بزرگ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(سینٹ سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
دیگر استعمالات کے لیے، دیکھیے سنت (ضد ابہام)۔
مقدس سیبسٹین کا انعام السیو وسکونٹی کی مصوری، تقریباً 1898ء (ایک مسیحی مقدس کی تصویر)

بزرگ یا سَنت (Saint) ایک اصطلاح ہے جو اس شخص کے لیے استعمال کی جاتی ہے جس کے پاس خدا کی قربت یا تقدس یا شباہت کا درجہ ہوتا ہے۔[1][2]مسیحیت میں بزرگ کے لیے مقدس رائج ہے۔ جبکہ اسلام میں ولی بولا جاتا ہے۔

مسیحیت[ترمیم]

مسیحیت میں غیر معمولی برگزیدگی کی حامل شخصیت جس کا انتقال ہوچکا ہو اور بعض مسیحی کلیسیاؤں میں تسلیم کیا جاتا ہو کہ اسے جنت میں اعلیٰ مقام حاصل ہے۔ اور عہد نامہ جدید میں مقدس کو یسوع مسیح کا پیروکار بتایا گیا ہے۔

کیتھولک کلیسیا[ترمیم]

مزید معلومات: جنرل رومن کیلینڈر

کیتھولک کلیسیا کے مطابق، ایک ”مقدس“ شخص وہ ہوتا ہے جو جنت میں ہے، خواہ وہ زمین پر تسلیم کیا جائے یا نہیں۔ خطاب ”مقدس“ ایک ایسے فرد کو ظاہر کرتا ہے جو رسمی طور پر منور کیا گیا ہو، یہ سرکاری و مستند طور پر ایک مقدس ہوتا ہے، جو کلیسیا کے مطابق جنت کی بادشاہت کی چابیوں کا حق دار ہوتا ہے، اور اسی وجہ سے وہ جنت میں سمجھا جاتا ہے۔ ایسے بہت سے افراد ہیں جن کو رسمی طور پر درجہ مقدس دیا گیا اور نہ ہی ”مقدس“ کا کہا گیا ہو، لیکن پھر بھی ایسے افراد کی پارسائی کی وجہ سے ان کے متعلق کلیسیا کا ایمان ہوتا ہے کہ وہ جنت میں ہیں۔[3] بعض اوقات لفظ ”مقدس (سینٹ)“ حیات مسیحیوں کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔[4]

قداست کے مراحل[ترمیم]

رسمی قداست ایک طویل عمل، جس میں اکثر سال اور یہاں تک کہ صدیاں لگ جاتی ہیں۔[5]

انگلیکانیت[ترمیم]

انگلیکانیت میں اصطلاح "مقدس" ، قَدَّسَ ۔ (پاک کرنا)، بے تقصیر، بے خطا، بے قصور، بے گناہ اور پاک یا پوتر کیے گئے افراد کے لیے کہا جاتا ہے۔ تاہم دسویں صدی سے، کلیسیا نے ”مقدس“ کا رتبہ اُن افراد کے لیے مختص کردیا جو مسیحی خدمات اور اصلاح میں اعلیٰ درجہ رکھتے تھے۔ جب کلیسیائے انگلستان، کیتھولک کلیسیا کے ساتھ اتحاد میں تھا تو کئی مقدسین بنائے گئے۔ دسویں صدی سے قبل ان شہیدوں اور معترفین کو تسلیم کیا گیا اور سولہویں صدی میں رومن کیتھولک کے ساتھ اتحاد کے خاتمہ کے بعد عام طور پر انہیں اب بھی "مقدس" سمجھا جاتا ہے۔[6]

مشرقی راسخ الاعتقادی[ترمیم]

مزید معلومات: تجلیل

مشرقی راسخ الاعتقاد کلیسیا میں بھی کیتھولک کلیسیا کی طرح ہر وہ شخص ایک مقدس ہے جو جنت میں ہے، خواہ وہ زمین پر تسلیم کیا جائے یا نہیں۔[7] کلیسیا کے مطابق آدم اور حوا، موسیٰ، دیگر انبیاء سوائے فرشتوں اور مُقرب فرشتوں کے لیے ”مقدس“ کا خطاب ہے۔ راسخ الاعتقاد کا ایمان ہے کہ خدا اپنے مقدسین کو اُن کی کرامات کے ذریعے منظر عام پر لاتا ہے۔[7] مقدسین کو عام طور پر مقامی برادری ہی تسلیم کرتی ہے، اکثر وہ لوگ جو اُن سے براہ راست واقف ہوں۔ جیسے جیسے اُن کی شہرت بڑھتی جاتی ہے تو اُن کو اکثر کلیسیائی سطح پر بھی تسلیم کرلیا جاتا ہے۔[7][8]

اورینٹل راسخ الاعتقادی[ترمیم]

اورینٹل راسخ الاعتقاد کلیسیا ‒ آرمینیائی رسولی کلیسیا، اسکندریہ کا قبطی راسخ الاعتقاد کلیسیا، توحیدی کلیسیا، مالنکارا راسخ الاعتقاد سریانی کلیسیا، اور سریانی راسخ الاعتقاد کلیسیا ‒ ہر ایک کلیسیا میں ایک منفرد درجۂ مقدس کے طریقہ کار کی پیروی کی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر اسکندریہ کا قبطی راسخ الاعتقاد کلیسیا میں ممکنہ مقدس کے امیدوار شخص کا فیصلہ اُس کی وفات کے 50 سالوں بعد کیا جاتا ہے۔

پروٹسٹنٹ[ترمیم]

پروٹسٹنٹ کلیسیاؤں میں لفظ ”مقدس“ سے مراد ہر وہ ایک شخص ہے جو مسیحی ہو۔ یہ استعمال عہد نامہ جدید میں پولس نے متعدد جگہ کیا ہے۔[9] اس لحاظ سے ہر وہ جو مسیح کا بدن (مسیحی ہونے کا دعویٰ) ہے وہ ایک ”مُقدس“ ہے کیونکہ اُس کا تعلق یسوع ناصری سے ہے۔

لوتھریت[ترمیم]

لوتھری کلیسیا میں تمام مسیحیوں (چاہے وہ دنیا پر یا بہشت میں ہوں) کو مقدس کہا جاتا ہے۔ تاہم، کلیسیا اب بھی مخصوص مقدسین کو تسلیم اور رتبہ دیا جاتا ہے، بشمول کیتھولک کلیسیا کی جانب سے تسلیم کیے گئے مقدسین بھی۔ اعتراف اوگسبرگ[10] کے مطابق اصطلاح "مقدس" کیتھولک کلیسیا روش میں صرف اُس صورت میں استعمال کی جاتی ہے، جب کسی شخص کو غیر معمولی فضل حاصل ہوتا ہے یا وہ پختہ ایمان کا مالک ہوتا ہے، اور جن کے اچھے کام کسی مسیحی کے لیے ایک مثال بنتے ہیں۔ روایتی لوتھر عقیدے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ مقدسین کی دعاؤں کو ممنوعہ قرار دیا جاتا ہے، کیونکہ وہ نجات کے ثالث نہیں ہیں۔[11][12] مگر لوتھری اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ مقدسین کی دعا عام طور مسیحی کلیسیا کے لیے ہے۔ [13]

میتھوڈسٹیت[ترمیم]

مزید معلومات: میتھوڈسٹ میں مقدسین

جبکہ تمام میتھوڈسٹ مقدسین کے لیے سرپرستی یا تبجیل کا عمل نہیں کرتے، بلکہ ان کے لیے ادب و احترام کا جذبہ رکھتے ہیں۔ میتھوڈسٹ تمام مسیحیوں کو مقدس کہتے ہیں، مگر اصطلاح خصوصاً بائبلی شخصیات، رہنماؤں، اور شہداء برائے ایمان کے لیے رائج ہے۔

مقدسین آخری ایام[ترمیم]

مقدسین کے بارے میں کلیسیائے یسوع مسیح برائے مقدسین آخری ایام کے عقائد اسی طرح ہیں لیکن پروٹسٹنٹ روایت سے زرا مختلف ہیں۔ نئے عہد نامے میں تمام وہ لوگ مقدسین ہیں جو مسیحی عہد برائے بپتسمہ کے اندر داخل ہوگئے ہوں، مگر ان کے یقین کے مطابق ”آخری ایام“ سے مراد ہی یہ ہے کہ مسیح کی آمد ثانی سے پہلے کے تمام اراکین ”آخری ایام“ کے مقدسین ہیں۔[14][15]

دیگر مذاہب[ترمیم]

اصطلاح بزرگ محض مسیحیت کے لیے نہیں ہے بلکہ دیگر مذاہب میں مختلف ناموں سے رائج ہے[16]:

بدھ مت[ترمیم]

تھیرواد اور مہایان روایات میں ارہت اور ارہنتوں کو خصوصی احترام حاصل ہے، اس کے علاوہ بودھی ستو، دوسرے بدھ، یا سنگھ (بدھ مجلس) کے معروف ارکان کو بھی بزرگ سمجھا جاتا ہے۔ تبتی بدھ مت میں تلکوؤں (ازسرنو تجسم برائے اشخاص متوفی کا نمایاں پيشہ ور طبيب) کو دنیا پر ایک حیات بزرگ سمجھا جاتا ہے۔

ہندومت[ترمیم]

ہندو مقدسین وہ ہوتے ہیں جن کو ہندوؤں نے اُن کی عظیم تقدیس اور پارسائی کے درجے کی وجہ سے تسلیم کیا ہوتا ہے۔ ہندومت میں بزرگان کے متعلق شاعری و قصص کے لیے ایک طویل روایت ہے۔ ہندومت میں کسی کو مقدس بنانے کے لیے کوئی رسمی طریقہِ کار موجود نہیں، لیکن عام ہندوؤں و پیروکاروں میں سے کئی مرد و خواتین مقدس کے درجے تک پہنچ جاتے ہیں۔ ہندو بزرگان نے اکثر دینا کو ترک کیا ہے، ان کو مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے جن میں گرو، سادھو، رشی، سوامی اور دیگر نام شامل ہیں۔[17] مسیحیت کی طرح ہندومت میں موت کے بعد کسی شخص کو مقدس کا درجہ نہیں دیا جاتا ہے۔[18]

اسلام[ترمیم]

اسلام میں بزرگان (اولیاء) کا ایک اعلیٰ رتبہ ہے، جن کو اکثر ولی کہا جاتا ہے جسم طلب دوست، مددگار، متصرف، قابض، محبوبِ الٰہی، مقربِ خدا، بزرگ دین، پیر و مرشد، زاہد، پارسا، پرہیزگار، نیک بخت، عارف، صابر، شاکر، عابد اور سالک ہے۔[19] اسلامی کے کچھ حصوں میں ولی کا بیسویں صدی میں سلفیت کی وجہ سے انکار کیا گیا۔ ابتدائی مراحل سے ہی اہل سنت میں بزرگان کا ایک حد سے زیادہ احترام کیا جاتا ہے،[20] اور بزرگان (اولیاء) آٹھویں صدی کا خدا کا منتخب کردہ ایک گروہ سمجھا جاتا تھا جو کرامت دکھانے کی صلاحیت رکھتے تھے۔[21][22] سنی-اسلامی اعتقاد کے مطابق اولیاء کئی کرامات (کرامت الاولیاء) رکھتے تھے۔[23]

یہودیت[ترمیم]

یہودیت میں اصطلاح صادق سے مراد "راستباز" ہوتا ہے۔ یہودیت میں بزرگان کو اس خطاب سے نوازا جاتا ہے جبکہ خاتون بزرگ کو صادقہ (راستباز عورت) کہا جاتا ہے۔

سکھ مت[ترمیم]

شمالی بھارتی مذاہب خاص کر سکھ مت میں ایک بزرگ کے لیے سنت یا بھگت کا تصور ہے۔ اصطلاح سنت (سینٹ کی ایک شکل) جو اب بھی سکھوں اور متعلقہ اسماج (ہندوؤں) میں رائج ہے۔[24]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Wilson، Douglas؛ Fischer، Ty (30 جون 2005)۔ Omnibus II: Church Fathers Through the Reformation۔ Veritas Press۔ صفحہ 101۔ آئی ایس بی این 978-1-932168-44-0۔ اخذ کردہ بتاریخ 8 جون 2017۔ "The word 'hallow' means 'saint,' in that 'hallow' is just an alternative form of the word 'holy' ('hallowed be Thy name')۔" 
  2. Diehl، Daniel؛ Donnelly، Mark (1 مئی 2001)۔ Medieval Celebrations۔ Stackpole Books۔ صفحہ 13۔ آئی ایس بی این 978-0-8117-2866-9۔ اخذ کردہ بتاریخ 8 جون 2017۔ "The word hallow was simply another word for saint." 
  3. What is a saint? Vatican Information Service, 29 جولائی 1997
  4. "Catechism of the Catholic Church (Second Edition)"۔ Scborromeo.org۔ اخذ کردہ بتاریخ 12 اکتوبر 2013۔ 
  5. Table of the Canonizations during the Pontificate of His Holiness John Paul II on Vatican.va
  6. The Oxford Dictionary of the Christian Church by F. L. Cross (Editor)، E. A. Livingstone (Editor) Oxford University Press, USA; 3 edition p.1444-1445 (مارچ 13, 1997)
  7. ^ 7.0 7.1 7.2 Bebis، George (n.d.)۔ "The Lives of the Saints"۔ Greek Orthodox Archdiocese of America۔ اخذ کردہ بتاریخ 7 مئی 2016۔ 
  8. Frawley J The Glorification of the Saints in the Orthodox Church at Orthodox Church in America, Syosset, New York
  9. "Beloved of God, Called to Be Saints"، New Testament Gospel Doctrine Teacher's Manual۔ The Church of Jesus Christ of Latter-day Saints, Salt Lake City, Utah. p. 150.
  10. A Confession of Faith Presented in Augsburg by certain Princes and Cities to His Imperial Majesty Charles V in the Year 1530
  11. Apology of the Augsburg Confession XXI 14-30
  12. Smalcald Articles-II 25
  13. Apology of the Augsburg Confession XXI 9
  14. Smith، Joseph Jr۔ "Pearl Of Great Price"۔ 
  15. M. Russell Ballard, "Faith, Family, Facts, and Fruits"، Ensign، Nov 2007, 25–27
  16. Lindsay Jones, ویکی نویس (2005)۔ Thomson Gale Encyclopedia of Religion (TG زبان میں)۔ Sainthood (اشاعت Second)۔ Macmillan Reference USA۔ صفحہ 8033۔ 
  17. Robin Rinehart (1 جنوری 2004)۔ Contemporary Hinduism: Ritual, Culture, and Practice۔ ABC-CLIO۔ صفحات 87–90۔ آئی ایس بی این 978-1-57607-905-8۔ اخذ کردہ بتاریخ 3 جون 2013۔ 
  18. Bhaskarananda، Swami (2002)۔ The Essentials of Hinduism۔ Seattle: The Vedanta Society of Western Washington۔ صفحہ 12۔ آئی ایس بی این 1-884852-04-1۔ 
  19. See John Renard, Friends of God: Islamic Images of Piety, Commitment, and Servanthood (Berkeley: University of California Press, 2008); Idem.، Tales of God Friends: Islamic Hagiography in Translation (Berkeley: University of California Press, 2009)
  20. See John Renard, Friends of God: Islamic Images of Piety, Commitment, and Servanthood (Berkeley: University of California Press, 2008); Idem.، Tales of God Friends: Islamic Hagiography in Translation (Berkeley: University of California Press, 2009)
  21. Radtke, B.، “Saint”، in: Encyclopaedia of the Qurʾān, General Editor: Jane Dammen McAuliffe, Georgetown University, Washington DC.
  22. Radtke, B.، “Saint”، in: Encyclopaedia of the Qurʾān, General Editor: Jane Dammen McAuliffe, Georgetown University, Washington DC.
  23. Jonathan A.C. Brown, "Faithful Dissenters: Sunni Skepticism about the Miracles of Saints," Journal of Sufi Studies 1 (2012)، p. 123
  24. Dwyer, Graham (2002)۔ The Divine and the Demonic: Supernatural Affliction and Its Treatment in North India۔ New York: RoutledgeCurzon۔ صفحہ 25۔