سیف الرحمن گرامی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سیف الرحمن گرامی
Saif-ur-Rehman-Girami.jpg

معلومات شخصیت
پیدائش 20 اکتوبر 1946  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
حیدرآباد  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات 15 جنوری 2013 (67 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن گلستان جوہر،  کراچی  ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی کیڈٹ کالج پٹارو
جامعہ کراچی  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تعلیمی اسناد ماسٹر آف آرٹس  ویکی ڈیٹا پر (P512) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ سرکاری ملازم  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملازمت حکومت سندھ،  کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن  ویکی ڈیٹا پر (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

سیف الرحمٰن گرامی (پیدائش: 20 اکتوبر، 1946ء - وفات: 15 جنوری، 2013ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے معروف سماجی شخصیت اور سرکاری افسر تھے، پاکستان میں عالمی مشاعروں کے بانیوں میں شمار ہوتے تھے۔ بلدیہ عظمی کراچی میں ڈائریکٹر انفارمیشن، ڈائریکٹر کلچر اینڈ اسپورٹس، آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے سیکریٹری اور نائب صدر رہے۔ وہ کراچی شہر میں ثقافت اور کتب بینی کے فروغ کے لیے شہرت رکھتے تھے ۔ 2016ء میں سیف الرحمٰن گرامی کی خدمات کے اعتراف میں بلدیہ عظمیٰ کراچی کی جانب سے سیف الرحمٰن گرامی ایوارڈ کا اجرا کیا۔

تعلیم و غیر نصابی سرگرمیاں[ترمیم]

سیف الرحمٰن گرامی 20 اکتوبر 1946ء میں ریاست حیدر آباد دکن میں پیدا ہوئے۔ والد عبدالرحمن جامی نے عثمانیہ یونیورسٹی حیدر آباد دکن سے فارسی میں ایم اے کیا تھا اور پاکستان آنے کے بعد سندھ یونیورسٹی سے ایک اور ایم اے کرنے کے بعد حیدر آباد، لاڑکانہ اور سندھ کے دیگر بڑے شہروں میں تعلیم وتدریس کی خدمات انجام دیتے رہے۔ سیف الرحمن گرامی کی عمر ابھی چار سال ہی تھی کہ ان کا خاندان ہندوستان سے ہجرت کرکے سندھ کے شہر میرپور خاص آکر سکونت پذیر ہوگیا۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم سینٹ مائیکل اسکول حیدر آباد سے حاصل کی جس کے بعد سینٹ بونا ونچر اسکول ایبٹ آباد چلے گئے۔ تین سال ایبٹ آباد میں رہنے کے بعد وہ سندھ میں واپس آگئے اور کیڈٹ کالج پٹارو میں داخلہ لے لیا۔ جہاں سے میٹرک پاس کرنے کے بعد سیف الرحمن گرامی کو ایئرفورس میں جانے کا شوق ہوا، آنکھوں کی نظر کمزور ہونے کی وجہ سے بھرتی نا ہو سکے۔ والد انھیں ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے لہٰذا انھیں گورنمنٹ کالج حیدر آباد میں داخلے کے بعد سائنس کا مضمون لینا پڑا۔ مگر میڈیکل میں داخلہ نہ مل سکا تو انھوں نے جامعہ کراچی کے مائکروبیالوجی کے شعبے میں داخلہ لے لیا۔ دورانِ تعلیم سیف الرحمن گرامی تقریر اور مباحثوں میں دلچسپی رکھتے تھے، ایک مباحثے میں حصہ لیا جس کی بہت پذیرائی ہوئی اور انھیں انعامات سے نوازا گیا۔ یونیورسٹی کے طالب علم کی حیثیت سے بھی نمایاں رہے، 1964ء میں صدر پاکستان جنرل محمد ایوب خان کے خلاف تحریک چلی تو انھیں مختلف جلسوں میں تقاریر کے لیے بلایا جانے لگا۔ اس دوران ایک جلسے میں دوسرے بڑے سیاسی لیڈروں کے علاوہ شیخ مجیب الرحمن بھی شامل تھے، انھوں نے بھی اس جلسے میں تقریر کی۔ جب رات کو جلسہ ختم ہوا تو ایک طالب علم رہنما کے کہنے پر یونیورسٹی جانے کے بجائے وہیں رک گئے، وہاں سے پولیس انھیں گرفتار کرکے تھانے لے گئی جہاں ان پر بہت تشدد کیا گیا، دو دن تک تشدد کرنے کے بعد انھیں رہا کر دیا گیا۔ ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی اس وقت کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر تھے، ان کے کہنے پر سیف الرحمن گرامی کے والد انھیں کراچی یونیورسٹی سے نکال کر حیدر آباد لے گئے۔ وہاں انھوں نے آرٹس میں داخلہ لیا اور ان کی زندگی دوبارہ بحث مباحثوں، تقاریر، ڈراموں وغیرہ کی طرف لوٹ آئی اور وہ حیدر آباد انٹر کالجیٹ باڈی کے چیئرمین منتخب ہوگئے۔ ایم اے (سوشل ورک) میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ سیف الرحمن گرامی اسکول اور کالج کے دنوں میں ٹیبل ٹینس کھیلتے تھے اور اس میں وہ چیمپئن بھی رہ چکے تھے۔[1]

علمی زندگی[ترمیم]

سیف الرحمن گرامی نے اپنی عملی زندگی کا آغاز ایسٹ پاکستان نیوز ایجنسی ENA (اینا) کے نام سے شروع ہونے والی نیوز ایجنسی سے کیا۔ جہاں انھیں ڈھائی سو روپے ماہانہ ملا کرتے تھے، کچھ عرصے بعد انھوں نے انگریزی کے ایک اخبار ‘SUA‘ میں کام کرنا شروع کردیا، لیکن تین سال کے بعد جب اخبار بند ہوا تو انھوں نے سندھ پبلک پبلک سروس کمیشن کا امتحان دیا اور کامیابی حاصل کی، جس کی بدولت ان کا تقرر سندھ کے محکمہ اطلاعات میں ہوا۔ انہوں نے دو سال تک وزیر اعلیٰ سندھ جام صادق علی کے پبلک ریلیشنز آفیسر کے طور پر بھی کام کیا، جس کے بعد عطا حسین تالپور کے ساتھ رہے، بعد میں محکمہ اطلاعات نے انھیں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے عہدے پر مقرر کر دیا۔ 1984ء میں سیف الرحمن گرامی ڈیپوٹیشن پر کے ایم سی چلے گئے، جس کے بعد انھیں دوبارہ ڈائریکٹر انفارمیشن بنادیا گیا اور وہ وقتاً فوقتاً دونوں اداروں میں اپنی خدمات انجام دیتے رہے۔ انھوں نے کے ایم سی میں کلچر اور اسپورٹس کا محکمہ قائم کیا اور اپنی دلچسپی اور صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔آرٹس کونسل سے متصل فیضی رحمین آرٹ کمپلیکس کی شاندار عمارت ان کا خواب تھی ۔ [1]

ثقافتی خدمات[ترمیم]

سیف الرحمن گرامی اپنی اعلیٰ صلاحیتوں کی بدولت 2002ء میں آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے سیکریٹری منتخب ہوئے اور پھر نائب صدر کی حیثیت سے ان کا اتخاب ہوا۔ 2006ء میں ایک مرتبہ پھر نائب صدر کے لیے بھاری اکثریت سے ان کا انتخاب کیا گیا[2]، انھوں نے آرٹس کونسل میں بہتری پیدا کرنے کے لیے جامع منصوبہ بندی کی۔ ثقافتی ماحول کو بہتر بنایا، نئے ادبی پروگرامز کا اجرا کیا، آرٹس کونسل کے مستحق اراکین کے لیے وظائف اور دیگر سہولیات کا اجرا کیا۔ انھوں نے آرٹس کونسل کراچی میں کوچہ ثقافت، دھنک مشاعرہ اور طعام اور کلام جیسی تقاریب کی روایت ڈالی۔ سیف الرحمن گرامی کی خدمات نے آرٹس کونسل کو ایک مکمل ثقافتی ادارہ بنادیا تھا اور آج آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی اپنی ثقافتی سرگرمیوں کی بدولت نمایاں مقام رکھتا ہے۔ کتابوں سے خاص لگاؤ کی وجہ سے یہاں بھی کتابوں کے اسٹالوں کو خاص اہمیت دی۔ اس سے پہلے سیف الرحمٰن گرامی نے بڑی کوششوں کے بعد فریئر ہال کراچی میں پرانی کتابوں کے اسٹال لگانے کا بندوبست کیا اور یہ سلسلہ بہت کامیاب رہا۔ فریئر ہال کے باغ میں کتابوں کا میلہ اب تک جاری و ساری ہے، جہاں کتابوں کے عاشق بڑی تعداد میں آتے ہیں اور اپنی پسندیدہ کتابیں خریدتے ہیں۔ سیف الرحمن گرامی خود بھی کتاب بینی کے شوقین تھ، ان کی ذاتی لائبریری میں ہزاروں کی تعداد میں کتب موجود تھیں۔ سیف الرحمن گرامی پاکستان میں عالمی مشاعروں کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں۔[1]

سیف الرحمٰن گرامی ایوارڈ کا اجرا[ترمیم]

سیف الرحمٰن گرامی کی سماجی اور ثقافتی خدمات کے اعتراف میں بلدیہ عظمیٰ کراچی کی جانب سے سیف الرحمٰن گرامی ایوارڈ کا اجرا کیا گیا، یہ ایوارڈ 2016ء سے اب تک جاری ہے۔ [3]

وفات[ترمیم]

سیف الرحمٰن گرامی ہارٹ سرجری کے دوران 15 جنوری 2013ء کو کراچی میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔[4] وہ گلستان جوہر، کراچی کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔[5]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]