سید کلب عابد نقوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
سید کلب عابد نقوی
سید کلب عابد نقوی

معلومات شخصیت
تاریخ وفات سنہ 1986  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ مصنف  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

آقائے شریعت صفوۃ العلماء مولانا سید کلب عابد نقوی ، عمدۃ العلماء مولانا سید کلب حسین کے بڑے بیٹےاور دور حاضر میں خاندان اجتہاد کےرکن رکین تھے ـ

ولادت[ترمیم]

آپ یکم جمادی الثانی سنہ 1341ھ مطابق 19 جنوری سنہ 1923ء بروز جمعہ لکھنؤ میں پیدا ہوئے ـ

تعلیم[ترمیم]

سنہ 1930ء میں سلطان المدارس میں داخل ہوئے اور سنہ 1945ء میں فرسٹ ڈویژن سے آپ نے صدرالافاضل کی سند حاصل کی ـ

آپ کے اساتذہ میں مولانا الطاف حیدر ، مولانا عبدالحسین ، مولانا ابن حسن ، مولانا سید محمد اور مولانا سید حسین کے نام نمایاں ہیں ـ

سنہ 1946ء میں نجف اشرف عراق گئے جہاں آیت اللہ سید مہدی شیرازی، آیت اللہ سید محسن طباطبائی حکیم ، آیت اللہ سید محمود شاہرودی اور دیگر مراجع سے کسب فیض کیا ـ

سنہ 1949ء میں عراق سے لکھنؤ واپس آئے ۔

تدریس[ترمیم]

دسمبر سنہ 1950ء سے جون سنہ ۔۔۔ تک مدرسہ سلطان المدارس میں نائب مدرس اعلی کی حیثیت سے تدریسی اور انتظامی فرائض انجام دیئے ـ

کچھ عرصہ بعد آپ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں شعبہ تھیولوجی کے ڈین کی حیثیت سےمدعو کئے گئے جہاں نومبر سنہ 1974ء سے جنوری سنہ 1983ء تک آپ اس عہدے پر فائز رہے ـ

تلامذہ[ترمیم]

تدریس کے اس طویل دور میں سیکڑوں افراد آپ کے چشمہ علم سے سیراب ہوئے ،ـ ان میں سے چند نام یہاں پردرج کئے جا رہے ہیں :

مولانا آغا جعفر (پاکستان) ، مولانا رضی جعفر (پاکستان) ، مولانا مرزا محمد عالم ، مولانا مرزا محمداطہر، مولانا سید حسن نقوی ، مولانا افتخار حسین (کشمیر) ، اور مولانا منظور حسن ـ

شادی اور اولاد[ترمیم]

سنہ 1923ء میں علامہ باقرالعلوم کی بیٹی سے آپ کا عقد ہوا جن سے دو بیٹے اور تین بیٹیاں پیدا ہوئیں ـ

مولانا سید کلب جواد نقوی اب آپ کے جانشین ہیں ـ

سماجی اور قومی اداروں سے رابطہ[ترمیم]

عراق سے واپسی کے بعد ، سنہ 1963ء تک وقتا فوقتا مسجد آصفی میں اپنے والد عمدۃ العلماء مولانا سید کلب حسین کی عدم موجودگی میں نماز جمعہ پڑھایا کرتے تھے ۔ عمدہ العلماء کی وفات کے بعد آپ نے یہ منصب مستقل طور سے سنبھال لیا اورآخر عمر تک یہ فریضہ انجام دیتے رہے ۔

آپ آل انڈیا مسلم پرنسل لا بورڈ کے نائب صدر تھے ، ـ جس کی صدرات مولانا ابوالحسن علی ندوی کےاختیار میں تھی ـ

سینٹرل حج کمیٹی اور اردو اکیڈمی کے ممبر بھی رہے نیز ایک بار آل انڈیا شیعہ کانفرنس کے صدر بھی منتخب ہوئے ـ مسلم یونیورسٹی کے کورٹ کے ممبر بھی تھے ـ

یہ مختلف النوع مناصب آپ کی ہمہ گیر شخصیت کی عکاسی کرتے ہیں ۔ اور اس سے ان کی مستحکم علمی بنیادوں کی نشان دہی ہوتی ہے ، ۔ جو اس زمانے میں کبریت احمر کی حیثیت رکھتی ہے ـ

پروفیسر مولانا شبیہ الحسن نونہروی کے بقول ، آپ کی ذات میں سنجیدگی اور متانت کے آثار بچپن ہی سےموجود تھے مگر کبھی بھی آپ عبوس و قمطریر نہ ہوئے ۔

متانت اور حفظ مراتب کے ساتھ آپ کی شگفتگی اور کشادہ دستی آپ کے اوصاف میں چار چاند لگادیتی تھی ۔ آپ میں حقیقتا ایک طرح کی مقناطیسیت تھی ـ

آپ کے احباب کا حلقہ بہت وسیع تھا جن میں طرح طرح کے لوگ شامل تھے اور سب ہی آپ کی نیک نفسی ، خیر خواہی اور ایثار کے معترف تھے ، آپ کےجیسا احباب پرور شخص کمتر ہی دیکھا گیا ہے ـ

سادگی اور اخلاص کے ساتھ آپ اپنے احباب کی اتنی مدارات کرتے تھے کہ آپ کے یہاں جانے والا مبہوت ہوکر رہ جاتا تھا ۔

ان تمام اوصاف کے ساتھ ساتھ واقعات کا ایک ایسا سلسلہ ہے کہ اگر ان کا ذکر کیا جائے توایک تاریخ بن جائے ، ۔ جس کا یہاں موقع نہیں ہے ـ

عملی زندگی میں داخل ہونے کے بعد قیادت و خطابت کے نہفتہ اوصاف بھی رفتہ رفتہ آپ میں ظہور پزیر ہونے لگے اور پھر تو آپ اس قدر مصروف ہوگئے کہ پوری زندگی معرکے سر کرنے میں گذرگئی ـ

حادثہ وفات[ترمیم]

آپ 13/دسمبر سنہ 1986ء مطابق 10/ربیع الثانی سنہ 1407ھ بروز شنبہ نصیرآباد ضلع رائے بریلی مجلس پڑھنے گئے تھے ۔ وہاں سے الہ آباد کے لئے واپسی ہورہی تھی کہ تقریبا پندرہ کلو میٹر پہلے پھاپھا مئو ضلع الہ آباد میں تقریبا ساڑھے آٹھ بجے رات کو ایک ٹرک نے اس کار کو پیچھے سے کچل دیا جس میں آپ سفر کررہے تھے ۔ لاش رات بھر کس مپرسی کے عالم میں پڑی رہی ۔ لیکن 14/دسمبر کی صبح ہوتے ہوتے جب ریڈیو اور دیگر ذرائع ابلاغ نے اس خبر کو چاردانگ عالم میں پھیلادیا تو جیسے ایک عالمگیر زلزلہ آگیا ۔ نواب گنج تھانہ سے ایمبولینس کے ذریعہ لاش میڈیکل کالج الہ آباد لائی گئی ۔ سیکڑوں کا مجمع نعرے لگارہاتھا کہ مولانا کا پوسٹ مارٹم تبھی ہوسکتا ہے جب یہاں ہزاروں پوسٹ مارٹم ہوجائیں سلیم شیروانی (ممبر پارلیمنٹ) نے اعلی افسران سے مشورہ کے بعد اعلان کیا کہ اعلی حضرت کی لاش کو کوئی چھو بھی نہیں سکتاہے ۔ ڈاکٹری معائنہ کے بعد میڈیکل کالج کے کمپاؤنڈ میں میت زیارت کے لئے لائی گئی ـ پھر دوبارہ ایمبولینس میں رکھی گئی ۔ تین بجے سہ پہر کے قریب ایمبولینس آہستہ آہستہ لکھنؤ کے لئے روانہ ہوئی ۔ ہرقدم پر قافلہ بڑھتا جارہاتھا ۔ ایک جیپ جس پر مسلم مجلس کا جھنڈا لگا تھا سورہ رحمن کی تلاوت کرتی جارہی تھی ۔ لکھنؤ سے چالیس کلومیٹر پہلے ایک کثیر مجمع استقبال کے لئے کھڑا تھا ۔ وہیں آقائے شریعت کے جسد اطہر کو تابوت میں منتقل کرکے ایک کھلی گاڑی میں رکھا گیا ۔ 9/بجے رات کے قریب اعلان کیا گیا کہ سرکار آقائے شریعت کی نماز جنازہ کل صبح ادا کی جائے گی ۔ پورے لکھنؤ میں کہرام مچا تھا ۔ مجمع رات ہی سے بڑے امامباڑے کی طرف برھتا جاتا تھا جہاں غسل و کفن کے بعد تابوت مسجد آصفی کے مرکزی در میں رکھا تھا ـ 9/ بجے صبح جنازے کی صفیں ، امامباڑے کے صحن سے سیڑھیوں تک اور وہاں سے لان تک پہونچیں پھر بھی سب لوگ شرف نماز جنازہ حاصل نہ کرسکے ـ تاج العلماء سید محمد ذکی نے نماز جنازہ پڑھائی مگر آواز گلوگیر تھی ـ آگے بڑھے تو ٹیلہ والی مسجد کے قریب برادران اہل سنت نماز جنازہ پڑھنے کے لئے تیار کھڑے تھے ۔ اجازت لے کے تابوت صحن مسجد کے اندر لے گئے ۔ مولانا فضل الرحمن امام جمعہ و جماعت اہل سنت کی اقتداء میں نماز جنازہ شروع ہوئی ـ ہزارون شیعہ سوگوار شرکت سے محروم رہ گئے تھے جناب مولانا کی اقتداء میں نماز جنازہ کے لئے کھڑے ہوگئے ۔ یہاں روز نامہ عزائم لکھنؤ کا ایک اقتباس پیش کرنا نامناسب نہ ہوگا :

مولانا سید کلب عابد مجتہد کا ماتم جس ہمہ گیر پیمانے پر ہوا اور اب تک ہورہا ہے وہ لکھنؤ کی روایت اور مزاج کے خلاف ہے اور مظاہرہ اتنا غیر متوقع ہے کہ شاید کسی اور کو تو کیا مولانا مرحوم کو بھی اپنی زندگی میں اس کا اندازا نہ رہا ہوگا کہ انہوں نے اپنے قومی کردار اور شخصی عمل اور صلح کل ذہن کے اتنے گہرے اور پائیدار اثرات مسلمانوں کی اجتماعیت پر مرتب کردئیے ہیں کہ ان کی وفات نہ صرف شیعہ فرقہ کے لئے ایک حادثہ عظیم ہے بلکہ سنیوں کے لئے بھی ایک ایسا ناقابل بیان صدمہ جانکاہ ثابت ہوگا کہ وہ صدق دلی اور دل کی گہرائیوں کے ساتھ ان کی نا وقت جدائی پر بیقرار ہواٹھیں گے ۔ جس شہر میں شیعہ سنی منافرت کی وجہ سے شیعہ لیڈروں کے لئے سنی فرقہ کے اندر اور سنی لیڈروں کے لئےشیعہ فرقہ کے اندر بیگانگی ، بلکہ بے تعلقی اور بدگمانی کے ایسے جذبات ابھرچکے تھے کہ انہیں ایک دوسرے کا دشمن اور بدخواہ سمجھ لیا گیا تھا کہ ان سے کسی خیر اور ہمدردی کی توقع ہی اٹھاکر رکھدی گئی تھی ، اسی شہر میں سب سے بڑے شیعہ لیڈر اور مذہبی پیشوا مولانا کلب عابد مجتہد کی وفات نے بجلی کی طرح ایک ایسے تاسف اور صدمے کی فضا پیدا کردی کہ سارا سنی فرقہ ان کی طرف عقیدت اور جذباتی کیفیت سے مغلوب ہوکر دوڑ پڑا ۔ وہ ان کی میت کو خوشامد کرکے ٹیلہ شاہ پیر محمد کی اس مسجد میں ان کی نماز جنازہ ادا کرنے کے لئے لے گئے، جہاں اب تک شیعہ فرقہ کے مقابلہ میں لڑائی اور کش مکش کا محاذ اور میدان تیار کرنے کے لئے سنیوں کے اجتماعات ہواکرتے تھے ۔ اوریہ کیا بات ہوئی کہ ان کی وفات پر سنیوں کے جذبہ عقیدت کی شدت اس نقطہ عروج تک جا پہونچی کہ ان کی تعزیت اور انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے پوری لگن کے ساتھ شہری جلسہ تعزیت کا اہتمام کرنے پر مجبور ہوگئےـ

نماز جنازہ کے بعد تابوت چالیس علموں کے سایے میں امام باڑہ غفران مآب کی طرف روانہ ہوا ۔ درمیان راہ جنازے کو آخری دیدار کے لئے گھر کے اندر بھیجا گیا، تھوڑی دیر کے بعد میت اپنے آخری سفر پر روانہ ہوگئی ۔ آدھا گھنٹے کا راستہ کئی گھنٹوں میں طے ہوا ۔ عمدۃ العلماء مولانا سید کلب حسین کے پہلو میں ان کے فرزند اکبر کو دفن کردیا گیا ۔ اردو، ہندی اور انگریزی کے اخبارات کئی دن تک آقائے شریعت کے تذکروں سے بھرے رہے ۔ مولانا نہ حکومت کے کسی منصب پر فائز تھے نہ کبھی سیاست میں دخل دیا مگر الہ آباد سے لکھنؤ تک مولانا کی لاش گویا سرکاری اعزاز کے ساتھ آئی ۔ جابجا پولس کی ڈیوٹی تھی اور جب بھی ایمبولینس پولس کے سامنے سے گذرتی تھی رائفل سرنگوں کرکے سلامی پیش کی جاتی تھی ۔ لکھنؤ میں ضلع انتظامیہ اور سرکاری مشینری اس سے زائد سرگرم تھی جتنا سرکاری اعزاز کے ساتھ دفن ہونے والوں کے لئے ہوتی ہے ۔ ماتمی جلوس کے آگے گھوڑے سوار پولس اور ان کے پیچھے اعلی پولس افسران پیدل چل رہے تھے ۔ جلوس کے پیچھے بھی پولس کے دستے تھے ۔ مسلمانوں کی دکانیں دو روز بند رہیں بلکہ بہت سے غیر مسلم افراد نے بھی دکانیں بند رکھیں ۔ شہر کے اکثر و بیشتر مکانات پر سیاہ جھنڈے تھے ۔

15/دسمبر کی دوپہرکو تدفین ہوئی اور اسی روز شام کو لکھنؤ کے شہریوں کی طرف سے ( جس میں سنی حضرات پیش پیش تھے) امین الدولہ پارک میں ایک تعزیتی جسہ ہوا جس میں لاکھوں کی تعداد میں لوگ شریک ہوئے اور ہندو، مسلم ، شیعہ ، سنی مذہبی اور سیاسی رہنماؤں نے مولانا کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا ـ [1] [2]

مصادر و مآخذ[ترمیم]

  1. خورشید خاور
  2. سایٹ مجمع محققین هند