شاہ ابو الخیردہلوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

شاہ عبد اللہ ابوالخیر دہلوی خانوادہ مجدد الف ثانی سے تعلق رکھتے ہیں۔

نام[ترمیم]

جدا امجد مولانا شاہ احمد سعید نے محی الدین نام رکھا اور آپ کے والد شاہ محمد عمر نے عبد اللہ ابو الخیر تجویز کیا،اور آپ عبد اللہ ابو الخیر دستخطوں میں تحریر کرتے تھے،

ولادت[ترمیم]

27؍ربیع الاول 1272ھ کو خانقاہ شاہ غلام علی مجدد مأتہ ثالث عشر دھلی میں آپ کی ولادت ہوئی،

بیعت[ترمیم]

چھوٹی سی عمر میں والد کے ہمراہ مدینہ مدینہ منورہ چلے گئے،چار برس کی عمر تھی جب آپ کے والد نے حرم نبوی میں اپنے والد ماجد سے آپ کو مُرید کرادیا،سات سال کے تھے کہ حافط قرآن ہو گئے علوم کی تکمیل و تحصیل مکہ معظمہ میں شیخ الاسلام سید الاسلام سید احمد ابن زینی دحلان سے کی،ربیع الاول 1297ھ میں کلکتہ کے میمنوں کے ساتھ نوجوانی میں مکہ مکرمہ سے ریاست رامپور آئے،

عائلی زندگی[ترمیم]

خواہر عم زاد سے آپ کی شادی ہوئی یہاں سے دہلی جاکر خانقاہ میں چند سال بود باش اختیار کی،1302ھ میں مدینہ منورہ کا سفر کیا،اور نکاح ثانی کیا،1305ھ میں دہلی واپس ہوئے،۔۔۔۔۔

سیرت و کردار[ترمیم]

ہرسال 12؍ربیع الاول کی شب کو گیارہ بارہ بجے کے درمیان محفل میلاد شریف منعقد کرتے اور خود وعظ کہتے،نہایت پر اثر وعظ ہوتا تھا،حاضرین کی آہ وبکا کی آواز سے مجلس نمونۂ حشر معلوم ہوتی،اس مجلس میں دور دور سے لوگ آپ کا وعظ سننے کے لیے آتے تھے آپ نہایت عابد وزاہد تھے،نمازیں بہت خشوع وخضوع کے ساتھ پڑھتے تھے،جب کسی آیت کے فہم معنیٰ سے مکیف ہوتے تو رقت طاری ہوجاتی اور بے قرار ہوجاتے،مقتدیوں پر بھی اس کا اثر ہوتا اور سب زار وقطار رونے لگتے۔۔۔۔۔۔ مطالعہ کتب کا بھی غایت وجہ شوق تھا، ہزار ہا نایاب اور قلمی کتابیں آپ کے کتب خانہ میں تھیں،

خلفاء و مریدین[ترمیم]

عربی کے ادیب شہیر علامہ محمد عالم آسی امرت سری آپ کے مرید وخلیفہ تھے، مولانا شاہ محمد مظہر اللہ مفتیٔ اعظم دہلوی کو بھی آپ نے اجازت عطاء کی تھی، ان کے علاوہ شام وافغانستان،سرحد وغیرہ کے علاقہ میں بکثرت آپ کے مرید و خلیفہ تھے،۔

وفات[ترمیم]

61؍برس کی عمر میں شب جمعہ کو آپ کا انتقال ہوا، جمادی الاخریٰ کی کی 29ویں تاریخ اور 1341ھ تھی،خانقاہ ہی میں دفن کیے گئے،[1]

  1. سوانح ہادی کامل شاہ ابو الخیر المعروف مقامات خیر از شاہ ابو الحسن زید فاروقی شاہ ابو الخیر اکیڈمی دہلی