شال کوٹ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

شال کوٹکوئٹہ  کا قدیم نام ہے، اس مضمون میں بلوچستان اور کوئٹہ شہر سے متعلق سترویں اور اٹھارویں صدی میں مہم جوئی کی تاریخ بیان کی گئی ہے۔ جس میں کوئٹہ کی تاریخ کا ایک جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

احمد شاہ ابدالی[ترمیم]

احمد شاہ ابدالی

افغانستان کے بادشاہ نادر شاہ کے قتل کے بعد احمد شاہ ابدالی جو نادر شاہ کے فوج کے سالار تھے لویہ جرگہ کے ذریعے بادشاہ منتخب ہوئے، یہ جرگہ شیر سرخ بابا کے مزار پر منعقد ہوا تھا، اسی دوران صابر شاہ ملنگ نے ایک گندم کا خوشہ ان کے سر پر بطور تاج کے لگایا اور احمد شاہ کو بطور بادشاہ تسلیم کیا گیا، احمد شاہ درانی کو بجا طور پر افغانستان کا بانی کہا جا سکتا ہے۔ اس وقت سلطنت اٹک سے کابل، کوئٹہ ،مستونگ ،قلات ،سبی، جیکب آباد، شکارپور ،سندھ ،پشین، ڈیرہ اسماعیل خان ،ضلع لورالائی اور تمام پنجاب پر مشتمل تھا، شال کوٹ(کوئٹہ) قندھار کا ایک ضلع تھا، احمد شاہ درانی کا دورے سلطنت ( 1747ء سے 1823ء) تک افغانستان پر رہی۔ 1765ء کا زمانہ آیا سکھوں نے پنجاب میں قتل و غارت گری کا بازار گرم کیا ہوا تھا ۔1772ء تک احمد شاہ درانی اور اس کے بعد اس کی اولاد کی حکومت رہی۔ اس کی اولاد میں ایوب شاہ کو1823ء میں قتل کر دیا گیا۔ احمد شاہ ابدالی کی ہمشیرہ کا مزار بھی خواجہ ولی مودودی چستی کرانی کی درگاہ کے احاطہ کے اندر کرانی ،کوئٹہ کے مقام پر واقع ہے۔

شال[ترمیم]

رسم تاج پوشی احمد شاہ ابدالی 1747ء

پنجاب کی مہم سے واپسی پر احمد شاہ ابدالی نے میر نصیر خان کو ہڑند اور داجل کے علا قے بطور انعام دیے۔ اسی زمانے میں جب احمد شاہ کی مشرقی ایران کی مہم سے واپسی ہوئی تو اس نے میر نصیر خان کی والدہ بی بی مریم کوکوئٹہ کا علا قہ یہ کہتے ہوے دیا کہ یہ آپ کی شال ( دوپٹہ ) ہے۔ اسی دن سے کوئٹہ کا نام شال کوٹ پڑ گیا،اور یہ ریاست قلات کا حصہ بن گیا۔ قلعہ میری قلات ( قلعہ کوئٹہ ) کے قریب خواجہ نقرالد ین شال پیر بابا مودودی چشتی کا مزار بھی واقع ہے، شال کوٹ کو جو شاہراہ ہندوستان اور ایران سے ملاتی ہے اُسے شال درہ کہتے تھے آج اُس شاہراہ پر اسی نام سے ایک بہت بڑی آبادی قا ئم ہے، خواجہ ولی مودودی چستی کرانی کا مزار بھی اسی وادی کے اندر بمقام کرانی واقع ہے۔

حکم نامہ خان آف قلات میر محراب خان-1223ھ

سید احمد شہید کا سفر شال[ترمیم]

سید احمد شہید اپنے سفر نامے میں بیان کرتے ہیں 29 ذلحج کو ان کا لشکر بھاگ بلوچستان سے روانہ ہوکر یکم محرم کو ڈھاڈر کے مقام پر پہنچا۔ یہاں 4 روز قیام کے بعد 4 محرم 1242ھ بمطابق 1826ء کو درہ بولان میں داخل ہوئے اور آٹھ محرم کو شال پہنچئے۔ سید احمد شہید اپنے سفر نامے میں مزید بیان کرتے ہیں یہاں کہ لوگوں کی زبان افغانی ہے۔ دوسروں کی بات سمجھ نہیں سکتے ہیں۔ لیکن ان کے اخلاق کمال کا ہے کہ شال پر خان قلات محراب خان کی حکومت تھی محراب خان محمود خان کا بیٹا تھا اور نصیر خان اوّل (وفات 1794ء) کا پوتا تھا۔ سید احمد شہید شال میں اپنے مصروفیات میں کرانی کے بارے میں لکھتے ہیں کہ شال سے دو کوس کے فاصلے پر ایک دیہات میں سادات کا ایک گھرانہ تھا تیسرے روز اس گھرانے کے لوگوں نے کھانے اور میووں سے بڑی ضیافت کی اور سید احمد شہید کو سو آدمیوں کے ساتھ اپنے گھر لے گئے اور بڑی خوشی سے کھانا کھلایا اسی روز شال کے حاکم نے سید صاحب کے ہاتھ پر ارادت اور جہاد کی بیعت کی ـ [1] کرانی کے جس سادات گھرانے کا ذکر اس سفر نامے میں ہے وہ سید لطف اللہ شاہ کا گھرانہ تھا اور ان کے دو بیٹے سید امان اللہ شاہ اور سید عطا اللہ شاہ تھے سید لطف اللہ شاہ میر نصیر خان اوّل کے ساتھ ایران کی مہم پر بھی گئے تھے [2] اسی عرصے کا خان قلات محراب خان کا ایک فرمان بھی موجود ہے -

میر نصیر خان[ترمیم]

خان نصیر خان، خان آف قلات (1749ء - 1794ء)

میر نصیر خان کا شمار قلات بلوچستان کے ممتاز ہردلعزیز ترین برو ہی سرداروں میں ہوتا تھا، وہ میر عبد اللہ خان برو ہی کا تیسرا چھوٹا بیٹا تھا، اس کی ماں بی بی مریم التازئی قبیلے سے تعلق رکھتی تھی، نادر شاہ کے وفات کے بعد میر نصیر خان، احمد شاہ ابدالی کے ساتھ قندھار چلا آيا، جب افغانستان کے بادشاہ کے لیے احمد شاہ ابدالی کا انتخاب ہوا تو میر نصیر خان نے بروہی سرداروں کی نما ہند گی کی، اسنے احمد شاہ ابدالی کے حق میں رائے دیکر بالادستی قبول کر لی، کچھ دن بعد نصیر خان کے بھائی محبت خان نے لقمان خان کی بغاوت میں حصہ لے کر احمد شاہ ابدالی کا اعتماد کھو دیا ،1749ء میں احمد شاہ ابدالی کے حکم سے میر نصیر خان اپنے بھائی کی جگہ قلات کے ناظم بنے انکا دور حکومت 1751ء سے 1794ء تک رہا،خوانین قلات افغان حکمرانوں کو سالانہ دو لاکھ روپیہ اور فوجی سپاہی بھی مہیا کرنے کے پابند تھے، نصیر خان کا شمار احمد شاہ ابدالی کے منظور نظر سپہ سالاروں میں ہونے لگا اور اسنے بادشاہ کے ساتھ کئی معرکوں میں حصّہ لیا، ان دنوں میر نصیر خان اؤلقندھار میں تھے احمد شاہ ابدالی نے انھیں قلات کا خان مقرر کیا اور مالیہ وصولی وغیرہ کا کام سونپ دیا، جب کشمیر میں بغاوت ہوئی ،

آزادی کا اعلان[ترمیم]

1171ھ کو جب خان قلات میر نصیر خان نے آزادی کا اعلان کیا تو احمد شاہ ابدالی نے فورا" ایک فوجی دستہ روانہ کیا، میر نصیر خان کو جب پتہ چلا تو مقابلے کے لیے نکلے مستونگ کے مقام پر جنگ ہوئی، اس دوراناحمد شاہ ابدالی خود قندھار سے مدد کو پہنچا اور قلات کا محاصرہ کیا، کچھ عرصے بعد دونوں کے مابین مشروط راضی نامہ ہوا جس کی رو سے خان قلات احمد شاہ ابدالی فوجی معرکوں میں مدد کرینگے اور احمد شاہ ابدالی نے بھی خان کو کچھ مراعات دیں،اور اس صلح کو مضبوط کرنے کے لیے احمد شاہ ابدالی نے نصیر خان کی چچازاد بہن سے اپنے بیٹے تیمور شاہ کا نکاح کرد یا، احمد شاہ ابدالی درانی کا دورے سلطنت ( 1747ء سے 1823ء)تک افغانستان پر رہا۔ 1765ء کا زمانہ آیا سکھوں نے پنجاب میں قتل و غارت گری کا بازار گرم کیا ہوا تھا۔ خان آف قلات میر نصیر خان بھی احمد شاہ ابدالی ابدالی کے ہمرا سکھوں کی سرکوبی کے لیے پنجاب کی طرف روانہ ہو گئے۔ میر نصیر خان بارہ ہزار کا لشکر لے کر براستہ گنداوہ احمد شاہ ابدالی کی مدد کو پنجاب روانہ ہوا، ڈیرہ غازی خان سے سردار غازی خان بھی ایک بلوچ لشکر لے کر میر نصیر خان کی فوج میں شامل ہوا، دریا ے چناب پار کر کے میر نصیر خان کی فوج احمد شاہ ابدالی کے فوج کے ساتھ شا مل ہو یی اور پھر یہاں سے روانہ ہوکر یہ فوج لاہور میں داخل ھويی، میر نصیر خان نے احمد شاہ ابدالی کے حکم پر آگے بڑھ کر سکھوں کا مقابلہ کیا، شدید لڑائی شروع ہوئی، میر نصیر خان نے بڑھ بڑھ کر سکھوں پر حملے کیے، لڑا ئی میں اس قدر بے خود ھوا کہ سکھوں کے لشکر کے بیچ جا پہنچا سکھوں نے اسے گھیرے میں لے لیا اور قتل کرنا چاہتے تھے اسی دوران ہاتھا پائی میں انکی پگڑی سر سے گر گئی سکھوں نے جب ان کے لمبے بلوچی بال دیکھے تو ایک سکھ نے آواز لگائی کہ مت مارنا اپنا ہی بھائی ہے، کیو نکہ داڑھی اور لمبے بالوں کی وجہ سے بلوچ بھی سکھوں کی طرح لگتے تھے، اس معر کہ سے واپسی پر میر نصیر خان نے یہ کہہ کر اپنے بال منڈوا دیے کہ انکی وجہ سے میں شہادت سے محروم ہوا،

قدیم حدود ضلع کوئٹہ پشین [ترمیم]

ضلع   کوئٹہ پشینبلوچستان کا بالائی ضلع ہے، اس کے  وادیوں کی اونچائی سطح سمندر سے  4500 فٹ سے  لے کر 5500 فٹ تک ہے اور ان وادیوں  میں واقع پہاڑوں کی اونچائی 8000 فٹ سے  11500 فٹ تک ہے،  اس کے  شمال مشرق میں ژوب اور سبی ڈسٹرکٹ شمالاً اور جنوباً مستونگ ڈسٹرکٹ، شمال اور مغرب میں افغانستان اس ڈسٹرکٹ  میں زیادہ تر میدانی علاقے ہیں، جس کی لمبائی کم اور چوڑائی زیادہ ہے،  ان میدانوں کو چاروں طرف سے  ٹوبہ کاکڑ اور وسطی براہوی سلسلہ کوہ نے گھیر رکھا ہے، ٹوبہ کاکڑی کے  سلسلہ میں لوئیہ ٹوبہ کا پلوٹو بھی شامل ہے،  اس سلسلہ سے  شمال میں جو شاخیں نکلتی ہیں ، وہ کوہ خواجہ امران کا سلسلہ کہلا تے ہیں،  یہ اس ڈسٹرکٹ کی مغربی سر حد بناتی ہے جسے سر لٹ کہتے ہیں، مشرق کی جانب کوہ زرغون جس کی اونچائی 11733 فٹ ہے اور کوہ  تکہ تو جس کی اونچائی 11375فٹ اور کوہ مردار اونچائی 10398 فٹ ہے، شمال میں چلتن  اور مشلاخ کے  پہاڑ ہیں،  وادی کی نکاسی آب لورا پشین  اور دریا کاندانی کے  ذریعہ ہوتا ہے، لورا پشین وادی ک کوئٹہ  کے  وسط میں واقع ہے، دریا کاندانی جو شمال میں ہے اور ٹوبہ کاکڑی کے  پلیٹو کی نکاسی کرتا ہے اور یہ ہلمند افغانستان میں جا ملتا ہے، اس ضلع میں کافی زلزلے آتے ہیں،  شدید زلزلے دسمبر 1892  اور  مارچ 1902 میں آئے، کوہ امران کے  پہاڑی سلسلہ میں بارشوں کے  موسم میں وافر مقدار میں نایاب جڑی بوٹیاں (ربوند اور چینی) پیدا ہوتی ہیں، اتھار ویں صدی سے قبل کوہ زرغون کی جنگلات میں  پہاڑی بکرے  بیڑئئے  لکڑبھگے  اس کے  علاوہ چیتے   لومڑیاں  خرگوش   بطخیں  پائی جاتی  تھیں، یہاں کا موسم خشک ہے  سردیوں میں سرد ( 40 ڈگری فارن ہائیٹ)   اور گرمیوں میں گرم (  78 ڈگری فارن ہائیٹ)  ،  

کوئٹہ قدیم تصاویر[ترمیم]

1839 کو کوئٹہ کی آبادی 6000 افراد پر مشتمل تھی اور یہ پرانے کچے مکانات کا ایک خستہ حال شہر تھا، 1839 میں ہی فوج میں تبدیلی لاکر لیو یز فورس قا ہم کی گئی، 1840 میں انگریزوں نے کوئٹہ پر مکمل قبضہ کیا، 1841 میں انگریزوں نے کوئٹہ کو خان قلات کے حوالے کر دیا، 1874 تک یہ علاقہ خان کے تسلط میں رہا، 1877 کے ابتدائی دنوں میں بلوچستان ایجنسی بنا، 1878 کے مابین دوسری افغان شروع ھویی، کوئٹہ  شہر آبادی 1998 560301  صوبہ بلوچستان  کا دار الحکومت ہے  یہ 5500  فٹ5 167میٹر کی بلندی پر پہاڑوں میں گھری وادی ہے  کوئٹہ  کا نام پشتو کے  لفظ کوٹ سے  لیا گیا ہے جس کے  معنی قلعہ  کے  ہیں  کوئٹہ  میں بولان پاس ہے  جو افغانستان میں داخل ہونے کا اہم راستہ ہے  کوئٹہ  شہر افغانستانایران  اور و سطی ایشیا کے  لیے تجارتی مرکز ہے  یہاں کے  اہم مصنوعات میں ٹیکسٹائل کھانے پینے کی  اشیا اور قالین وغیرہ شامل ہیں  دوسری افغان  کے  بعد 1876 میں کوئٹہ  پر انگریزوں کا تسلط قائم ہوا اس شہر کی اہمیت اس وجہ سے  بھی تھا کہ  سر رابرٹ سنڑ یمن تعینات تھے انگریزوں نے کوئٹہ  کو ایک مضبوط ملٹری گیریزن میں تبدیل کر دیا  شہر کا بیشتر حصہ  1935 کے  زلزلے کے  بعد ازسرِنو تعمیر ہوا  کوئٹہ میں پاکستان کے  دیگر سرحدی علاقوں کی طرح ملٹری اسٹاف کالج اور جیو فزیکل آبروریزی ہے  1979کی روسی جارحیت کے  بعد بڑی تعداد میں افغان مہاجرین نے کوئٹہ کا رخ کیا جس کی وجہ سے  مقامی آبادی میں تیزی سے  اضافہ ہوا  اور اب ایک اندازے کے  مطابق شہر کی آبادی چالیس لاکھ  ہے  افغانستان  میں  جاری خانہ جنگی کے  باعث کوئٹہ اسلحہ اور  منشیات کا مرکز بن چلا ہے   آبادی میں اضافہ بتایا جاتا ہے مقامی قبائل کے  آپس میں زاتی جھگڑے اور  مسئلے بھی ہیں 2007 میں اس علاقے میں آنے والے  سائکلون نے شدید تباہی پھیلائی اور کم از کم 800،000 لوگوں کو متاثر کیا یہ شہر ڈویژنل اور ڈ سٹر کٹ ہیڈ کوارٹر اور اہم تجارتی اور کمونیکیشن  مر کز ے جو وادئ شال کے شمالی حصے میں سطح سمندر سے   5،500 فٹ کی بلندی پر واقع ہے܂ کوئٹہ کا علاقہ 1876 میں برطانوی کٹر ول میں تھا܂ سر رابرٹ سنڈ یمن نے یہاں پر رزیڈنسی قائم کی ܂ شہر یہاں کے  مضبوط ملٹری گیریزن کے  ارد گرد قائم ہوا اور اسے 1897 میں میونسپلٹی  میں شامل کیا گیا܂ یہاں آرمی کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج 1907 میں کھلا܂ مئی 1935 میں آنے والے شدید زلزلے نے کوئٹہ شہر کو تہس نہس کر دیا اور تقریب 20،000 جانوں کا زیاں ہوا܂ اب یہ علاقہ مغربی افغانستان  مشرقی ایران  اور وسطی ایشیا کے  کچھ حصوں کے  لیے تجارتی مرکز ہے܂ یہاں کے  انڈسٹریز میں کاٹن مل سلفر ریفائنری، تھرمل پاور اسٹیشن پھلوں کے  باغات شامل ہیں܂ کوئٹہ میں جیو فزیکل انسٹی ٹیوٹ، جیو لوجیکل سروے، سنڈ یمن لائبریری، دو گورنمنٹ کالجز جو پشاور یونیورسٹی سے  الحاق شدہ ہیں܂ بلوچستان یونیورسٹی 1970 میں قا،م ہو،ی܂ کوئٹہ ڈسٹرکٹ کے  شمال میں پشین  ڈسٹرکٹ،  مغرب میں افغانستان ،  مشرق میں سٹی ڈسٹرکٹ اور جنوب میں قلات اور چاغی ڈسٹرکٹ ہیں܂ یہ علاقہ لمبی لمبی وادیوں پر مشتمل ہے جو سطح سمندر سے  5500  سے   4500  فٹ کی بلندی پر واقع ہے  اور جنوب میں ان کو و سطی بروہی  سلسلے نے گھیرا ہوا ہے یہاں کی نکاسی دریائے پشین  لورا اور اس کی شاخوں کے  زر یعے ہوتی ہے܂ یہاں موسم خشک اور معتدل ہے جو انگور، آڑو، ناشپاتی، سیب، بادام، انار وغیرہ  کی کاشت کے  لیے بہترین ہے܂  جو گندم، مکئ یہاں کی اہم فصلیں ہیں܂ یہاں کے قالین 

کو،ٹہ ڈسٹرکٹ کے  شمال میں پشین  ڈسٹرکٹ،  مغرب میں افغانستان ،  مشرق میں سٹی ڈسٹرکٹ اور جنوب میں قلات  اور چاغی  ڈسٹرکٹ ہیں܂ یہ علاقہ لمبی لمبی وادیوں پر مشتمل ہے جو سطح سمندر سے  5500  سے   4500  فٹ کی بلندی پر واقع ہے اور جنوب میں ان کو و سطی بروہی  سلسلے نے گھیرا ہوا ہے یہاں کی نکاسی دریائے پشین  لورا اور اس کی شاخوں کے  زر یعے ہوتی ہے܂ یہاں موسم خشک اور معتدل ہے جو انگور، آڑو، ناشپاتی، سیب ، بادام، انار وغیرہ  کی کاشت کے  لیے بہترین ہے܂  جو گندم، مکئ یہاں کی اہم فصلیں ہیں܂ یہاں کے قالین اور کشیدہ کاری بھی بہت مشہور ہیں، 1955 میں کوئٹہ  ڈویژن کوئٹہ،  ژوب ، لورالائی ،  سبی ،  چاغی ،  پر مشتمل تھا، یہ پہاڑی علاقہ ہے، جو مشرق میں کوہ سلیمانی سلسلہ اور شمال میں توبہ کاکڑی  کے  سلسلہ کے  ذریعے افغانستان سے  جدا ہوتا ہے، شمال میں افغان  سرحد کے  ساتھ خواجہ امران اور سرل آرٹ کے  پہاڑی سلسلے ہیں، اسی سلسلے میں خو جک پاس واقع ہے ، جہاں اڑھائی میل لمبی سرنگ بنائی گئی ہے،  

بلوچستان[ترمیم]

بلوچستان  رقبے کے  لحاظ سے پاکستان  کا سب سے  بڑا اور آبادی کے  لحاظ سے  سب سے  چھوٹا صوبہ ہے  اس کے  مغرب میں ایران  اور جنوب میں افغانستان  ہے  جبکہ شمال میں بحیرہ عرب ہے  کوئٹہ اس صوبے کا دار الخلافہ ہے  یہ صوبہ مون سون زون سے  باہر ہے  جس کی وجہ  سے زیادہ تر علاقہ صحرا اور پہاڑوں پر مشتمل ہے  شہری علاقوں سے  باہر رہنے والے قبائلی لوگ مختلف زبانیں بولتے ہیں  یہاں پر بلوچوں کی آبادی  زیادہ ہے  مگر شمال مشرقی علاقوں میں زیادہ تر پٹھان یا پشتون  قوم آباد ہے بلوچستان کے  کچھ علاقوں میں کپاس کی کاشت کی جاتی ہے   میدانی علاقوں میں گندم جبکہ بالائی علاقوں میں پھلوں کے  باغات ہیں  یہاں کے  لوگ جانور بھی پالتے ہیں  جیسے بکرے دمبے وغیرہ  یہاں کی اہم معدنیات میں  کوئلہ جپسم کرومائیٹ چونے کا پتھر سلفر اور فولاد وغیرہ شامل ہیں  قدرتی گیس اور تیل بھی اس علاقے میں دریافت ہوا ہے اور استعمال میں لایا جا رہا ہے اور یہاں کی ساحلی تجا رت مچھلی اور نمک پر مشتمل ہے ، بہت سے  حملہ آور بلوچستان  راستے برصغیر پہنچے ، سکندر اعظم برصغیر سے  ایران واپسی بھی بلوچستان  کے  راستے  اختیار کی، ساتویں صدی سے  دسویں صدی تک یہ علاقہ عربوں کے  زیر حکومت رہا، سترویں صدی کے  اوائل میں یہاں پر مغل حکومت قائم ہوئی، اس کے  بعد بلوچستان  قبائلی سرداروں کے  زیر حکومت رہا، جن میں خوانین قلات  اہم تھیں، افغان  جنگ کے  دوران یہاں انگریزوں کا قبضہ ہو گیا،   1876،   1879 اور 1891 کے  معاہدوں کے  مطابق شمالی علاقہ  جن کو بعد میں برٹش کو بلوچستان کہا گیا  کو برطانوی کنٹرول میں دے دیا گیا اور کوئٹہ میں ملٹری بیس قائم کر دیا گیا، 1947 میں اس علاقہ کو پاکستان میں شامل کر دیا گیا اور اس کو صوبے کا درجہ 1970 میں ملا، 1976 میں حکومت پاکستان  نے سرداری نظام کا خاتمہ کرکے کنٹرول اپنے ہاتھ لیا، جس کے  باعث حکومت کے  خلاف تحریکوں کا آغاز ہوا، اس علاقہ مین چند چھو ٹی بڑی قبائلی شورشیں  بھی ہوئیں܂  حکومت اور متحارب گروپوں میں 2004 میں گوریلا جنگ دوبارہ پھوٹ پڑئ، جس کئی وجہ شہر میں ملٹری کی تنصیبات میں اضافہ اور بڑی تعداد پنجابی آبادی میں اضافہ بتایا جاتا ہے مقامی قبائل کے  آپس میں زاتی جھگڑے اور  مسئلے بھی ہیں 2007 میں اس علاقے میں آنے والے  سائکلون نے شدید تباہی پھیلائی اور کم از کم 800،000 لوگوں کو متاثر کیا  یہ شہر ڈویژنل اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اور اہم تجارتی اور کمونیکیشن  مر کز ے جو وادئ شال کے شمالی حصے میں سطح سمندر سے   5،500 فٹ کی بلندی پر واقع ہے܂ کوئٹہ کا علاقہ 1876 میں برطانوی کنٹرول میں تھا܂ سر رابرٹ سنڈ یمن نے یہاں پر رزیڈنسی قائم کی ܂ شہر یہاں کے  مضبوط ملٹری گیریزن کے  ارد گرد قائم ہوا اور اسے 1897 میں میونسپلٹی  میں شامل کیا گیا܂ یہاں آرمی کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج 1907 میں کھلا܂ مئی 1935 میں آنے والے شدید زلزلے نے کوئٹہ  شہر کو تہس نہس کر دیا اور تقریب 20،000 جانوں کا زیاں ہوا܂ اب یہ علاقہ مغربی افغانستان ، مشرقی ایران  اور و سطی ایشیا کے  کچھ حصوں کے  لیے تجارتی مرکز ہے܂ یہاں کے  انڈسٹریز میں کاٹن مل سلفر ریفائنری، تھرمل پاور اسٹیشن پھلوں کے  باغات شامل ہیں܂کوئٹہ  میں جیو فزیکل انسٹی ٹیوٹ، جیو لوجیکل سروے، سنڈ یمن لائبریری، دو گورنمنٹ کالجز جو پشاور  یونیورسٹی سے  الحاق شدہ ہیں܂ بلوچستان  یونیورسٹی

قدیم یادگار[ترمیم]

فروری 1911 کی ہے، اس میں انگریزوں کے ساتھ خان آف قلات کے بھائی اور بلوچستان کے دوسرے معززین کے ساتھ (1) - سید عمر شاہ کرانی بھی ہیں،

تصویر کے نیچے درج تفصیل

بمقام کوئٹہ بلوچستان پاکستان، یہ تصویر ہفتہ وار اخبار ٹائمز آف انڈیا مورخہ 22 فروری 1911 کی ہے، سر ہنری میک موہن کے کوئٹہ سے کلکتہ ٹرانسفر کے موقع پردی گئی الوداعی تقریب کی گروپ فوٹو ہے، یہ پارٹی ہنری میک موہن کے عزا ز میں انجمن اسلامیہ بلوچستان کی طرف سے 23 جنوری 1911 کو میک موہن ہال کوئٹہ میں دی گئی، اس پوری تقریب کی شاندار کامیابی کی اُسکے عزت اور اُونچے مقام کو ظاہر کرتی تھی، جو بلوچستان محمڈن کمیونٹی کے دل میں سر ہنری میک موہن کے لیے تھی۔ اس میں کرانی کے ایک معتبر شخصیت سید عمر شاہ کرانی بھی موجود ہی میں،

➀- سید عمر شاہ کرانی، ➁- سلطان سکندر جان، خان آف قلات کے بھائی، ➂- سردار شاہ نواز خان، ➃- میجر اے ایل جیکب، ➄- کیپٹن ایچ ایچ ایم جیک، ➅- کرنل ڈوک، ➆- کول سک آر چر، ➇- سر ہنری میک موہن، ➈- مسٹر ایچ آر سی ڈوبز، ➉-مسٹر ڈی ایری، 11-مسٹر ایف ایم ائے بیاٹی، 12-مسٹر گلی سون، 13-کیپٹن ڈی ایچ، 14-ارباب خدائے داد خان، 15-میر شاہ نواز خان، خان آف قلات کے بھائی،

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تاریخ دعوت و عزیمت حصّہ ششم جلد اوّل سید احمد شہید (ص 493)
  2. بحوالہ ڈسٹرکٹ گزٹیرز آف بلوچستان ڈائریکٹوریٹ آف آرکائیو وال یوم 9/12 صفہ نمبر-76