سیرت نبوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(سیرت سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مقالات بسلسلۂ
محمد ﷺ
محمد
Mohammad SAV.svg
باب محمد


سیرت یا سیرۃ، موجودہ دور میں سیرت نبویہ یا سیرت نبوی یا سیرت النبی کی اصطلاح مسلمانوں کے ہاں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سوانح کے لیے خاص ہے۔ سیرت کے لغوی معنی طریقہ کار یا چلنے کی رفتار اور انداز کے ہیں۔[1]

سیرت کا لغوی مفہوم[ترمیم]

اردو اور فارسی سیرت ، عربی سیرۃ کا لفظ عربی زبان کے جس مادے اور فعل سے بنا ہے اس کے لفظی معنی ہیں چل پھرنا، راستہ لینا، رویہ یا طریقہ اختیار کرنا، روانہ ہونا، عمل پیرا ہونا وغیرہ۔ اس طرح سیرت کے معنی حالت، رویہ، طریقہ، چال، کردار، خصلت اور عادت کے ہیں۔ اس سے اردو میں تعمیر سیرت، سیرت سازی، پختگی سیرت، نیک سیرت، بد سیرت اور حسن سیرت وغیرہ کے الفاظ مستعمل ہیں۔
لفظ سیرت واحد کے طور پر اور بعض دفعہ اپنی جمع سیر کے ساتھ اہم شخصیات کی سوانح حیات اور اہم تاریخی واقعات کے بیان کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔ مثلاً کتابوں کے نام سیرت عائشہ یا سیرت المتاخرین وغیرہ۔
کتب فقہ میں السیر جنگ اور قتال سے متعلق احکام کے لیے مستعمل ہے۔
چونکہ آنحضرت کی سیرت کے بیان میں غزوات کا ذکر خاص اہمیت رکھتا ہے اس لیے ابتدائی دور میں کتب سیرت کو عموماً مغازی و سیر کی کتابیں کہا جاتا تھا جبکہ لفظ مغازی مغزی کی جمع ہے جس کے معنی جنگ(غزوہ) کی جگہ یا وقت کے ہیں لیکن اب سیرت کی ترکیب ہی مستعمل ہے۔

لفظ سیرۃ قرآن میں[ترمیم]

قرآن کریم میں لفظ سیرۃ صرف ایک جگہ آیا ہے۔
سَنُعِيدُھَا سِيرَتَھَا الْاُولَیO سورۃ طہ:آیت نمبر 21
ہم اسے ابھی اس کی پہلی حالت پر لوٹا دیں گےo ترجمہ از عرفان القرآن
اس آیت میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عصا (لاٹھی) کے سانپ بن جانے کے بعد دوبارہ اصلی حالت میں آجانے کی طرف اشارہ ہے لہذا یہاں لفظ سیرۃ حالت اور کیفیت کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔

سیرت کا اصطلاحی مفہوم[ترمیم]

لفظ سیرت اب بطور اصطلاح صرف آنحضرت کی مبارک زندگی کے جملہ حالات کے بیان کے لیے مستعمل ہے جبکہ کسی اور منتخب شخصیت کے حالات کے لیے لفظ سیرت کا استعمال قریباً متروک ہو چکا ہے۔ اب اگر مطالعہ سیرت یا کتب سیرت جیسے الفاظ کے ساتھ رسول، نبی، پیغمبر یا مصطفی کے الفاط نہ بھی استعمال کیے جائیں تو ہر قاری سمجھ جاتا ہے کہ اس سے مراد آنحضرت کی سیرت ہی ہے بلکہ بعض دفعہ لفظ سیرت کو کتاب کے مصنف کی طرف مضاف کر کے بھی یہی اصطلاحی معنی مراد لیے جاتے ہیں جیسے سیرت ابن ہشام کہ اس کا مطلب ابن ہشام کے حالات زندگی نہیں بلکہ آنحضرت کے حالات ہیں جو کتاب کے مصنف ابن ہشام نے جمع کیے ہیں۔ اسی طرح موجودہ دور میں جلسہ سیرت، سیرت کانفرنس، مقالات سیرت، اخبارات و رسائل کے سیرت نمبر وغیرہ بکثرت الفاظ مستعمل ہیں۔ ان تمام تراکیب میں لفظ سیرت کے معنی ہمیشہ سیرت النبی ہی ہوتے ہیں۔ بعض دفعہ ادب و احترام کے اظہار کے لیے اس لفط کے ساتھ کسی صفت کا اظہار کر دیتے ہیں جیسے سیرت طیبہ، سیرت مطہرہ اور سیرت پاک وغیرہ۔

سیرت طیبہ کے مآخذ و مصادر[ترمیم]

کسی علم خصوصاً جس کا تعلق تاریخ سے ہو ، اس کے مآخذ سے مراد وہ کتابیں ، روایات اور آثار وغیرہ ہیں جن میں اس علم کے متعلق سب سے پہلے بات کی گئی ہو یا جن میں اس علم کے متعلق معلومات سب سے پہلے جمع کی گئی ہوں۔ کسی تاریخی شخصیت کے بارے میں معلومات کا اہم مآخذ وہ کتاب یا کتابیں ہوں گی جو اس کی زندگی میں لکھی گئی ہوں یا اس کے بعد قریب ترین زمانے میں لکھی گئی ہوں اور جن میں زیادہ سے زیادہ مواد یکجا جمع کیا گیا ہو یا اس مواد کے جمع کرنے میں علمی تگ و دو اور تحقیقی چھان بین سے کام لیا گیا ہو۔ اس لحاظ سے سیرت طیبہ کے اہم بنیادی مآخذ حسب ذیل بنتے ہیں۔

قرآن مجید[ترمیم]

سیرت طیبہ کا اصل اور سب سے زیادہ صحیح اور مستند مآخذ قرآن مجید ہے۔ قرآن مجید دو طرح سے سیرت کے مآخذ کا کام دیتا ہی۔ الف۔ اس میں آنحضرت کی مبارک زندگی کے متعدد واقعات ، غزوات اور بعض دیگر پیش آمدہ حالات کا ذکر ہے۔ کہیں تفصیل اور کہیں اجمالی اشارات موجود ہیں۔ بعض لوگوں نے صرف قرآن کریم میں صراحتہً یا کنایتہً بیان کردہ واقعات سیرت کی ترتیب و جمع سے سیرت پر کتابیں تالیف کی ہیں۔ مثلاً محمد عزت دروازہ کی کتاب [[سیرۃ الرسول (صورۃ مقتبسہ من القرآن) جو دو جلدوں میں ہے۔

ب۔ قرآن کریم میں وہ تمام تعلیمات ہیں جن کو آحضرت نے عملاً نافذ کیا۔ اسی طرح معاصر کفار کے بعض اعتراضات اور ان کے جوابات مذکور ہیں۔ قرآن کریم کی اس قسم کی آیات کی تفصیل اور زمانہ یا موضع نزول کے بارے میں سیرت طیبہ کے واقعات کی طرف رجوع کرنا ضروری ہو جاتا ہی۔ گویا قرآن کریم سیرت طیبہ کے بارے میں کچھ تفصیلی معلومات بھی دیتا ہے اور اجمالی اشارات کے ذریعے سے واقعات سیرت کی اصل کی نشاندہی کر کے اس کی تفصیلات جاننے پر آمادہ بھی کرتا ہے۔

کتب حدیث[ترمیم]

قرآن کریم کو رسول اللہ نے کس طرح سمجھا اور اسے کس طرح نافذ کیا ، اس کی تفصیلات ہی کتب حدیث کا اصل موضوع ہے لیکن قرآن کریم میں آنحضرت کے احکام، تعلیمات، خطبات، مواعظ اور قضایا یعنی قانونی فیصلے وغیرہ ہی بیان نہیں ہوئے بلکہ بعض نہایت اہم واقعات سیرت بھی بیان ہوئے ہیں۔ چونکہ حدیث کی روایت و نقل میں عام کتب تاریخ کی نسبت زیادہ تحقیق و چھان بین سے کام لیا جاتا ہے ، اس لیے کتب حدیث میں بیان کردہ واقعات سیرت قرآن کے بعد باقی تمام مآخذ سیرت سے زیادہ مستند اور زیادہ قابل اعتماد ہیں۔

تواریخ حرمین[ترمیم]

حرمین سے مراد مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ ہے۔ اسلام میں ان دونوں شہروں کو جو اہمیت حاصل ہے اس کی بناء پر بعض علماء نے خاص ان شہروں کی تاریخ اور ان کے اہم تاریخی مقامات سے متعلق معلومات کو مستقل تالیفات کا موضوع بنایا ہی۔ اس قسم کی کتابوں میں بعض مقامات کے ذکر کی مناسبت سے سیرت طیبہ کے بعض اہم واقعات بھی ملتے ہیں بلکہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے تواریخ حرمین پر لکھی گئی کتابوں میں سیرت نبوی سے متعلق ایسی معلومات بھی مل جاتی ہیں جو عام کتب تاریخ و سیرت میں مذکور نہیں ہوتیں۔

ہرچند کہ اس قسم کی کتابیں اب بھی لکھی جارہی ہیں تاہم اس فن کی اہم بنیادی کتابیں حسب ذیل ہیں۔

تاریخ اسلام یا تاریخ عالم پر کتابیں[ترمیم]

مسلمانوں نے فن تاریخ نویسی کو بڑی ترقی دی اور عالمی تاریخ کو عموماً اور تاریخ اسلام کو خصوصاً بڑی بڑی ضخیم کتابوں میں جمع کیا۔ اس قسم کی کتابوں میں سیرت طیبہ کا مذکور ہونا لازمی تھا۔ اس قسم کی چند نمایاں اور بنیادی کتابیں، جو سیرت طیبہ کے لیے بھی اہم مآخذ و مصدر ہیں، درج ذیل ہیں۔

طبقات مشاہیر[ترمیم]

عام اور مسلسل تاریخ اسلام (سن وار) لکھنے کے علاوہ بعض مسلمان اہل علم نے مشہور شخصیتوں کی اقسام الگ الگ کر کے ہر گروہ یا طبقے کے مشاہیر کے حالات الگ الگ کتابوں میں جمع کیے مثلاً صحابہ، حفاظ و قراء، شعراء، علمائے لغت و نحو، اطباء وغیرہ۔ اس قسم کی کتابیں عموماً طبقات کے نام سے لکھی گئی ہیں مثلاً طبقات ابن سعد، طبقات القراء، طبقات الاطباء وغیرہ۔ اس قسم کی کتابوں، جن کا تعلق بالخصوص صحابہ کرام سے ہے، ان میں سیرت طیبہ پر بھی بہت کچھ مواد ملتا ہے۔

اولین کتب سیرت[ترمیم]

اولین کتب سیرت جو یا تو آنحضرت کے قریب ترین دور میں لکھی گئیں اور آنے والوں کے لیے مآخذ و مصادر بنیں یا اِن اولین کتب سیرت کی بنیاد پر تالیف کی جانے والی اولین ضخیم اور جامع کتب سیرت جن میں شامل مواد متعدد کتب سے جمع کیا گیا۔ ان میں سے بہت سی کتب سیرت ناپید ہو چکی ہیں تاہم ان کا ذکر اور ان سے اخذ کردہ مواد کے حوالے بعد کی کتابوں میں ملتے ہیں۔ اسی طرح بہت سی ایسی ابتدائی کتب سیرت ہیں کہ جن کے قلمی نسخے بعض بڑے کتب خانوں میں ملتے ہیں لیکن تاحال وہ شائع نہیں ہو سکیں۔

ایسی اولین کتب سیرت جو زمانے کی دست برد سے محفوظ ہیں اور چھپی ہوئی مل جاتی ہیں یا چھپ ضرور چکی ہیں، وہ حسب ذیل ہیں:

مطالعہ سیرت کی ضرورت و اہمیت[ترمیم]

مسلم و غیر مسلم ہر اس شخص کے لیے سیرت نبوی کا مطالعہ از حد ضروری ہے جو دین اسلام کو جاننے، سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کا خواہشمند ہے۔

اہل اسلام کے حوالے سے مطالعہ سیرت کی ضرورت و اہمیت کے نکات حسب ذیل ہیں:

  • اللہ تعالٰیٰ نے قرآن کریم میں آنحضرت کی ذات گرامی کو بہترین نمونہ قرار دے کر اہل اسلام کو آپ کے اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہونے کا حکم ارشاد فرمایا ہے لہذا سیرت نبوی کو جانے بغیر آنحضرت کے اسوہ حسنہ پر عمل ممکن نہیں۔
  • اللہ تعالٰیٰ نے قرآن کریم میں اتباع رسول اور اطاعت رسول کو لازم اور فرض قرار دیا ہے۔ اس لحاظ سے سیرت نبوی کا مطالعہ از حد ضروری ہے تاکہ آنحضرت کے احکامات اور دیگر اوامر و نواہی کے ساتھ ساتھ آپ کی پسند و ناپسند کا علم بھی ہو سکے۔
  • دین اسلام کی تبلیغ اور نشر و اشاعت کے حوالے سے سیرت کا مطالعہ ناگزیر ہے تاکہ ایک تو ہر مبلغ تبلیغ کے اس مسنون طریقہ کار سے آگاہ ہو جس پر عمل پیرا ہو کر آنحضرت نے عرب کی کایا پلٹ دی اور دوسرا اس مطالعہ کے ذریعے مخاطب کو آنحضرت کے اسوہ حسنہ سے متعارف کروا کر اور موقع بہ موقع سیرت کے واقعات سُنا کر اسے متاثر کیا جا سکے۔
  • قرآن کا فہم مطالعہ سیرت کے بغیر نا ممکن ہے کیونکہ آ پ ہی قرآن کی عملی تصویر اور کامل تفسیر ہیں۔

مسلمانوں کے لیے سیرت کا مطالعہ محض ایک علمی مشغلہ ہی نہیں بلکہ اہم دینی ضرورت ہے جبکہ غیر مسلموں کے لیے سیرت کے مطالعہ کی نوعیت اس سے کچھ مختلف ہو سکتی ہے۔

  • غیر مسلم کا سیرت کے مطالعہ کا مقصد ان حالات اور اسباب سے آگاہی ہو سکتا ہے کہ جس کے ماتحت آنحضرت نے تئیس سال کے قلیل عرصہ میں دنیا میں ایک ایسا انقلاب برپا کر دیا اور عرب کی جاہل اور اجڈ قوم سے ایک ایسی امت تیار کر دی کہ جس کے کارنامے مورخین عالم کے لیے انتہائی دلچسپ اور موجب صد حیرت ہیں۔
  • وہ غیر مسلم جو اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف بغض و عناد رکھتے ہیں، ان کے مطالعہ سیرت کا مقصد اصل حقائق سے آگاہی حاصل کر کے انہی واقعات کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا اور حقیقت کے برعکس ان واقعات کو اپنے رنگ میں پیش کر کے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کرنا بھی ہو سکتا ہے۔

جمع و تدوین سیرت کی مختصر تاریخ[ترمیم]

محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات، آپ کی تعلیمات اور آپ کی حیات طیبہ کی جملہ معلومات آپ کے اصحاب، آپ کی ازواج اور دیگر اہل بیت کے پاس منتشر صورت میں موجود تھیں۔ چونکہ آپ بطور رسول اللہ ان سب کی توجہ کا مرکز تھے اس لیے یہ تمام اصحاب باہمی میل ملاپ اور گفت و شنید سے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات گرامی سے متعلقہ مختلف قسم کی معلومات کا تبادلہ بھی کرتے جیسے کسی تازہ ترین وحی، کسی واقعہ یا کسی فرمان کا باہمی تبادلہ وغیرہ۔

محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصال فرمانے کے بعد آپ کے پیروکاروں کے دل میں اپنے ہادی و پیشوا کی ذاتِ مبارک، آپ کے اخلاق و عادات اور آپ کی زندگی سے متعلق باتیں دریافت کرنے کا شوق بڑھتا چلا گیا۔ اس شوق و جستجو سے رفتہ رفتہ روایات کا ایک وسیع ذخیرہ ہونا شروع ہو گیا۔ صحابہ کے بعد تابعین کے دور نہ صرف روایات جمع کرنے کا کام ہوا بلکہ ان روایات کو مختلف طریقوں سے منظم کرنے کا کام بھی شروع ہو گیا مثلاً ایک تابعی مختلف صحابہ کرام سے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وعظ، تقریر اور نصائح کے حوالے سے عام روایات کو یاد کرتا یا لکھ لیتا تو دوسرا تابعی اپنے ملنے والے صحابہ کرام سے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے غزوات اور دیگر واقعات دریافت کر کے لکھ لیتا۔ اس طرح ایک ایک تابعی کے پاس دس بیس یا پچاس صحابہ کرام کے ذریعے سے حاصل ہونے والی معلومات جمع ہوتی گئیں۔ فتوحات کے نتیجہ میں جب صحابہ کرام ایران، عراق، شام اور مصر وغیرہ میں پھیلے تو ان سے معلومات جمع کرنے کا کام ان علاقوں میں بھی جاری رہا۔

تابعین کے بعد تبع تابعین کے دور میں صحابہ کرام اور تابعین سے جمع شدہ روایات اور بیسیوں چھوٹی چھوٹی کتابوں میں ذخیرہ شدہ معلومات کو مناسب تقسیم اور ترتیب دے کر بڑی اور جامع کتب مرتب ہوئیں۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ اسی نسل کے زمانے میں قرآن، حدیث اور فقہ کے بنیادی علوم کے ماتحت ان کے ذیلی علوم اور ان علوم میں مہارت کے حامل مخصوص افراد سامنے آئے۔ ان افراد نے جب تفسیر، حدیث، تاریخ، مغازی و سیرت کے بڑے بڑے مجموعات مرتب کئے تو ان کی مقبولیت کے باعث ماقبل کے چھوٹے چھوٹے مجموعے متروک ہوتے چلے گئے تاہم ان چھوٹے مجموعوں کے حوالے بڑے مجموعوں اور جامع کتب میں بکثرت ملتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان جامع کتب کی تدوین کے زمانے تک یہ چھوٹے، مختصر مگر اصل مآخذ موجود تھے اور پڑھے پڑھائے جاتے تھے۔

اسی پسِ منظر میں تدوین سیرت کا کام بھی یوں شروع ہوا کہ جب مسلمانوں نے اپنے ہادی برحق کے اقوال و افعال اور احوال کو اختیار کیا اور تفصیل سے جمع و محفوظ کرنا شروع کیا تو بعض بزرگوں نے صرف واقعات سیرت سے متعلق مواد جمع کرنے کو ہی اپنا دینی و علمی مشغلہ اور میدانِ اختصاص بنا لیا اور اس فن میں خاصی شہرت پائی۔

تابعین اور تبع تابعین میں سے جن لوگوں نے سیرت و مغازی پر مواد جمع کیا اور ابتدائی کتابیں لکھیں جن کا ذکر بعد کی لکھی ہوئی کتابوں میں ملتا ہے، ان میں سے مشہور لوگوں کے نام سنین وفات کی ترتیب سے پیش کیے جا رہے ہیں تا کہ یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جائے کہ کس طرح سیرت نگاری کا عمل ایک تسلسل سے جاری رہا اور تفسیر، حدیث اور تاریخ کی طرح تیسری صدی ہجری کے آخر تک مکمل ہوا۔

نام مؤلف سن وفات کیفیت
صحف عروہ بن زبیر 92ھ لاپتہ
صحف ابان بن عثمان 105ھ لاپتہ
السیرۃ ابن شہاب زہری 120ھ لاپتہ
مغازي موسیٰ بن عقبہ 141ھ
سیرت ابن اسحاق ابن اسحاق 151ھ ابن ہشام نے جمع کی
سیرت ابن ہشام ابن ہشام 218ھ سیرت ابن اسحاق کا مواد
مغازی الواقدی 208ھ
تاریخ الرسل والملوک محمد بن جریر طبری 310ھ
مروج الذہب و معادن الجواہر مسعودی 346ھ
السيرة النبويہ واخبار الخلفاء محمد ابن حبان التمیمی 354ھ
اسماء رسول الله اور ان کے معانی احمد بن فارس 395ھ
الدرر فی اختصار المغازی والسير ابن عبد البر 463ھ
جوامع السيرة ابن حزم اندلسی 456ھ
الروض الانف امام سہیلی 581ھ

اس کے بعد سے تاحال سیرت کے انہی بنیادی مآخذ و مصادر اور دیگر علوم کی کتب سے استفادہ کرکے زیادہ بڑی، مفصل اور جامع کتب لکھنے کا کام مسلسل جاری و ساری ہے۔ نئی تالیفات لکھنے کے ساتھ ساتھ نایاب قلمی نسخوں کی اشاعت، سیرت کی بنیادی کتب یا مشہور کتب کے دنیا کی مختلف زبانوں میں تراجم، اہم ترین کتب سیرت کی شروحات یا خلاصے لکھنے کے حوالے سے بھی کام ہو رہا ہے۔

سیرت پر کام[ترمیم]

آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر مارگو لیوتھ (S. Margoluth) نے 1905ء میں آنحضور کے حالات پر مبنی ایک کتاب Muhammad and The First Rise of Islam میں اعتراف کیا کہ

حضرت محمد کے سیرت نگاروں کا ایک طویل سلسلہ ہے جس کو ختم کرنا ناممکن ہے لیکن اس میں جگہ پانا باعث شرف ہے۔

اقوام متحدہ کے ثقافت و تہذیب اور تعلیم و تمدن سے متعلق ایک ذیلی ادارے یونیسکو UNESCO کے چند سال پہلے کی ایک جائزہ رپورٹ کے مطابق:

جس قدر کتب نبی اسلام کے بارے میں لکھی گئی ہیں اس کا عشرِ عشیر بھی کسی ایک شخصیت کے بارے میں نہیں لکھا گیا۔

کتب سیرت کی کثرت[ترمیم]

1963ء میں اسلامیہ کالج لاہور میں کتب سیرت کی ایک نمائش منعقد ہوئی جس میں پیش کردہ کتب کی فہرست کالج نے شائع کی تھی۔ اس میں دنیا کی گیارہ زبانوں کی آٹھ سو سے زائد کتابیں مذکور ہیں۔

سال 1974ء-1975ء میں حکومت پاکستان نے اسلام آباد میں سیرت کانفرنس کے موقع پر ایک نمائش کتب سیرت منعقد کرائی جس میں موجود کتابوں کی تعداد تین ہزار سے متجاوز تھی۔

ایک اور بین الاقوامی نمائش کتب سیرت میں صرف چودھویں صدی ہجری میں لکھی جانیوالی کتب سیرت رکھی گئی تھیں جن کی تعداد چار ہزار سے متجاوز تھی۔

بہائو الدین زکریا یونیورسٹی ملتان نے ارمغان حق کے نام سے دو جلدوں میں کتب سیرت کی ایک فہرست شائع کی تھی جس میں پندرہ زبانوں کی دو ہزار سے زائد کتابیں مذکور ہیں۔

سیرت پر ہونیوالا یہ کام نظم اور نثر دونوں میں دستیاب ہے۔ اگرچہ زیادہ کتب سیرت نثر میں ہی ہیں تاہم مختلف زبانوں میں منظوم کتب سیرت بھی اچھی خاصی تعداد میں موجود ہیں اور اگر صرف نعت کی کتابوں کو ہی لیا جائے تو ان کی فہرست پر بھی ایک رسالہ یا کتابچہ تیار ہو سکتا ہے۔

سیرت نگار[ترمیم]

سیرت نگار سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے سیرت کے موضوع پر لکھا ہے۔

شہرہ آفاق سیرت نگار[ترمیم]

  • خلفاء راشدین بلکہ خلیفۂ عادل حضرت عمر بن عبدالعزیزاموی کے دورخلافت سے کچھ قبل تک چونکہ حدیثوں کا لکھنا ممنوع قرار دے دیا گیاتھا تاکہ قرآن وحدیث میں خلط ملط نہ ہونے پائے اس لئے سیرت نبویہ کے موضوع پر حضرات صحابہ کرام کی کوئی تصنیف عالم وجود میں نہ آسکی مگر حضرت عمر بن عبدالعزیز کے دور خلافت میں جب احادیث نبویہ کی کتابت کا عام طور پر چرچا ہوا تو دور تابعین میں محدثین کے ساتھ ساتھ سیرت نبویہ کے مصنفین کابھی ایک طبقہ پیداہوگیا۔
  • حضرات صحابہ کرام سیرت نبویہ کے موضو ع پر کتابیں تو تصنیف نہ کرسکے مگر وہ اپنی یادداشت سے زبانی طور پر اپنی مجالس ، اپنی درسگاہوں، اپنے خطبات میں احادیث احکام کے ساتھ ساتھ سیرت نبویہ کے مضامین بھی بیان کرتے رہتے تھے ۔ اسی لئے احادیث کی طرح مضامین سیرت کی روایتوں کا سرچشمہ بھی صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم ہی کی مقدس شخصیتیں ہیں۔
  • بہر حال دور تابعین سے گیارہویں صدی تک چند مقتدر محدثین ومصنفین سیرت کے اسمائے گرامی ملاحظہ فرمائيے ۔
  • (1)حضرت عروہ بن زبیر تابعی (متوفی 92ھ)
  • (2)حضرت عامر بن شراحیل امام شعبی (متوفی 104ھ)
  • (3)حضرت ابان بن امیر المومنین حضر ت عثمان (متوفی 105ھ)
  • (4)حضرت وہب بن منبہ یمنی(متوفی 110ھ)
  • (5)حضر ت عاصم بن عمر بن قتادہ (متوفی 120ھ)
  • (6)حضرت شرجیل بن سعد(متوفی 123ھ)
  • (7)حضرت محمد بن شہاب زہری(متوفی 124ھ)
  • (8)حضرت اسمٰعیل بن عبدالرحمن سدی (متوفی 127ھ)
  • (9)حضرت عبداللہ بن ابوبکر بن حزم(متوفی 135ھ)
  • (10)حضرت موسیٰ بن عقبہ(صاحب المغازی)(متوفی 141ھ)
  • (11)حضرت معمر بن راشد(متوفی 150ھ)
  • (12)حضرت محمد بن اسحاق (صاحب المغازی)(متوفی 150ھ)
  • (13)حضرت زیاد بکائی (متوفی 183ھ)
  • (14)حضرت محمد بن عمر واقدی (صاحب المغازی)(متوفی 207ھ)
  • (15)حضرت محمد بن سعد(صاحب الطبقات)(متوفی 230ھ)
  • (16)حضرت ابوعبداللہ محمدبن اسمٰعیل بخاری(مصنف بخاری شریف)(متوفی256ھ)
  • (17)حضرت مسلم بن حجاج قشیری (مصنف مسلم شریف)(متوفی 261ھ)
  • (18)حضرت ابو محمد عبدللہ بن مسلم بن قتیبہ(متوفی 267ھ)
  • (19)حضرت ابو داود سلیمان بن اشعث سجستانی صاحب السنن(متوفی 275ھ)
  • (20)حضرت ابو عیسیٰ محمدبن عیسیٰ ترمذی(متوفی 279ھ)(مصنف جامع ترمذی)
  • (21)حضرت ابو عبداللہ محمد یزید بن ما جہ قزوینی(متوفی 273ھ)(صاحب السنن)
  • (22)حضرت ابو عبدالرحمن احمد بن شعیب نسائی(متوفی 303ھ)(مصنف سنن نسائی)
  • (23)حضرت محمد بن جریر طبری (صاحب التاریخ)(متوفی 310ھ)
  • (24)حضرت حافظ عبدالغنی بن سعید امام النسب (متوفی 332ھ)
  • (25)حضرت ابو نعیم احمد بن عبداللہ (صاحب الحلیہ)(متوفی 430ھ)
  • (26)حضرت شیخ الاسلام ابو عمر حافظ ابن عبدالبر (متوفی 463ھ)
  • (27)حضرت ابوبکر احمد بن حسین بیہقی (متوفی 458ھ)
  • (28)حضرت علامہ قاضی عیاض (صاحب الشفاء)(متوفی 544ھ)
  • (29)حضرت عبدالرحمن بن عبداللہ سہیلی(صاحب الروض الانف)(متوفی 581ھ)
  • (30)حضرت علامہ عبدالرحمن ابن الجوزی(صاحب شرف المصطفیٰ)(متوفی 597ھ)
  • (31)حضرت احمد بن محمد بن ابوبکر قسطلانی(متوفی 923ھ)(صاحب مواہب لدنیہ)
  • (32)حضرت امام شرف الدین عبدالمومن دمیاطی(متوفی 705ھ)(صاحب سیرت دمیاطی )
  • (33)حضرت ابن سید الناس بصری(صاحب عیون الاثر)(متوفی 734ھ)
  • (34)حضرت حافظ علاء الدین مغلطائی(صاحب الاشارۃ الی سیرۃ المصطفیٰ )(متوفی 762ھ)
  • (35)حضرت علامہ ابن حجر عسقلانی (متوفی 852ھ)(شارح بخاری)
  • (36)حضرت علامہ بدرالدین محمود عینی (شارح بخاری)(متوفی 855ھ)
  • (37)حضرت ابو الحسن علی بن عبداللہ بن احمد سمہودی(صاحب وفاء الوفاء)(متوفی 911ھ)
  • (38)حضرت محمد بن یوسف صالحی(صاحب السیرۃ الشامیہ)(متوفی 942ھ)
  • (39)حضرت علی بن برہان الدین(صاحب السیرۃ الحلبیہ)(متوفی 1044ھ)
  • (40)حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی(صاحب مدارج النبوۃ)(متوفی 1052ھ)[2]

مزید دیکھیں[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ڈاکٹر محمود احمد غازی، محاضرات سیرت، ستمبر 2012ء (طبع چہارم)، صفحہ 16، الفیصل ناشران، لاہور
  2. سیرتِ مصطفی مؤلف عبد المصطفیٰ اعظمی صفحہ36 ناشر مکتبۃ المدینہ کراچی