سید محمد عبدالحی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مولانا سید محمد عبد الحی حسینی کوڑوی[1]
پیدائش1895ء
وفاتجولائی 1970ء
رہائشکوڑہ جہان آباد ، ضلع فتح پور، اتر پردیش، بھارت

خاندان و نسب[ترمیم]

سادات جعفری، عریضی، خاندان میں پیدا ہوئے.


آپ کا شجرہ نسب مورث اعلیٰ مخدوم زادگان کوڑہ جہان آباد حضرت مخدوم قطب الدین سالار بڈھ ؒ (868ھ تا 946ھ) تک درج ذیل ہے:

سید محمد عبدالحی ؒ بن لیاقت حسین ؒ بن جمال علی ؒ بن کرم علی ؒ بن رحمت اللہ ؒ بن شاہ صیغۃ اللہ ؒ بن مخدوم جہانیاں ثالث ؒ بن شاہ محمد فیروز عرف پوجے بن حضرت شاہ جلال ؒ بن شاہ حسین ثانی ؒ بن حضرت قطب الدین ثانی ؒ بن شاہ علاء الدین ؒ (عرف شاہ حسین) بن مورث اعلیٰ حضرت مخدوم قطب الدین سالار بڈھ،

تعلیم[ترمیم]

ابتدائی تعلیم کوڑہ ، جہان آباد ہی میں حاصل کی، عربی تعلیم کے لیے مولانا سید شاہ وارث حسن کوڑوی ؒ (ٹیلہ شاہ پیر محمد مسجد لکھنؤ،) کی خدمت میں حاضر ہوئے، یہاں سے فارغ ہو کر کرائسٹ چرچ کالج کانپور سے میٹرک کا امتحان پاس کیا.

بیعت و مجاز تعلیم[ترمیم]

مولانا سید محمد عبدالحی لکھنؤ سے متصل قصبہ بجنور کے بزرگ محمد شفیع بجنوری ؒ [2] سے بیعت تھے اور محمد شفیع بجنوری محدث مولانا فضل رحمن گنج مراد آبادی ؒ سے تربیت یافتہ و حاجی امداد اللہ مہاجر مکی ؒ سے بیعت و مجاز تھے.

صوبائی مجلس خلافت سے اعزازی وابستگی[ترمیم]

مجلس خلافت کا صوبائ دفتر علی گڑھ میں تھا، نواب تصدق حسین خان شیروانی اس کے جنرل سیکریٹری تھے، مولانا شوکت علی رحمۃ کے کسی مکتوب کی بنا پر انھوں نے مولانا سید محمد عبدالحی رحمۃ کو علی گڑھ آنے کا خط لکھا جس پر مولانا علی گڑھ گئے، نواب صاحب نے صوبہ کی تمام خلافت کمیٹیوں کے لیے آنریری انسپکٹر کا عہدہ پیش کیا جس کو مولانا نے قبول کر لیا۔

ممتاز علما و زعماء سے تعلق[ترمیم]

عملی طور پر خلافت تحریک اور صوبائ مجلس خلافت سے منسلک ہو جانے کے بعد ہندوستان کے ممتاز علما و زعماء سے مولانا کے تعلقات قائم ہوئے، جو آزادی کی تحریک میں پیش پیش تھے، جن کی سیاسی بصیرت اور عملی قیادت پر ملک و ملت کو اعتماد تھا،

اسی طرح صوبہ یوپی کے تمام اضلاع کے اسفار کے دوران میں ہر مقام کے کارکن اور مخلص افرادان کی نگاہ میں آگئے، جنہوں نے تبلیغ و تنظیم کے دور میں مولانا کی رفاقت کی۔۔۔۔۔۔ان میں

  • کنور عبدالوہاب خاں ؒ،
  • کنور الطاف علی خاں ؒ،
  • مولوی سید محمد ٹونکی ؒ،
  • حافظ محمد عثمان ؒ علی گڑھ،
  • قضی منظور علی ؒ شمس آباد،
  • مولانا وحیداللہ احراری ؒ غازیپور، وغیرہ وغیرہ جیسے انتھک جدوجہد کرنے والے افراد کے نام لیے جا سکتے ہیں،

تحریک خلافت کے سلسہ میں مولانا کا دائرہ کار مجلس خلافت کی ہدایت تک ہی محدود نہ تھا، وہ اور ان کے ایک قریبی عزیز مولانا ہاشم جمل اللیل بن سید شاہ ابوالقاسم کانپوری ؒ اپنے طور پر بھی مجلس خلافت کے کاز کو تقویت پہچانے کے لیے مختلف مقامات کے دورے، جلسے اور تقریریں کرتے رہتے تھے، جس کا سلسلہ کوڑا سے ہی شروع ہوا تھا.


۲۰ نمبر پر ڈاکٹر حکیم سید عبد العلی حسنی ندوی ناظم دارالعلوم ندوۃ العلماء، ٢١ نمبر پر غلام بھیک نیرنگ معتمد عمومی جمعیت مرکزیہ تبلیغ السلام، ٢٢ نمبر پر سید محمد عبدالحی معتمد عمومی جمعیت مرکزیہ تبلیغ السلام، ١٧، ۱۸، ١٩، ٢٣، ٢٤ نمبر پر دارالعلوم ندوۃالعلماء کے اساتذہ ہیں باقی سب ندوۃ العلماء کے طلب علم ہیں (یہ فوٹو ۱۹۳۸ء کی ہے)

جمعیت مرکزیہ تبلیغ السلام کا قیام[ترمیم]

مولانا مجلس خلافت کے کاموں میں مشغول تھے کہ جنوری 1923ء میں اخبارات شدھی تحریک کی سرگرمیوں اور مسلمانوں کے ارتداد کی خبریں آنا شروع ہوئ، شدھی تحریک کا ہیڈ کوارٹر آگرہ میں تھا اور ان کا نشانہ آگرہ، متھرا، بھرت پور، فرخ آباد، ایٹہ وغیرہ تھا، مولانا سید محمد عبدالحی صاحب رحمۃ ، کنور عبدالوہاب خاں صاحب رحمۃ ، مولانا عبد الماجد بدایونی رحمۃ صاحب متاثر علاقوں میں پہچے اور پہلے مجلس نمائندگان پھر جمعیت تبلیغ السلام صوبجات متحدہ کی بنیاد ڈالی، جو آگے چل کر جمعیت مرکزیہ تبلیغ الاسلام انبالہ میں ضم ہو گئی اور مولانا سید محمد عبدالحی صاحب اس کے معتمد تبلیغ بنائے گئے،

تصنیف[ترمیم]

سیرت خلیل و کتاب جلیل[3]

حوالہ جات[ترمیم]

حوالہ کے لیے دیکھیے کتاب "قصبہ کوڑہ تاریخ و شخصیات" مرتّبہ سید محمد عبدالسمیع ندوی