سید عاشور کاظمی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سید عاشور کاظمی
پیدائش 10 فروری 1932(1932-02-10)
فرید پور سادات، تحصیل پانی پت، ضلع ہریانہ ، برطانوی ہندوستان
وفات جون 6، 2010(2010-06-06)
برمنگہم، انگلینڈ
قلمی نام سید عاشور کاظمی
پیشہ سرمایہ کار، مصنف، تنقید نگار، شاعر
زبان اردو
شہریت پاکستانی
اصناف تنقید
نمایاں کام

بربطِ احساس ( پہلا مجموعہ کلام)
سخن گسترانہ بات
( مضامین ، طنز و مزاح ، خاکوں اور انشائیوں کا مجموعہ )
بیسویں صدی کے اردو نثر نگار مغربی دنیا میں
بیسویں صدی کے اردو اخبارات و رسائل

اردو مرثیے کا سفراور بیسویں صدی کے مرثیہ نگار

سید عاشور کاظمی (1932–2010 ) اردو ادب کے بہترین ناقد، محقق، شاعر اور افسانہ نگار تھے۔

حالاتِ زندگی[ترمیم]

سید عاشور کاظمی 10 فروری 1932 کو فرید پور سادات، تحصیل پانی پت، ضلع ہریانہ، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ اسی دن یومِ عاشورہ بھی تھا اس لیے ان کا نام عاشور علی کاظمی رکھا گیا۔[1] والد کا نام سید زوار حسین کاظمی تھا۔[2] ابتدائی تعلیم ہریانہ سے ہی حاصل کی۔ قیامِ پاکستان کے بعد اپنے خاندان کے ہمراہ جہلم آ گئے۔ لیکن جلد ہی وہاں سے لاہور نقل مکانی کی۔ اور مزید تعلیم مکمل کی۔ کالج میں وہ نامور شاعر و مصنف آغا صادق حسین صادق کے شاگردوں میں سے تھے ۔[3] جنرل ایوب خان کے مارشل لا دور میں کراچی چلے گئے۔ اور ذاتی کاروبار شروع کیا۔ جس میں بہت کامیابی ملی ۔

ترکِ وطن اور ادبی سرگرمیاں[ترمیم]

1976 میں عاشور کاظمی ہمیشہ کے لیے انگلینڈ جاکر مقیم ہو گئے۔ اور وہاں کاروبار کا آغاز ایک ٹریول ایجنسی سے کیا۔ لیکن جلد ہی ایک کارگو جہاز خرید لیا۔ اور کارگو کے کاروبار میں وسعت و ترقی پائی۔ ا

انگلینڈ میں دیگر ادبی مصروفیات کے ساتھ ساتھ سید عاشور کاظمی فاؤنڈیشن کی بھی بنیاد رکھی ۔[4]

1985ء میں انہوں نے لندن میں انجمن ترقی پسند مصنفین کی گولڈن جوبلی کانفرنس منعقد کیا جس میں مختلف زبانوں کے ادیبوں اور دانشوروں نے حصہ لیا ۔

فلم سازی[ترمیم]

عاشور کاظمی نے ایک فلم بھی بنائ جس کا نام بے گناہ تھا یہ فلم فروری 1958 میں ریلیز ہوئی۔[5]

نمونہِ کلام[ترمیم]

عاشور کے متعدد شعری مجموعے شائع ہوئے۔ جدید مرثیہ گوئی میں بھی ان کا کلام شامل ہے ۔[6]

حمدیہ اشعار

غیر اللہ سے جو رزق ملےاہل دل اس کو بھیک کہتے ہیں
تو ہی رازق ہے اور فقط تجھ کو وحدہٗ لاشریک کہتے ہیں

٭٭٭

متفرق اشعار

جل رہے ہیں گھر زباںپر نعرۂ اصنام ہے یاعلی شہر کراچی ہے کہ ارض شام ہے

۔۔۔۔۔۔۔

برچھیوں کی نوک پر اعلان حق شیوہ مرا فکر کے خیمے جلانا آپ کا منشور ہے

۔۔۔۔۔۔۔

سورج سے ہے خراج کی طالب سپاہ شام کیاپھر یزید شب کوکہیں سروری ملی

۔۔۔۔۔۔۔

دل کر رہا تھا غیرت انساں کا احتساب پیش نگاہ شام کا بازار آگیا

۔۔۔۔۔۔۔

صاحب نظر ہیں کون یزیدان عصر کون؟ یکساں ہیں سب جبہ و دستار دیکھنا

۔۔۔۔۔۔۔

تصانیف[ترمیم]

  1. بربطِ احساس ( پہلا مجموعہ کلام) 1952
  2. چراغ، منزل (حمد، نعت اور سلام ) 1953
  3. راہوں کے زخم (1957)
  4. نکاتِ فن 1983
  5. ترقی پسند ادب ۔۔ پچاس سالہ سفر (1987 )
  6. حقیقتِ شاعری ( 1987 )
  7. صراطِ منزل (شاعری) 1987
  8. سخن گسترانہ بات ( مضامین، طنز و مزاح، خاکوں اور انشائیوں کا مجموعہ ) 1990
  9. فسانہ کہیں جسے (افسانہ نگاروں کا تحقیقی تعارف بشمول منتخب افسانے)1994
  10. مرثیہ نظم کی اصناف میں ( 1996)
  11. حرف حرف جنون ( شعری مجموعہ ) 1999
  12. چھیڑ خوباں سے (شگفتہ نثر کا مجموعہ )2000
  13. بیسویں صدی کے اردو نثر نگار مغربی دنیا میں ( 2001)
  14. بیسویں صدی کے اردو اخبارات و رسائل ( 2002)
  15. اردو مرثیے کا سفراور بیسویں صدی کے مرثیہ نگار۔ ۔۔ (2006)
  16. ترقی پسند ادب ۔۔ پچاس سالہ سفر ( مصنفین :عاشور کاظمی، پروفیسر قمر رئیس )
  17. اس گھر کو آگ لگ گئی (مصنفین : عاشور کاظمی، سلیم قریشی )
  • نکاتِ فن:

اردو کے ممتاز دانشور، محقق اور شاعر آغا صادق مرحوم کی تین انمول کتابیں جوہرِ عروض، جائزہ، راگ رنگ کو آغا صادق کے فرزند، ڈاکٹر نوید حسن کے ساتھ مل کر تینوں کتابوں کو یکجا کر کے تفصیلی تعارف کے ساتھ نکاتِ فن کے عنوان سے ترتیب دیا اور شائع کروایا۔

  • حقیقتِ شاعری:

حقیقتِ شاعری کتاب کا اصل نام حقیقتِ علمِ شاعری تھا۔ یہ مطبوعہ 1931ٓبیرسٹر نصیر عظیم آبادی کی کتاب جو ناپید ہو چکی تھی اس کا ایک نسخی ان کے پوتے رشید منظر سے ملا۔ عاشور کاظمی نے اس نسخے کو ترتیب خود دی اس کی اصل کو محفوظ کیا۔ اور کتاب کو تعارفی پیش لفظ کے ساتھ حقیقتِ شاعری کے نام سے شائع کیا ۔

عاشور کاظمی ایک ادبی رسالہ نیا سفر کے لیے بطور مرتب بھی خدمات انجام دیتے رہے ۔[7]

انگریزی تالیفات[ترمیم]

Commitment .... (Collection of the papers presented by different scholers at golden jubilee of Anjuman Taraqi Pasand Urdu , London*

لندن میں انجمن ترقی پسند مصنفین کے گولڈن جوبلی کے موقع پر پیش کیے گئے انگریزی زبان میں مقالے اور کچھ اہم مقالوں کا انگریزی میں بازیافت ۔

وفات[ترمیم]

عاشور کاظمی اواخر عمر میں کینسر کے مرض میں مبتلا ہوئے جو جان لیوا ثابت ہوا اور وہ 6 جون2010 کو 78 برس کی عمر میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے تھے۔ انہیں برمنگھم میں ہینڈز ورتھ کے قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔[8] انکی یاد میں پہلا یورپ کا پہلا تعزیتی ریفرنس جرمنی میں منعقد ہوا۔[9]

حوالہ جات[ترمیم]