سید محمد میاں دیوبندی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
محمد میاں منصور انصاری سے مغالطہ نہ کھائیں۔
مؤرخ ملت، سید الملت، مولانا

سید محمد میاں دیوبندی
لقب مؤرخ ملت، سید الملت
ذاتی
پیدائش
مظفر میاں

4 اکتوبر 1903(1903-10-04)
وفات 22 اکتوبر 1975(1975-10-22) (عمر  72 سال)
مذہب اسلام
قومیت بھارت
دور حکومت بھارت
فرقہ اہل سنت
فقہی مسلک حنفی
تحریک دیوبند
بنیادی دلچسپی تاریخ، اردو ادب، حدیث، سیاست
قابل ذکر کام جمعیت علمائے ہند کیا ہے؟، علمائے ہند کا شاندار ماضی، علمائے حق اور ان کے مجاہدانہ کارنامے، اَسیرانِ مالٹا
مادر علمی دار العلوم دیوبند
مرتبہ
استاذ انور شاہ کشمیری

سید محمد میاں دیوبندی (4 اکتوبر 1903ء – 22 اکتوبر 1975ء) ہندوستان کے مشہور مؤرخ، سیاست داں، دانشور اور ماہر تعلیم تھے جنہوں نے تحریک آزادی ہند میں بھرپور حصہ لیا۔ نیز وہ جمعیۃ علمائے ہند کے ترجمان، حسین احمد مدنی کے افکار ونظریات کے حامل ونگہبان اور حفظ الرحمن سیوہاروی کے معتمد علیہ معاون و مددگار بھی تھے۔ محمد میاں کا اصل نام مظفر میاں تھا۔ ان کا تعلق دیوبند کے قدیم خاندان سادات رضویہ سے تھا جو دیوبند کے سادات خاندان میں سب سے بڑا سمجھا جاتا ہے۔ محمد میاں کے والد کا نام سید منظور محمد عرف اچھے میاں (م: 1944ء) اور والدہ کا نام اکرام النساء بنت سید ریاض احمد (م: 1951ء) تھا۔

ولادت[ترمیم]

آپ کی ولادت 12 رجب 1321ھ مطابق 4 اکتوبر 1903ء محلہ پیرزادگان دیوبند ضلع سہارنپور میں ہوئی۔

تعلیم[ترمیم]

تعلیم کی ابتدا گھر سے ہوئی۔ نانی صاحبہ نے تعلیم کی ذمہ داری سنبھالی اور بسم اﷲ کرائی۔ قرآن ختم ہونے کے بعد فارسی زبان کی تعلیم شروع کی ۔دارالعلوم دیوبند میں فارسی مع دینیات سے لیکر دورۂ حدیث تک مکمل تعلیم دار العلوم دیوبند میں ہوئی ۔ دار العلوم کی سالانہ روداد 1331ھ میں آپ کا نام درج ہے ، محمد میاں پسر منظور محمد اس سال آپ نے دوکتابوں کا امتحان دیا ۔ لکھائی ہندسہ میں 50 نمبر اور مفید نامہ میں 45 نمبر ۔ پھر 1335ھ (1916ئ)کی سالانہ روداد میں ہے کہ درجہ فارسی وریاضی کا امتحان دیا۔شعبان 1343ھ (فروری 1925ء) میں آپ دورۂ حدیث سے امتیازی نمبرات سے کامیاب ہوئے ۔ اس وقت شیخ الحدیث سید سید محمد انورشاہ کشمیری(وفات: 1352ھ) تھے۔

دورۂ حدیث کے نمبرات[ترمیم]

آپ کے دورۂ حدیث کے نمبرات یہ ہیں؛

اساتذہ کرام[ترمیم]

سید محمد میاں دیوبندی کے اساتذہ کی فہرست حسب ذیل ہے:

حفظ قرآن کریم[ترمیم]

بچپن میں حفظ کلام اللہ کی دولت حاصل نہ ہو سکی، پھر درس وتدریس کی مشغولیات نے موقع نہ دیا، آخر جہادِ آزادی کے زمانے میں متعدد جیل خانوں میں قیام کے دوران یہ سعادت حاصل ہوئی اور 1964ء میں تکمیل ہوئی۔

درس وتدریس[ترمیم]

تین اداروں سے آپ کا تدریسی تعلق رہا اور کل مدت تدریس تقریباً 32 سال ہے۔

  1. مدرسہ حنفیہ آرہ، 1926ء تا 1928ء- یہاں پر زیر درس کچھ اہم کتابیں: ابوداؤد شریف ، دلائل الاعجاز،دیوان حماسہ، دیوان متنبی، مقامات حریری وغیرہ۔
  2. مدرسہ شاہی مرادآباد، 1928ء تا 1945ء ۔ یہاں پر ترمذی ومسلم شریف ،بیضاوی شریف ، جلالین ، ہدایہ اخیرین ،دیوان حماسہ اور ملاحسن وغیرہ اور یہاں آپ نے افتاء کا باقاعدہ نظام قائم کیا
  3. مدرسہ امینیہ دہلی 1963ء تا 1975ء، یہاں بخاری وترمذی شریف ، ہدایہ اخیرین،اورفتویٰ نویسی بحیثیت صدر مفتی

ممتاز تلامذہ[ترمیم]

آپ کے تلامذہ میں قاضی اطہر مبارکپوری مفتی محمودصاحب (پشاور،کستان) نظام الدین اسیر ادروی، قاری صدیق احمد باندوی، حامد میاںبن، سید محمد میاں ،اشفاق حسین ، نور عالم خلیل امینی ،اور سید احمد بخاری امام شاہی جامع مسجد دہلی۔

اصلاحی تعلق[ترمیم]

اصلاحی تعلق سید حسین احمد مدنی سے تھا ، ان کے دست حق پرست پر بیعت ہوکر سلوک واحسان کی منزلیں طے کیں۔

رسالہ قائد مولانا نے مدرسہ شاہی کے زمانہ قیام میں ایک اہم دینی ، علمی اور ادبی رسالہ قائد کے نام سے جاری کیا،جو محرم، صفر 1357ھ مطابق مارچ، اپریل 1938ء ،سے رجب، شعبان 1358ھ مطابق ستمبر1939ء تک بڑی آب وتاب سے نکلا ، اس کے مضامین سے اس کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے۔

سیاست[ترمیم]

جمعیۃ علماء ہند سے وابستگی اورتحریک آزادی میں شرکت[ترمیم]

1928ء میں جمعیۃ علما کے رکن بنے اور 1929ء میں پہلی بار عملی سیاست میں قدم رکھا۔

قید وبند[ترمیم]

تحریک آزادی کے دوران میں قید وبند کے متعلق مولانا نے فرمایا: “گرفتار ہوا پانچ مرتبہ، ایک بار تااختتام عدالت۔ایک بار ایک ہفتہ کی سزا ہوئی ،اور تین بار بالترتیب ایک سال، چھ مہینہ اور اٹھارہ مہینہ جیل میں رہا“ [1]

ایک جگہ مولانا اس کی تفصیل بیان کرتے ہیں:کانگریس کا باقاعدہ ممبر بننے کے چند ہفتے بعد ہی احقر گرفتار ہوا، اس وقت مولانا سید فخرالدین احمد سابق صدر جمعیة علما ہند نے بھی احقر کا ساتھ دیا، اس کے بعد احقر 1932ء میں پہلے دہلی پھر مرادآباد میں گرفتار ہوکر سزایاب ہوا، پھر 1940ء میں یہ شرف حاصل ہوا، 1942ء کی تحریک میں آخری بار گرفتار ہوا۔[2]

جمعیة علما کے سکریٹری وجنرل سکریٹری[ترمیم]

سہارنپور میں جمعیة علما ہند کا اجلاس 21 تا 25جمادی الاولیٰ 1364ھ مطابق 4 مئی تا 7 مئی 1945ء میں آپ کو ناظم جمعیة علما ہند چنا گیا، جس پر آپ 17 سال رہے اور نہایت حسن وخوبی کے ساتھ تمام نظم کو چلایا۔ مجاہد ملت حفظ الرحمن سیوہاروی کے انتقال کے بعد 8 ستمبر 1962ء کو منعقدہ مجلس عاملہ نے آپ کو جنرل سکریٹری مقرر کیا۔ ایک سال کے بعد آپ اس عہدہ سے مستعفی ہو گئے، لیکن جمعیة علما ہند سے تعلق باقی رہا اور اس کی مجلس عاملہ کے رکن، ادارة المباحث الفقہیہ کے نگراں اور جمعیة ٹرسٹ کے چیرمین اخیر زندگی تک رہے۔

آزادی کے بعد جمعیة کے پلیٹ فارم سے کچھ اہم خدمات[ترمیم]

  • روزنامہ الجمعیة : آزادی کے بعد جب الجمعیة کا دوبارہ اجرا ہوا تومجاہد ملت حفظ الرحمن سیوہاروی نے آپ کو تار دے کر دہلی بلایا اور اخبار کی ذمہ داری اور نگرانی آپ کے سپرد کردی۔ محمد عثمان فارقلیط ایڈیٹر مقرر ہوئے ،اداریہ وہی لکھتے تھے ، لیکن سیدمحمد میاں نگراں اور ذمہ دار ہونے کی حیثیت کا پورا حق ادا کرتے تھے اور اخبار میں شائع ہونے والا ہر مضمون اور مقالہ ان کی نگاہ سے گذرنے کے بعدہی پریس میں جاتا تھا ۔ الجمعیة کے خصوصی نمبرات جیسے مفتی اعظم نمبر ( مفتی کفایت اﷲ نمبر) شیخ الاسلام نمبر ، مولانا آزاد نمبر اور مجاہد ملت نمبر خصوصاً آخر الذکر سب کے سب مولانا ہی کی کاوشوں کے مرہون منت تھے
  • دینی تعلیمی تحریک : آزادی کے بعد جمعیة علما نے جو دینی تعلیم تحریک شروع کی ، آپ اس کے روح رواں تھے، اس سلسلہ کے تمام پروگرام خود بناتے تھے ، اساتذہ کی ٹریننگ کا سلسلہ شروع کیا ، مسئلہ تعلیم اور طریقۂ تعلیم اور طریقۂ تقریر اور کئی رسالے تحریر فرمائے ، بچوں کے لیے دینی تعلیم کا رسالہ 12 حصوں میں لکھا جو بے حد مقبول ہوا اور اب تک نصاب میں داخل ہے۔
  • فتنہ ارتداد میں مسلمانوں کو دین پر باقی رکھنا: 1947ء میں جب مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد پنجاب ، راجستھان اور ہماچل پردیش سے ہجرت کرگئی تو باقی ماندہ مسلمانوں کے اندر ارتداد کی وبا پھیلنے لگی ، اس سلسلہ میں مولانا نے اپنی جان کھپادی اور امراض وعوارض کے باوجود ان تمام دشوار گزار علاقوں کے دورے کیے وہاں مدارس ومکاتب قائم کیے ، اپنی تقریروں کے ذریعہ ان کو تسلی دی اور ان کے ٹوٹے ہوئے حوصلوںکو زندہ کیا، اوروہ لوگ دوبارہ حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔
  • ادارة المباحث الفقہیہ کی ذمہ داری:جدید پیش آمدہ مسائل میں اجتماعی غور و فکر اور بحث وتحقیق کے ذریعہ مسئلہ کا شرعی حل دریافت کرنے کے لیے 1970ء میں جمعیة علما ہند نے مولانا سید محمد میاں کی نگرانی میں ایک مستقل ادارہ ادارة المباحث الفقہیہ قائم کیا ۔ مولانا تاحیات اس کے مدیر اور نگراں رہے اور رویت ہلال ، حق تصنیف کی بیع اور کوآپریٹو سوسائٹیوں کے مسائل پر تنقیح وتحقیق کا کام انجام دیا ۔

وفات[ترمیم]

آپ کی وفات 16/شوال المکرم1395ھ مطابق 22 اکتوبر 1975ء بہ روز چہارشنبہ 74 سال کی عمر میں آپ کی وفات ہوئی، دہلی میں تدفین عمل میں آئی۔

تصانیف[ترمیم]

مختلف موضوعات پر سید محمد میاں کی پچاسوں کتب ورسائل ہیں ، جن میں سے چند درج ذیل ہیں:

  • علما ئے ہند کا شاندار ماضی (چار حصے )
  • علمائے حق اور ان کے مجا ہدانہ کا رنا مے (دو حصے )
  • مشکوٰةالآثار و مصبا ح الا برا ر (انتخاب حدیث )
  • نورالاصبا ح (ترجمہ نو رالاصبا ح)
  • محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (سیرت )
  • صالح جمہو ریت اور تعمیر جمہو ریت
  • جمعیة علما ء کیا ہے؟ (دو حصے )
  • صحابہ کرام کا عہدِ زریں (دو حصے )
  • اسلام اور انسان کی حفا ظت
  • ہما ری اور ہما رے وطن کی حیثیت اور ترکِ وطن کا حکم
  • دین کامل ،حیا تِ مسلم
  • حریکِ شیخ الہند ٭ حیا تِ شیخ الاسلام ٭ اسیرانِ مالٹا
  • مختصر تذکرہ خد مات جمعیة علما ء ہند(چا ر حصے )
  • شوا ہد تقدس
  • ہندوستان شا ہا نِ مغلیہ کے عہد میں
  • مسئلہ تعلیم اور طریقۂ تعلیم
  • سیا سی و اقتصادی مسائل اور اسلامی تعلیما ت
  • تاریخ اسلا م (تین حصے )
  • دینی تعلیم کے رسائل (بارہ حصے)
  • روزہ
  • زکوٰة
  • ہما رے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم

اولادیں[ترمیم]

مولانا کی اولاد میں چارصاحبزادگان اور تین صاحبزادیاں ہوئیں۔1۔ سید حامد میاں (م: 1987ء ) ابتدائی تعلیم مدرسہ شاہی مرادآباد، فراغت دار العلوم دیوبند، اجازت بیعت سید حسین احمد مدنی، آزادی کے بعد پاکستان چلے گئے ، لاہور میں ایک ادارہ جامعہ مدنیہ کے نام سے قائم کیا۔ 2۔ سید خالد میاں ( م: 1993ئ) اپنے والد کی کتابوں کی اشاعت کے لیے ایک دارہ کتابستان قائم۔کمپیوٹرکی تعلیم حاصل کرکے جرمنی چلے گئے ، وہیں قیام تھا ، رمضان میں گھر دہلی آئے تھے ، یہیں 29 رمضان 1413ھ کو انتقال ہو گیا۔ 3۔ سید ساجد میاں، درس نظامی سے فراغت کے بعد دہلی یونیوسٹی سے ماسٹر اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ، سعودی سفارت خانہ دہلی میں 45 سال ملازمت کے بعد چند سال قبل سبکدوش ہوئے اور قیام دہلی میں ہے ۔ 4۔ چوتھے صاحبزادے سید شاہد میاں ہیں جو گریجویٹ اورکمپیوٹر پروگرامنگ میں تقریباً تیس سال سعودی عرب میں آرامکو کمپنی کے ایک شعبہ میں کام کرکے سبکدوش ہوئے ہیں۔صاحبزادیوں میں اول نمبر خالدہ سلطانہ تھیں جو قاری سعید عالم استاذ شعبہ قراء ت دار العلوم دیوبند کے نکاح میں تھیں۔ رمضان المبارک 1423ھ ( 2004ء) میں وصال ہوا۔ قبرستان قاسمی میں تدفین ہوئی۔ دوسری صاحبزادی عائشہ سلطانہ ہیں جن کا نکاح مولانا محمد اسلم بن قاری محمد طیب (سابق مہتم دار العلوم دیوبند) سے ہوا۔ مولانا محمد اسلم کا 2017ء میں وصال ہو گیا اور 8 جنوری 2019ء کو ان کا بھی انتقال ہو گیا۔تیسری صاحبزادی کا نکاح بذل الرحمن بن مولانا فضل الرحمن صاحب مفتی وشیخ الحدیث مدرسہ حسین بخش دہلی کے ساتھ ہوا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ہفت الجمعیة: 8 مئی 1970ء
  2. الجمعیة:خصوصی اشاعت: ص: 130
3. تذکرہ سید الملت مرتب مولانا ضیاء الحق خیرآبادی، ناشر جمعیۃ علمائے ہند