سوریہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(شامی سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
Disambigua compass.svg یہ صفحہ ملک کے متعلق ہے۔ اس نام سے مشابہت رکھنے والے دیگر صفحات کے لیے ← سوریا (ضد ابہام) ملاحظہ فرمائیں۔
  
سوریہ
سوریہ
پرچم
سوریہ
نشان

Syria (orthographic projection).svg 

ترانہ:حمات الدیار  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ترانہ (P85) ویکی ڈیٹا پر
زمین و آبادی
متناسقات 35°13′00″N 38°35′00″E / 35.216667°N 38.583333°E / 35.216667; 38.583333  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں متناسقاتی مقام (P625) ویکی ڈیٹا پر[1]
بلند مقام جبل الشيخ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں بلند ترین سطح (P610) ویکی ڈیٹا پر
پست مقام بحیرہ طبريہ (-214 میٹر)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پست ترین مقام (P1589) ویکی ڈیٹا پر
رقبہ 185180 مربع کلومیٹر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رقبہ (P2046) ویکی ڈیٹا پر
دارالحکومت دمشق  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں دارالحکومت (P36) ویکی ڈیٹا پر
سرکاری زبان عربی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سرکاری زبان (P37) ویکی ڈیٹا پر
آبادی 19809141 (2013)[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آبادی (P1082) ویکی ڈیٹا پر
اوسط عمر
72.882 سال (1999)[3]
73.11 سال (2000)[3]
73.371 سال (2001)[3]
73.663 سال (2002)[3]
73.967 سال (2003)[3]
74.25 سال (2004)[3]
74.43 سال (2005)[3]
74.412 سال (2006)[3]
74.152 سال (2007)[3]
73.648 سال (2008)[3]
72.939 سال (2009)[3]
72.108 سال (2010)[3]
71.27 سال (2011)[3]
70.549 سال (2012)[3]
70.046 سال (2013)[3]
69.817 سال (2014)[3]
69.904 سال (2015)[3]
70.31 سال (2016)[3]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اوسط عمر (P2250) ویکی ڈیٹا پر
حکمران
طرز حکمرانی پارلیمانی جمہوریہ،  وحدانی ریاست،  یک جماعت ریاست  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں نوع حکومت (P122) ویکی ڈیٹا پر
صدر شام  بشار الاسد (17 جولا‎ئی 2000–)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سربراہ ریاست (P35) ویکی ڈیٹا پر
وزیر اعظم سوریہ  عماد خمیس (22 جون 16–)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سربراہ حکومت (P6) ویکی ڈیٹا پر
قیام اور اقتدار
تاریخ
یوم تاسیس 8 مارچ 1920  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاسیس (P571) ویکی ڈیٹا پر
عمر کی حدبندیاں
شادی کی کم از کم عمر 18 سال  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شادی کی کم از کم عمر (P3000) ویکی ڈیٹا پر
لازمی تعلیم (کم از کم عمر) 6 سال  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں لازمی تعلم (کم از کم عمر) (P3270) ویکی ڈیٹا پر
لازمی تعلیم (زیادہ سے زیادہ عمر) 15 سال  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں لازمی تعلیم (زیادہ سے زیادہ عمر) (P3271) ویکی ڈیٹا پر
الحاق اور رکنیت
Flag of the United Nations.svg اقوام متحدہ (24 اکتوبر 1945–)
Flag of the Arab League.svg عرب لیگ (22 مارچ 1945–)
بین الاقوامی بنک برائے تعمیر و ترقی (10 اپریل 1947–)
بین الاقوامی انجمن برائے ترقی (28 جون 1962–)
بین الاقوامی مالیاتی شرکت (28 جون 1962–)
کثیرالفریق گماشتگی برائے ضمانت سرمایہ کاری (14 مئی 2002–)
بین الاقوامی مرکز برائےتصفیہ تنازعات سرمایہ کاری (24 فروری 2006–)
Flag of OIC.svg تنظیم تعاون اسلامی (1972–)
انٹرپول[4]
تنظیم برائے ممانعت کیمیائی ہتھیار[5]
بین الاقوامی آب نگاری تنظیم[6]
Flag of UNESCO.svg یونیسکو (16 نومبر 1946–)[7]
Flag of UPU.svg عالمی ڈاک اتحاد[8]
عالمی بعید ابلاغیاتی اتحاد (12 جنوری 1924–)[9]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رکن (P463) ویکی ڈیٹا پر
مشترکہ سرحدیں
ترکی (Syria–Turkey border)
اسرائیل (Israel–Syria border)
عراق (Iraq–Syria border)
اردن (Jordan–Syria border)
لبنان (Lebanon–Syria border)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مشترکہ سرحدیں (P47) ویکی ڈیٹا پر
خام ملکی پیداوار
 ← کل
60200000000 امریکی ڈالر (2010)[10]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں فی کس جی ڈی پی (P2131) ویکی ڈیٹا پر
جی ڈی پی تخمینہ
 ← فی کس 187 امریکی ڈالر (1960)[11]
200 امریکی ڈالر (1961)[11]
227 امریکی ڈالر (1962)[11]
238 امریکی ڈالر (1963)[11]
257 امریکی ڈالر (1964)[11]
273 امریکی ڈالر (1965)[11]
241 امریکی ڈالر (1966)[11]
275 امریکی ڈالر (1967)[11]
295 امریکی ڈالر (1968)[11]
365 امریکی ڈالر (1969)[11]
337 امریکی ڈالر (1970)[11]
394 امریکی ڈالر (1971)[11]
449 امریکی ڈالر (1972)[11]
460 امریکی ڈالر (1973)[11]
708 امریکی ڈالر (1974)[11]
905 امریکی ڈالر (1975)[11]
979 امریکی ڈالر (1976)[11]
954 امریکی ڈالر (1977)[11]
1112 امریکی ڈالر (1978)[11]
1151 امریکی ڈالر (1979)[11]
1462 امریکی ڈالر (1980)[11]
1677 امریکی ڈالر (1981)[11]
1699 امریکی ڈالر (1982)[11]
1769 امریکی ڈالر (1983)[11]
1700 امریکی ڈالر (1984)[11]
1540 امریکی ڈالر (1985)[11]
1208 امریکی ڈالر (1986)[11]
999 امریکی ڈالر (1987)[11]
902 امریکی ڈالر (1988)[11]
815 امریکی ڈالر (1989)[11]
988 امریکی ڈالر (1990)[11]
1013 امریکی ڈالر (1991)[11]
1005 امریکی ڈالر (1992)[11]
1009 امریکی ڈالر (1993)[11]
725 امریکی ڈالر (1994)[11]
794 امریکی ڈالر (1995)[11]
934 امریکی ڈالر (1996)[11]
955 امریکی ڈالر (1997)[11]
974 امریکی ڈالر (1998)[11]
991 امریکی ڈالر (1999)[11]
1177 امریکی ڈالر (2000)[11]
1258 امریکی ڈالر (2001)[11]
1263 امریکی ڈالر (2002)[11]
1253 امریکی ڈالر (2003)[11]
1408 امریکی ڈالر (2004)[11]
1577 امریکی ڈالر (2005)[11]
1762 امریکی ڈالر (2006)[11]
2058 امریکی ڈالر (2007)[11]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں nominal GDP per capita (P2132) ویکی ڈیٹا پر
کل ذخائر 28330800 امریکی ڈالر (1960)[12]
21086450 امریکی ڈالر (1961)[12]
33043010 امریکی ڈالر (1962)[12]
22048440 امریکی ڈالر (1963)[12]
33070160 امریکی ڈالر (1964)[12]
45070160 امریکی ڈالر (1965)[12]
53108170 امریکی ڈالر (1966)[12]
74113600 امریکی ڈالر (1967)[12]
72600000 امریکی ڈالر (1968)[12]
59160000 امریکی ڈالر (1969)[12]
56896000 امریکی ڈالر (1970)[12]
92904000 امریکی ڈالر (1971)[12]
157219440 امریکی ڈالر (1972)[12]
468474889 امریکی ڈالر (1973)[12]
613249386 امریکی ڈالر (1974)[12]
812561560 امریکی ڈالر (1975)[12]
399706243 امریکی ڈالر (1976)[12]
617512169 امریکی ڈالر (1977)[12]
565089746 امریکی ڈالر (1978)[12]
1007330332 امریکی ڈالر (1979)[12]
827582464 امریکی ڈالر (1980)[12]
622538269 امریکی ڈالر (1981)[12]
578680554 امریکی ڈالر (1982)[12]
369971303 امریکی ڈالر (1983)[12]
524999208 امریکی ڈالر (1984)[12]
355444602 امریکی ڈالر (1985)[13]
469864339 امریکی ڈالر (1986)[13]
626283673 امریکی ڈالر (1987)[13]
534765163 امریکی ڈالر (1988)[13]
460059283 امریکی ڈالر (1989)[13]
446790359 امریکی ڈالر (1990)[13]
420691843 امریکی ڈالر (1991)[13]
403611000 امریکی ڈالر (1992)[13]
451438912 امریکی ڈالر (1993)[13]
445255185 امریکی ڈالر (1994)[13]
448176754 امریکی ڈالر (1995)[13]
433607811 امریکی ڈالر (1996)[13]
367754380 امریکی ڈالر (1997)[13]
365812595 امریکی ڈالر (1998)[13]
367856228 امریکی ڈالر (1999)[13]
354635059 امریکی ڈالر (2000)[13]
356737905 امریکی ڈالر (2001)[13]
411551015 امریکی ڈالر (2002)[13]
473633099 امریکی ڈالر (2003)[13]
547669612 امریکی ڈالر (2004)[13]
17774179269 امریکی ڈالر (2005)[13]
16996900199 امریکی ڈالر (2006)[13]
17707471856 امریکی ڈالر (2007)[13]
17783782323 امریکی ڈالر (2008)[13]
18300334643 امریکی ڈالر (2009)[13]
20631905972 امریکی ڈالر (2010)[13]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں کل ذخائر (P2134) ویکی ڈیٹا پر
اشاریہ انسانی ترقی
اشاریے
0.516 (1980)
0.549 (1985)
0.553 (1990)[14]
0.574 (1995)
0.586 (2000)[14]
0.633 (2005)
0.639 (2010)[14]
0.635 (2011)[14]
0.623 (2012)[14]
0.608 (2013)[14]
0.594 (2014)[14]
0.562 (1991)[15]
0.568 (1992)[15]
0.571 (1993)[15]
0.576 (1994)[15]
0.579 (1995)[15]
0.583 (1996)[15]
0.587 (1997)[15]
0.590 (1998)[15]
0.589 (1999)[15]
0.590 (2000)[15]
0.597 (2001)[15]
0.600 (2002)[15]
0.610 (2003)[15]
0.623 (2004)[15]
0.635 (2005)[15]
0.643 (2006)[15]
0.649 (2007)[15]
0.646 (2008)[15]
0.648 (2009)[15]
0.644 (2010)[15]
0.642 (2011)[15]
0.631 (2012)[15]
0.572 (2013)[15]
0.550 (2014)[15]
0.538 (2015)[15]
0.536 (2016)[15]
0.536 (2017)[15]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں انسانی ترقیاتی اشاریہ (P1081) ویکی ڈیٹا پر
دیگر اعداد و شمار
منطقۂ وقت 00 (معیاری وقت)
متناسق عالمی وقت+03:00 (روشنیروز بچتی وقت)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منطقہ وقت (P421) ویکی ڈیٹا پر
ٹریفک سمت دائیں[16]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ڈرائیونگ سمت (P1622) ویکی ڈیٹا پر
ڈومین نیم sy.  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ٹی ایل ڈی (P78) ویکی ڈیٹا پر
آیزو 3166-1 الفا-2 SY  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ISO 3166-1 alpha-2 code (P297) ویکی ڈیٹا پر
بین الاقوامی فون کوڈ +9633  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ملکی ڈائیلنگ کوڈ (P474) ویکی ڈیٹا پر

سوریہ (تلفظ: سنیےi/ˈsɪ.rɪə/; عربی: سوريا یا سورية) (جسے بعض اوقات شام بھی کہا جاتا ہے۔ شام دراصل مشرق وسطٰی کے ایک بڑے علاقے کے لیے استعمال ہونے والی ایک غیر واضح تاریخی اصطلاح ہے۔) مشرق وسطیٰ کا ایک بڑا اور تاریخی ملک ہے۔ اس کا مکمل نام (عربی: الجمهورية العربية السورية) ہے۔ اس کے مغرب میں لبنان، جنوب مغرب میں فلسطین اور اسرائيل، جنوب میں اردن، مشرق میں عراق اور شمال میں ترکی ہے۔ سوریہ دنیا کے قدیم ترین ممالک میں سے ایک ہے۔ موجودہ دور کا سوریہ 1946ء میں فرانس کے قبضے سے آزاد ہوا تھا۔ اس کی آبادی دو کروڑ ہے جن میں اکثریت عربوں کی ہے۔ بہت تھوڑی تعداد میں اسیریائی، کرد، ترک اور دروز بھی سوریہ میں رہتے ہیں۔

تاریخ[ترمیم]

قدیم زمانہ[ترمیم]

سوریہ دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں کا مرکز رہا ہے۔ دنیا کے قدیم ترین سامی اقوام اور زبانوں کے آثار سوریہ سے دستیاب ہوئے ہیں۔ مشرقی سوریہ کے شہر عبیل ( عربی: عبيل، انگریزی میں Ebla ) سے 1975ء میں ایک عظیم سامی سلطنت کے آثار ملے ہیں جس میں قدیم ترین سامی زبانوں اور تہذیب کا بہترین نوادراتی اثاثہ سوریہل ہے جس میں 17000 مٹی کی تختیاں ہیں۔ ان پر اس زمانے کی تجارت، ثقافت، زراعت وغیرہ کے بارے میں بیش قیمت معلومات درج ہیں۔ ان کا زمانہ 2500 قبل مسیح سے بھی پہلے کا ہے۔ سوریہ پر یکے بعد دیگرے کنعانیوں، عبرانیوں، اسیریائی لوگوں اور بابل کے لوگوں نے قبضہ کیا اور نت نئی تہذیبوں کو جنم دیا جن کو آج ہم دنیا کی قدیم تہذیبوں کے نام سے جانتے ہیں۔ بعد میں رومیوں، بازنطینیوں، یونانیوں، ایرانیوں اور عربوں نے بھی سوریہ پر حکومت کی۔

اسلامی عہد[ترمیم]

دمشق جو دنیا کے قدیم ترین آباد شہروں میں سے ایک ہے، 636ء میں مسلمانوں نے فتح کیا۔ بعد میں 661ء سے 750ء تک وہاں اموی سلطنت قائم رہی جس کی حدود ہسپانیہ سے وسط ایشیا تک تھیں۔ 750ء میں عباسیوں نے امویوں کو سلطنت و خلافت سے بے دخل کر دیا اور سلطنت کا مرکز بغداد بن گیا۔ 1260ء میں مملوکوں نے اسے دوبارہ دار الخلافہ بنایا مگر امیر تیمور نے 1400ء میں دمشق اور گردو نواح کو تباہ کر دیا اور اس کے تمام نابغہ روزگار لوگوں اور ہنرمندوں کو اپنے ساتھ سمرقند لے گیا۔ اس کے بعد انیسویں صدی کے شروع تک یہ زیادہ تر عرصہ سلطنت عثمانیہ کے تحت رہا۔ 1918ء میں وہاں فرانسیسیوں اور برطانویوں کے ایما پر ایک کٹھ پتلی حکومت قائم ہوئی جس کا نتیجہ یہ تھا کہ کچھ ہی عرصہ بعد سوریہ کا زیادہ تر علاقہ فرانسیسیوں کے قبضہ میں چلا گیا۔

فرانسیسی اختیار[ترمیم]

شریف مکہ نے برطانوی سامراج کے ایما پر ترکی خلافت کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے 1918ء میں دمشق میں ایک قومی حکومت قائم کرنے میں مدد دی جو فیصل بن حسین نے قائم کی جس کے تحت سوریہ کے کچھ علاقے، لبنان، اردن اور فلسطین کے کچھ علاقے آتے تھے۔ 1919ء میں انتخابات ہوئے اور ایک مجلس (پارلیمنٹ) قائم ہوئی مگر اصل طاقت برطانوی سامراج اور اس کے دوستوں کے پاس رہی۔ 1916ء میں برطانیہ اور فرانس میں ایک خفیہ معاہدہ ہوا جسے سائیکس پیکوٹ معاہدہ کہتے ہیں۔ جس کے بعد مجلس اقوام عالم (لیگ آف نیشنز)، جو اقوام متحدہ کی ابتدائی شکل تھی، کے ذریعے یہ اقتدار فرانس کو سونپ دیا گیا۔ 1920ء میں فرانسیسی افواج نے سوریہ پر مکمل قبضہ کر لیا اور سوریہ کو 1921ء میں چھ ریاستوں میں تقسیم کر دیا جن میں لبنان بھی سوریہل تھا۔ فلسطین کے بارے میں انگریزوں نے 1917ء میں ہی ایک خفیہ معاہدہ (بالفور کا معاہدہ) کیا تھا جس میں وہاں ایک یہودی ریاست کے قیام کی منظوری دی گئی تھی۔ یہ وہ عہد تھا جس میں فرانس، برطانیہ اور دیگر سامراجی اور سرمایہ دار ممالک نے مشرق وسطی کو مختلف خفیہ معاہدوں کی مدد سے آپس میں بانٹ لیا تھا۔ اس اثناء میں سوریہ میں کئی مزاحمتی تحریکوں نے جنم لیا۔ فرانس نے سوریہ کو کئی دفعہ مصنوعی آزادی کا فریب دیا۔ 1932ء میں سوریہ میں پہلی دفعہ آزادی کا اعلان ہوا مگر پارلیمنٹ فرانس کی مرضی کی تھی اور تمام کابینہ ایسے لوگوں پر مشتمل تھی جو فرانس کے حواری تھے۔ اسی وجہ سے سوریہ اس وقت ایک آزاد ملک نہ بن سکا۔ آزادی کی تحریکیں چلتی رہیں حتیٰ کہ یہ پارلیمنٹ فرانس نے 1939ء میں دوسری جنگ عظیم کے بہانے ختم کر دی۔ فرانس خود 1940ء میں جرمنی کے قبضہ میں آ گیا مگر سوریہ پھر بھی آزاد نہ ہو سکا اور برطانوی اور فرانسیسی افواج نے 1941ء میں سوریہ کو روند ڈالا۔ اپنا قبضہ برقرار رکھنے کے لیے فرانس نے کئی پارلیمنٹیں بنوائی اور مصنوعی حکومتیں تشکیل دیں۔ ایسی ایک پارلیمنٹ 1943ء میں تشکیل دی گئی جس کے ساتھ 1944ء میں فرانس نے ایک معاہدہ آزادی کیا۔ مگر 1945ء میں فرانسیسی افواج نے دمشق کے ارد گرد گھیرا ڈال کر زبردست بمباری کی اور پارلیمنٹ کی عمارت تباہ کر دی۔ اس بمباری میں سوری حکومت کے افراد کے علاوہ 2000 سے زیادہ عام لوگ، عورتیں اور بچے ہلاک ہوئے۔ اس وقت سوریہ کے صدر شکری القوتلی تھے جن سے برطانوی سفیر نے ان سے ملاقات کی اور فرانس کے ساتھ صلح نامے پر دستخط یا کسی محفوظ مقام پر منتقلی کی تجویز دی جو انہوں نے رد کردی۔ ان کے اس عزم و حوصلے کے باعث ہی فرانس گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوا اور اسے اگلے سال سوریہ خالی کرنا پڑا۔

آزادی[ترمیم]

دوسری جنگ عظیم کی وجہ سے فرانس اور برطانیہ دونوں کمزور ہو گئے تھے۔ فرانس نے جب یہ محسوس کیا کہ وہ مزید سوریہ پر اپنا قبضہ نہیں رکھ سکتا تو اس نے سوریہ کو آزادی دینے کا فیصلہ کیا۔ 1946ء میں فرانس نے 1944ء میں کیے جانے والے معاہدہ آزادی کو دوبارہ تسلیم کر لیا اور 15 اپریل 1946ء کو فرانسیسی اور برطانوی افواج سوریہ سے نکل گئیں۔ 17 اپریل 1946ء کو سوریہ نے آزادی کا اعلان کر دیا اور بیسویں صدی کا ایک آزاد ملک بن گیا۔ اس کا نام الجمہوریہ السوریۃ رکھا گیا۔ بعد میں 30 مارچ 1949ء کو برطانیہ، فرانس اور سی آئی اے (CIA) کی مدد سے ایک فوجی بغاوت ہوئی جس نے حکومت پر قبضہ کر لیا اور کم و بیش وہی کہانی شروع ہو گئی جو نو آزاد مسلمان ملکوں کی مشترکہ داستان ہے۔

سوریہ بطور آزاد ملک[ترمیم]

قنیطرہ کا ہسپتال۔ اسرائیلی بمباری سے چھلنی

سوری افواج نے 1948ء کی عرب اسرائیلی جنگ میں حصہ لیا جس کے بعد برطانیہ، فرانس اور امریکا کی جاسوسی تنظیم سی آئی اے نے اس کی حکومت کے خلاف سازشیں شروع کر دیں۔ اس سازش نے مارچ 1949ء کی فوجی بغاوت کو جنم دیا۔ (1952ء میں ایسی ہی فوجی بغاوت مصر میں بھی ہوئی)۔ جنرل حسنی الزعیم ( جنرل زعیم) نے اقتدار سنبھالا۔ جنرل زعیم 25 جولائی 1949ء کو ایک استصواب رائے (ریفرینڈم) کے ذریعے 99 فی صد ووٹ لے کر صدر بن گیا۔ (بعینہ یہی کہانی پاکستان اور دوسرے کئی ممالک میں بھی دہرائی گئی ہے)۔ اگست میں ایک اور فوجی بغاوت ہوئی جس کے بعد جنرل زعیم کو قتل کر دیا گیا۔ ایک نئی حکومت بن گئی۔ اس حکومت نے عراق کے ساتھ اتحاد کی کوشش کی جسے برطانیہ، فرانس اور امریکا کی جاسوسی تنظیم سی آئی اے نے سخت ناپسند کیا حالانکہ عراق میں بھی انھی کی کٹھ پتلی حکومت قائم تھی۔ مگر وہ اسلامی ممالک کے اتحاد کو برداشت نہیں کر سکتے تھے چنانچہ اسی سال دسمبر میں ایک اور فوجی بغاوت میں جنرل ششکالی کی حکومت قائم ہوئی۔ اس حکومت نے 1953ء میں ایک آئین بھی منظور کیا۔ عوامی دباو پر 1955ء میں انتخابات ہوئے اور ایک غیر فوجی حکومت قائم ہو گئی۔ جس نے مصر کی حکومت سے تعلقات قائم کیے۔ روس کے ساتھ قریبی تعلقات قائم ہوئے۔ 22 فروری 1958ء کو مصر اور سوریہ نے اتحاد کیا اور ایک متحدہ ملک قائم ہو گیا جس کا نام متحدہ عرب جمہوریہ تھا۔ یاد رہے کہ مصر میں بھی امریکی اور برطانوی حمایت یافتہ قوتیں ختم کر کے جمال عبد الناصر بر سر اقتدار آچکے تھے جن کی وجہ سے یہ اتحاد ممکن ہوا۔ مگر 28 ستمبر 1961ء میں سامراجی قوتوں کے ایما پر ایک اور فوجی بغاوت ہوئی جس نے یہ اتحاد ختم کر کے سوریہ کو دوبارہ ایک الگ ملک کی حیثیت دے دی۔ ملک میں روسی حمایت یافتہ لوگوں اور سامراجی حمایت رکھنے والوں کے درمیان رسہ کشی جاری رہی اور 8 مارچ 1963ء کو بعث پارٹی کے لوگوں نے اقتدار پر قبضہ کیا۔ بعث پارٹی نے تیل کی صنعت کو قومیا لیا اور مسیحی مشنری سکولوں کو بند کر دیا۔ 23 فروری 1966ء کو اسی پارٹی کے حافظ الاسد نے حکومت پر قبضہ کر کے صدر امین حفیظ کو برطرف کر دیا۔ انہی حافظ الاسد کے بیٹے بشار الاسد آج کل سوریہ کے حاکم ہیں۔ 1973ء میں سوریہ نے مصر کے ساتھ مل کر اسرائیل کے خلاف جنگ کی اور گولان کی پہاڑیوں کا کچھ حصہ آزاد کروایا۔ اس موقع پر روس اور امریکا دونوں ایک ہو گئے اور جنگ بندی میں اہم کردار ادا کیا۔ انہی ممالک نے مصر اور اسرائیل کی صلح کروائی اور مصر نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا اس مین بنیادی کردار امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے ادا کیا جو خود ایک سابق جرمن یہودی تھا۔ مگر سوریہ اس حد تک جانے پر تیار نہ ہوا اور اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا۔ 1976ء میں سوری افواج لبنانی حکومت کی درخواست پر لبنان میں داخل ہوئیں اور لبنان میں مسیحیوں اور مسلمانوں کے درمیان خانہ جنگی کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔ 10 جون 2000ء کو سوریہ کے صدر حافظ الاسد طویل بیماری کے بعد 70 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ حافظ الاسد سنہ 1964ء میں سوریہ کی فضائیہ کے کمانڈر کے عہدے پر فائز ہوئے اور اس کے تین سال بعد وزير دفاع بنے۔ سنہ 1970ء میں انہوں نے حکومت کا تختہ الٹ کر سوریہ کا اقتدار اپنے ہاتھ میں لیا اور پھر بعث پارٹی کے لیڈر منتخب ہوئے۔ ایک سال کے بعد وہ ریفرینڈم کے ذریعے سوریہ کے صدر بنے اور پھر کئی ریفرینڈموں کے ذریعے آخری دم تک عہدۂ صدارت پر باقی رہے۔ سنہ 1967ء میں عربوں اور صیہونی حکومت کے درمیان ہونے والی جنگ کے دوران حافظ الاسد سوریہ کے وزير دفاع تھے۔ اس جنگ میں صیہونی حکومت نے جولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کر لیا تھا، لیکن سنہ 1973ء میں حافظ الاسد اپنی فوج کو مضبوط کرکے جولان پہاڑیوں کے ایک حصے کو واپس لینے میں کامیاب ہو گئے۔ صیہونی حکومت کی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا اور اسلامی جمہوریۂ ایران جیسے، صیہونیت مخالف ممالک کے ساتھ تعلقات استوار کرنا، حافظ الاسد کے دور کی، سوریہ کی خارجہ پالیسی کی خصوصیات میں سوریہل ہیں۔ حافظ الاسد کے بعد ان کے بیٹے بشار اسد کو صدر منتخب کیا گيا۔ انہوں نے بھی اپنے والد کی پالیسیوں کو آگے بڑھایا خطے میں جاری صیہونیت مخالف محاذ میں سوریہ کے بنیادی کردار کو محفوظ رکھا جو امریکا، اسرائیل اور خطے میں ان کے حامی ممالک کو ایک آنکھ نہيں بھاتا چنانچہ اس وقت صدر بشار اسد کو ایک ایسی خانہ جنگی کا سامنا ہے جس میں ترکی، سعودی عرب اور قطر سمیت کئی ديگر ممالک کا ہاتھ نمایا ں ہے۔ تاہم صدر بشار اسد کی حکومت گراکر ان کی جگہ کسی مغرب نواز ایجنٹ کو اقتدار میں لانے کی ان کی کوئی بھی کوشش تابحال کامیاب نہيں ہو سکی ہے۔

انتظامی تقسیم[ترمیم]

بائیں طرف دیے گئے نقشے کے مطابق سوریہ کو چودہ مختلف صوبوں میں تقسیم کیا گیا ہے جنہیں محافظات (محافظہ کی جمع) کہا جاتا ہے۔

شمار محافظہ
1 محافظہ لاذقیہ لاذقیہ
2 محافظہ ادلب ادلب
3 محافظہ حلب حلب
4 محافظہ الرقہ الرقہ
5 محافظہ الحسکہ الحسکہ
6 محافظہ طرطوس طرطوس
7 محافظہ حماہ حماہ
8 محافظہ دیر الزور دیر الزور
9 محافظہ حمص حمص
10 محافظہ دمشق
11 محافظہ ریف دمشق
12 محافظہ قنیطرہ قنیطرہ
13 محافظہ درعا درعا
14 محافظہ السویداء السویداء

انٹرنیٹ[ترمیم]

سوریہ میں ٹیلی مواصلات اور ٹیکنالوجی کی وزارت کی طرف سے نگرانی کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، حکومت کو انٹرنیٹ تک رسائی کی تقسیم میں ایک لازمی کردار ادا کرتا ہے۔ انٹرنیٹ پر سنسر شپ کے قوانین کی وجہ سے، 13،000 انٹرنیٹ کے کارکنوں نے مارچ 2011 ء اور اگست 2012ء کے درمیان گرفتار کیا گیا ہے۔[17]><ref>http://www.ste.gov.sy>/ref<

معیشت[ترمیم]

سوریہ ایک ترقی پزیر ملک ہے جس کی معیشت سوشلسٹ نظریات پر مبنی ہے۔ زیادہ تر صنعتیں قومی ملکیت میں ہیں۔ ساٹھ فی صد لوگ بیس سال سے کم عمر ہیں یعنی کام نہیں کرتے۔ اس کے علاوہ خواتین میں بھی کام کرنے کا رحجان کم ہی ہے۔ اس کے باوجود بے روزگاری کی شرح بیس فی صد سے زیادہ رہتی ہے۔ سوریہ کچھ تیل برامد کرتا ہے۔ جس میں صرف اسی صورت میں اضافہ کی توقع ہے اگر بین الاقوامی تیل کمپنیاں سرمایہ کاری کریں جو آج کل امریکی دباو کی وجہ سے بند ہے۔ اس طرح کی معیشت بار بار فوجی انقلاب اور بعد میں انتہائی سخت پابندیوں کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ سوریہ کی صنعت کچھ ترقی یافتہ ہے اور وہ اپنی ضروریات پوری کرنے کے قابل بھی ہے۔ سوریہ کی صرف ایک تہائی زمین قابل کاشت ہے جس کا زیادہ انحصار بارش پر ہے۔ زراعت ایک ایسا شعبہ ہے جس میں نجی ملکیت کی شرح زیادہ ہے مگر زرعی اشیا کی درآمد و برآمد پر حکومت کا اختیار زیادہ ہے۔ فی کس آمدنی پانچ ہزار امریکی ڈالر سے زیادہ ہے۔ مگر شہری لوگوں اور دیہاتیوں کی آمدنی میں بہت فرق ہے۔

جغرافیہ[ترمیم]

سوریہ ایک گرم اور خشک ملک ہے۔ سردیاں ہلکی ہوتی ہیں مگر کبھی کبھی بحیرہ روم اور لبنان کی سرحد کے قریبی علاقوں میں برفباری بھی ہو جاتی ہے۔ سوریہ کا زیادہ حصہ بنجر ہے اور ایک تہائی زمین قابل کاشت ہے۔ قابل ذکر دریا دریائے فرات ہے جو ملک کے مشرق میں بہتا ہے جس سے ملک کا شمال مشرقی حصہ جو الجزیرہ کہلاتا ہے کچھ سرسبز ہے۔ اس کے علاوہ پانی کے بیشتر ذرائع پر ترکی کا کنٹرول ہے کیونکہ وہ ترکی کے علاقوں سے بہہ کر آتے ہیں۔ بڑے شہر زیادہ تر ساحل سمندر کے پاس ہیں یا دریائے فرات پر۔ دمشق سب سے بڑا شہر اور دار الحکومت ہے جو لبنان کی سرحد کے بہت قریب ہے۔

اہم اعداد و شمار[ترمیم]

سوریہ کے 80 فی صد کے قریب لوگ پڑھے لکھے ہیں جن کی فی کس آمدنی پانچ ہزار امریکی ڈالر سے زیادہ ہے۔ سوریہ میں 92 فی صد سے زیادہ مسلمان اور تقریباً آٹھ فی صد مسیحی، علوی اور دروز ہیں۔ عربی النسل لوگ 85 فی صد ہیں اور کرد لوگ 10 فی صد ہیں۔ باقی لوگوں میں آرمینیائی، اسیریائی اور دیگر لوگ سوریہل ہیں۔ سوریہ میں عراقی اور فلسطینی مہاجرین کی تعداد بھی تقریباً بیس لاکھ کے قریب ہے۔ عربی سب سے اہم زبان ہے لیکن دیہات میں کچھ علاقوں میں سوریہ کی قدیم زبانیں مثلاً آرامی بھی سننے کو مل سکتی ہیں مگریہ قدیم زبانیں دم توڑ رہی ہیں۔

سیاست[ترمیم]

سوریہ میں ایک پارلیمانی جمہوری نظام قائم ہے۔ بعث پارٹی کو قانوناً سب سے زیادہ اختیار ہے۔ اگرچہ چھ دیگر پارٹیاں بھی کام کرتی ہیں اور حکومتی نظام کا حصہ ہیں مگر بعث پارٹی کو ایک قانون کے تحت برتری حاصل ہے اور عملاً اسی کے نظریات کے تحت حکومت چلتی ہے۔ یہ پارٹیاں مل کر ایک کونسل بناتی ہیں جس کا انتخاب ہر چار سال بعد ہوتاہے مگر اس کونسل کو محدود اختیارات حاصل ہیں۔ اصل اختیارات صدر کو حاصل ہیں جس کی صدارت کی توثیق کے لیے ہر سات سال بعد ایک ریفرینڈم ہوتا ہے۔ صدر کابینہ کا انتخاب کرتا ہے۔ صدر ہی فوج کا سربراہ ہوتا ہے اگرچہ خود فوجی نہیں ہوتا۔ یہ نظام بعث پارٹی کی حیثیت کو مضبوط رکھتا ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1.   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں OSM relation ID (P402) ویکی ڈیٹا پر "صفحہ سوریہ في خريطة الشارع المفتوحة"۔ OpenStreetMap۔ اخذ شدہ بتاریخ 17 جولا‎ئی 2019۔ Check date values in: |accessdate= (معاونت)
  2. ناشر: عالمی بنک
  3. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ ر​ ڑ​ ز ژ س http://data.uis.unesco.org/Index.aspx?DataSetCode=DEMO_DS
  4. https://www.interpol.int/Member-countries/World — اخذ شدہ بتاریخ: 7 دسمبر 2017 — ناشر: انٹرپول
  5. https://www.opcw.org/about-opcw/member-states/ — اخذ شدہ بتاریخ: 7 دسمبر 2017 — ناشر: تنظیم برائے ممانعت کیمیائی ہتھیار
  6. https://www.iho.int/srv1/index.php?option=com_wrapper&view=wrapper&Itemid=452&lang=en — اخذ شدہ بتاریخ: 8 دسمبر 2017 — ناشر: بین الاقوامی آب نگاری تنظیم
  7. http://www.unesco.org/eri/cp/ListeMS_Indicators.asp
  8. http://www.upu.int/en/the-upu/member-countries.html — اخذ شدہ بتاریخ: 4 مئی 2019
  9. https://www.itu.int/online/mm/scripts/gensel8 — اخذ شدہ بتاریخ: 4 مئی 2019
  10. https://www.ceicdata.com/en/indicator/syria/nominal-gdp
  11. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ ر​ ڑ​ ز ژ س ش ص ض ط ظ ع غ ف ق ک گ ل​ م​ ن و ہ ھ ی ے اا اب ات اث اج اح اخ اد اذ ار از https://data.worldbank.org/indicator/NY.GDP.PCAP.CD — اخذ شدہ بتاریخ: 27 مئی 2019 — ناشر: عالمی بنک
  12. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ ر​ ڑ​ ز ژ س ش ص ض ط ظ ع غ https://data.worldbank.org/indicator/FI.RES.TOTL.CD — اخذ شدہ بتاریخ: 1 مئی 2019 — ناشر: عالمی بنک
  13. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ ر​ ڑ​ ز ژ س ش ص ض ط ظ ع غ ف https://data.worldbank.org/indicator/FI.RES.TOTL.CD — اخذ شدہ بتاریخ: 1 مئی 2019 — ناشر: عالمی بنک
  14. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج http://hdr.undp.org/en/countries/profiles/SYR
  15. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ ر​ ڑ​ ز ژ س ش ص ض ط ظ ع غ ف ق http://hdr.undp.org/en/data — ناشر: United Nations Development Programme
  16. http://chartsbin.com/view/edr
  17. وزارة الاتصالات والتقانة

سوریہ کے شہر[ترمیم]

  • دمشق (عربی میں دمشق یا السوریہ ۔ انگریزی میں Damascus )
  • حلب (عربی میں حلب ۔ انگریزی میں Aleppo )
  • درعا (عربی میں درعا ۔ انگریزی میں Daraa )
  • دير الزور (عربی میں دير الزور ۔ انگریزی میں Deir ez-Zor )
  • حماہ (عربی میں حماة ۔ انگریزی میں Hama )
  • حسکہ (عربی میں الحسكة ۔ انگریزی میں Al Hasakah )
  • حمص (عربی میں حمص ۔ انگریزی میں Homs )
  • ادلب (عربی میں إدلب ۔ انگریزی میں Idlib )
  • اذقیہ (عربی میں اللاذقية ۔ انگریزی میں Latakia )
  • قنیطرہ (عربی میں القنيطرة ۔ انگریزی میں Al Qunaytirah )
  • رقہ (عربی میں الرقة ۔ انگریزی میں Ar Raqqah یا Rakka )
  • سویدا (عربی میں السويداء ۔ انگریزی میں As Suwayda )
  • طرطوس (عربی میں طرطوس ۔ انگریزی میں Tartous )
  • تدمر (عربی میں تدمر ۔ انگریزی میں Palmyra )
  • قامشلی (عربی میں القامشلي ۔ انگریزی میں Qamishli )
  • عبیل ( عربی میں ع إبلا ف، انگریزی میں Ebla )

سوریہ تصویروں میں[ترمیم]

تصویر کو بڑا کرنے کے لیے اس پر کلک کریں۔

بیرونی روابط[ترمیم]