شاہنواز فاروقی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

شاہنواز فاروقی پاکستان کے معروف دانشور اور تجزیہ نگار ہیں۔ 1964ء میں کراچی میں پیدا ہوئے۔ 1986ء میں جامعہ کراچی سے صحافت میں گریجویشن کیا اور وہیں سے 1988ء میں ماسٹرز کی سند امتیازی نمبروں سے حاصل کی۔

انہوں نے اپنی پیشہ وارانہ زندگی کا آغاز کراچی سے شائع ہونے والے بچوں کے رسالے ماہنامہ آنکھ مچولی سے کیا جس سے وہ ساڑھے تین سال تک وابستہ رہے۔ ابتدا میں ان کا انداز تحریر مزاحیہ ہوتا تھا جو بچوں اور نوجوانوں میں مقبول تھا۔

بعد ازاں انہوں نے سنجیدہ معاملات پر مضامین لکھنے شروع کیے اور ایک موقر اردو روزنامے سے وابستہ ہو گئے اور اپنے واضح نقطۂ نظر کے باعث بہت جلد ایک وسیع حلقے میں پسند کیے جانے لگے۔ پاکستان کے سب سے بڑے روزنامہ جنگ نے انہیں کالم نگار کی حیثیت سے کام کرنے کی پیشکش دی لیکن مکمل ازادئ اظہار کا مطالبہ منظور نہ کیے جانے پر انہوں نے جنگ کے ساتھ کام کرنے سے انکار کر دیا۔

واضع رہے کہ شاہنواز فاروقی روزنامہ جنگ کی جانب کی پیشکش ٹھکرانے سے قبل میر میر خلیل الرحمٰن کے ہاتھوں جامعہ کراچی میں نمایاں کاکردگی کا مظاہرہ کرنے پر میرخلیل الرحمٰن ایوارڈ گولڈ میڈل کی صورت میں حاصل کر چکے تھے۔ جو اس وقت تک کراچی یونیورسٹی میں دیا جانے والا پہلا میر خلیل الرحمٰن گولڈ میڈل ایوارڈ تھا۔ آج کل وہ کراچی سے شائع ہونے والے روزنامہ جسارت سے وابستہ ہیں۔ علاوہ ازیں وہ مختلف ٹیلی وژن چینلوں کے پروگرام میں تجزیہ نگار کی حیثیت سے جلوہ گر ہوتے ہیں اور کئی جامعات میں دروس دیتے ہیں۔

شاہنواز فاروقی انگریزی و اردو ادب، شاعری، سیاسی تجزیے، مذہب، مغربی تہذیب اور دیگر موضوعات میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اسلام اور مغربی تہذیب کے بارے میں ان کے نظریات انتہائی واضح ہیں۔

شاہنواز فاروقی کے کالموں کی خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے تہذیب مغرب سے مرعوب ہوئے بغیر نا صرف اس کا جائزہ لیا ہے بلکہ ان غلطیوں کی نشان دہی بھی کی ہے جنہوں نے مغرب کو اخلاقی بانجھ پن کا شکار کیا ہے۔ معروف پاکستانی دانشور تجویز کرتے ہیں کہ عروج اور ترقی کا راستہ مغرب کی اندھی تقلید نہیں بلکہ اپنی تاریخ اور روایات کا احیاء ہے۔

ان کی دو کتابیں "کاغذ کے سپاہی" اور "اخبار صحافت" شائع ہوچکی ہیں جن میں سے اول الذکر ریسرچ اکیڈمی جبکہ آخر الذکر جامعہ کراچی کے شعبہ ابلاغ عامہ نے شائع کی ہے۔ شاہنواز فاروقی کی ایک اور کتاب "تہذیبوں کا تصادم" بھی شائع ہوچکی ہے جسے کراچی کے ادارہ مطبوعات طلبہ نے شائع کیا ہے۔

بیرونی روابط[ترمیم]