شاہ بیگ ارغون

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

سیوی قلعہ کی فتح 1511ء

شاہ بیگ ارغون نے قندھار میں آکر کچھ دن بعد ایک کثیر لشکر کے ساتھ شمال کی طرف رخ کیا راستے میں رعایا کے لوگ اس کے لشکر کو دیکھ کر لرز اٹھے ۔ انہیں یہ اندازہ نہیں تھ کہ فوجیں کہاں جا رہی ہیں ۔ بالآخر معلوم ہوا کہ سب سیوی جا رہے ہیں ۔ جب اس کی خبر سلطان پیرولی برلاس کی اولاد کو ملی جو اس وقت سبی ( سیوی ) پر حکمران تھی تو انھوں نے قاصدوں کو بھیج کر شاہ بیگ کو اپنی صداقت اور خیر خواہی کا یقین دلایا۔شاہ بیگ ارغون نے سیوی قلعہ فتح کر لیا ۔ جو لوگ قلعے میں تھے ان میں سے کچھ حاضر ہوئے اور کچھ فتح پور چلے گے ۔ شاہ بیگ نے فرید ارغون ، میر فاضل کوکلتاش  ، زینک ترخان اور عاقل اتکہ کو سیوی سے قندھار بھیج دیا اور خود فتح پور کی طرف روانہ ہوا ۔ فتح پور سیوی سے پچاس کوس کے فاصلے پر سندھ کی طرف واقع تھا۔ سلطان پیرولی کی اولاد دولت شاہی ، برغدائی ، کوریائی اور نورگانی قبائل میں سے تقریبا ایک ہزار سوار اور بلوچوں اور دوسرے قبائل سے  تقریبا دو ہزار سوار جمع کے جنگ کے لیے نکلی لیکن فتح شاہ بیگ ارغون کو ہوئی ۔ ان میں سے کچھ قتل ہوئے اور کچھ سندھ کی طرف بھاگ گئے ۔ شاہ بیگ سیوی آیا اور کچھ دن قیام کر کے عمارتوں اور باغوں کی بنیاد رکھی اور سیوی قلعہ کی مرمت کے بعد قابل اعتماد لوگوں کو وہاں رکھ کر قندھار واپس آ گئے ۔

حوالہ جات ؛ ترخان نامہ  ۔ تاریخ معصومی ۔ تاریخ سندھ ۔ ایمپیریل گزیٹیر آف انڈیا ۔ سبی ڈسٹرکٹ گزیٹیر اور تحصیل دفتر ریکارڈز سبی