شاندارلی علی پاشا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
شاندارلی علی پاشا
تفصیل= ازنیق، بورصہ میں واقع شاندارلی علی پاشا اور اُن کے والد شاندارلی خلیل پاشا کبیر کی قبریں۔ تصویر ہذا میں شاندارلی علی پاشا کی قبر بائیں جانب ہے۔

وزیراعظم سلطنت عثمانیہ
مدت منصب
22 جنوری 1387ء18 دسمبر 1406ء
بادشاہ سلطان مراد اول، سلطان بایزید اول، سلیمان چلبی
Fleche-defaut-droite-gris-32.png شاندارلی خلیل پاشا کبیر
امام زادے خلیل پاشا Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائش سلطنت عثمانیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 27 دسمبر 1406  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
سلطنت عثمانیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Ottoman flag.svg سلطنت عثمانیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب سنی اسلام
والد شاندارلی خلیل پاشا کبیر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ سیاست دان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

شاندارلی علی پاشا (وفات: 18 دسمبر 1406ء) چھٹے وزیراعظم سلطنت عثمانیہتھے۔ شاندارلی کا تعلق شاندارلی خاندان سے تھا جو سلطنت عثمانیہ کے ابتدائی زمانہ میں با اثر ترین خاندان تھا۔ شاندارلی علی پاشا 1387ء سے 1406ء تک طویل عرصہ یعنی 19 سال تک وزیر اعظم سلطنت عثمانیہ رہے۔ علی پاشا سلطان نے 2 سال سلطان مراد اول، 13 سال سلطان بایزید اول اور 4 سال سلیمان چلبی کے ادوارِ حکومت میں بحیثیت وزیر اعظم سلطنت عثمانیہ وزارت کی۔ علی پاشا نے 1402ء میں عثمانی زمانہ تعطل کا زمانہ بھی دیکھا، وہ عثمانی زمانہ تعطل (1402ء1413ء) کے پہلے وزیر اعظم تھے۔

سوانح[ترمیم]

شاندارلی علی پاشا شاندارلی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ 22 جنوری 1387ء کو سلطان مراد اول نے علی پاشا کو اُن کے والد شاندارلی خلیل پاشا کبیر کی وفات کے بعد وزیر اعظم مقرر کیا اور اِس عہدہ پر علی پاشا اپنی وفات تک یعنی 18 دسمبر 1406ء تک فائز رہے۔ علی پاشا شاندارلی ابراہیم پاشا کبیر کے بھائی تھے جو مستقبل میں وزیراعظم سلطنت عثمانیہ بنے۔ 1388ء میں فتح بلغاریہ اور دبروجہ کی مہمات میں علی پاشا عثمانی فوج کے سربراہ تھے۔ 1389ء میں سلطان بایزید اول نے پاشا کا خطاب دیا۔

1396ء میں علی پاشا جنگ نکوپولس میں روم ایلی سپاہی دستوں کے بھی سربراہ تھے۔ 1402ء میں عثمانی زمانہ تعطل کا آغاز ہوا تو علی پاشا بورصہ چلے گئے جہاں وہ سلیمان چلبی کے دربار سے وابستہ ہو گئے اور بحیثیت وزیراعظم سلطنت عثمانیہ اپنے فرائض سر انجام دیتے رہے۔ چار سال بعد بورصہ میں 18 دسمبر 1406ء کو علی پاشا نے وفات پائی اور ازنیق، بورصہ میں اپنے والد شاندارلی خلیل پاشا کبیر کے پہلو میں دفن کیے گئے۔ مؤرخین علی پاشا کو عثمانی وزرائے اعظم میں بہترین کردار اور اخلاق کی حامل شخصیت گردانتے ہیں۔

وجہ شہرت[ترمیم]

علی پاشا کی وجہ شہرت اُن کی تعمیر کردہ سبز مسجد (ازنیق) ہے جو بورصہ میں واقع ہے، مسجد کی تعمیر 1378ء میں شروع ہوئی اور 1392ء میں تکمیل کو پہنچی۔ علی پاشا بورصہ کے شہری نہیں تھے مگر بورصہ کے مقامی لوگوں کی حمایت کی خاطر وہ بورصہ میں تعمیرات میں مشغول رہے۔ علاوہ ازیں شہر سیرس اور شہر گلیبولو کی فتوحات ہیں جن سے وہ عثمانی دائرہ اقتدار میں شامل ہو گئے۔

حوالہ جات[ترمیم]

سیاسی عہدے
ماقبل 
شاندارلی خلیل پاشا کبیر
وزیراعظم سلطنت عثمانیہ
22 جنوری 1387ء18 دسمبر 1406ء
مابعد 
امام زادے خلیل پاشا