مندرجات کا رخ کریں

سید فضل اللہ شاہ راشدی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

پیر سائين سید فضل اللہ شاہ راشدی رح، (صاحب العالم الثانی) پیر آف جھندا دوم ،پیر سائیں پاک شہید کے نام سے بھی معروف ھین، نے اپنی زندگی مذہبی اور علمی خدمات سے بھرپور گزاری۔ وہ پیر سید محمد یاسین شاہ راشدی رح اول کے سب سے بڑے بیٹے تھے۔

سید محمد یاسین شاہ راشدی رح اول کی 1275 ہجری میں وفات کے بعد، پیر سید فضل اللہ شاہ راشدی رح نے پیر آف جھندا دوسرے کی حیثیت سے سجادہ نشین کا عہدہ سنبھالا اور اپنی جماعت و برادری کو توحید کی طرف رہنمائی اور قیادت کے لیے خود کو وقف کر دیا۔

خاندانی اختلافات کی وجہ سے، پیر سائیں پاک شہید کو اپنی جگہ تبدیل کرنی پڑی۔ انھوں نے تھلہ شریف لاڑکانہ سے نیو سعید آباد کے قریب ایک گاؤں میں سکونت اختیار کی جو بعد میں ابرجہ کے نام سے جانا گیا۔

اس کے بعد، مخدوم غلام محمد رح نے ان کو زمین فراہم کی، جہاں پیر سائیں پاک شہید نے ایک نیا گاؤں قائم کیا جو بعد میں گوٹھ پیر سید فضل اللہ شاہ راشدی کے نام سے جانا گیا اور پھر پیر جھندو کے نام سے مشہور ہوا۔

    • وفات کا واقعہ:**

بدقسمتی سے، 1287 ہجری میں، جب آپ اپنے مریدوں سے ملنے کے لیے پبروار سائڈ شادادپور تحصیل کے ایک گاؤں میں گئے، وضو کرتے وقت ان کو شہید کر دیا گیا کیونکہ پیر سائیں پگارا اور پیر سائیں جھنڈے والا پاک شہید ایک میر کی شادی میں گئے، دونوں نے شرکت کی۔ پیر سائیں پگارا نے چاندی کے سکے دیے، جبکہ پیر سائیں جھنڈے والا پاک شہید نے سونے کے سکے دیے۔ اس بات پر پیر سائیں پگارا کے کچھ مریدوں کو یہ اچھا نہیں لگا کہ پیر سائیں جھنڈے والے نے پیر سائیں پگارا پر سبقت لی۔ اس لیے کچھ بد بخت حروں نے پیر سائیں پاک شہید کو شہید کیا۔

پیر سائیں پگارا کے کچھ مریدوں کو یہ اچھا نہیں لگا کہ جھنڈے والا فقیر ہو کر ان پر سبقت کیوں لے گیا۔ اور آپ 45 سال کی عمر میں اپنے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے وفات پا گئے۔ آپ کا جسد خاکی پیر جھندو گاؤں لایا گیا، جہاں آپ کو دفن کیا گیا۔ اس واقعے نے سندھ بھر میں صدمے اور خوف کی لہر دوڑا دی۔ اس سانحے کے نتیجے میں قانونی تنازعات پیدا ہوئے، پیر سائیں رشید الدین شاہ راشدی بیت والی نے کیس سے دستبرداري اختیار كي" کہ ایک بھائی شہید ہو گیا، اب انگریز چاہتے ہیں کہ پیر پگارو کو بھی کیس میں گرفتار کر کے پھانسی دیں۔

پیر سائیں رشیدالدین شاہ بیت والی نے کہا کہ ایک بھائی شہید ہو گیا، دوسرا بھائی ہم انگریزوں کے ہاتھوں شہید نہیں ہونے دیں گے۔ اور پیر سائیں بیت والی نے انگریزوں کو کہا کہ ہم کیس نہیں کریں گے، ہم بھائی آپس میں مسئلہ حل کر لیں گے۔

آپ کی شہادت کے بعد، پیر صدیق الرسول شاہ راشدی کو سجادہ نشینی سنبھالنی تھی۔ جب ان کے سر پر عمامہ رکھا گیا، تو انھوں نے اسے اتار کر اپنے چھوٹے بھائی، پیر رشید الدین شاہ راشدی کو دے دیا اور کہا، "میں اس کا اہل نہیں ہوں کیونکہ میرے چھوٹے بھائی سید رشید الدین اس کے لیے زیادہ قابل اور اہل ہیں۔" نتیجتاً، ان کے بھائی سید رشید الدین راشدی (رح) کو تیسرے سجادہ نشین کے طور پر مقرر کیا گیا۔" ۔ پیر سید فضل اللہ شاہ کو نرینہ اولاد نہیں تھی صرف ایک بیٹی تھی جو ان کے بھتیجے سید رشد اللہ شاہ کے نکاح میں ائی اور وہ پیر سید احسان اللہ شاہ راشدی کی والدہ محترمہ تھی

پیر سائیں سید احسان اللہ شاہ جب پیدا ہوئے تو پیر سائیں بیت دھنی رشیدالدین شاہ نے کہا، "جو پگ ہمارے پاس امانت ہے، آج اس کا وارث اس دنیا میں آگیا ہے۔ پیر سائیں پاک شہید کا نواسہ آگیا ہے۔" اس لیے پیر سائیں سید احسان اللہ المعروف پیر سائیں فضل اللہ شاہ راشدی بھی کہا جاتا ہے۔~

1. **پیر سائين سید محمد یاسین شاہ راشدی اول* – صاحب العالم الاول پیر آف جھندا I

2. **پیر سائين سید فضل اللہ شاہ راشدی** [پیر سائیں پاک شہید] – صاحب العالم الثانی~ پیر آف جھندا II 3. **پیر سائين سید رشیدالدین شاہ راشدی** (پیر صاحب بیت والے) صاحب العلم الثالث – پیر آف جھندا III 4. **پیر سائين سید رشد اللہ شاہ راشدی** (پیر صاحب خلافت والے) صاحب العلم الرابع – پیر آف جھندا IV 5. **پیر سائين سید احسان اللہ شاہ راشدی** (پیر صاحب سنت والے) صاحب العلم الخامس – پیر آف جھندا V 6. **پیر سائين سید محب اللہ شاہ راشدی** (پیر سائیں علم والے)(صاحب العلم السادس) – پیر آف جھندا VI 7. **پیر سائين سید محمد یاسین شاہ راشدی II** (پیر سائیں دادا سائیں)(صاحب العلم السابع) – پیر آف جھندا VII

سجادہ نشینی

[ترمیم]

سید محمد یاسین شاہ راشدی کی وفات کے بعد آپ کے بڑے بیٹےسید فضل اللہ شاہ راشدیکو پیر جھنڈہ دوم کی حیثیت سے سجادہ نشین مقرر کیا گیا۔

اولاد

[ترمیم]

آپ کی ایک بیٹی تھی جو احسان اللہ راشدی کی ماں تھی

وفات

[ترمیم]

خاندانی رقابت کی وجہ سے آپ حروں کے ہاتھوں شہیدہوگئے تھے۔[1]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. راشدی خاندان کا شجرہ، ص:56
 یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کر کے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔