سید فرمان علی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

حافظ سید فرمان علی، کے مشہور اردو مترجم قرآن مجید مفسر تهے ـ آپ کا قرآن کا ترجمہ اردو زبان کا بہترین ترجمہ ہے جو اردو زبان میں ہوا.

ولادت[ترمیم]

آپ کی ولادت صوبہ بہار میں بمقام چندن پٹی ضلع دربھنگہ سنہ 1293ھ مطابق سنہ 1876ء میں ہوئی آپ کے والد سید لعل محمد ایک دیندار انسان تھے ـ۔

تعلیم[ترمیم]

ابتدائی تعلیم وطن میں حاصل کی ــ

اعلی تعلیم کے حصول کے لیے مدرسہ ناظمیہ لکھنؤ میں داخلہ لیا اور وہاں سرکار نجم العلماء(نجم الملت) کی سرپرستی میں مدارج کمال کو طے کیا ـ

مدرسہ ناظمیہ لکھنؤ کی تاسیس 20/ فروری سنہ 1890ء کو عمل میں آئی اور سب سے پہلے مولانا فرمان علی کے حقیقی چچازاد بھائی مولانا فخرالدین نے اس مدرسہ سے ممتازالافاضل کی سند حاصل کی ـ وہ اپنے کلاس میں تنہا تھے ـ

ان کے بعد والے کلاس میں خود مولانا فرمان علی، مولانا سید محمد ہارون زنگی پوری، مولانا سید محمد داؤد زنگی پوری اور مولانا سید سبط حسن جائسی تھے ـ

یہ چاروں حضرات سنہ 1313ھ میں ممتازالافاضل کی سند کے ساتھ، ایک ساتھ فارغ التحصیل ہوئے ـ

ممتازالافاضل میں ان حضرات کے لیے فقہ و اصول کے امتحان کا سوالنامہ نجف اشرف میں اس وقت کے مرجع اعلی آیت اللہ سید محمد کاظم طباطبائی یزدی(صاحب کتاب عروۃ الوثقی) نے ترتیب دیا تھا ـ اور ان حضرات نے عربی زبان میں ایسے جوابات لکھے کہ آیت اللہ یزدی نے انھیں بے حد تحسین سے نوازا ــ

لکھنؤ میں قیام کے دوران آپ نے علم طب بھی حاصل کیا ـ اور اس میں بھی درجہ کمال تک پہونچ گئے ـ علم طب میں آپ کے استاد کا نام معلوم نہیں ھوسکا ہے ـ

آپ بڑے ذھین و فہیم تھے ــ پانچ ماہ کے مختصر سے عرصہ میں قرآن مجید مکمل حفظ کر لیا ـ اور بڑے بڑے حفاظ نے آپ کو تحسین سے نوازا ـ

مذھبی خدمات[ترمیم]

9/ ربیع الاول سنہ 1323ھ مطابق 15/ مئی سنہ 1905ء کو پٹنہ سٹی میں مدرسہ سلیمانیہ کی تاسیس کا کام انجام پایا تو مدرسہ کے بانی نواب سید الطاف حسین رضوی کی درخواست پرآپ نے مدرسہ کی مدیریت قبول فرمائی ـ اور ایک عرصہ تک اس ذمہ داری کو بحسن و خوبی انجام دیا ـ

آپ کے تلامذہ میں مولانا سید حفاظت حسین بهیکپوری صاحب تفسیر قرآن پروفیسر سید اعجاز حسین جعفری پی ۔ ایچ ۔ ڈی۔ (لندن) صدر شعبہ عربی ڈھاکا یونیورسٹی اور مولانا سید محمد ایڈوکیٹ چھندواڑہ مظفرپور نمایاں حیثیت رکھتے ہیں ــ

مدرسہ سلیمانیہ کے نصاب درسی کی ترتیب کے سلسلے میں آپ نے اردو زبان میں دینیات کی چار کتابیں لکھیں جن میں سے تین کتابیں طبع ہوئیں اور آج تک پریس والے اس کی مانگ کے مدنظر برابر اسے چھاپ رہے ہیں ــ

اس کے علاوہ کتاب النحو اور کتاب الصرف لکھی جو بہت دنوں تک مقبول رہی ــ

آپ فن خطابت اور مناظرہ میں بھی اعلی صلاحیتوں کے مالک تھے ـ اور اس راہ میں بھی آپ نے دور دراز کے سفر کیے ــ

اہل حدیث کے نامور عالم مولوی ثناء اللہ امرتسری (ایڈیٹراہل حدیث) سے آیہ ولایت کی تفسیر پر آپ کا تحریری مناظرہ ہوتا رہا جو رسالہ اصلاح میں چھپتا رہا ـ بعد میں ادارہ اصلاح نے ان مضامین کا مجموعہ، الولی کے نام سے شائع کیا ــ

مظفرپور میں قیام[ترمیم]

فقہ، اصول اورعقائد و کلام کے علاوہ آپ علم طب میں بھی مہارت رکھتے تھے ـ طبی فیض رسانی کے لیے آپ نے مدرسہ سلیمانیہ کی مدیریت سے استعفاء دینے کے بعد، سریا گنج مظفرپور میں اپنا مطب کھولا اور کچھ ہی عرصہ میں آپ اطراف و اکناف میں ایک حکیم حاذق کی حیثیت سے مشہور ہو گئے اور انگریز ڈاکٹروں کی پریکٹس ماند پڑ گئی ـ

اس وقت دربھنگہ اور مظفرپور کے درمیان ریل نہیں تھی ،ـ آپ ستر کلومیٹر کا یہ سفر سائیکل سے طے کرتے تھے ــ یہ اس علاقہ کی سب سے پہلی سائیکل تھی ــ

حفظ قرآن[ترمیم]

مظفرپور میں، مدرسہ جامع العلوم، چندوارہ کے مدرس اعلی مولانا رحمۃ اللہ (اہل سنت) آپ کے پڑوسی تھے۔ دونوں میں بڑی بے تکلفی تھی ،ـ

ایک دن مولانا رحمۃ اللہ نے آپ سے مذاق میں کہا کہ شیعوں میں حافظ قرآن نہیں ہوتے ،ـ آپ نے اسی دن سے قرآن حفظ کرنا شروع کر دیا اور پانچ ماہ کے مختصر عرصہ میں مکمل قرآن حفظ کر لیا ـ

آپ کے اس کارنامہ کودیکھنے کے لیے دور دور سے قاری اور حافظ قرآن جمع ہوئے اور سب نے آپ کی خداداد یاد داشت کا لوہا مان لیا ـ

آپ کے حفظ کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ آپ جس طرح سورہ حمد سے سورہ ناس تک سنا سکتے تھے اسی طرح سورہ ناس سے سورہ حمد تک بھی سنا سکتے تھے ـ

حفظ قرآن کے مسابقات میں شرکت کے لیے بھی آپ نے دور دور کے سفر کیے ـ۔

ترجمہ قرآن[ترمیم]

سنہ 1326ھ میں آپ نے قرآن مجید کے اردو ترجمہ کا آغاز کیا اور دو سال کی مدت میں پایہ تکمیل تک پہونچا دیا ــ [1]

خصوصیات ترجمہ :

اس ترجمہ کی ایک خصوصیت، سلاست اور روانی ہے کہ ایک طرف قاری آیت پڑھتا جائے اور دوسری طرف بین السطور اس کا سلیس ترجمہ ،۔ اس طرح مطلب آسانی سے سمجھ میں آتا چلا جائے گا ــ

قابل تشریح لفظ کے لیے قوسین میں متبادل لفظ یا جملہ استعمال کرنے سے ترجمہ میں مزید روانی پیدا ہو گئی ہے ــ

جو مطلب آیت کے ترجمہ میں واضح نہیں ہو پایا ہے اس کی وضاحت حاشیہ میں کردی گئی ہے ـ

آیات کی شان نزول، مصادیق اور فضائل اہل بیت کا بیان نیزمتعلقہ واقعات، شیعہ اور اہل سنت کی مستند اور معتبر کتابوں سے نقل کرکے قاری کے اطمینان کا مکمل سامان فراہم کیا گیا ہے ــ اس خصوصیت نے آپ کے ترجمہ قرآن کو مولانا مقبول احمد دہلوی کے ترجمہ قرآن اور حواشی سے ممتاز کر دیا ہے ــ

ابتدا میں قرآن مجید کے مضامین کی مفصل فہرست ہے جس میں جداگانہ ابواب قرار دئے گئے ہیں مثلا باب التوحید، باب النبوۃ، باب القیامۃ، باب الفقہ والاحکام اور باب السیر والتاریخ ــ

ہر موضوع سے متعلق آیات کی نشان دہی کرتے ہوئے صفحہ نمبر بھی درج کر دیا گیا ہے تاکہ قاری کو آیت کی تلاش میں زحمت نہ ہو ــ

موضوع کے اعتبار سے آیات کا یہ انڈکس کمپیوٹر کے زمانے میں تو آسان ہے مگر اس زمانے میں ایک عظیم علمی کارنامہ ہے ــ

مضامین کا عنوان صفحات کے حاشیہ پر جلی حروف میں تحریر کیا گیا ہے ــ

ہر سورے کے آغاز میں حاشیہ پر اس سورے کے مضامین کا خلاصہ درج کیا گیا ہے ــ[2][3]

انھیں تمام خصوصیات پر مشتمل ہونے کی بنا پر آپ کا یہ ترجمہ قرآن، عوام اور علما اعلام دونوں میں برابر سے مقبول ہوا ،ـ جس کی بنا پر عزیز لکھنوی جیسے استاد فن نے یہ لکھا کہ میرا عقیدہ ہے کہ اگر یہ کتاب اللہ اردو زبان میں نازل ہوتی تو آپ کے ترجمہ میں اور اس میں ایک لفظ کا فرق نہ ہوتا ــ

علامہ شیخ آقا بزرگ تہرانی کی نگاہ میں[ترمیم]

علامہ شیخ آقا بزرگ تہرانی نے آپ کو سید فاضل کہہ کر یاد کیا ہے ـ [4]

انھوں نے آپ کے ترجمہ قرآن کا تذکرہ اپنی مشہور کتاب الذریعۃ الی تصانیف الشیعۃ میں کیا ہے ـ [5]

شادی اور اولاد[ترمیم]

آپ کی شادی آپ کے چچا سید ظہیرالدین کی بیٹی کنیزسیدہ سے ہوئی جو مولانا سید فخرالدین کی بہن تھیں، ـ آپ کی ان سے کئی اولادیں ہوئیں مگر صرف ایک بیٹی زندہ رہی جس کا نام ہاجرہ تھا، ـ آپ کے انتقال کے بعد اس بیٹی کی شادی مولانا سید صغیرحسن ملک پوری سے ہوئی جو مدرسہ سلیمانیہ کے مدرس تھے ــ

اولاد نرینہ کی تمنا میں آپ نے مظفرپور میں بھی ایک بیوہ مومنہ سے شادی کی تھی مگر ان سے بھی صرف ایک بیٹی پیدا ہوئی جو کمسنی میں ہی انتقال کرگئی ــ

وفات اور مدفن[ترمیم]

سنہ 1916ء میں مظفرپور میں ہیضہ کی وبا آئی جس میں آٹھ دن مبتلا رہ کر، چالیس سال کی عمر میں بتاریخ 4 رجب المرجب سنہ 1334ھ مطابق 7 مئی سنہ 1916ء آپ نے رحلت فرمائی اور مظفرپور کمپنی باغ کی کربلا میں آپ کو سپرد لحد کیا گیا ــ [6]

مآخذ و مصادر[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. معجم مؤلفی الشیعۃ ص 401
  2. روح القرآن، ص 385
  3. تذکرہ مفسرین امامیہ برصغیر، ص 256
  4. نقباء البشر فی القرن الرابع عشر، ج: 5، ص: 30
  5. الذریعۃ الی تصانیف الشیعۃ، ج: 4، ص: 127
  6. خورشید خاور، ص 134