شاہد حمید

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
شاہد حمید
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1928  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
جالندھر،  برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 28 جنوری 2018 (89–90 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
لاہور،  پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
تعلیمی اسناد ایم اے  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیمی اسناد (P512) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ مترجم،  پروفیسر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان اردو،  انگریزی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
P literature.svg باب ادب

شاہد حمید، (پیدائش: 1928ء - وفات: 29 جنوری، 2018ء) پاکستان کے نامور مترجم اور پروفیسر تھے۔ ان کا شمار اردو کے اہم ترین مترجمین میں ہوتا تھا، جنہوں نے دنیائے ادب کے شاہکار ناولوں کے اردو زبان میں تراجم کیے جن میں ٹالسٹائی کا جنگ اور امن، جین آسٹن کا تکبر و تعصب اور دوستوئفسکی کا برادرز کرامازوف قابلِ ذکر ہیں۔

حالات زندگی[ترمیم]

شاہد حمید 1928ء کوبرطانوی راج کے ہندوستانی شہر جالندھر میں پیدا ہوئے۔ تقسیم ہند کے بعد وہ لاہور منتقل ہو گئے۔ انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے انگریزی میں ایم اے کیا اور درس و تدریس کے پیشے سے وابستہ ہو گئے۔ 1988ء میں وہ بہ طور مدرس ریٹائر ہوئے۔[1]

شاہد حمید کو عالمی کلاسیکی لٹریچر کو اردو زبان کے قالب میں ڈھالنے کا ملکہ حاصل تھا، انہوں نے ناولوں کی تاریخ کے تین بڑے شاہ کار ٹالسٹائی کے جنگ اور امن، دوستوفسکی کے برادرز کراموزوف اور جین آسٹن کے تکبر و تعصب کا ترجمہ کیا، جنہیں ناقدین معیاری اور معتبر ٹھہراتے ہیں۔ انہوں نے دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ان ضخیم ناولوں کے تراجم پر نہ صرف عمرِ عزیز کا بڑا حصہ صرف کیا، بلکہ متن سے مخلص رہنے کے لیے شب وروز محنت کی۔ انہوں نے جسٹس گارڈر کے ناول سوفی کی دنیا اور ارنیسٹ ہیمنگوے کے شاہ کار ناول بوڑھا اور سمندر کو اردوکا جامہ پہنایا۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے ایڈورڈ سعید کی کتاب Question of Palestine کا ترجمہ بھی کیا۔ گئے دن کی مسافت کے عنوان سے ان کی خودنوشت بھی شائع ہوچکی ہے۔[1]

تخلیقات[ترمیم]

تراجم[ترمیم]

خودنوشت[ترمیم]

  • گئے دنوں کی مسافت

وفات[ترمیم]

شاہد حمید 29 جنوری، 2018ء کو لاہور، پاکستان میں وفات پا گئے۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]