مندرجات کا رخ کریں

سید محمود علی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
سید محمود علی
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1928ء   ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ریاست حیدرآباد   ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات 12 جولا‎ئی 2008ء (79–80 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ اداکار ،  ٹیلی ویژن اداکار ،  فلم اداکار [2]  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
IMDB پر صفحات  ویکی ڈیٹا پر (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

سید محمود علی پاکستان کے نامور ریڈیو، ٹیلی وژن، اسٹیج اور فلمی اداکار تھے جنھوں نے اردو فنون کی دنیا میں اپنی بے مثال صداکاری، مکالمہ فہمی، برجستگی اور کردار نگاری کے ذریعے ایک ایسی شناخت قائم کی جو آنے والی نسلوں کے لیے معیار بن گئی۔ وہ 1928ء میں حیدرآباد دکن میں پیدا ہوئے، جو اُس دور کا علمی و تہذیبی مرکز تھا اور ابتدائی عمر ہی سے ان کی دلچسپی ریڈیو آوازکاری اور مکالماتی فن سے وابستہ ہو گئی تھی۔ 1945ء میں انھوں نے اپنے فنی سفر کا آغاز آل انڈیا ریڈیو سے کیا، جہاں ان کی گہری اور بااثر آواز نے جلد ہی سامعین کی توجہ حاصل کر لی اور وہ نوجوان صداکاروں میں ایک منفرد مقام حاصل کرنے لگے۔[3] قیامِ پاکستان کے بعد وہ پہلے لاہور آئے اور پھر کراچی منتقل ہوئے جہاں انھوں نے ریڈیو پاکستان سے اپنا فنی سفر جاری رکھا اور یہاں ان کی فنی مہارت نے نئی بلندیوں کو چھوا۔[4] ریڈیو کے مختلف ڈراموں میں اُن کی آواز نے کرداروں کو ایک نئی زندگی دی اور وہ سامعین کے ذہنوں میں بس گئے۔ 1965ء میں انھوں نے خواجہ معین الدین تھیٹر سے عملی اسٹیج اداکاری کا آغاز کیا، جس نے ان کے کیریئر میں اہم موڑ پیدا کیا، کیوں کہ اسٹیج نے انھیں ریڈیو کی آواز سے نکال کر عوام کے سامنے زندہ پرفارمنس دینے کا موقع دیا۔ کراچی ٹی وی اسٹوڈیو کے قیام کے بعد انھوں نے ٹیلی وژن ڈراموں میں قدم رکھا، جہاں ان کا فن پوری طرح نکھر کر سامنے آیا۔ ان کے مقبول ترین ڈراموں میں خدا کی بستی، ’’انتظار فرمائیے‘‘، چچا چھکن اور ’’تعلیم بالغان‘‘ شامل ہیں، جنھوں نے انھیں ملک گیر شہرت دلائی۔[5] ان کی اداکاری کی خاص بات ان کا قدرتی تاثر، کردار میں مکمل ڈوب جانا اور مکالمے کو جذباتی رنگ دینا تھا، جس نے انھیں ہر عمر کے ناظرین میں یکساں مقبول بنا دیا۔ انھوں نے فلموں میں بھی کام کیا اور کئی کرداروں میں اپنی صداکاری اور جذباتی تاثرات کے ذریعے فلمی دنیا میں بھی خاصا اثر چھوڑا۔ 1985ء میں ان کی فنی خدمات کے اعتراف میں انھیں صدارتی تمغۂ حسنِ کارکردگی سے نوازا گیا، جو ان کے طویل اور نتیجہ خیز کیریئر کا سرکاری سطح پر بڑا اعزاز تھا۔[6] اپنی زندگی کے آخری برسوں تک وہ فن سے وابستہ رہے، نئی نسل کے فنکاروں کی رہنمائی کی اور اپنی فنی سمجھ بوجھ کو لوگوں تک منتقل کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ 11 جولائی 2008ء کو وہ 80 برس کی عمر میں کراچی میں انتقال کر گئے اور قبرستان وادیٔ حسین میں سپردِ خاک ہوئے۔[7] ان کا نام آج بھی اردو ریڈیو، ڈراما اور اسٹیج کی تاریخ میں ایک درخشندہ باب کی حیثیت رکھتا ہے۔

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. ربط: https://www.imdb.com/name/nm3773584/ — اخذ شدہ بتاریخ: 12 اکتوبر 2019
  2. انٹرنیٹ مووی ڈیٹابیس آئی ڈی: https://www.imdb.com/name/nm3773584/
  3. آل انڈیا ریڈیو آرکائیوز، 1945
  4. ریڈیو پاکستان تاریخی مواد
  5. پی ٹی وی ڈراما ریکارڈ
  6. صدر پاکستان ایوارڈ ریکارڈ، 1985
  7. وادیٔ حسین قبرستان ریکارڈ