سید مہدی شاہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سید مہدی شاہ
مناصب
گلگت بلتستان کا وزیر اعلی   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
دفتر میں
دسمبر 2009  – اپریل 2015 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png  
حافظ حفیظ الرحمان  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
مقام پیدائش سکردو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
تاریخ وفات 22 اکتوبر 2015  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
جماعت پاکستان پیپلز پارٹی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ سیاست دان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
سید مہدی شاہ

گلگت بلتستان کے پہلے وزیر اعلیٰ سید مہدی شاہ 1954ء میں گلگت بلتستان کے ضلع سکردو کے گاؤں سیک میدان میں پیدا ہوئے۔ وہ گلگت بلتستان کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کے صدر ہیں اور گذشتہ لگ بھگ 40 سال سے اس جماعت سے وابستہ ہیں۔ اس عرصے کے دوران وہ گلگت بلتستان کے لیے پی پی پی سیکریٹری جنرل سمیت مختلف عہدوں پر فائز رہے۔

انہوں نے سکردو میں ہی بارہ جماعت تک تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے سکردو کالج میں اپنی پڑھائی کے دوران طلبہ سیاست میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور وہ کالج میں طلبہ یونین کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔ اسی دوران انہوں نے پیپلز پارٹی کی طلبہ تنظیم پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن (پی ایس ایف) میں شمولیت اختیار کی۔ 1974ء میں ذوالفقار علی بھٹو نے گلگت بلتستان کا دورہ کیا تو انہوں نے سید مہدی شاہ اور دیگر طلبہ کی دعوت پر سکردو انٹرمیڈیٹ کالج میں خطاب کیا اور اس موقع پر ذو الفقار بھٹو نے اس کالج کو ڈگری کالج کا درجہ دینے کا اعلان کیا۔ سنہ اسّی کی دہائی کے شروع میں سید مہدی شاہ نے باقاعدہ عملی سیاست کا آغاز کیا اور وہ سکردو میونسپل کمیٹی کے بلا مقابلہ رکن منتخب ہوئے۔ اسی دوران انہوں نے غیر جماعتی بنیادوں پر ہونے والے گلگت بلتستان ناردرن ایریاز کونسل کے انتخابات میں حصہ لیا لیکن قمست نے ان کا ساتھ نہ دیا اور وہ یہ انتخاب ہار گئے۔ سید مہدی شاہ بے نظیر بھٹو کے اقتدار کے دونوں ادوار میں گلگت بلتستان میں سوشل ایکشن بورڈ کے چیئرمین اور پیپلز پروگرام کے ایڈمنسڑیڑ رہ چکے ہیں۔ انہوں نے 1994ء میں بھی گلگت بلتستان نادرن ایریاز کونسل کے انتخابات میں دوسری مرتبہ حصہ لیا لیکن وہ اس بار بھی ناکام رہے۔ یہ پہلی مرتبہ تھا کہ ناردن ایریاز کونسل کے انتخابات جماعتی بنیادوں پر ہوئے تھے۔ اسی دوران مہدی شاہ گلگت بلتستان کے لیے پیپلز پارٹی کے سیکریڑی جنرل منتخب ہوئے۔

1999ء میں انہوں نے دوبارہ پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر گلگت بلتستان قانون ساز کونسل کے انتخابات میں حصہ لیا اور کامیاب ہوئے لیکن 2004ء میں ہونے والے قانون ساز کونسل کے انتخابات میں وہ ہار گئے۔

2008ء میں پاکستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہونے کے بعد جولائی 2009ء میں سید مہدی شاہ گلگت بلتستان کے لیے پیپلز پارٹی کے صدر منتخب ہوئے۔ اسی دوران اس سال ستمبر میں پاکستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے گلگت بلتستان میں "حکم نامہ عطائے اختیار و خود حکمرانی 2009ء" (Empowerment and Self-Governance Order 2009) کا نفاذ کیا جس کے تحت گلگت بلتستان کی نئی انتظامی حیثیت متعین کی گئی۔

نومبر 2009ء میں اس حکم نامے کے تحت گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے پہلے انتخابات ہوئے اور سید مہدی شاہ نہ صرف خود کامیاب ہوئے بلکہ ان کی قیادت میں پیپلز پارٹی یہ انتخابات جیتی۔ اس آرڈر کے تحت گلگت بلتستان کو صوبے کا درجہ تو نہیں دیا گیا لیکن پہلی بار گورنر مقرر کیا گیا اور وزیر برائے امور کشمیر قمر زمان کائرہ گلگت بلتستان کے پہلے قائم مقام گورنر ہیں اور اس حکم نامے کے تحت گلگت بلتستان کا وزیر اعلیٰ منتخب کیا گیا۔ سید مہدی شاہ گلگت بلتستان کی تاریخ میں پہلے وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے ۔[1][2][3]

متعلقہ مضامین[ترمیم]

مآخذ[ترمیم]