سید علی نقی نقوی نجفی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سید العلماء
سید علی نقی نقوی نجفی
نقن
سید علی نقی نقوی نجفی

معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش 26/ رجب سنہ 1323 ھ مطابق سنہ 1905ء
تاریخ وفات یکم شوال (بروزعید الفطر) سنہ 1408ھ مطابق 18/ مئی سنہ 1988ء
رہائش لکھنؤ اور علی گڑھ
قومیت بھارتی
مذہب اسلام (شیعہ اثنا عشری)
عملی زندگی
تعليم اجتہاد
مادر علمی لکھنؤ، نجف
پیشہ معلم

سید العلماء سید علی نقی نقوی نجفی معروف بہ نقن صاحب ، برصغیر کے ایک معروف شیعہ عالم دین تھے جنہوں نے 26 رجب المرجب سنہ 1323ھ کو ایک علمی گھرانے میں آنکھ کھولی ـ

ابتدائی تعلیم اپنے والد بزرگوار اور بڑے بھائی سے حاصل کی پھر مزید علم حاصل کرنے کے لیے نجف تشریف لے گئے جہاں اپنی زندگی کا ایک نمایاں باب رقم کیا اور پانچ سال کی مدت میں اس دور کے بزرگ علما سے کسب فیض کے بعد بھارت واپس آ گئے ،ـ جہاں علوم اہل بیت اطہارعلیہم السلام کی تبلیغ و ترویج میں مشغول ہو گئے ـ

اس دوران آپ نے بہت سی کتابیں تصنیف کیں ـ

آپ نے اپنی زندگی میں مختلف عناوین پر جو کتابیں یا رسالے تحریر کیے ان کی تعداد 411 کے قریب ہے جن میں سے کچھ عناوین کئی جلدوں پر مشتمل ہیں ـ

زندگی نامہ[ترمیم]

پیدائش[ترمیم]

26/ رجب سنہ 1323ھ مطابق سنہ 1905ء کو آپ ہندوستان کے شہرلکھنؤمیں ممتاز العلماء ابو الحسن منن صاحب کے یہاں پیدا ہوئے جوشمس العلماء سید ابراہیم بن جنت مآب سید تقی بن سید العلماء سید حسین علیین مکان ابن غفران مآب دلدار علی کے فرزند تھے ـ

تعلیم و تربیت[ترمیم]

آپ کے والد ماجد 1327ھ میں اپنے اہل و عیال کو ساتھ لے کراپنی مزید تعلیم اور تکمیل علوم کے لیے نجف تشریف لے گئے ـ

آپ کی عمر 9/ برس کی تھی جب سنہ 1332ھ میں آپ کے والد گرامی ہندوستان واپس آئے ـ اس وقت تک آپ کی صرف ونحو کی ابتدائی کتابیں ختم ہوئی تھیں ـ

لکھنؤ واپس آکر آپ کے والد صاحب نے آپ کی تعلیم اپنے ذمہ رکھی ـ

والد کی علالت کے زمانے میں آپ کے برادر معظم مولانا سید محمد عرف میرن صاحب آپ کو پڑھاتے تھے ـ

وفات[ترمیم]

یکم شوال (بروز عید الفطر) سنہ 1408ھ مطابق 18 مئی سنہ 1988ء کو لکھنؤ میں آپ کا انتقال ہوا ،ـ اور وہیں آپ کو دفن کیا گیا ـ

علمی صلاحیت[ترمیم]

آپ بے پناہ علمی صلاحیتوں کے مالک تھے ـ ایک ہی وقت میں دو مدرسوں (مدرسہ ناظمیہ اور سلطان المدارس) میں پڑھتے تھے اور آپ نے مدرسہ ناظمیہ کے فاضل اور سلطان المدارس کے سند الافاضل کا ایک ہی ساتھ امتحان دیا ـ

پھر دوسرے سال دونوں درجوں کے ضمیموں کا اور تیسرے سال ممتاز الافاضل اور صدر الافاضل کا ایک ساتھ امتحان دیا ـ

طالب علمی میں ہی رسالہ سر فراز لکھنؤ، الواعظ لکھنؤ اور شیعہ لاہور میں آپ کے علمی مضامین شائع ہونے لگے تھے ـ

3 یا 4 کتابیں بھی عربی اور اردو میں اسی زمانے میں شائع ہوئیں ـ

تدریس کا سلسلہ بھی جاری تھا ،ـ کچھ عرصے تک بحثیت مدرس، مدرسہ ناظمیہ میں بھی معقولات کی تدریس کی ،ـ

آپ کے اس دور کے شاگردوں میں مولانا محمد بشیر (فاتح ٹیکسلا)، علامہ سید مجتبی حسن کامون پوری اورحیات اللہ انصاری قابل ذکر ہیں ـ

عربی ادب میں آپ کی مہارت اور فی البدیہہ قصائد ومراثی لکھنے کے اسی دور میں بہت سے مظاہرے ہوئے اور عربی شعر وادب میں آپ کے اقتدار کو شام، مصر اور عراق کے علما نے قبول کیا ـ

اسی مہارت کو قبول کرتے ہوئے علامہ عبد الحسین امینی نے آپ کے قصائد کے مجموعے میں سے حضرت ابو طالب کی شان میں آپ کے قصیدے کو اپنی عظیم شاہکار کتاب (الغدیر) کی زینت قرار دیا ـ [1]

نیز آقا بزرگ تہرانی نے شیخ طوسی کے حالات کو آپ ہی کے لکھے ہوئے مرثیے پر ختم کیا ـ

اسی طرح آپ کی مزید علمی صلاحیتوں کا مشاہدہ عراق میں حصول علم کے ابتدائی ایام کی تالیفات سے کیا جا سکتا ہے جہاں آپ نے سب سے پہلے عربی میں وہابیت کے خلاف ایک کتاب تصنیف کی جو کشف النقاب عن عقائد ابن عبد الوهاب کے نام سے شائع ہوئی ـ [2][3]

عراق وایران کے مشہور اہل علم نے اس کتاب کو ایک شاہکار قرار دیا ـ

دوسری کتاب اقالۃ العاثر فی اقامۃ الشعائر امام حسین کی عزاداری کے جواز میں لکھی [4][5]

نیز تیسری کتاب چار سو صفحات پر مشتمل السیف الماضی علی عقائد الاباضی خوارج کے عقائد کی رد میں لکھی ـ [6]

اساتذہ[ترمیم]

لکھنؤ میں مندرجہ ذیل حضرات سے آپ نے کسب فیض کیا :

1: آپ کے والد بزرگوار ممتاز العلماء ابو الحسن (عرف : منن صاحب)

2: مولانا سید محمد (عرف : میرن صاحب)

3: آیت اللہ نجم الحسن امروہوی

4: آیت اللہ باقر العلوم

سفر عراق اور تحصیل علم[ترمیم]

سید العلماء اپنی زندگی میں دو مرتبہ عراق تشریف لے گئے ،ـ پہلی مرتبہ اپنے والد محترم کے ساتھ گئے اور دوسری مرتبہ سنہ 1345ھ مطابق 1927ء میں خود اپنی تعلیم کی تکمیل کے لیے گئے ـ

آپ نے عراق میں صرف پانچ سال کا عرصہ گزارا ،ـ اس پانچ برس میں آپ نے فقہ واصول فقہ میں وہ ملکہ پیدا کر لیا کہ اس دور میں آپ کی علمی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے اس زمانے کے 3/ بزرگ مجتہدین یعنی آیت اللہ سید ابوالحسن اصفہانی، آیت اللہ محمد حسین نائینی اور آیت اللہ سید ضیاء الدین عراقی نے آپ کو واضح الفاظ میں اجتہاد کے اجازے دے کر آپ کی علمی صلاحیتوں کا اعتراف کیا ـ

علم کلام اور دفاع مذہب کی صلاحیت میں آپ کا لوہا علامہ سید محسن امین عاملی، شیخ جواد بلاغی، محمد حسین کاشف الغطاء اور سید عبد الحسین شرف الدین موسوی نے مانا ـ

اجازۂ اجتہاد[ترمیم]

مندرجہ ذیل فقہاء نے آپ کو اجازۂ اجتہاد سے نوازا :

1: آیت اللہ سید ابوالحسن اصفہانی

2: آیت اللہ محمد حسین نائینی

3: آیت اللہ سید ضیاء الدین عراقی

4: آیت اللہ شیخ عبد الکریم حائری یزدی(مؤسس حوزہ علمیہ قم)

5: آیت اللہ محمد حسین اصفہانی

6: آیت اللہ ابراہیم معروف بہ مرزائے شیرازی

7: آیت اللہ شیخ ہادی کاشف الغطاء

8: آیت اللہ میرزا علی یزدانی

9: آیت اللہ شیخ محمد حسین تہرانی

10: آیت اللہ شیخ کاظم شیرازی

11: آیت اللہ میرزا ابو الحسن مشکینی

12: آیت اللہ سید سبط حسن مجتہد

علمی خدمات[ترمیم]

آپ کی علمی زندگی کو تین حصوں : خطابت، تدریس اور تحریر میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ـ

خطابت[ترمیم]

سید العلماء کی خطابت کا ایک خاص رنگ تھا جو عبارت آرائی وسست نکتہ آفرینی کی بجائے علم اور تحقیق پر مبنی تھا ـ ایک گھنٹہ کی تقریر میں حقائق کے بے شمار دروازے وا ہوجاتے تھے ـ

آپ کی تقریر اور تحریر میں بہت کم فرق ہوتا تھا ـ

دوسری خاص بات آپ کی تقریر میں یہ تھی کہ ہرمذہب وملت کا ماننے والا اسے اطمینان قلب کے ساتھ سن سکتا تھا اور فیض یاب ہو سکتا تھا ـ کسی جملہ سے کسی کی دل آزاری کا خطر ہ نہیں تھا ـ

تدریس[ترمیم]

لکھنؤ یونیورسٹی : عراق سے واپسی کے کچھ عرصہ بعد سنہ 1932ء میں آپ لکھنؤ یونیورسٹی کے شعبۂ عربی سے وابستہ ہو گئے اور ستائیس سال تک طلاب کو فیض پہونچاتے رہے ـ

علی گڑھ یونیورسٹی : سنہ 1959ء میں علی گڑھ یونیورسٹی نے آپ کو شیعہ دینیات کے شعبے میں بحیثیت ریڈر مدعو کیا اور آپ علی گڑھ منتقل ہو گئے ـ پھر آپ شیعہ دینیات کے پروفیسر بنائے گئے ـ

ریٹائرمنٹ کے بعد بھی آپ نے مستقل طور پر علی گڑھ میں ہی سکونت اختیار کرلی ـ

سنہ 1977ء میں لکھنؤ کے کچھ شرپسندوں نے آپ کے لکھنؤ کے مکان میں آگ لگادی ،ـ جس میں ہزاروں قیمتی کتابیں جل کر راکھ ہوگئیں ـ

اسی میں آپ کی عربی تصانیف کے غیر مطبوعہ مسودات بھی خاکستر ہو گئے جس کا آپ کو آخر عمر تک صدمہ رہا ـ

تحریری خدمات[ترمیم]

آپ دین کے نشر و اشاعت کے لیے خطابت کے بہ نسبت تدریس اور تحریر کو زیادہ ترجیح دیتے تھے جس کا اندازہ آپ کی کتب کی طویل فہرست کو دیکھ کر لگایا سکتا ہے ـ

آپ نے اپنی تمام مصروفیات کے باوجود، خاص طور پر اردو زبان میں نہایت اہم کتب، رسائل اور مضامین کا ذخیرہ آنے والی نسلوں کے لیے صدقۂ جاریہ کے عنوان سے چھوڑا ہے ـ

اس کے علاوہ عربی زبان میں بھی عمدہ کتابیں تصنیف کیں ـ

آپ کے قلم سے تحریر ہونے والی کتب، رسائل اور مضامین کی کل تعداد فہرست کتابچہ سید العلماء کے مطابق 141 بیان کی گئی ہے ـ [7]

حالانکہ ان کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے ـ

اردو تحریریں[ترمیم]

علامہ سید علی نقی اعلی اللہ مقامہ کی اردو کتب کی فہرست :

  • (الف)
  1. آثار قدرت
  2. اصول دین اور قرآن
  3. اسلام کا پیغام پس افتادہ اقوام کے نام
  4. امامت ائمہ اثنا عشر اور قرآن
  5. اسلام دین عمل ہے۔
  6. اسلامی کلچر کیا ہے؟
  7. اسلامی نظریہ حکومت
  8. اسلامی تمدن
  9. اسلام اور انسانیت
  10. اسلام کی حکیمانہ زندگی
  11. اسلامی عقائد
  12. اصول اور ارکان دین
  13. الدین القیم
  14. اسوہ حسینی
  15. امام حسین کی شہادت اور دستور اسلامی کی حفاظت
  16. اسیری اہل حرم
  17. اثبات پردہ
  18. اشک ماتم
  19. اتحاد بین المسلمین (درد مندوں کی آوازیں)
  20. ابو الائمہ کے تعلیمات
  21. اگر واقعہ کربلا نہ ہوتا تو کیا ہوتا؟
  22. استقامت علی الحق کا معیاری نمونہ
  23. التوائے حج پر شرعی نقطہ نظر سے بحث
  24. اسلام کی فکر حاضر میں موزونیت
  25. امام رضا
  26. امام منتظر
  27. امامت
  28. انصار حسین
  29. ایمان بالغیب
  30. اسلام کا نظریہ حکومت
  31. اسلامی قانون وراثت

|

  • (ب)
  1. بنی امیہ کی عداوت اسلام کی مختصر تاریخ
  2. بین الاقوامی شہید اعظم حسین بن علی
  • (پ)
  1. پانچویں امام
  2. پیغام حسین بہ عالم انسانیت (فارسی)
  • (ت)
  1. توحید
  2. تقیہ
  3. تاریخ شیعہ کا مختصر خاکہ
  4. تاریخ تدوین حدیث
  5. تحقیق اذان
  6. تحفۃ العوام مطابق فتوائے سید العلماء
  7. تراجم قرآن پاک بزبان اردو (سولہ حصے)
  8. ترجمہ سید علی نقی بقلمہ (ہماں ص117و393)
  9. تذکرہ حفاظ شیعہ (دو جلدیں)
  10. تاجدار کعبہ
  11. تاریخ اسلام میں واقعہ کربلا کی اہمیت
  12. تاریخ اسلام (چار جلدوں میں)
  13. تعزیہ داری کی مخالفت کا اصل راز
  14. تحریف قرآن کی حقیقت
  15. تجارت اور اسلام
  16. تفسیر قرآن فصل الخطاب، (سات جلدوں میں)
  17. تقریرات بحث آیت اللہ نائینی فی الاصول
  • (ث)
  1. ثنائے پروردگار (از کلام امیر المومنین)

|}

  • (ج)
  1. جبر واختیار
  2. جہاد
  3. جناب رضوان مآب
  4. جناب جنت مآب
  5. جناب غفران مآب
  6. جہاد مختار
  • (ح)
  1. حیات قومی
  2. حقیقت اسلام
  3. حقیقت صبر
  4. حجج وبینات
  5. حسن مجتبی
  6. حسن عسکری
  7. حج
  8. حجج ومعاذیر (عربی واردو)
  9. حدیث حوض
  10. حیات جاوداں
  11. حسین اور قرآن
  12. حسین اور اسلام
  13. حضرت علی کی شخصیت

علم واعتقاد کی منزل میں

  1. حسین حسین ایک تعارف
  2. حسین اور ان کا پیغام
  3. حسینی اقدام کا پہلا قدم
  4. حسین کا پیغام عالم انسانیت کے نام
  • (خ)
  1. خدا پرستی اور مادیت کی جنگ
  2. ختم نبوت
  3. خمس
  4. خدا کا ثبوت
  5. خدا اور مذہب
  6. خدا کی معرفت
  7. خلافت اور امامت (چھ حصے)
  8. خطبات کربلا
  9. خطبات سید العلماء
  10. خلافت یزید کے متعلق آزاد رائیں
  11. حضرت خدیجۃ الکبری
  • (د)
  1. دو اسلام پر ایک نظر
  2. دسویں امام
  3. دنیا آخرت کی کھیتی ہے
  4. دیں پناہ است حسین
  5. دعای سمات
  • (ذ)
  1. ذات وصفات
  2. ذاکری کی کتاب (چار حصے)
  3. ذوالجناح
  • (ر)
  1. رہنمائے ذاکری (چار حصے)
  2. رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
  3. رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا مرتبہ فصاحت اور

کلام رسو ل صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خاص انفرادیت

  1. رد وہابیت
  2. رہبر کامل
  3. رہنمایان اسلام
  4. روزہ
  • (ز)
  1. زندگی کا حکیمانہ تصور
  2. زکوۃ
  3. زندہ جاوید کا ماتم
  4. زندہ سوالات
  • (س)
  1. سید سجاد
  2. سفر نامہ عراق
  3. سیدہ عالم سلام اللہ علیہا
  4. سر ابراہیم واسماعیل
  5. سرور شہیداں
  6. سفر نا مہ حج
  7. سجدہ گاہ
  8. سامان عزا
  • (ش)
  1. شہادت کبری (تبصرہ)
  2. شادی خانہ آبادی
  3. شہید انسانیت
  4. شیعیت کا تعارف
  5. شہید کربلا
  6. شجاعت کے مثالی کارنامے
  7. شاہ است حسین بادشاہ است حسین
  8. شہید کربلا کا سال بہ سال ماتم
  9. شہادت زار کربلا
  10. شب شہادت
  11. شہدائے کربلا (تین حصے)
  12. شہادت حسین کے اسباب
  13. شہید کربلا کی خاندانی خصوصیات
  14. شہید کربلا کی کی یادگار کا آزاد ہندوستان سے مطالبہ
  • (ص)
  1. صنائع کردگار
  2. صلح اور جنگ (عقل وفطرت کی روشنی میں)
  3. صحیفہ سجادیہ کی عظمت
  4. صادق آل محمد
  5. صدیقہ صغری
  6. صلح امام حسن علیہ السلام
  • (ض)
  1. ضرورت مذہب
  • (ع)
  1. عبادت اور طریق عبادت
  2. عید غدیر
  3. عظمت حسین
  4. عالمی مشکلات کا حل
  5. عدل
  6. عزائے مظلوم
  7. عزائے حسین کی اہمیت
  8. عد م تشدد اور اسلام
  9. عزائے حسین پر تاریخی تبصرہ
  10. عورت اور اسلام
  11. عشرہ محرم اور مسلمانان پاکستان
  • (ف)
  1. فلسفہ گریہ
  2. فریاد مسلمانان عالم
  3. فضائل جناب امیر المومنین کی خصوصیات
  4. فتاوائے سید العلماء (یہ ضخیم کتاب سعودی کسٹم پر ضبط ہو گئی)
  • (ق)
  1. قرآن مجید کے انداز گفتگو میں معیار تہذیب و رواداری
  2. قتیل العبرۃ
  3. قرآن اور نظام حکومت
  4. قرآن کے بین الاقوامی ارشادات
  5. قانون وراثت
  6. قاتلان حسین کا مذہب
  • (ک)
  1. کتاب شہید اعظم پر تبصرہ
  2. کتاب مسئلہ حیات النبی
  3. کتاب نبوت
  4. کربلا کی یاد گار پیاس
  5. کربلا کا تاریخی واقعہ مختصر یا طولانی
  • (گ)
  1. گیارہویں امام
  • (ل)
  1. لارڈ رسل کے ملحدانہ خیالات کی رد
  2. لاتفسدوا فی الارض
  • (م)
  1. مذہب شیعہ اور تبلیغ
  2. مسلمانوں کی حقیقی اکثریت (واقعہ کربلا کا ایک خاص پہلو)
  3. مقتل ابو مخنف کا تحقیقی جائزہ
  4. مباہلہ
  5. مقدمہ مختصر برائے ترجمہ و حواشی قرآن
  6. مقدمہ تفسیر قرآن
  7. محاربہ کربلا
  8. معرکہ کربلا
  9. موسی کاظم
  10. معاد
  11. مسائل و دلائل
  12. مجموعہ تقاریر (پانچ حصے)
  13. مقدمہ نہج البلاغہ
  14. مقالات سید العلماء (دو حصے)
  15. مسلم پرسنل لا نا قابل تبدیل
  16. متعہ اور اسلام
  17. مذہب کی ضرورت
  18. مادیت کا علمی جائزہ
  19. مذہب اور عقل
  20. مذہب شیعہ ایک نظر میں
  21. مذہب باب وبہاء (دو جلدیں)
  22. معراج انسانیت
  23. مولود کعبہ
  24. مقصود کعبہ
  25. مطلوب کعبہ
  26. مجسمہ انسانیت
  27. مجاہدہ کربلا
  28. مظلوم کربلا
  29. مقصد حسین
  30. مسلمانوں کی نقلی اکثریت
  31. معصوم شهزادی
  32. مراکز مہم علمی شیعہ
  • (ن)
  1. نہج البلاغہ کا استناد
  2. نوروز و غدیر
  3. نماز
  4. نظام ازدواج
  5. نظام زندگی (چارحصے)
  6. نظام تمدن اوراسلام
  7. نویں امام
  8. نفس مطمئنہ
  • (و)
  1. وجیزۃ الاحکام (عملیہ)
  2. وعدہ جنت
  3. واقعہ وفات رسول
  4. وجود حجت
  • (ہ)
  1. ہمارے رسوم و قیود
  2. ہلاکت اور شہادت
  • (ی)
  1. یاد اور یادگار
  2. یزید اور جنگ قسطنطنیہ [8]

عربی تحریریں[ترمیم]

علامہ سید علی نقی اعلی اللہ مقامہ کی عربی کتب کی فہرست :

  1. آیۃ اللہ النائینی وموقفہ العلمی بین الطائفہ(عربی)
  2. اقالۃ العاثر فی اقامۃ الشعائر (عربی)
  3. البیت المعمور فی عمارۃ القبور(عربی)
  4. پیغام حسین بعالم انسانیت (فارسی)
  5. تفسیر قرآن (عربی)
  6. تلخیص عماد الاسلام (عربی)
  7. جواب رسالۃ الی صاحب ھذہ المجموعۃ من صدیقہ العلامۃ الحجۃ السید علی نقی النقوی اللکھنوی(مکتبۃ بحرالعلوم 289)
  8. جہاد مختار
  9. الحجج والبینات (عربی)
  10. حجج ومعاذیر (عربی واردو)
  11. حاشیۃ الکفایہ فی مباحث الفاظ للعلامۃ المیرزا ابو الحسن المشکینی (عربی)
  12. حول کتاب اعیان الشیعہ (عربی)
  13. حواشی علی الرسائل (عربی)
  14. حواشی علی المکاسب (عربی)
  15. الراحل العظیم (عربی)
  16. الرد القرآنیہ علی الکتاب المسیحیۃ (عربی)
  17. رسالۃ ابی عبد اللہ الحسین(عربی)
  18. روح الادب شرح الامامیۃ العرب(عربی)
  19. رسالۃ من ابن حسن نجفی (مکتبۃ بحر العلوم 199)
  20. رسالۃ الی السید محمد صادق بحرالعلوم (للسید محمد تقی بحرالعلوم) (مکتبۃ بحرالعلوم 199)
  21. عدۃ رسائل للسید محمد صادق بحرالعلوم وفیھا تواریخ لوفاۃ شیخھم الطھرانی (مکتبۃ بحرالعلوم 199)
  22. رسالۃ فی الاجتہاد والتقلید (عربی)
  23. رسالۃ المولف سید علی نقی 27 ذی القعدہ (مکتبۃ بحرالعلوم 203)
  24. رسالۃ السید علی نقی للشیخ الاوردبادی (مکتبۃ بحرالعلوم 203)
  25. رسالۃ السید علی نقی الی الشیخ الاوردبادی (مکتبۃ بحرالعلوم 205)
  26. رسالۃ السید علی نقی النقوی (مکتبۃ بحرالعلوم 206)
  27. رسالہ شریفہ فی تراجم مشاھیر علما الھند (ایضاً؛ ص115و392)
  28. رسالۃ فی نیت الصوم (عربی)
  29. زبدۃ الکلام او تلخص عماد الاسلام (عربی)
  30. السبطان فی موقفھما (عربی)
  31. السیف الماضی عن عقائد الاباضی (عربی) (فہرست بحرالعلوم ص68)
  32. شھادۃ بحق السید النقوی من الشیخ راضی آل یاسین (مکتبۃ بحرالعلوم 206)
  33. العقود الذھبیہ فی السلسلۃ النسبیہ (عربی اشعار) (ہماں ص117)
  34. السید علی نقی النقوی الکھنوی نثرا (مکتبۃ بحرالعلوم 242)
  35. السید علی نقی النقوی الکھنوی (مکتبۃ بحرالعلوم 248)
  36. الکلام علی الفقہ الرضوی (عربی)
  37. کتاب صدیقنا العلامۃ السید علی نقی النقوی اللکھنوی الذی کتبہ لنا من الھند یعزینا فیہ بوفاۃ ابن عمنا المرحوم السید علی وصدیقنا المیرزا محمد علی الاوردبادی وکانت وفاتھما متقاربۃ فی سنۃ 1380 (مکتبۃ بحرالعلوم282)
  38. الکراس الثالث (مکتبۃ بحرالعلوم 200)
  39. کشف‌النقاب عن عقائد ابن عبد الوہاب (عربی) (یہ ان کی پہلی تصنیف تھی)
  40. لمحات حول السفور والحجاب (عربی)
  41. المتحف العربی من الادب العصری (عربی)
  42. المتحف العربی (عربی)
  43. مقدمہ تفسیر القرآن (عربی)
  44. متجمع التبثیر(عربی)
  45. مشقت النذیر فی المسئلۃ التصویر(عربی)
  46. مسئلۃ فی الخیر والشر(عربی)
  47. النجعۃ فی اثبات الرجعہ (عربی)
  48. نظرات بحاثہ فی الاخبار الثلاثہ (فہرست مکتبہ العلامہ السید محمد صادق بحرالعلوم ص108)
  49. نجف ام طف
  50. نقد الفرائد
  51. وجیزۃ الاحکام (عملیہ)
  52. الوضاعون للاحادیث فی مذمۃ علی علیہ السلام ومن کان منحرفا عنہ ومبغضا (مکتبۃ بحرالعلوم 289) [8]

مصادر و مآخذ[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. الغدیر، ج: 7، ص: 405
  2. معجم المؤلفین، عمر کحالہ، ج: 10، ص: 270
  3. علی فی الکتاب و السنۃ، حاج حسین شاکری، ج: 5، ص: 229
  4. الذریعہ الی تصانیف الشیعہ (آقا بزرگ تہرانی)، ج: 2، ص: 263
  5. معجم المطبوعات النجفیہ، محمد ہادی امینی، ص: 88
  6. الذریعہ الی تصانیف الشیعہ (آقا بزرگ تہرانی)، ج: 12، ص: 288، ش: 1938
  7. خورشید خاور (تذکرہ علما ہند و پاک)، ص: 263 تا 268
  8. ^ ا ب مجلہ شش ماہی مآب، شمارہ: 1