شاہ ابو المعالی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

شاہ ابوالمعالی ان کا اصل نام سید خیر الدین شاہ لاہور کے بڑے قادری بزرگ ہیں۔

ولادت[ترمیم]

تاریخ پیدائش10 ذو الحجہ 960ھ بمطابق 1552ء ہے سید رحمت اللہ کے بیٹے ہیں۔ سید رحمت اللہ بن میر سید فتح اللہ کرمانی تین بھائی تھے۔ ایک شیخ داؤد کرمانی دوسرے سید جلال الدین کرمانی تیسرے یہی سید رحمت اللہ کرمانی جو شاہ ابوالمعالی قادری کے والد گرامی قدر ہیں۔

وجہ شہرت[ترمیم]

آپ نے علم حدیث کی صرف درس تدریس ہی کے ذریعے اشاعت نہیں کی بلکہ اس موضوع پر کئی کتابیں بھی لکھیں جن میں سے سب سے زیادہ مشہور و مسلّم کتاب لمعات ہے۔ شیخ عبد الحق دہلوی جیسے بزرگ تسکین قلب اور فیوض باطنی کے لیے جس کی توجہ کے طالب اور اکثر دستگیری و رہنمائی کے محتاج رہتے تھے۔ شیخ محدّث ان کی زیارت کے لیے دہلی سے لاہور آتے تو یہ سختی سے ان کو روک دیتے ہیں۔

سلسلہ قادریہ[ترمیم]

شاہ ابوالمعالی:۔ جناب میاں میرکے زمانے میں قادری سلسلے کے بزرگ شیخ شاہ ابو المعالی قادری بھی تھے۔سید موسیٰ گیلانی کے ایک مشہور پیر بھائی داؤد شیر گڑھی کے جانشین تھے۔ آپ نے لاہور میں شاہ ابوالمعالی کے نام سے شہرت پائی۔ آپ بھیرہ ضلع سرگودہا کے رہنے والے بتائے جاتے ہیں۔ دارالشکوہ نے لکھا ہے کہ آپ نجیب الطرفین سید تھے۔ قادری سلسلے میں آپ کو شیخ داؤد کرمانی سے نسبت تھی۔ حد یقتہ الاولیاءمیں لکھا ہے کہ شیخ داؤد کرمانی شیر گڑھی کے بھتیجے ہیں۔

شاعری[ترمیم]

شاہ صاحب ایک شاعر بھی تھے۔ غربتی اور معالی آپ کا تخلص تھا۔ عربی اور فارسی میں شعر کہتے تھے۔ جن میں اکثر صوفیانہ خیالات ہی کا اظہار ہوتا تھا۔

تصنیفات[ترمیم]

آپ نے جناب سید عبد القادر جیلانی کی منقبت میں’’ رسالہ غوثیہ‘‘اور آپ کی کرامات کے موضوع پر ’’تحفہ قادریہ ‘‘کے نام سے ایک رسالہ تحریر کیا نیز’’ حلیہ سروردوعالم‘‘،’’گلدستہ باغ ارم‘‘، ’’مونس جاں‘‘ اور’’ زعفران زار ‘‘کتابیں بھی آپ کی یادگار ہیں۔ علاوہ ازیں آپ کا ایک قلمی نسخہ ’’ہشت محفل‘‘ کے نام سے پنجاب یو نیورسٹی لاہور کی لائبریری میں بھی محفوظ ہے۔ جسے آپ کے صاحبزادے جناب محمد باقر نے مرتب کیا تھا۔ اس نسخے میں شاہ صاحب کے ملفوظات جمع کیے گئے ہیں۔

وفات[ترمیم]

سال وفات16 ربیع الاول 1024ھ بمطابق 1615ءہے شاہ ابوالمعالی نے پینسٹھ برس کی عمر پائی۔ لاہور میں بیرون موچی دروازہ مدفون ہیں[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. خزینۃ الاصفیاءجلد اول،صفحہ 229مفتی غلام سرور لاہوری، مکتبہ گنج بخش لاہور