شاہدہ رسول

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ڈاکٹر شاہدہ رسول پاکستان کی وہ نابیناطالبہ ہیں جنہوں نے اردو ادب میں پی ایچ ڈی کی ہے۔

مختصر حالاتِ زندگی[ترمیم]

شاہدہ رسول ملتان، پنجاب، پاکستان میں پیدا ہوئیں۔ شاہدہ پیدائشی طور پر نابینانہیں تھیں لیکن وہ تین ماہ کی تھیں جب آنکھوں سے روشنی ختم ہوئی۔ لہذا ان کا سلسلہِ تعلیم کاآغاز نو برس کی عمر میں شروع ہوا۔ ملتان بورڈ سے ہی میٹرک کیا۔ ایف اے اور بی اے گورنمنٹ ڈگری کالج ملتان سے کیا۔ ایم اے اردو کے لیے بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی میں داخلہ لیا وراس دوران ممتاز براڈ کاسٹر رضا علی عابدی پر تحقیقی مقالہ لکھا۔[1] انہوں نے ایم اے کے امتحان میں پوزیشن حاصل کی۔ انہوں نے نے2008 میں ایم فل بھی بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی سے کیا اور ان کا تحقیقی مقالہ علامہ محمد اقبال کا تصور کشف اپنے خطبات کی روشنی میں تھا،یہ مقالہ مقتدرہ قومی زبان سے یہ کتابی صورت میں شائع ہوا۔ شاہدہ رسول نے 2009 مارگلہ کالج اسلام آباد میں پڑھنا شروع کیا اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کا ارادہ کیا۔ اس دوران وہ اسی کالج کے شعبہ تدریس سے بھی وابستہ رہیں ۔[2] ان کا پی ایچ ڈی میں تحقیقاتی مقالہ پاکستان ٹیلی ویژن کے سلسلہ وار اردو ڈرامے نسوانی کرداروں کا تہذیبی و سماجی مطالعہ ہے۔ ڈاکٹر شاہدہ رسول نے پی ایچ ڈی مکمل کی اور اب وہ ملتان ویمن یونیورسٹی میں پڑھا رہی ہیں۔ علم کی جستجو اور لگن میں وہ مستقبل میں پوسٹ ڈاکٹریٹ کا ارادہ رکھتی ہیں ۔

حوالہ جات[ترمیم]