سینڈبلاسٹنگ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search


سینڈبلاسٹنگ
سینڈبلاسٹنگ
سینڈبلاسٹنگ

معلومات شخصیت

سینڈبلاسٹنگ[ترمیم]

سائنس کی رو سے سینڈبلاسٹنگ ایک ایسا عمل ہے جس میں کھردرے اور دانیدار مواد کو تیز رفتار دھار کی صورت میں کسی چیز کی سطح پر برسایا جاتا ہے۔ اس عمل میں خاص آلات کا استعمال کیا جاتا ہے جن کی مدد سے تیز دباؤ پیدا ہوتا ہے۔ یہ دباؤ ہی کھردرے مواد کو تیز رفتار سے باہر پھینکتا ہے۔ دنیا میں پہلا سینڈبلاسٹنگ کا عمل 18 اکتوبر 1870 میں بن یامین چیو ٹلمین نے پیٹینٹ کروایا تھا۔ اس عمل کی کئی اور اقسام بھی ہیں جیسے بیڈبلاسٹنگ، سوڈا بلاسٹنگ، گرٹ بلاسٹنگ وغیرہ-

مقاصد[ترمیم]

سینڈبلاسٹنگ کئی مقاصد کے حصول کے لیے کی جا سکتی ہے جن میں سے کچھ مندرجہ ذیل ہیں:

  1. کسی ہموار سطح کو کھردرہ بنانا
  2. کسی کھردری سطح کو ہموار کرنا
  3. کسی سطح کو رنگ کرنے کے لیے تیار کرنا
  4. کسی جگہ سے رنگ اتارنا
  5. لکڑی یا شیشے میں کندہ کاری کرنا[1]

وغیرہ۔

آلات[ترمیم]

Portable sandblaster.
Portable sandblaster.

پورٹ ایبل سینڈبلاسٹر[ترمیم]

یہ ایک ایسا آلہ ہے جو سینڈبلاسٹنگ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اپنی چھوٹی جسامت کی وجہ سے اسے با آسانی کہیں بھی منتقل کیا جا سکتا ہے۔ ان آلات میں عام طور پر ڈیزل انجن لگا ہوتا ہے جو ایک کمپریسر کو چلاتا ہے، جس کی وجہ سے ایک سلنڈر میں ہوا بھاری دباؤ کے ساتھ بھر جاتی ہے۔ پھر ایک جیٹ نوزل کی مدد سے ہوا اور کھردرے مواد کا ایک مرکب بنایا جاتا ہے جو سینڈبلاسٹنگ کا کام کرتا ہے۔

Sandblasting cabinet
Sandblasting cabinet.

سینڈبلاسٹنگ کیبنیٹ (cabinet)[ترمیم]

اس قسم کے سینڈبلاسٹروں کے کام کرنے کا قانون بھی ملتا جلتا ہوتا ہے۔ فرق محض اتنا ہوتا ہے کہ اس میں سینڈبلاسٹنگ کا کام ایک کیبینیٹ کے اندر کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے گندگی کا اندیشہ نہیں رہتا۔ اس طرح کی سینڈبلاسٹنگ میں چھوٹے آلات پر ہی کام کیا جا سکتا ہے۔

سینڈبلاسٹنگ کے کمرے[ترمیم]

یہ بہت بڑے پیمانے پر کام کرنے کے لیے بنائے جاتے ہیں- ان میں بڑے بڑے سامانوں کی سینڈبلاسٹنگ کی جا سکتی ہے۔ اس طرح کے کمروں میں کنویئر بیلٹ، کرینوں اور بڑے سینڈبلاسٹروں کا استعمال کیا جاتا ہے۔

حفاطتی اقدامات[ترمیم]

سینڈبلاسٹنگ کے عمل میں استعمال ہونے والا مواد بہت چھوٹے ذرات پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ ذرات جیٹ نوزل سے نکلنے کے بعد ہوا میں معلق ہو جاتے ہیں اور ماحولیاتی آلودگی کا سبب بنتے ہیں۔ جس جگہ سینڈبلاسٹنگ کی جا رہی ہوتی ہے وھاں موجود عملے کو پھیپھڑوں کے جان لیوا امراض کا خطرہ ہوتا ہے۔ اس سے بچاؤ کے لیے انہیں رسپائریٹری ماسک مہیا کیے جاتے ہیں۔ نوزل سے نکلنے والے بجری نما مواد کی رفتار اتنی تیز ہوتی ہے کہ وہ انسانی جلد کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ لہذا انہیں جیکٹ اور ہیلمٹ بھی مہیا کیے جاتے ہیں-[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Nabeel Shamshad (2014) " Sandblasting Glass "
  2. Making Things Easier for the Sand-Blaster, Popular Science monthly, December 1918, page 76, Scanned by Google Books: http://books.google.com/books?id=EikDAAAAMBAJ&pg=PA76