سید محمد ثقلین نقوی شہیدؒ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
Allama Hafiz Syed Muhammad saqlain naqvi
علامہ حافظ سید محمد ثقلین نقوی شہید
Hafiz Syed Muhammad Saqlain Naqvi .jpg
دیگر نام عربی/فارسی/اردو:
حافظ سید محمد حسنینؒ نقوی
ذاتی
پیدائش ء۱۹۵۲
وفات ۲۰۱۲ء
مذہب اہل تشیع، اثناعشری
دیگر نام عربی/فارسی/اردو:
حافظ سید محمد حسنینؒ نقوی
مرتبہ
مقام Flag of پاکستان - علی پور، پاکستان
دور ء۱۹۵۲-۲۰۱۲ء
پیشرو سینیئر مدرس و سابق پرنسپل جامعہ علمیہ دارالہدیٰ محمدیہ علی پور ضلع مظفر گڑھ
جانشین سید ھادی رضانقوی
نفاذ فرمان اپنی مکتب فکر کے لیے پوری زندگی وقف کی
منصب عالم دین
ویب سائٹ https://www.jamiadarulhuda.com/


زین المدرسین آیت اللہ علامہ حافظ سید محمد ثقلینؒ نقوی اعلی اللہ مقامہ الشریف اہل تشیع کے فرقے اثناء عشریہ کے عالم دین ہیں۔ آپ استاذالعلماءعلامہ سید محمد یار نجفیؒ کے بیٹے، علامہ حافظ سید محمد سبطین نقویؒ اور حافظ سید محمد حسنین نقوی کے چھوٹے بھائی ہیں۔آپ 27 نومبر 1952ء کو علی پور کے عظیم علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔

ابتدائی تعلیم[ترمیم]

آپ نے عرصہ بچپن میں ہی مولانا محمد رمضان کے محضر قرآن مجید حفظ کیا۔درس لمعہ اپنے والد گرامی استاذالعلماء علامہ سید محمد یار نجفیؒ کے پاس پڑھی اور درس خارج اور اعلیٰ تعلیم کے لیے ایران روانہ ہوئے اور عرصہ پندرہ سال اساتذہ سے کسب فیض حاصل کیا۔

اساتذہ[ترمیم]

تدریس[ترمیم]

آپ حوزہ علمیہ قم المقدسہ میں تدریس میں مشغول رہے بہت سے طلاب اور فضلاء نے قم المقدسہ میں آپ کی شاگردی اختیار کی۔ آپ مدرسہ امام المنتظر قم المقدس کے مسئول بھی رہے۔ کئی مراجع کے درس خارج سے سیراب ہوتے رہے۔ اعلیٰ تعلیم سے آراستہ ہونے کے بعد آپ پاکستان تشریف لائے اور آتے ہی تدریس ، تبلیغ اور وعظ سے دینی خدمات کا آغاز کیا۔ آپ پاکستان میں مختلف مدارس میں خدمات انجام دیتے رہے۔ ان میں سے سرفہرست حوزہ علمیہ جامعۃ المنتظر ہے۔ جس میں انہوں نے 1987 سے 1994 تک، اس کے علاوہ مدرسہ مدینۃ العلم قلعہ ستار شاہ ضلع شیخوپورہ میں بطور پرنسپل 1994 کو تشریف لے گئے اور وہاں پر خدمات دینی انجام دیتے رہے اور موعظہ حسنہ سے ان کے وجود سے لوگ فیض یاب ہوتے رہے. جب وہ ایران سے واپس آئے تو عرصہ دس مہینے علی پور میں پڑھاتے رہے پھر قبلہ علامہ سید صفدر حسین نجفی ان کو لاہور مدرسہ جامعۃ المنتظر لے گئے اور وہاں ترکیب اور اس طرح کے دروس اور علم و نحو کے جو مختلف موضوعات ہیں یا وہ چیزیں جو عام طور پر مدرسین پڑھانے سے کتراتے، قبلہ کو وہ درس دیے اور علامہ صاحب نے فرمایا: میری خواہش ہے کہ ان پیچیدہ دروس کو آپ حل فرمائیں۔ آپ عرصہ 4 سال جامعۃ المنتظر میں بطور مدرس و امام جمعہ رہے۔

خصوصیات[ترمیم]

آپ بہت بڑے عظیم مدرس بڑی نابغہ شخصیت بڑے ذہین فطین، لائق واجد الشرائط تھے، تمام تر تدریسی جو علوم و فنون ہیں ان میں یدِ طولیٰ رکھتے تھے، ان کا بہت زیادہ ذوق تھا؛ اور ان کی یہ کوشش ہوتی تھی کہ ہر علم کو چھیڑنا اور اس کے بارے میں جب بھی کوئی سوال کیا گیا، ہم مثال دیا کرتے ہیں کہ رات کے بارہ ایک بجے بھی اگر ان سے رابطہ کرکے ان سے کوئی نحو یا صرف یا اس طرح کی کوئی ایسی ترکیب جو پیچیدہ ہو اور عام طور پر وہ عقدۂ لا ینحل محسوس ہو، اگر ان کو فون کرکے ان کو رات کے دو بجے نیند سے بیدار کیا تو کبھی انہوں نے یہ نہیں کہا کہ دوبارہ پوچھو یا مجھے سوچنے دو؛ بلکہ خندہ پیشانی سے جواب دیا؛ بہت زیادہ ان کا ذوق تھا۔ ۔ بہت قابل اور لائق شخصیت تھے۔ ان کے بھی کافی شاگردان ہیں جو اس وقت مختلف مدارس میں مدیر ہیں یا پڑھا رہے ہیں۔ قبلہ جامعۃ المصطفیٰ کی ہفت رکنی ٹیم کے بھی ممبر رہے ہیں۔ کافی اساتیذ اور آیاتِ عظام ان کے علم و فضل کے قصیدہ گو ہیں۔

مخصوص درس[ترمیم]

ان کی شہرت علم نحو اور ادبیات میں تھی جبکہ وہ خود فرمایا کرتے تھے کہ میرا موضوع منطق اور معقولات ہے۔

شاگردان جامعۃ المنتظر[ترمیم]

  • مولانا ملک اشرف (مدیر جامعہ علمیہ قم)
  • علامہ مومن حسین قمی (مدیر جامعۃ المبلغین اسلام آباد)
  • علامہ سید علی رضا نجفی
  • علامہ انوار حسین شمسی
  • مولانا شبیر حسین نجفی
  • مولاناقاری ناصر صاحب
  • مولانا محمد جواد مخلصی صاحب
  • مولانا قاری یوسف جعفری
  • مولانا ذو الفقار علی
  • علامہ رشید ترابی صاحب
  • مولانا پروفیسر نذیر
  • مولانا الیاس صاحب (آف کرباٹھ)
  • مولانا سید علی نقوی(ابن آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی)

دینی خدمات[ترمیم]

آپ نے 1988 میں گنکر میں ایک مسجد اور امام بارگاہ کاظمیہ کی بنیاد رکھی تھی

آپ نے مدرسہ مدینۃ العلم قلعہ ستار شاہ ظلع شیخو پورہ میں ایک مسجد بھی تعمیر کروائی

اور آپ اپنے بڑے بھائی علامہ حافظ سید محمد حسنین نقویؒ پرنسپل جامعۃ العلمیہ دارالہدیٰ محمدیہ اثناء عشریہ کے بعد مدرسہ ہذا میں بطور پرنسپل اور مدرس تشریف لے گئے اور نو سال چھ ماہ تک وہاں مشغول خدمت دین جیسے امداد فالمساکین، شھری کانفرانسز اور مذھبی حالات کو بھتر بنانے والے گروپس میں شرکت کی۔

شاگردان جامعہ علمیہ داالہدیٰ[ترمیم]

  • علامہ سید ارشاد حسین نقوی صاحب پرنسپل (جامعه امیر المومنین شہر سلطان
  • علامہ سید انیس رضا نقوی (مدیر ادارہ باب العلم مسیساگا، کینیڈا)
  • علامہ سید حسین رضانقوی (مدیر جامعه علمیه دارالہدیٰ محمدیہ اثناء عشریه علی پور ضلع مظفر گڑھ)
  • مولانا خضرعباس گھلو (مدیر موسسہ امام سجاد علیہ السلام، قم)
  • مولانا ظہور عباس مدرس جامعہ ھذا
  • مولانا مجاھد رضا گھلو
  • مولانا جمیل عباس گھلو
  • مولانا سید کلمیل شیرازی (آف بکھر)
  • مولانا ملک ساجد علی گھلو
  • مولانا سیف علی

فرزندان[ترمیم]

سید ہادی رضا نقوی

شہادت[ترمیم]

19 فروری بروز سوموار کو رات کے وقت نامعلوم افراد نے آپ کو اپنے ظلم کا نشانہ بنایا اور 27 فروری شام کے وقت زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے آپ جام شھادت نوش کر کے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے.

مضمون نگار[ترمیم]


بیرونی روابط[ترمیم]

http://abna.ir/data.asp?lang=6&id=230042

https://www.jafariapress.com

http://www.jmuntazar.org/Famous%20Scholars.htm

https://www.jamiadarulhuda.com


حوالہ جات[ترمیم]

  1. .معیار المودت
  2. .تذکرہ علما امامیہ
  3. .امامیہ مصنفین
  4. .تاریخ علمائے قدیم
  5. .فرزندان استاذالعلماء علامہ سید محمد یار نقوی النجفیؒ
  6. .رسالہ جامعۃ المنتظر جلد نمبر 52، 4 اپریل 2012