شاہترہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

شاہترہ (انگریزی: Fumaria parviflora) گندم کی فصل میں اگنے والی ایک فصلی جڑی بوٹی ہے۔ انگریزی میں اسے (fineleaf fumitory)، (fine-leaved fumitory) اور (Indian fumitory) کہتے ہیں۔ اس کا لاطینی نام (Fumaria parviflora) ہے۔ اور اس کا نباتاتی نام (Fumaria parviflora) ہے۔ ﻋﺮﺑﯽ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﮨﺘﺮﺝ ﯾﺎ ﺑﻘﻠﻘﮧ ﺍﻟﻤﻠﮏ، ﻓﺎﺭﺳﯽ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﮨﺘﺮﮦ، ﺳﻨﺪﮬﯽ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﮨﺘﺮﻭ، ﺑﻨﮕﻠﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﮐﺜﯿﺖ ﭘﺎﭘﮍﮦ، ﮨﻨﺪﯼ اور ﻣﺮﺍﭨﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﭘﭧ ﭘﺎﭘﮍﺍ اور سرائیکی میں گاجر وتہ کہتے ہیں۔ آبائی طور پر اس کا تعلق یورپ، ایشیا اور افریقہ سے ہے لیکن یہ تقریباً دنیا میں ہر جگہ پائی جاتی ہے۔ اس کے پھول سفیدی مائل اور کونوں سے گلابی ہوتے ہیں۔ اس کا پودا ایک ڈیڑھ بالِشت اونچا ہوتا ہے۔ پتّے دھنیے یا گاجر کے پتّوں کے مانند ہوتے ہیں۔ پُھول بنفشی آتے ہیں، ﺷﺎﮨﺘﺮﮦ ﮐﺎ ﭘﻮﺩﺍ ﭼﮫ ﺍﻧﭻ ﺳﮯ ﮈﯾﮉﮪ ﻓﭧ ﺗﮏ ﺍﻭﻧﭽﺎ ،ﻧﺎﺯﮎ ﺳﻔﯿﺪﯼ ﻣﺎﺋﻞ ﺳﺒﺰ ﺍﻭﺭ ﺯﺭﺩﯼ ﻟﺌﮯ ﮨﻮﺗﺎﮨﮯ۔ﭘﺘﮯ ﺩﮬﺒﮯ ﯾﺎ ﮔﺎﺟﺮ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮐﭩﮯ ﭘﮭﭩﮯ ﺁﺩﮪ ﺍﻧﭻ ﺳﮯ ﮈﮬﺎﺋﯽ ﺗﮏ ﻟﻤﺒﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﺩﮪ ﺍﻧﭻ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﭼﻮﮌﮮ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ﭘﮭﻮﻝ ﺳﻔﯿﺪ ﯾﺎ ﮔﻼﺑﯽ ﺭﻧﮓ ﮐﮯ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺟﻦ ﮐﺎ ﺍﮔﻠﮧ ﺣﺼﮧ ﺑﯿﮕﻨﯽ ﺭﻧﮓ ﮐﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺷﺎﮨﺘﺮﮦ ﮐﺎ ﭘﻮﺩﺍ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎًﺗﻤﺎﻡ ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﮔﯿﮩﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺟﻮﮐﮯ ﮐﮭﯿﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺳﻢ ﺳﺮﻣﺎ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ﯾﮧ ﮔﺮﻣﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺧﺸﮏ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﻣﻮﺳﻢ ﺑﺮﺳﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺟﮍ ﭘﮭﺮ ﺳﺒﺰ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔ﺍﺱ کا ﺫﺍﺋﻘﮧ ﮐﮍﻭﺍ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔

افعال ومواقع استعمال[ترمیم]

مصفی خون، دافع حمی، دافع تعفن، مدر بول (پیشاب آور)، مشتہی، مقوی جگرـ ... شاہترہ خون صاف کرتا ہے۔ فسادِ خون کے مرضوں، کُھجلی، داد، پھوڑے، پُھنسیوں اور آتشک و سوزاک میں استعمال کیا جاتا ہے۔

2. بخاروں میں فائدہ مند ہے 3. ضعف اشتہاء کے وقت فائدہ مند ہے 4. ضعف جگر میں کار آمد ہے۔

اس کا نفع خاص: مصفی خون ہونا ہے

مضر، مصلح اور بدل[ترمیم]

مضر: ریہ کے لیے مضر ہے۔ مصلح: اس کا مصلح کاسنی ہے۔ بدل: اس کا بدل چرائتہ ہے.

مقدار و ترکیب[ترمیم]

مقدار: 7-10 گرام. ترکیب استعمال:سفوف، جوشاندہ، عرق

کیمیاوی اجزاء[ترمیم]

Alkaloids: isquinoline protoberberines, and spirobenzyl isoquinoline.

(2) flavanoids (3) potassium salts

(4) Acids: fumaric acid Chlorogenic acid