مندرجات کا رخ کریں

شاہی جلیبی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
شاہی جلیبی
روایتی شاہی جلیبی پرانا ڈھاکہ
قسمافطار، ہلکی غذا
اہم کھانامیٹھا
اصلی وطنچوک بازار، پرانا ڈھاکہ, بنگلہ دیش بنگلہ دیش کا پرچم
علاقہ یا ریاستپرانا ڈھاکہ بنگلہ دیش
قومی پکوان منسلک ازبنگلہ دیش
موجدکے شاہی باورچی نواب ڈھاکہ
درجہ حرارتگرم
بنیادی اجزائے ترکیبیاڑو کی دال، گھی, , آٹا، تیل, شیرہ
مشابہ پکوانجلیبی، امرتی، چھینا جلیبی, پینچ جلیبی, چکون جلیبی, ریشمی جلیبی

شاہی جلیبی بنگلہ دیش کے دار الحکومت ڈھاکہ کے قدیم علاقے چوک بازار کی ایک مشہور اور روایتی مٹھائی ہے جو اپنی جسامت اور ذائقے کی بدولت پورے ملک میں جانی جاتی ہے[1] ۔ خاص طور پر ماہ رمضان میں پرانے ڈھاکہ کے باشندوں کے لیے افطار کا ایک لازمی حصہ تصور کی جاتی ہے جہاں چوک بازار ایک طویل عرصے سے افطاری کے پکوانوں کے مرکز کے طور پر اپنی پہچان رکھتا ہے۔ شاہی جلیبی اپنی مخصوص بناوٹ اور شاہانہ طرز کی وجہ سے عام جلیبی سے ممتاز ہے۔

بناوٹ اور تیاری

[ترمیم ماخذ]

شاہی جلیبی کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا غیر معمولی حجم ہے جو عام جلیبی سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ اس روایتی جلیبی کو میدے کے آمیزے کو کنڈلی یا لچھے کی شکل میں گھما کر تیار کیا جاتا ہے۔ شاہی جلیبی کی انفرادیت اس کا غیر معمولی حجم ہے؛ ایک واحد جلیبی کا وزن عام طور پر ایک کلوگرام سے لے کر ڈھائی کلوگرام تک ہوتا ہے۔ اس کی تیاری میں ماش کی دال، میدہ، گھی اور چینی کا شیرہ بنیادی اجزاء کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ اس کا آمیزہ عام جلیبی کی نسبت تھوڑا مختلف اور گاڑھا ہوتا ہے تاکہ اسے بڑے سائز میں ڈھالتے وقت اس کی شکل برقرار رہ سکے۔ اسے دیسی گھی میں گہرا تلا جاتا ہے یہاں تک کہ اس کی رنگت گہری سنہری یا سرخی مائل ہو جائے، جس کے بعد اسے الائچی اور زعفران ملے گرم شیرے میں ڈبویا جاتا ہے تاکہ شیرہ اس کے اندر تک رچ بس جائے۔ شاہی جلیبی کی تیاری میں استعمال ہونے والے عمومی اجزاء میں ماش کی دال، بیکنگ پاؤڈر، چینی کا شیرہ، بیسن، گھی، ڈالڈا، میدہ، تیل، عرق گلاب، دار چینی اور الائچی شامل ہیں

ثقافتی اہمیت

[ترمیم ماخذ]

ڈھاکہ کی سماجی زندگی میں شاہی جلیبی کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ رمضان المبارک کے دوران چوک بازار کی افطار مارکیٹ میں اس کی طلب میں بے پناہ اضافہ ہو جاتا ہے، جہاں لوگ دور دراز سے اسے خریدنے کے لیے آتے ہیں۔ اسے عام طور پر دسترخوان کی زینت بنایا جاتا ہے اور خاندان کے کئی افراد مل کر ایک ہی جلیبی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ ڈھاکہ کی قدیم روایات کے مطابق، خاص مواقع اور دعوتوں میں شاہی جلیبی کا ہونا میزبان کی سخاوت اور شاہانہ ذوق کی دلیل مانا جاتا ہے۔ برصغیر میں جلیبی کی تاریخ پندرہویں صدی کے اوائل سے ملتی ہے لیکن شاہی جلیبی اس قدیم روایت میں ایک جدید اور شاہانہ اضافہ ہے۔ ڈھاکہ کے مقامی لوگوں میں اس کا رواج چند دہائیاں قبل شروع ہوا۔ پرانے ڈھاکہ میں رہنے والے خاندان اسے خرید کر مل جل کر کھایا کرتے تھے جس کے بعد آہستہ آہستہ یہ افطار، شادیوں اور دیگر تقریبات کی دعوتوں میں بھی مقبول ہو گئی۔[2] لفظ شاہی اس کے شاہانہ رتبے کی عکاسی کرتا ہے کیونکہ اس کی جڑیں ڈھاکہ کے نوابوں کے شاہی باورچی خانے سے جڑی ہوئی ہیں۔ نوابی خاندان اسے اپنی نجی اور خاندانی تقریبات میں پیش کیا کرتے تھے اور اسی تصور کو اپناتے ہوئے اس لذیذ اور جسامت میں بڑی مٹھائی کا نام شاہی جلیبی پڑ گیا۔[3]

حوالہ جات

[ترمیم ماخذ]
  1. মচমচে জিলাপির কদরই আলাদা. Jugantor (بزبان بنگالی). Retrieved 2020-03-23.
  2. "Amidst a delicious chaos"۔ The Daily Star۔ اخذ شدہ بتاریخ 2020-03-23
  3. "Amidst a delicious chaos"۔ The Daily Star۔ اخذ شدہ بتاریخ 2020-03-23