سید علی اختر رضوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بارہ امامی شیعہ عالم
سیدعلی اختر رضوی
سید علی اختر رضوی

معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش 19 ستمبر 1948(1948-09-19)
تاریخ وفات 10 فروری 2002(2002-20-10) (عمر  53 سال)
شہریت Flag of India.svg بھارت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
نسل بھارتی
مذہب اسلام
فرقہ اثناعشری شیعہ
عملی زندگی
پیشہ عالم
پیشہ ورانہ زبان انگریزی[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
ویب سائٹ
ویب سائٹ www.shaoorewilayat.com

سید علی اختر رضوی پندرہوی صدی کے قابل فخر ادیب، محقق اور مترجم جن کا تعلق سر زمین گوپال پور، سیوان بہار سے تھا

ولادت اور ابتدائی حالات[ترمیم]

سید علی اختر رضوی کی ولادت 1948ء میں گوپال پور ضلع سیوان بہار میں ہوئی ،جب آپ تین سال کے تھے تو شفقت پدری سے محروم ہو گئے ،اس کمی کو ماں نے پوری کرنے کی پوری کوشش کی اور ایسی تربیت دی جو باپ کے تعاون سے اولاد کی ہوتی ہے۔ ماں کی دلی خواہش تھی کہ آپ علم دین حاصل کریں ،چنانچہ ماں کی دلی خواہش کو عملی جامہ پہنانے کا ارادہ کیا اور استاد الاساتذہ مولانا سید رسول احمد صاحب مرحوم کے ہمراہ مدرسہ ناظمیہ لکھنؤ تشریف لے گئے اور مولانا کے ہمراہ مدرسہ واعظین میں قیام پزیر رہے۔ مدرسة الواعظین میں دو مہینے کے قیام کے بعد مالی مشکلات کی وجہ سے یتیم خانہ لکھنؤ میں داخلہ لیا اور اپنی والدہ کی خواہش اور اپنے جذبہ علم دین کو عملی جامہ پہنانے کے لیے یتیم خانہ کی سختیاں برداشت کرتے رہے۔ اور پھر حالات سازگار ہوتے ہی آپ مدرسہ ناظمیہ میں قیام پزیر ہو گئے۔19٦4 ء میں الہ آباد بورڈ سے مولوی ،19٦5 میں عالم ،اور 19٦٧ میں فاضل کے امتحانات دیے اور ان سب میں امتیازی حیثیت سے کامیابی حاصل کی۔19٦9 میں ضمیمہ ممتاز الافاضل کا امتحان دے کر وطن واپس چلے گئے۔ اور 19٧2 میں مدرسہ ٔناظمیہ کی آخری سند ممتاز الافاضل حاصل کی۔ آپ کے اساتذہ میں آیة اللہ مفتی سید احمد علی صاحب، مولا نا سید رسول احمد صاحب، مولانا ایوب صاحب، مولانا روشن علی صاحب ،مولانا محمد حسین نجفی صاحب ،مولانا ثاقب صاحب،مولانا حکیم اطہر صاحب ،اور مولانا محمد شاکر صاحب قابل ذکر ہیں۔ ایم ،ایس کالج حسین گنج میں بطور لکچرار بحالی : جب وطن واپسی ہوئی تو وطن سے قریب ہی محمد صالح انٹر کالج حسین گنج میں فارسی لکچرار کی ضرورت تھی کیونکہ چند مہینوں کے بعد وہاں سے مولانا نذر حسن صاحب مرحوم گوپال پوری تدریسی ذمہ داری سے سبکدوش ہونے والے تھے ،چنانچہ مولانا نذر حسن صاحب کی ایماء پر 19٧1 میں آپ کی وہاں تقرری ہوئی اور زندگی کے آخری لمحے تک اس فریضے کو بحسن و خوبی انجام دیا ۔[2]

کتاب و کتابخانے سے دلچسپی[ترمیم]

مکتبہ منارے شعور میں موجود کتابوں کی ایک جھلک

کتاب اور کتب خانہ سے آپ کی گہری دلچسپی تھی، اسی ذوق کی وجہ سے راجا محمود آباد کے خصوصی کتب خانہ کو اس سلیقہ سے مرتب کیا کہ راجا صاحب نے وہاں مستقل قیام کی آپ سے پیشنہاد کی۔ مگر دیگر ذمہ داریوں کی وجہ سے اس کو قبول نہیں کیا۔ کتاب سے دلچسپی صرف جمع آوری کی حد تک نہیں تھی بلکہ آپ کی دلچسپی مطالعے کی خاطر تھی ،مطالعہ سے جو بھی حاصل ہوتا تھا اس کو زبان و قلم سے دوسروں تک منتقل کر دیتے تھے ،چنانچہ ہندوستان میں ایک عرصے سے یہ پروپگنڈہ کیا جا رہاتھا کہ شیعوں کا چالیس پاروں'کا قرآن ہے اور وہ پٹنہ کی خدا بخش لائبریری میں موجود ہے ،ظاہر سی بات ہے کہ حضرت ادیب عصرجیسے مدافع مذہب کے لیے بہت سخت تھا کہ اس کو دیکھیں اور لوگوں کو اس کی حقیقت سے آگاہ نہ کریں۔ حقیقت جاننے کے لیے خدا بخش لائبریری گئے اور اس کو دیکھ کر ایک مقالہ لکھا اور ایرانی کلچر ہائوس میں اس کی قرائت کی جس کو سن کر سامعین نے دل کھول کر داد دی۔ جب یہ مقالہ پاکستان کے کسی جریدہ میں شائع ہوا تو وہاں سے ہر طرح کے خطوط آنے لگے ،بعض لوگوں کے خطوط میں پنہاں تیور کو دیکھ کر ایک مستقل کتاب لکھنی شروع کی ،مگر ایک سفر میں وہ اٹیچی چوری ہو گئی جس میں وہ کتاب اور الغدیر کی چھٹی اور گیارہویں جلد کا ترجمہ تھاجس کا قلق حضرت ادیب عصر کو آخری عمر تک تھا۔ کتاب خانے سے خصوصی دلچسپی کے تحت آپ نے اپنے وطن گوپال پور میں ایک مختصر مگر نفیس کتابخانہ کی تاسیس کی جس میں مذہبی اور ڈھیروں ادبی کتابوں کے علاوہ بعض قدیمی خطی نسخے بھی ہیں، در حقیقت اس کتابخانہ کی بنیاد رکھ آپ نے قوم و ملت کو ایک عطیم سرمایہ فراہم کیاہے جس کی تفصیل آئندہ بیان کی جائے گی۔[2]

آثار و کارنامے[ترمیم]

طالب علمی کے بعد کی زندگی پر اگر طائرانہ نظر دوڑائی جائے تو جو نمایاں کارنامے آپ نے ا نجام دیے ،وہ مندرجہ ذیل ہیں

مذہبی سرگرمیاں[ترمیم]

Al-Ghadir conference.jpg
  • آپ نے وقت کی اہم ترین ضرورت کو پیش نظر رکھتے ہوئے بعض جگہوں پر مساجد و امامباڑے کی تعمیر و تاسیس میں سرگرمی دکھائی اور اپنے دست تعاون کے ذریعہ اسے پایۂ تکمیل تک پہونچایا جن میں سر فہرست بھاگلپور کی مسجد ہے، آپ نے وہاں پر ایک مسجد کی ضرورت کو پیش نظر رکھتے ہوئے لوگوں کے تعاون سے ایک مسجد بنوائی نیز کرن پورہ میں بھی مسجد کو نئی شکل دی ۔
  • اپنے کتاب دوستی کے جذبے کے تحت متعدد جگہوں سے کتابیں جمع کیں اور اپنی واجبی ضرورتوں سے صرف نظر کرکے بہت سی کتابیں خریدیں اورپھر وقت کی ضرورت کو پیش نظر رکھتے ہوئے اسے ایک کتابخانے کی شکل دے دی۔ الحمد للہ آج اس کتابخانہ میں سیکڑوں کتابیں موجود ہیں جن میں مذہبی اور ادبی کتابوں کے علاوہ بہت سے قدیمی اور خطی نسخے بھی موجود ہیں۔
  • بہت سی مذہبی اور ادبی کانفرنسوں کو اپنی محنت شاقہ سے کامیاب بنایا جن میں مجلس علما و واعظین کی کانفرسیں شامل ہیں۔
  • ہندوستان کے مختلف اور متعدد علاقوں میں مجالس عزا خطاب کیں، برسوں میرٹھ کا عشرۂ اولیٰ اور شیخ پورہ حسین آباد کے اربعین کا عشرہ خطاب کیا۔ آپ کی خطابت عام فہم ہوتی تھی، مذہبی باتوں کو اتنے سلیقے سے بیان کرتے تھے کہ نو جوان نسل بھی انہیں بہت پسندکرتی تھی۔

ادبی سرگرمیاں[ترمیم]

طالب علمی ہی کے زمانے سے ادب سے آپ کو کافی دلچسپی تھی ،ادبی کتابیں نہ ہونے کی وجہ سے کئی کلو میٹر کے فاصلے پر امین الدولہ لائبریری لکھنؤ میں جاکر کتابوں کا مطالعہ کرتے تھے۔ افسانے اور انشائیے ایک طویل مدت تک ہفتہ نامہ سرفراز لکھنؤ میں شائع ہوتے رہے ،آپ نے شاعری کی تقریباً ہر صنف پر طبع آزمائی کی ہے ،قصیدے ہوں یا نوحے یا غزل سبھی کی تعداد زیادہ ہے ،قطعات و رباعیات بھی کم نہیں ہیں ،ان میں سے کچھ کلام معتبر جرائد میں شائع ہوچکے ہیں۔ الحمد للہ آپ کا مجموعہ ٔ کلام مرتب ہوچکا ہے نام کلیات شعور ہے جو تقریباً4٠٠ صفحات پر مشتمل ہے۔ آپ کے افسانے اور انشائیے بھی زیر ترتیب ہیں۔

تصانیف و تراجم[ترمیم]

  • ترجمہ رسالۂ عملیہ امام خمینی :مذہبی کتابوں کے ترجمے کا آغاز غالباً امام خمینی کے رسالہ ٔ عملیہ سے کیا، جو اسلامی انقلاب سے پہلے دو جلدوں میں شائع ہوا ۔
  • ۔۔ علامہ امینی کی معرکة الآراء کتاب الغدیر فی الکتاب و السنة و الادب کا ترجمہ غدیر قرآن ،حدیث اور ادب میں ۔ حضرت ادیب عصر نے آج سے تقریباً بیس سال قبل آیة اللہ ناصر مکارم شیرازی مدظلہ کی فرمائش پر اس کا ترجمہ شروع کیا اور اپنے جذبۂ ولایت سے مجبور ہوکر بہت کم مدت میں ساری جلدوں کا ترجمہ مکمل کرڈالاجس کی پہلی جلد 1992ءمیں منظر عام پر آئی لیکن پھر حالات کی وجہ سے اس اہم کتاب کی اشاعت رک گئی۔

ان کے بعد ان کے فرزند سید شاہد جمال رضوی نے ایک سفر میں غائب ہوجانے والی دو ( ٦،11) جلدوں کا ترجمہ مکمل کرکے اسے شائع کیا۔ یہ کتاب 2٠1٠ ءمیں منظر عام پر آچکی ہے۔[3][4][4][5][6][7][8][9][10][10][11][12]

  • مصائب آل محمد ترجمہ سوگنامۂ آل محمد۔[13]
  • ترجمہ الحیات ۔( 3 جلدیں
  • ترجمہ امام مہدی (عج) حدیث کی روشنی میں ۔
  • آیہ اللہ شیرازی کی کربلا شناسی سے متعلق کتاب کا ترجمہ شہر شہادت۔
  • سید نعمة اللہ جزائری کی کتاب الزھر الربیع کا ترجمہ خوشبو بہار کی۔ جو ماہنامہ الواعظ لکھنؤ میں قسط وار تقریباً ً دو سال شائع ہوا ۔
  • علامہ مرتضی عسکری مرحوم کی معرکة الآراء کتاب نقش عائشہ در تاریخ اسلام کی ود جلدوں کا ترجمہ اور تیسری جلد کا ترجمه مولانا سید کرار حسین گوپالپوری نے کیااور بنام تاریخ اسلام میں عائشہ کا کردار شائع ہوا ۔[14][15]
  • علا مہ مرتضی عسکری مرحوم کے کتابچہ کا ترجمہ میت پر گریہ سنت رسول ۖ
  • مولانا مرحوم کی تصنیف حیات شیرازی ۔
  • تحفہ اثنا عشریہ کے معیار تہذیب پر ایک کتاب لکھی جس کی اکثر قسطیں ماہنامہ اصلاح لکھنؤ سے شائع ہوئیں ۔
  • غدیر کے چار علامتی شاعر
  • خانوادہ شیرازی بیسویں صدی میں

بعض آمادہ طباعت کتابیں[ترمیم]

  • شعور شہادت (کربلا اور شہادت امام حسین سے متعلق مضامین
  • شعور ولایت ( ولایت اور غدیر سے متعلق مضامین
  • خوشبو بہار کی(ترجمہ زہر الربیع، کتابی شکل میں
  • کلیات شعور( مجموعہ کلام) ان کے علاوہ اور بھی کتاب اور کتابچہ لکھے جو غیر مطبوعہ ہیں جن کی ترتیب اور تکمیل کا کام ان کے فرزند سید شاہد جمال رضوی بڑے تند ہی سے انجام دے رہے ہیں۔

مضامین اور مقالے[ترمیم]

آ پ کے کارناموں میں سینکڑوں دندان شکن مقالے اور مضامین بھی شامل ہیں جو ہند و پاک کے مختلف دینی و ادبی جرائد میں شائع ہوئے۔ جن میں توحید،ثقلین ،الواعظ ،الجواد اور اصلاح، سرفراز اور ادراک سر فہرست ہیں جن کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ الحمد للہ تمام مقالات و مضامین کو کتابی شکل میں جمع کیاجا رہاہے،بعض کتابیں آمادۂ طباعت ہیں۔

اولاد[ترمیم]

آپ نے چھ بیٹے اور ایک بیٹی چھوڑی ،آپ کے بڑے فرزند سید محمد اختر رضوی نجم دبئی میں مقیم ہیں اور دوسرے فرزند مولانا سید شاہد جمال صاحب سرزمین قم پر علم دین کی تحصیل میں مشغول ہیں.

Syed Ali Akhtar Rizvi.jpg

وفات[ترمیم]

2٦ ذیقعدہ 1422 ھ بمطابق 1٠فروری 2٠٠2 ء میں وفات ہوئی ،وقت انتقال آپ کی عمر 54سال تھی۔ شہر خموشاں گوپال پور میں آپ کی تدفین عمل میں آئی۔

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]