سید وقار الدین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

سید وقار الدینحیدرآباد، دکن، بھارت سے شائع ہونے والے اردو اخبار رہنمائے دکن کے مدیر ہیں۔ وہ انڈو عرب لیگ کے صدرنشین اور عرب دنیا کے پر جوش اور بے باک حامی رہے ہیں۔ انہوں نے کئی موقعوں پر فلسطین کے عوام کے ساتھ اظہار یگانگت کی ہے اور اسرائیل کے ساتھ بہتر تعلقات کی سختی سے مخالفت کی ہے۔ وہ بطور خاص بھارت کی خارجہ پالیسی پر تنقید بھی کرتے آ رہے ہیں۔ [1]

رہنمائے دکن[ترمیم]

مزید دیکھیے: رہنمائے دکن

حیدرآباد، دکن میں جو مشہور اردو اخبارات ہیں وہ: سیاست، منصف اور اعتماد ہیں۔ ان اخبارات کے مقابلے رہنمائے دکن کی پزیرائی کافی کم ہے۔ تاہم شہر کے کئی محلوں میں اس اخبار کے خریدار اور قاری بھی موجود ہیں۔ اس اخبار کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ عرب دنیا اور فلسطین کے کاز کے لیے بہت حساس مقام رکھتا ہے۔

بطور صحافی کام[ترمیم]

سید وقار الدین نے خیالات کے لیے اپنے اخبار کا پر جوش انداز میں استعمال کیا ہے۔ وہ کویت پر عراق کے حملے اور قبضے کے حامی تھے۔ انہوں نے ریاستہائے متحدہ امریکا، مملکت متحدہ اور اتحادی فوجوں کی جانب سے عراق پر بمباری اور کویت کو آزاد کرانے کی مہم کی مخالفت کی۔ مگر انہوں نے اپنے اخبار اور انڈو عرب لیگ کے ذریعے سب سے زیادہ فلسطین کی آزادی اور اسرائیل کی جارحیت کی مخالفت کی۔ وہ ملک میں ایسے جلسے منعقد کرتے رہے ہیں جن میں کئی بھارتی سیاست دانوں نے خطاب کیا۔ 1990ء کے دہے میں یاسر عرفات حیدرآباد کے دورے پر آئے تھے۔ اس موقع پر انڈو عرب لیگ اور رہنمائے دکن نے ایک جسلہ منعقد کیا تھا، جس میں مرحوم قائد نے حطاب کرتے فلسطین کو مسلمان عربوں اور مسیحیوں کی مشترکہ مملکت قرار دیا۔ انہوں نے 2000ء میں عیسیٰ علیہ السلام کے دو ہزار ویں سال کو دھوم دھام سے منانے کا بھی اعلان کیا تھا اور اسی کے ساتھ فلسطین کو ایک سیکیولر ملک قرار دیا تھا۔ اس موقع پر یاسر عرفات نے سید وقار الدین کی بہن کی عطیہ کردہ زمین ایک مسجد کی تاسیس بھی رکھی تھی۔

انعامات و اعزازت[ترمیم]

  • وہ ایسے پہلے بھارتی بن چکے ہیں جنہیں 2015ء میں ستارۂ یروشلم اعزاز سے نوازا گیا ہے جو فلسطین کا سب سے اعلٰی شہری اعزاز ہے۔ یہ اعزاز انہیں فلسطین کے صدر محمود عباس کے خصوصی مشیر اور سپریم جج محمود صدقی الحباش نے اپنے ہاتھوں سے عطا کیا تھا۔[2]
  • انہیں 2018ء میں باوقار عرب لیگ ایوارڈ سے نوازا چکا ہے۔ [3]

حوالہ جات[ترمیم]