سید محمد جعفری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سید محمد جعفری
معلومات شخصیت
پیدائش 27 دسمبر 1905  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
بھرت پور، راجستھان،  وبرطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 7 جنوری 1976 (71 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
کراچی،  وپاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی اورینٹل کالج لاہور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ شاعر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان اردو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل مزاح  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر
P literature.svg باب ادب

سید محمد جعفری (پیدائش: 27 دسمبر، 1905ء - وفات: 7 جنوری، 1976ء) پاکستان سے تعلق رکھنے و الے اردو زبان کے نامور مزاح گو شاعر تھے۔

حالات زندگی[ترمیم]

سید محمد جعفری 27 دسمبر، 1905ء کو پہرسر، بھرت پور، برطانوی ہندوستان کے ایک علمی گھرانے میں میں پیدا ہوئے۔[1][2] ان کے والد سید محمد علی جعفری ماہر تعلیم تھے اسلامیہ کالج لاہور سے منسلک ہو گئے اور اس کالج کے پہلے پرنسپل مقرر ہوئے۔ میٹرک ڈی اے وی اسکول لاہور سے کرنے کے بعد وہ گورنمنٹ کالج لاہور میں داخل ہوئے اور کیمسٹری میں بی ایس سی (آنرز) کی ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں ایم اے (فارسی) اور ایم او اے (ماسٹر آف اورینٹل) اورینٹل کالج لاہور سے پاس کیا۔ پھر گورنمنٹ کالج لاہور میں دوبارہ داخل ہوئے اور ایم اے (انگریزی) کی ڈگری اور میو اسکول آف آرٹس لاہور سے مصوری اور سنگ تراشی کی تعلیم حاصل کی۔ سید محمد جعفری نے 1940ء میں برطانوی ہند کی وزارت اطلاعات و نشریات کے ذیلی ادارے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ دہلی میں شمولیت اختیار کی اور کراچی، لاہور، تہران ( ایران) میں خدمات انجام دیں۔ اسی ملازمت کے دوران وہ فروری 1964ء میں ایران میں بحیثیت پریس اور کلچرل اتاشی مقرر ہوئے جہاں سے وہ 1966ء میں ریٹائر ہو گئے۔[3]۔

ادبی خدمات[ترمیم]

سید محمد جعفری نے ایک صاحب اسلوب شاعر تھے انہوں نے سیاسی اور سماجی موضوعات پر 900 کے لگ بھگ نظمیں تحریر کیں۔ ان کے یہاں کلاسیکی شاعری کی تمام التزامات نظر آتے ہیں خصوصاً انہوں نے غالب اور اقبال کے جن مصرعوں کی تضمین کی ہے اس کی کوئی اور مثال اردو شاعری میں نظر نہیں آتی۔[2]

سید محمد جعفری کے انتقال کے بعد ان کی شاعری کے دو مجموعے شوخی تحریر، تیرنیم کش اور کلیاتِ سید محمد جعفری کے نام سے شائع ہوئے۔[2]

تصانیف[ترمیم]

  • تیرِ نیم کش
  • شوخی ِتحریر
  • کلیاتِ سید محمد جعفری

نمونۂ کلام[ترمیم]

ایبسٹریکٹ آرٹ

ایبسٹریکٹ آرٹ کی دیکھی تھی نمائش میں نے​ کی تھی ازراہِ مروّت بھی ستائش میں نے
آج تک دونوں گناہوں کی سزا پاتا ہوں​لوگ کہتے ہیں کہ کیا دیکھا تو شرماتا ہوں​
صرف کہہ سکتا ہوں اِتنا ہی وہ تصویریں تھیں​یار کی زلف کو سلجھانے کی تدبیریں تھیں
ایک تصویر کو دیکھا جو کمالِ فن تھی​ بھینس کے جسم پر اک اونٹ کی سی گردن تھی
ٹانگ کھینچی تھی کہ مسواک جسے کہتے ہیں​ناک وہ ناک خطرناک جسے کہتے ہیں
نقشِ محبوب مصوّر نے سجا رکھا تھا​مجھ سے پوچھو تو تپائی پہ گھڑا رکھا تھا
یہ سمجھنے کو کہ یہ آرٹ کی کیا منزل ہے​ایک نقّاد سے پوچھا جو بڑا قابل ہے
سبزۂ خط میں وہ کہنے لگا رعنائی ہے​میں یہی سمجھا کہ ناقص مری بینائی ہے
بولی تصویر جو میں نے اُسے الٹا پلٹا​میں وہ جامہ ہوں کہ جس کا نہیں سیدھا الٹا
اُس کو نقاد تو اِک چشمۂ حیواں سمجھا​میں اسے حضرتِ مجنوں کا گریباں سمجھا
ایک تصویر کو دیکھا کہ یہ کیا رکھا ہے​ورقِ صاف پہ رنگوں کو گرا رکھا ہے
آڑی ترچھی سی لکیریں تھیں وہاں جلوہ فگن​ جیسے ٹوٹے ہوئے آئینے پہ سورج کی کرن
بولا نقاد جو یہ آرٹ ہے تجریدی ہے​آرٹ کا آرٹ ہے تنقیدی کی تنقیدی ہے
تھا کیوب ازم میں کاغذ پہ جو اک رشکِ قمر​ مجھ کو اینٹیں نظر آتی تھیں اُسے حسنِ بشر
بولا نقّاد نظر آتے یہی کچھ ہم تم!​خُلد میں حضرتِ آدم جو نہ کھاتے گندم
ابسٹریکٹ آرٹ بہر طور نمایاں نکلا​‘قیس تصویر کے پردے میں بھی عریاں نکلا‘
وہ خدوخال کہ ثانی نہیں جن کا کوئی آج​ بات یہ بھی ہے کہ ملتا نہیں رنگوں کا مزاج
دیر تک بحث رہی مجھ میں اور اس میں جاری​تب یہ ثابت ہوا ہوتی ہے یہ اِک بیماری
اس کو کیوب ازم کا آزار کہا کرتے ہیںاس کے خالق جو ہیں بیمار رہا کرتے ہیں
ایبسٹریکٹ آرٹ کے ملبے سے یہ دولت نکلی​جس کو سمجھا تھا انناس وہ عورت نکلی
الغرض جائزہ لے کر یہ کیا ہے انصاف​آج تک کر نہ سکا اپنی خطا خود میں معاف​
میں نے یہ کام کیا سخت سزا پانے کا​یہ نمائش نہ تھی اِک خواب تھا دیوانے کا​
کیسی تصویر بنائی مرے بہلانے کو​اب تو دیوانے بھی آنے لگے سمجھانے کو​[4]

وفات[ترمیم]

سید محمد جعفری 7 جنوری، 1976ء کو کراچی، پاکستان میں وفات پا گئے۔ وہ کراچی میں خراسان باغ کے قبرستان میں سپردِ خاک ہوئے۔[1][2][3]

حوالہ جات[ترمیم]