شاہ جمال اللہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
شاہ جمال اللہ
معلومات شخصیت
پیدائش 28 نومبر 1724  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
گجرات  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 29 اگست 1794 (70 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رام پور  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Fictional flag of the Mughal Empire.svg مغلیہ سلطنت  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P islam.svg باب اسلام

حافظ سیّد مُحمّد جمال اللہ رامپوری سلسلہ نقشبندیہ کے معروف بزرگ گزرے ہیں۔

نام و نسب[ترمیم]

آپ کا اسمِ مبارک سیّد محمد جمال اللہ اور والد گرامی کا نامِ نامی سیّد محمد درویش تھا۔ آپ کی ولادت با سعادت گجرات (پنجاب) میں ہوئی۔ سلسلۂ نسب غوث الاعظم قدس سرہ کے واسطہ سے حضرت علی مرتضیٰ تک پہنچتا ہے۔

ولادت[ترمیم]

11؍ربیع الاوّل1137ھ بمطابق 28؍ نومبر/1724ء۔۔گجرات (پاکستان)میں ہوئی

تعلیم و تربیت[ترمیم]

آپ نے بچپن ہی میں قرآن مجید حفظ کر لیا تھا۔ سیر و سیاحت کا بہت شوق تھا۔ اس لیے مکمّل سپاہیانہ تربیت حاصل کر کے اپنے شوق کو درجۂ کمال تک پہنچایا۔ اور سیر و سیاحت کرتے ہوئے دہلی تشریف لے آئے اور یہاں ایک درویش صفت عالمِ دین جو سلسلہ عالیہ نقشبندیہ سے وابستہ تھے اور بہت بڑے فقہیہ کامل تھے، سے حدیث و فقہ کی کتابیں پڑھیں اور جلد ہی علوم متداولہ میں کامل و اکمل ہو گئے۔ اُس زمانے میں آپ نے مجاہدۂ نفس شروع کر دیا تھا اور روزانہ دو قرآن شریف ختم کیا کرتے تھے۔ آپ کے اُستادِ محترم چونکہ حضرت خواجہ سیّد قطب الدین حیدر قدس سرہ کے مرید خاص تھے لٰہذا آپ غائبانہ طور پر اُن سے مانوس ہوچکے تھے۔ ایک رات حسبِ معمول تلاوتِ قرآن مجید کر رہے تھے کہ غیب سے آواز آئی: ’’اے جمال اللہ! اگرچہ تلاوتِ قرآن مجید فُرقانِ حمید بہت بڑی عبادت ہے، لیکن عبادت میں لذّت و سرور اُسی وقت ہی حاصل ہوسکت ہے جبکہ کسی شیخ سے بیعت کرلی جائے‘‘۔ یہ سُنتے ہی آپ کی حالت دگر گوں ہو گئی اور آپ اُفتاں و خیزاں اپنے اُستاد محترم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ خدا را مجھے جلد اپنے پیر و مرشد کی خدمت میں لے چلیں اُستاد صاحب نے کہا کہ اب رات کا وقت ہے، انشاء اللہ تعالیٰ صبح چلیں گے۔ یہ سُن کر آپ کی طبیعت میں بے قراری غالب ہو گئی اور رات گزارنا مشکل ہو گئی۔ صبح ہوتے ہی اُستاد محترم کے ہمراہ خواجہ باقی باللہ کے مزار مقدس پر حاضر ہوئے کیونکہ سیّد قطب الدین حیدر بخاری اُس وقت وہاں گوشہ نشین تھے۔ شرفِ بیعت حاصل کرنے کے بعد سب کچھ چھوڑ کر پیر و مرشد کی خدمتِ با برکت میں ہی رہنا شروع کر دیا اور بارہ سال تک شیخ کی صحبت کیمیا اثر میں رہے۔ سیّد قطب الدین حیدر بھی آپ کی جدائی برداشت نہ کرسکتے تھے۔ چنانچہ جب شیخ حج مبارک کے لیے تشریف لے گئے تو آپ بھی ہمراہ تھے۔مدینہ شریف پہنچے تو حضرت خواجہ قطب الدین حیدر رحمۃ اللہ علیہ کو حضور سیّد عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی اور حکم ملا کہ حافظ سیّد محمد جمال اللہ کو خرقۂ خلافت پہنا کر واپس ہندوستان بھیج دو وہاں ہزار ہا لوگ اُن سے مستفید و مستفیض ہوں گے۔ مدینہ طیّبہ سے واپس تشریف لا کر آپ سر ہند شریف میں مقیم ہو گئے اور مجدّدی فیوض و برکات کی دولت سے مالا مال ہوئے۔ بعد از ویرانیٔ سرہند آپ رام پور المعروف بہ مُصطفےٰ آباد تشریف لے گئے اور مستقل سکونت اختیار فر ماکر خلقِ خدا کی روحانی رہنمائی فرمانے لگے۔ ابتدائی دور میں رام پور میں عرصہ تک نواب رام پور فیض اللہ خاں کی فوج میں سپاہی رہ کر اپنی درویش کو چھپائے رکھا۔ حضرت شاہ غلام علی دہلوی رحمۃ اللہ علیہ بھی رامپور تشریف لا کر آپ سے ملے تھے۔ گرمی کا موسم تھا۔ شاہ صاحب نے فرمایا کہ ’’میں گرمیٔ محبّت اور حرارتِ مؤدتِ کی طلب میں آپ کے پاس آیا ہوں‘‘۔ آپ نے شاہ صاحب کو تربور عطا فرمایا تھا۔ اتباعِ سُنّت کا نہایت التزام و اہتمام فرماتے تھے۔ اعمالِ ظاہری و باطنی میں درجۂ کمال تک پہنچے ہوئے تھے۔ دل عشقِ الٰہی سے محمور اور حُبّ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے چُور تھا۔ ایک کثیر خلقت نے آپ سے استفادہ کیا۔

خلفاء[ترمیم]

آپ نے تمام زندگی مجرّدانہ بسر کی لٰہذا کوئی اولاد نسبی باقی نہ چھوڑی البتہ رُوحانی اولاد میں سے تین خلفاء شاہ درگاہی رامپوری شیخ صحرائی اور شاہ محمد عیسیٰ گنڈا پُوری بہت مشہور ہوئے۔ ان کے علاوہ مُلّا فدا لکھنوی اور میاں سیف اللہ، قصبہ سر سی تحصیل سنبھل ضِلع مراد آباد بھی آپ کے خلفاء میں سے تھے۔

وفات[ترمیم]

آپ کی وفات 3؍ صفر المظفر /29 اگست 1209ھ/1794ء کو رامپور (انڈیا) میں ہوئی اور رام پور شہر متصل دروازہ عیدگاہ مزار مقدس بنا جو آج مرجعٔ خلائق ہے۔ قطعۂ وصال مبارک جو مزار مبارک کے جنوبی دروزہ پر کندہ ہے۔

  • آں شاہِ جمال قُطبِ عالم خوش رفت بجلوہ گاہِ وحدت ’’
  • تاریخِ فنائے با بقائش سیرِ علم مقامِ حیرت‘‘ 1209ھ [1]۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تاریخِ مشائخ نقشبندصفحہ 443 محمد صادق قصوری زاویہ پبلشر لاہور