے بھی حاصل کیا، (اثارات پھلواری شریف صفحہ 53)
  • نسبت عمریہ اویسی البنۃ بھی خاندان میں موجود تھی جو آپ کو اپنے والدگرامی سے حاصل ہوئ۔
  • سلسلہ شطاریہ بھی خاندان میں موجود تھی جو آپ کو اپنے والد گرامی سے حاصل ہوا۔
  • طریقہ مداریہ شاہ جمال اولیاء کو شیخ قیام الدین بن قطب الدین سے حاصل ہوا جس کی آخری کڑی سید اجمل شاہ بہرائچی تھے۔ (اثارات پھلواری شریف صفحہ 54)۔
  • سلسلہ نقشبندیہ جمالاولیاء کو خواجہ باقی اللّٰہ سے پہچا۔
  • شاہ جمال اولیاء اپنے خاندانی سلسلہ چشتیہ کے سلاسل کے مجاز تھے ہی آپ نے شیخ قیام الدین بن قطب الدین سے مخدوم جلال الدین جہانیاں جہاں گشت بخاری کی نسبت بھی حاصل کی (اثارات پھلواری شریف صفحہ 53)
  • غرض اس دور میں اندرون ہند جتنے بھی سلاسل تصوف رائج تھے ان سب کے آپ جامع تھے، اپنے اعزاء و اقرباء کو سلسلہ چشتیہ نظامیہ میں بیعت فرماتے تھے اور بیرونی افراد کو سلسلہ قادریہ میں بیعت فرماتے تھے۔

شجرہ طریقت سلسہ قادریہ رضویہ

سید شاہ جمال اولیاء [2] سلسلہ قادریہ رضویہ[3] کے انتیسویں امام و شیخ طریقت ہیں۔ ان کے فضائل و مناقب بےشمار ہیں۔ سلسہ قادریہ کا تعلیمی و روحانی شجرہ مندرجہ ذیل ہے:

خلفاء

  • سید محمد مکی ترمزی کالپوی

سید محمد کالپوی سلسلہ قادریہ رضویہ کے تیسویں امام و شیخ طریقت ہیں۔ سید محمد کالپوی نے شاہ جمال اولیاء سے ہی تعلیم حاصل کی اور بیعت و مجاز ہوئے آپ ہی کے ذریعہ یہ سلسلہ دائرہ شاہ اجمل الہٰ آبادی اور مارہرہ پہچا پھر وہاں سے بریلی اور بدایوں گیا۔

  • خانقاہ جنیدیہ پھلواری شریف کے بانی مخدوم شمس الدین جنید ثانی نے شاہ جمال اولیاء ہی سے تعلیم حاصل کی انہی سے بیعت و مجاز ہو کر پھلواری شریف واپس ہوئے اور خانقاہ کی بنیاد ڈالی۔
  • شاہ جلال شیخ محمد اشرف کے صاحبزادے اور آپ کے نواسے تھے انہی کو شاہ جمال اولیاء نے اپنی خانقاہ مدرسہ و مسجد کا نظام سونپا تھا۔
  • سید محمد مکی ترمزی کالپوی (سید محمد کالپوی) آپ سے ہی تعلیم حاصل کی اور بیعت و مجاز ہوئے آپ ہی ذریعہ یہ سلسلہ دائرہ شاہ اجمل الہٰ آبادی اور مارہرہ پہچا پھر وہاں سے بریلی اور بدایوں گیا۔
  • سید محمد عابد دیوبندی از بانیان دارالعلوم دیوبند آپ ہی کے سلسلہ عالیہ قادریہ کی ایک کڑی ہیں۔
  • احمد رضا خان کے پاس سلسلہ قادریہ رضویہ آپ ہی کے خلفاء سے ہوتے ہوئے پہچا ہے،
  • وغیرہ اور بھی کثیر علما و مشائخ نے آپ سے اکتساب فیض فرمایا۔

حوالہ جات