سید عقیل شاہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
Syed aqeel shah.jpg
سید عقیل شاہ
ادیب
پیدائشی ناممحمد عقیل حیدر
قلمی نامسید عقیل شاہ
تخلصعقیل
ولادت01 جنوری 1986ء سرگودھا
ابتداسرگودھا، (پنجاب) پاکستان
اصناف ادبشاعری
ذیلی اصنافغزل و نظم،
تعداد تصانیفپانچ
تصنیف اولچلو پھر لوٹ جاتے ہیں
تصنیف آخردربدر
معروف تصانیف* دربدر ، ریزہ خواب ، تیرے شہر میں ، چلو پھر لوٹ جاتے ہیں ، تھک گئی آنکھ سرد موسم کی ،


تعارف[ترمیم]

سید عقیل شاہ ضلع سرگودھا پاکستان کے ایک اردو زبان کے نامور شاعر ہیں ان کی وجہ شہرت ان کی اردو شاعری ہے اور آپ اُردو شاعری کی پانچ کتابوں "چلو پھر لوٹ جاتے ہیں" "تھک گئی آنکھ سرد موسم کی" "ریزہِ خواب" "تیرے شہر میں" اور "در بدر" کے مصنف ہیں آپ یکم جنوری 1986 کو ضلع سرگودھا سے 9 کلو میڑ دُور بھلوال روڈ کے کنارے واقع اک گاؤں چک نمبر 21 رسالہ میں پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم اس گاؤں کے ساتھ موجود انگریز دور کے یادگار ریلوئے اسٹیشن مٹھ لک کے پیچھے موجود گورنمنٹ سکول مٹھ لک اسٹیشن سے حاصل کی بعد میں ضلع سرگودھا منتقل ہو گئے آپ نے رسمی تعلیم آٹھویں کلاس تک مکمل کی جون 2010ء میں ان کا پہلا مجموعہ کلام منظر عام پر آیا جس نے انٹرنیٹ پہ لوگوں کی توجہ حاصل کی کچھ ہی مہینوں کے بعد سید عقیل شاہ کا دوسرا مجموعہ کلام بھی منظر عام پر آیا اسی طرح بسلسلہ مزید تین مجموعے اور منظر عام پہ آئے آپ کا بہت سا کلام مختلف رسالوں میں بھی چھپ چکا ہے جن میں لاہور سے "احوالِ لاہور" اور "طلوع اشک" شامل ہیں بھارت سے "دربھنگہ ٹائم" سرگودہا سے "ماہنامہ فن زاد" اسلام آباد سے "گوشئہ ادب" برطانیہ سے "ماہنامہ قرطاس" سرفہرست ہیں آپکا کلام مختلف ریڈیوز سے بھی نشر کیا جا چکا ہے جن میں "ریڈیو پاکستان سرگودہا" "ایف ایم سن رائیز سرگودہا" "ریڈیو آواز بہاولپور" اور ایشین ریڈیو لائیو برطانیہ" سرفہرست ہیں سید عقیل شاہ کی مشہور غزلیات میں "وہی بے وجہ سی اداسیاں کبھی وحشتیں ترے شہر میں" "دشمن ہو کوئی دوست ہو پرکھا نہیں کرتے" "محبتوں کے یقیں میں آ کر دغا ہوا نا وہی ہوا نا" شامل ہیں

اُردو شاعری کے مجموعے[ترمیم]

  • چلو پھر لوٹ جاتے ہیں
  • تھک گئی آنکھ سرد موسم کی
  • ریزہ خواب
  • تیرے شہر میں
  • در بدر

نمونہ کلام[ترمیم]

دشمن نے ہر مقام پہ اچھا نہیں کیا لیکن میں اعلیٰ طرف تھا حملہ نہیں کیا

راہِ انا میں چھوڑ کے ٹھوکر پہ اختلاف رستہ بدل کے چل لیا جھگڑا نہیں کیا

کر لیں حصولِ حق میں ہی محرومیاں قبول کچھ بھی ہو اپنے ظرف کا سودا نہیں کیا

ہم وہ ہیں جن کی راہ میں صحرا ہے دُور تک ہم پہ تو بادلوں نے بھی سایا نہیں کیا

خود سے نکل کے میں کہیں کھو جاؤ گا عقیل خود کو یہ سوچ کر کبھی تنہا نہیں کیا

حوالہ جات[ترمیم]

سرگودھا تھک گئی آنکھ سرد موسم کی از سید عقیل شاہ چلو پھر لوٹ جاتے ہیں از سید عقیل شاہ