سی پرئیر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

سی پرئیر[ترمیم]

تعارف[ترمیم]

‘سی پرئیر‘ (Sea Prayer) خالد حسینی کی چوتھی کتاب ہے۔ یہ ایک مختصر سی کہانی ہے۔ اگرچہ کتاب کے کل اڑتالیس صفحے ہیں لیکن اگر کہانی کے الفاظ کو اکٹھا کیا جائے تو دو تین صفحوں میں سمٹ آئے۔یہ ہر عمر کے پڑھنے والے کے لیے ہے۔یہ یکم ستمبر 2017 کو ریلیز کی گئی۔

کہانی کا موضوع[ترمیم]

جنگ سے اجڑے علاقوں سے ہجرت کر کے دوسرے ملکوں میں محفوظ ٹھکانوں کے متلاشی پناہ گزینوں کا درد اس کہانی میں بھرا ہوا ہے۔ اپنا گھر بار، اپنا ملک، سب کچھ پیچھے چھوڑ کر جان بچا کر نکلنے والوں کے دلوں پہ کیا بیتتی ہے وہ اس چھوٹی سی کہانی میں نظر آتا ہے۔یہ کتاب پناہ گزینوں کے موجودہ بحران کے رد عمل میں لکھی گئی ہے۔

ا ندازِ بیان[ترمیم]

سی پرئیر ایک خط کی صورت لکھی کہانی ہے جس میں ایک باپ اپنے بیٹے سے مخاطب ہے۔ یہ ایک والد کا عکس ہے جو اپنی گود میں آرام سے سوئے بچے کو دیکھتا ہے جب وہ ایک پُرخطر سمندری سفر پہ روانہ ہونے والے ہیں۔ اس میں شام کے شہر حمص کی پُرامن اور کوبصورت زندگی کی جھلک ہے جب جنگ ابھی وہاں نہیں پہنچی تھی۔ جنگ ایک مہلک بیماری ہے جو ہنستے بستے شہروں کو کھنڈر بنا دیتی ہے۔

وقف[ترمیم]

مقبول مصنف خالد حسینی کی نئی کتاب " سی پریئر" تین سال کے اس سیریائی بچے ایلان کردی کو وقف ہے جس کی نعش ستمبر 2015 میں ترکی کے ایک ساحل پر بہہ کر آ گئی تھی۔ افغانستان میں پید ا ہوئے امریکی مصنف خالد حسینی معصوم ایلان کردی کی وہ دل کو چیر دینے والی تصویر دیکھنے کے بعد یہ کتاب لکھنے سے خود کو روک نہیں پائے۔

تعاون[ترمیم]

یہ کتاب اقوامِ متحدہ کے پناہ گزین معاملوں کی ایجنسی یو این ایچ سی آر کے تعاون سے لکھی گئی۔

اشاعت[ترمیم]

کتاب کی اشاعت بلومسبیری نے کی ہے۔ بلومسبیری نے ہر کاپی کی بِکری میں سے ایک پاؤنڈ یو این ایچ سی آر کو دینے کا اعلان کیا۔

خالد حسینی کے خیالات[ترمیم]

الد حسینی کے بقول ، " ہم نقل مکانی اور پناہ گزین بحران کے درمیان جی رہے ہیں۔ سی پریئر ایلان کردی کے کنبے کی طرح لاکھوں کنبوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کی کوشش ہے جو جنگ اور ظلم کی وجہ سے اپنے گھروں کو چھوڑنے اور الگ تھلگ ہونے کے لیے مجبور ہوئے ہیں۔" خالد حسینی نے " دی کائٹ رنر " ، اے تھاؤزینڈ اسپلینڈڈ سنس " اور اینڈ دا ماؤنٹینس ای کوڈ ' جیسی کتابیں لکھی ہیں۔ سال 2006 میں انہیں یو این ایچ سی آر کا اچھا دوsت بنایا گیا تھا۔

حوالہ جات[ترمیم]

1۔ احمد نعیم چشتی،30 اکتوبر 2018،خالد حسینی کی چوتھی کتاب،بے بس باپ کی صدا۔http://www.humsub.com.pk/185301/ahmad-naeem-chishti-،30/ اخذ شدہ 25 نومبر 2018

http://urdu.news18.com/news/new-book-sea-prayer-written-by-khalid-husaini-is-a-tribute-to-syrian-boy-alan-kurdi-249017.html اخذ شدہ بتاریخ 25 نومبر 2018

https://www.penguinrandomhouse.com/books/595087/sea-prayer-by-khaled-hosseini/9780525539094/ اخذ شدہ تاریخ 25 نومبر 2018

https://www.unhcr.org/sea-prayer.html اخذ شدہ بتاریخ 25 نومبر 2018

https://www.financialexpress.com/lifestyle/book-review-sea-prayer-by-khaled-hosseini/1307046/ اخذ شدہ بتاریخ 25 نومبر 2018

https://www.thenational.ae/arts-culture/books/khaled-hosseini-on-the-inspiration-behind-his-new-book-sea-prayer-1.765725 اخذ شدہ بتاریخ 25 نومبر 2018

https://www.commonsensemedia.org/book-reviews/sea-prayer اخذ شدہ بتاریخ 25 نومبر 2018

https://khaledhosseini.com/books/sea-prayer/ اخذ شدہ بتاریخ 25 نومبر 2018