سید محمد اشرف

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سید محمد اشرف
Syed muhammad ashraf.jpg
پیدائش 24 ستمبر 1952ء (عمر 67 سال)

سیتاپور، ہندوستان
قلمی نام سید محمد اشرف
پیشہ ناول نگار، افسانہ نگار
زبان اردو
قومیت Flag of بھارتہندوستانی
نسل سید
تعلیم اردو ایم اے
اصناف افسانہ،ناول
نمایاں کام نمبردار کا نیلا
آخری سواریاں
اہم اعزازات ساہتیہ اکادمی ایوارڈ

سید محمد اشرف بھارت کے ممتاز افسانہ اور ناول نگار ہیں۔ ان کی تصانیف میں نمبردار کا نیلا کو عالمی سطح پر پزیرائی حاصل ہوئی اور اس کتاب کے متعدد زبانوں میں تراجم ہوئے۔ حال ہی میں ان کا ناول آخری سواریاں شائع ہوا ہے۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

سید محمد اشرف 1957ء كو سیتاپور میں پیدا ہوئے۔اتر پردیش کے ضلع ایٹہ کا قصبہ مارہرہ شریف ان کا آبائی وطن ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اوران دنوں انکم ٹیکس کے شعبے میں کمشنر کے عہدے پر فائز ہیں۔

ادبی خدمات[ترمیم]

بیسویں صدی کی آخری دہائی میں اردو میں یکے بعد دیگرے کئی ناول لکھے گئے۔ ان میں کچھ مقبول ہوئے توکچھ کو قبولیت کا شرف حاصل نہ ہو سکا۔ کچھ ناولوں پر دیر تک گفتگو ہوئی مثلاً جوگندرپال کا ناول خوب رو، مظہر الزماں خاں کا ناول آخری داستان گو، حسین الحق کا ناول فُرات، غضنفر کا ناول پانی، علی امام نقوی کا ناول تین بتّی کے راما اور سید محمد اشرف کا ناول نمبر دار کا نیلا وغیرہ۔ یوں تو مذکورہ بالا تمام ناول اہمیت کے حامل ہیں تاہم اشرف کا ناول نمبردار کا نیلا اپنے موضوع، ٹریٹمنٹ، کردار نگاری اور زبان و بیان کے حوالے سے خصوصاً جانور کو بطور کردار پیش کرنے کے لحاظ سے زیادہ توجہ اور گفتگو کا تقاضا کرتا ہے۔

فکشن میں سیدمحمد اشرف کی ابتدائی پہچان جانوروں کے پیرائے اظہار سے قائم ہوئی لیکن ان کا طرز نگارش محض جانوروں تک محدود نہیں ہے۔ ان کے یہاں ایسے کئی کامیاب افسانے ہیں جن میں جانور نہیں ہیں۔ مثلاً کعبے کا ہرن، دوسرا کنارہ اور چمک وغیرہ۔ اشرف کوکچھ ان کے خاندانی پس منظر اور کچھ ان کے فکشن میں موجود مخصوص تہذیب و معاشرہ کی وجہ سے مذہبی تمدن کا فکشن نگار بھی قرار دینے کی کوشش کی گئی لیکن اس طرح کی کوششوں کے خلاف لکڑ بگھا ہنسا اور نمبر دار کا نیلا جیسی تخلیقات دیوار بن گئیں۔ پھر یہ کہا گیا کہ اُن کی فن کاری کا محور علامتی تکنیک ہے، تو یہاں بھی اشرف کا افسانہ ’قربانی کا جانور‘ ایک رکاوٹ بن کر کھڑا ہو گیا۔ آخر سیدمحمد اشرف کے فن کا بنیادی رویہ کیا ہے؟ ان کے دونوں مجموعوں ڈار سے بچھڑے، بادِ صبا کا انتظار، ناولا نمبر دار کا نیلا اور ناول آخری سواریاں کے مطالعہ کے بعد ان کے فن کے تعلق سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ بنیادی طور پر وہ اپنے عہد کے فرد اور معاشرے کی زوال پذیری کے نباض اور ناقد ہیں۔ اشرف کے فن کا ایک وصف یہ بھی ہے کہ وہ جس موضوع کا انتخاب کرتے ہیں اسی کی مناسبت سے کردار، زبان اور ماحول بھی خلق کرتے ہیں۔ انھوں نے فکشن میں عصری سچائیوں کے لیے علامت اور استعاروں کے درمیان سے راہ نکالی ہے۔ ان کے فکشن میں معاشرہ کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ اپنے منفرد تکنیکی و اسلوبیاتی انداز کی وجہ سے وہ اپنے دیگر معاصرین سے ممتاز نظر آتے ہیں۔

تصانیف[ترمیم]

اعزازات[ترمیم]