سید یوسف رضا گیلانی توہین عدالت مقدمہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

قومی مفاہمت فرمان 2007ء کلعدم ہو جانے کے بعد عدالت عظمیٰ نے وفاقی حکومت کو حکم دیا کہ زرداری کے خلاف سوئس عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کو رکوانے کا فیصلہ واپس لیتے ہوئے دوبارہ مقدمات کھولنے کی درخواست سؤئس احکام کو لکھی جائے۔ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی دو سال ٹال مٹول سے کام لیتا رہا حتٰی کہ عدالت عظمیٰ نے اسے توہین عدالت پر طلب کر لیا جہاں اس کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ زرداری کو بطور صدر استشنی حاصل ہے جو عدالت نے مسترد کر دیا۔[1] 13 فروری 2012ء کو عدالت نے گیلانی پر توہین عدالت کی فرد جرم عائد کر دی۔[2] گیلانی کی وکالت چودھری اعتزاز احسن نے کی۔ اعتزاز نے دلائل میں کہا کہ منصفین اس مقدمہ کی سماعت نہ کریں کیونکہ پہلے وہ اس سے متعلقہ مقدمہ کی سماعت کر چکے ہیں۔ کچھ دنوں کے لیے اعتزاز نے اپنی بیماری کا بہانہ کیا۔ اس کے بعد کہا کہ اس مقدمہ کی سماعت عدالت عظمیٰ کی بجائے عدالت عالی میں ہونی چاہیے۔

مجرم[ترمیم]

26 اپریل 2012ء کو عدالت نے گیلانی کو توہین عدالت پر 30 سیکنڈ کی سزا سنائی اور اس طرح گیلانی مجرم قرار پایا۔[3] مئی 2012ء میں عدالت نے 71 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا جو مَحکمہ کے سربراہ منصف ناصر الملک نے تحریر کیا۔[4] منصف آصف سید خان کھوسہ نے فیصلہ کے اضافی نوٹ میں "توہین عدالت" کی تشریح کرتے ہوئے لکھا:

I deem it important and relevant to explain here the conceptual

basis of the law regarding contempt of court. The power to punish a person for committing contempt of court is primarily a power of the people of this country to punish such person for contemptuous conduct or behavior displayed by him towards the courts created by the people for handling the judicial functions of the State and such power of the people has been entrusted or delegated by the people to the courts through the Constitution. It must never be lost sight of that the ultimate ownership of the Constitution and of the organs and institutions created thereunder as well as of all the powers of such organs and institutions rests with the people of the country who have adopted the Constitution and have thereby created all the organs and institutions established under it.

پارلیمان[ترمیم]

بطور مکلم پارلیمان فہمیدہ مرزا نے عدالت عظمیٰ کا فیصلہ نظرانداز کرتے ہوئے بیان دیا کہ اپنی سیاسی جماعت کے مجرم وزیر اعظم گیلانی کے خلاف انتظابی کارروائی کے لیے مقدمہ انتخابی لجنہ کو بھیجنے کا سوال ہی پید نہیں ہوتا۔[5] اس کے بعد گیلانی نے عدالت عظمیٰ کے فیصلہ کے خلاف عدالت میں استدعا نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔[6]

نااہل اور معزول[ترمیم]

فہمیدہ مرزا کے فیصلہ کو تحریک انصاف نے عدالت عظمیٰ میں اعتراض کر دیا۔ اعتزاز احسن نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سزا ہونے کے باوجود وزیر اعظم قیدخانے سے بھی وزارت کے فرائض انجام دے سکتا ہے۔[7] عدالت نے مقدمے کے فیصلہ[8] میں لکھا کہ سزا کے بعد گیلانی پارلیمان کی رکنیت سے نااہل ہو چکا ہے اور اس طرح وزیر اعظم نہیں رہ سکتا۔ انتخابی محکمہ کو عدالت نے ہدایت کی اس کی معزولی کا حکم جاری کرے جو فیصلے کے چند گھنٹہ بعد جاری کر دیا گیا کہ گیلانی 26 اپریل 2012ء سے معزول سمجھا جائے۔[9] اس طرح گیلانی اور اس کی 63 ارکان کابینہ برطرف ہوئے اور برطرفی 26 اپریل سے لاگو سمجھی گئی۔[10]

  1. سعید شاہ۔ "Pakistan court to charge Yousaf Raza Gilani with contempt"۔ گارڈین۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2 فروری 2012ء۔
  2. اینڈریو بنکومب۔ "Pakistan's PM is charged with contempt"۔ انڈپنڈنٹ۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 فروری 2012۔
  3. "PM convicted of contempt of court"۔ ڈان۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  4. "Supreme Court issues detailed judgment in contempt case"۔ ڈان۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  5. "No question of PM Gilani's disqualification, decides NA speaker"۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  6. "سزا کے خلاف اپیل دائر نہیں کریں گے، اعتزاز احسن"۔ بی بی سی موقع۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  7. "Even as prisoner, Gilani can perform PM's role: Aitzaz"۔ ٹریبون ایکسپریس۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  8. "فیصلہ" (پی‌ڈی‌ایف)۔ مورخہ 20 جون 2012 کو اصل (پی‌ڈی‌ایف) سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 19 جون 2012۔
  9. "Gilani no more PM, rules SC"۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  10. "Cabinet Division denotifies Gilani"۔ نیشن۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔

بیرونی روابط[ترمیم]