سید ناصر حسین چشتی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سید ناصر حسین چشتی
پیدائش سید ناصر حسین چشتی
1954ء
کچا تاندلہ شریف پاکستان
وفات 5 جولائی، 2009ء
کچا تاندلہ شریف پاکستان
پیشہ نعت خواں
قومیت پاکستان
موضوع اردو، شاعری، نعت
نمایاں کام حضور پر نور،تینوں در حضور تک لے چلاں،جلوے،لشکاں،کرناں،حسن حبیب،ضیائے مدینہ،سرور جاوداں،خیر الوریٰ،حسن کامل،مدینے دے نظارے۔

سید ناصر حسین چشتی معروف نعت گو شاعر جو اردو و پنجابی کے اپنے دور کا باکمال شاعر تھے۔

نام[ترمیم]

سید ناصر حسین چشتی ان کا تخلص تھا اصل نام سید ضیاء الحق ناصر تھا ۔

ولادت[ترمیم]

ناصر چشتی 1954ء کچا تاندلہ 410 گ ب تاندلیانوالہ فیصل آباد میں پیدا ہوئے والد کا نام سید عبد الحق شاہ تھا آپ اس علاقہ کی مشہور روحانی ہستی میر اولیاء کے پوتے تھے ۔

مقبول نعتیں[ترمیم]

ان کی مقبول عام نعتوں میں سے چند کے عنوان ہیں

ان کی یادوں کے پر سکوں لمحےغمزدوں کو قرار دیتے ہیںتم تو کرتے ہو بات صرف اپنی وہ تو نسلیں سنوار دیتے ہیں
میر ی بات بن گئی ہے تیری بات کرتے کرتےتیرے شہر میں آؤنگا میں تیری نعت پڑھتے پڑھتے

مجموعہ کلام[ترمیم]

سید ناصر چشتی کے کئی مجموعہ ہائے کلام طبع ہو چکے ان میں سے

وفات[ترمیم]

ناصر چشتی کی وفات5 جولائی 2009ءہے ان کا مزار کچا تاندلہ شریف ضلع فیصل آباد میں ہے۔

نمونہ کلام[ترمیم]

زمیں میلی نہیں ہوتی زمن میلا نہیں ہوتامحمد کے غلاموں کا کفن میلا نہیں ہوتا
محبت کملی والے سے وہ جذبہ ہے سُنو لوگویہ جِس مَن میں سما جائے وہ مَن میلا نہیں ہوتا
نبی کے پاک لنگر پر جو پلتے ہیں کبھی اُن کیزباں میلی نہیں ہوتی سُخن میلا نہیں ہوتا
میرے آقا کی الفت تو بدن کو جگمگاتی ہےکبھی اہلِ محمد کا بدن میلا نہیں ہوتا
گُلوں کو چوم لیتے ہیں سحر نم شبنمی قطرےنبی کی نعت سُن لے تو چمن میلا نہیں ہوتا
جو نامِ مصطفےٰ چومیں نہیں دُکھتی کبھی آنکھیںپہن لے پیار جو اُن کا بدن میلا نہیں ہوتا
میں نازاں تو نہیں فن پر مگر ناصر یہ دعویٰ ہےثنائے مصطفےٰ کرنے سے فن میلا نہیں

حوالہ جات[ترمیم]

  1. حسن کامل ،سید ناصر حسین چشتی۔ نوریہ رضویہ پبلیکیشنز لاہور