شاہ سعید احمد رائپوری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
شاہ سعید احمد رائپوری
پیدائش جنوری 1926
وفات 26 ستمبر 2012(2012-90-26) (عمر  86 سال)
لاہور، پاکستان
پیشہ عالم دین، صوفی شیخ، مصنف
مذہب اسلام
فقہ حنفی
مکتب فکر سنی
شعبۂ عمل شاہ ولی اللہ کے نظریات
اہم نظریات سماجی تبدیلی، وحدت انسانیت
پیر/شیخ عبدالقادر رائپوری, محمد الیاس کاندھلوی, محمد زکریا کاندھلوی

شاہ سعید احمد رائپوری (جنوری 1926-26 ستمبر 2012[1][2][3]) خانقاہِ رائپور کی مسند نشین رہے ہیں اور دورِ حاضر میں فکرِ شاہ ولی اللہ پر گرفت رکھنے والوں میں سے ایک تھے۔

شاہ سعید احمد رائپوری تبلیغی جماعت کے بانی مولانا محمد الیاس کاندھلوی اور شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی کے ممتاز شاگردوں میں سے ایک تھے۔ عملی سیاست سے بالاتر ہوتے ہوئے، انہوں نے شاہ ولی اللہ، شیخ الہند مولانا محمودالحسن، شاہ عبدالقادر رائپوری، مولانا عبید اللہ سندھی اور مولانا حسین احمد مدنی کی سوچ کی بنیاد پر، انہوں نے 1967ء میں جمعیت طلبۂ اسلام، 1987ء میں تنظیم فکرِ ولی اللّٰہی اور 2001ء میں ادارۂ رحیمیہ علومِ قرآنیہ قائم کیا،[4] جس کے مختلف کیمپس کراچی، سکھر، ملتان اور راولپنڈی میں قائم ہوئے۔ دیگر ذیلی ادارے مثلاً شاہ ولی اللہ میڈیا فاونڈیشن اور نظام المدارس رحیمیہ بھی آپ کی سرپرستی میں قائم ہوئے۔ ہزاروں نوجوانوں سیمنارز اور دیگر تقاریب کے ذریعے ادارے کے ساتھ منسلک ہیں۔[5]

1992ء میں ان کے والد شاہ عبد العزیز رائپوری نے انہیں اپنا جانشین مقرر کیا۔

پس منظر[ترمیم]

شاہ سعید احمد رائپوری، شاہ عبد الرحیم رائپوری (1853ء-1919ء) کے بعد نقشبندی سلسلے کے چوتھے شیخ تھے۔ شاہ عبد الرحیم نے خانقاہ عالیہ رحیمیہ کو رائپور میں قائم کی، جو بعد میں دیوبندی مذہب کی اہم مرکز بن گئی۔ شاہ عبد الرحیم کے کئی جانشینوں کی طرح، شاہ سعید احمد رائپوری نے اس خانقاہ کو 2001ء میں ادارۂ رحیمیہ علومِ قرآنیہ کے نام سے لاہور میں قائم کیا۔ ادارے سے وابستہ نظام المدارس الرحیمیہ کا جال بھی کافی وسیع ہے، پاکستان بھر سے کئی مدارس اس کے ساتھ منسلک ہیں۔[4][6]

1977ء میں جمعیت علمائے اسلام کے جماعت اسلامی کے ساتھ اتحاد کے بعد، شاہ سعید احمد رائپوری نے جمعیت سے علیحدگی اختیار کی۔ آپ افغان جنگ کے سخت ناقد تھے اور جن اشخاص نے اس کے لیے فتاویٰ جاری کیے، ان کی سخت مخالفت کی۔ انہوں نے کشمیر میں عسکریت پسندی کو فروغ دینے پر بھی تنقید کی۔ ان کا مشہور قول ہے، "پاکستان مذاکرات سے حاصل کیا اور کشمیر کو جنگ سے آزاد کرانا چاہتے ہو، کچھ خدا کا خوف کرو!"[7]

حضرت اقدس شاہ سعید احمد رائے پوری قدس سرہ نے بطور مذہبی لیڈر مدرسہ اور کالج کی تقسیم کے خلاف اپنی رائے رکھی اور ان دونوں حلقوں کے نوجوانوں کو اکھٹا کرنے میں اپنی پوری زندگی صرف کی۔ آپ کی عقلی بنیادوں پر کی گئی مذہب کی تشریح کا ہمیشہ مرکز انسان رہا۔ آپ نے سیاسی جدوجہد میں عدم تشدد کے اصول کی تبلیغ کی اور اپنے ہم عصروں کو خبردار کیا کہ وہ امریکی امداد سے چلنے والی افغان جنگ کی حمایت نہ کریں۔

پانچ سال کی عمر میں آپؒ کی والدۂ محترمہ کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد آپؒ اپنے والد ِ گرامی کے ہمراہ حضرت اقدس شاہ عبد القادر رائے پوریؒ کے سایۂ شفقت میں خانقاہِ عالیہ رحیمیہ رائے پور میں قیام پزیر ہو گئے۔

آپؒ کی تعلیم کا آغاز حضرت عالی شاہ عبد الرحیم رائے پوریؒ کے قائم کردہ مکتب ِقرآنی میں ہوا۔ حضرت شاہ عبد القادر رائے پوریؒ نے آپؒ کو پہلی ’’بسم اللہ‘‘ پڑھائی۔ اور خانقاہ رائے پور میں قائم مدرسہ فیض ہدایت درگلزارِ رحیمی میں شیخ القرآن حضرت مولانا خدابخش سے قرآنِ حکیم پڑھنا شروع کیا۔ جب آبائی وطن گمتھلہ جاتے تو حافظ مقصود احمد نوشہرویؒ سے پڑھتے اور جب اپنے ننہیالی گاؤں سکروڈھ ضلع سہارن پور میں تشریف لے جاتے تو حضرت قاری حافظ ولی محمد صاحبؒ سے قرآنِ حکیم کی تعلیم حاصل کرتے۔ حفظ ِقرآنِ حکیم کی تکمیل خانقاہِ رائے پور کے ’’مدرسہ فیض ہدایت‘‘ میں ہوئی۔

ابتدائی فارسی اور عربی کی تعلیم سکروڈھ میں حضرت مولانا محمدیعقوب بن نور محمد حصارویؒ سے حاصل کی، جو حضرت مولانا حسین احمد علویؒ کے بہنوئی ہوتے تھے۔

درسِ نظامی کے ابتدائی درجات کی کتب آپؒ نے اپنے والد ِگرامی حضرت شاہ عبد العزیز رائے پوریؒ سے پڑھیں۔ انھوں نے آپؒ کو ’’شرح جامی‘‘ تک کی تمام درسی کتابیں پڑھائیں۔ آپؒ کو جب بھی کوئی کتاب شروع کرواتے تو حضرت مولانا محمدالیاس دہلویؒ اگر خانقاہ میں موجود ہوتے تو ان سے کتاب کا آغاز کرواتے۔ ’’

تفسیر جلالین‘‘ تک کی کتابیں آپؒ نے حضرت مولانا محمداشفاق رائے پوریؒ (بھانجے حضرت عالی شاہ عبد الرحیم رائے پوریؒ، متولی خانقاہ رائے پور و رُکن مجلس شوریٰ دار العلوم دیوبند) سے پڑھیں۔ تفسیر جلالین کا کچھ حصہ حضرت مولانا عبد اللہ دھرم کوٹی اور مشکوٰۃ شریف کا کچھ حصہ حضرت مولانا عبد اللہ رائے پوری شیخ الحدیث جامعہ رشیدیہ جالندھر (بعد میں ساہیوال) سے پڑھا۔

رمضان المبارک 1367ھ / 1947ء میں حضرتِ اقدس مولانا شاہ عبد القادر رائے پوریؒ نے آپؒ کو اپنا امامِ نماز مقرر فرمایا۔ درسِ نظامی کے آخری دو سال کی تعلیم کے لیے آپؒ مدرسہ مظاہر العلوم سہارن پور تشریف لے گئے، جہاں آپؒ نے شیخ الحدیث حضرت مولانا محمدزکریا کاندھلویؒ سے بخاری شریف، ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عبد اللطیفؒ سے ترمذی شریف، حضرت مولانا منظوراحمدؒ سے مسلم شریف اور حضرت مولانا اسعداللہ صاحب (بعد میں ناظم مدرسہ) سے طحاوی شریف، ابن ماجہ اور حدیث کی دیگر کتابیں پڑھیں۔ مدرسہ مظاہر العلوم کے رئیس دار الافتا مفتی سعیداحمد صاحبؒ سے مشکوٰۃ شریف اور شمائل وغیرہ پڑھیں۔ اور حضرت مولانا محمد امیر کاندھلویؒ سے ہدایہ آخرین وغیرہ کتابیں پڑھیں۔ اس طرح آپؒ نے 1368ھ / 1949ء میں مدرسہ مظاہر العلوم سے تمام علومِ دینیہ کی تعلیم سے فراغت حاصل کی۔

آپؒ نے طالب ِعلمی ہی کے زمانے میں 1939ء میں حضرتِ رائے پوریؒ ثانی کی سرپرستی میں نوجوانوں کے لیے قائم ہونے والی جماعت ’’حزب الانصار‘‘ میں شمولیت اختیار کی۔ اس جماعت کے صدر، امامِ انقلاب حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے شاگرد حضرت مولانا حبیب الرحمن رائے پوریؒ تھے، جو بعد میں خانقاہ کے متولی بنے۔

حضرت رائے پوریؒ کی زیرسرپرستی حضرت مولانا حبیب الرحمن رائے پوریؒ کے ساتھ وابستہ ہوکر ہندوستان کی آزادی کے لیے سیاسی جدوجہد کا شعور حاصل کیا۔ اس دوران خانقاہ میں تشریف لانے والے عظیم رہنمایانِ دین اور مشائخ حضرات، شیخ الاسلام حضرت مولانا سیدحسین احمد مدنیؒ، مفتی اعظم مفتی کفایت اللہ دہلویؒ، امیر تبلیغ حضرت مولانا محمدالیاس دہلویؒ، رئیس الاحرار حضرت مولانا حبیب الرحمن لدھیانویؒ اور امیر شریعت حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، حضرت مولانا حفظ الرحمن سیوہارویؒ وغیرہ کی صحبت سے مستفید ہوئے اور ان کی سیاسی مجالس میں شرکت کی۔

ظاہری تعلیم و تربیت کے بعد آپؒ کو حضرتِ اقدس شاہ عبد القادر رائے پوریؒ نے اپنی خصوصی تربیت اور نگرانی میں لے لیا اور ایک سال میں سلوک کی تکمیل کروائی۔

سلوک کی تکمیل اور سلسلۂ رائے پور کی نسبت کے حصول کے بعد 1369ھ / 1950ء میں آپؒ کو حضرت شاہ عبد القادر رائے پوریؒ نے اجازت و خلافت سے سرفراز فرمایا۔

1950ء کے اواخر میں آپؒ ہندوستان سے پاکستان تشریف لائے۔ اور سرگودھا میں اپنے والد ِگرامی حضرت مولانا شاہ عبد العزیز رائے پوریؒ کے پاس قیام فرما ہوئے۔ حضرت اقدس شاہ عبد القادر رائے پوریؒ نے آپؒ کو پاکستان اور ہندوستان کے اپنے اسفار میں اپنے ساتھ رکھا اور سکولز اور کالجز کے نوجوانوں میں کام کرنے کا حکم دیا۔ 1950ء سے 1967ء تک آپؒ نے خانقاہی سلسلے کے فروغ کے ساتھ ساتھ نوجوانوں میں دین کے غلبے کے فروغ کی جدوجہد اور کوشش کو بھی جاری رکھا۔

16؍ اگست 1962ء کو آپؒ کے شیخ حضرت شاہ عبد القادر رائے پوریؒ کا وصال ہوا تو اس کے بعد آپؒ اپنے والد ِگرامی حضرت شاہ عبد العزیز رائے پوریؒ کی زیرسرپرستی سلسلۂ عالیہ رحیمیہ رائے پور کے فروغ اور مدارسِ دینیہ اور کالجز و یونیورسٹیز کے نوجوان طلبہ میں دینی شعور کے فروغ کے لیے کام کرتے رہے۔

1967ء میں آپؒ نے سرگودھا میں کالجز اور مدارسِ اسلامیہ کے نوجوان طلبہ کی تعلیم و تربیت اور ان میں تحریک پیدا کرنے کے لیے ’’جمعیت طلبۂ اسلام‘‘ قائم کی۔ اس کے افتتاحی اجلاس میں حضرت رائے پوری ثانی کے مجازین حضرت سید نفیس الحسینی شاہ صاحبؒ اور حضرت مولانا سید نیاز احمد شاہ صاحبؒ (تلمبہ) بھی تشریف فرما تھے۔ 1970ء میں جمعیت علماشاہ سعیداحمد رائے پوریئے اسلام کے اجلاس منعقدہ سرگودھا میں جمعیت کے انتخابی منشور میں انقلابی دفعات شامل کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ 1973ء سے 1976ء تک جمعیت علمائے اسلام کے ترجمان رسالے ’’ترجمانِ اسلام‘‘ کی مجلس ادارت میں آپؒ نے کام کیا۔ 1974ء میں آپؒ کی سرپرستی میں جمعیت طلبۂ اسلام کے نوجوانوں نے ’’تحریک تحفظ ختم نبوت‘‘ میں بھرپور کردار ادا کیا۔ 1974ء میں ہی آپؒ کی سرپرستی میں جمعیت طلبۂ اسلام کا ترجمان ’’عزم‘‘ سیریز کی شکل میں شائع ہونا شروع ہوا، جو اب تک نامساعد حالات کے باوجود اپنا تسلسل برقرار رکھے ہوئے ہے۔

فروری 1987ء میں آپؒ نے امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی تعلیمات اور ان کے سلسلے کے علما کی عظیم الشان انقلابی جدوجہد سے نوجوانوں کو آگاہ کرنے اور دین اسلام کا انقلابی شعور پیدا کرنے کے لیے ’’تنظیم فکر ِولی اللّٰہی‘‘ کے نام سے ایک جماعت قائم کی۔

15؍ جنوری 1988ء /1409ھ بروز جمعۃ المبارک کو خانقاہِ عالیہ رحیمیہ رائے پور (انڈیا) میں حضرت اقدس مولانا شاہ عبد العزیز رائے پوریؒ نے آپؒ کو سلسلۂ عالیہ رحیمیہ رائے پور میں اپنا جانشین مقرر فرمایا۔

1990ء میں امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ اور ان کے سلسلے کے علمائے ربانیین کے تحریر کردہ دینی لٹریچر کی نشر و اشاعت کے لیے ’’شاہ ولی اللہ میڈیا فاؤنڈیشن‘‘ قائم کی۔ یہ فاؤنڈیشن اب تک علمائے ربانیین کے تحریر کردہ 70 کے قریب پمفلٹس شائع کرچکی ہے۔ جس سے نوجوان مستفید ہو رہے ہیں۔

3؍ جون 1992ء کو آپؒ کے والد ِگرامی اور شیخ ثانی حضرت شاہ عبد العزیز رائے پوریؒ کا وصال ہوا۔ اس کے بعد سے سلسلۂ رائے پور کے فروغ کی تمام تر ذمہ داری آپؒ کے کاندھوں پر آگئی۔ اس ذمہ داری کو سر انجام دینے کے لیے آپؒ نے بڑا کام کیا۔ اس دوران آپؒ نے ہندوستان اور پاکستان میں سلسلۂ عالیہ رائے پور کے وابستگان کی ظاہری اور باطنی تربیت کے لیے مسلسل اسفار فرمائے۔ اسی حوالے سے خانقاہِ عالیہ رحیمیہ رائے پور ضلع سہارن پور (انڈیا) میں آپؒ کا متعدد مرتبہ قیام ہوا۔

14؍ ستمبر 2001ء کو آپؒ نے لاہور میں ’’ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ‘‘ قائم فرمایا، جس میں آپؒ کی سرپرستی میں نوجوانوں میں قرآنی علوم کے فہم و شعور کی جامع تعلیم و تربیت کا نہایت عمدہ اہتمام کیا گیا۔ اسی مرکز میں بیٹھ کر آپؒ نے سلسلۂ عالیہ رحیمیہ رائے پور کے فروغ کے لیے بڑی جدوجہد اور کوشش فرمائی۔ پھر گزشتہ سالوں میں کراچی، سکھر، ملتان اور راولپنڈی میں بھی ادارہ رحیمیہ کے ریجنل کیمپسز آپؒ کی سرپرستی میں قائم ہوئے۔

2001ء میں ہی ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ میں آپؒ کی سرپرستی میں دارالافتا قائم کیا گیا، جس میں دینی مسائل کے حوالے سے شریعت ِاسلام اور فقہ کی روشنی میں جید مفتیانِ کرام عوام الناس کی رہنمائی کر رہے ہیں۔

2002ء میں آپؒ نے ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ سے الحاق کرنے والے مدارسِ دینیہ کا ایک بورڈ ’’نظام المدارس الرحیمیہ پاکستان‘‘ کے نام سے قائم کیا، جس میں ملک بھر کے پچاس سے ساٹھ کے قریب مدارس ملحق ہیں اور ان میں شب و روز حفظ ِقرآنِ حکیم، تفسیر، حدیث، فقہ اور علومِ دینیہ کی تعلیم کا عمدہ نظام قائم ہے۔

2004ء میں آپؒ کی سرپرستی اور نگرانی میں حضرت الامام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے علوم و افکار سے نوجوان نسل کو متعارف کرانے کے لیے ملک بھر میں ’’شاہ ولی اللہ سیمینارز‘‘ کے عنوان سے بڑے سیمینارز کا اہتمام کیا گیا، جس میں ملک بھر کے تمام بڑے شہروں میں حضرت الامام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے افکار و تعلیمات اور جدوجہد و کوشش سے نوجوان نسل کو آگاہ کیا گیا اور ان کے سلسلے کے سچے علمائے ربانیین کا تعارف کرایا گیا۔

2007ء میں آپؒ کی سرپرستی میں جنگ ِآزای 1857ء کے ڈیڑھ سو سال مکمل ہونے پر ملک بھر میں سیمینارز کا اہتمام کیا گیا۔ خاص طور پر لاہور، کراچی، پشاور، راولپنڈی، ملتان اور سکھر میں برعظیم پاک و ہند کی آزادی کی تحریک سے نوجوانوں کو متعارف کرانے کے لیے بڑے سیمینارز منعقد ہوئے۔

آپؒ کی تعلیم و تربیت سے جہاں ہزاروں نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد فیض یاب ہوئی، وہاں باصلاحیت علما اور فضلا نے بھی آپؒ سے سلسلۂ عالیہ رحیمیہ رائے پور میں سلوک و احسان کی تعلیم و تربیت حاصل کی اور باطنی فیضان اور نسبت کے حامل بنے۔ تربیت کے بعد آپؒ نے تیس حضرات کو اجازت و خلافت سے مشرف فرمایا۔

رمضان 1367ھ /1947ء سے لے کر شوال 1429ھ / 2008ء تک، 63 سال تک آپؒ نے سلسلۂ عالیہ رحیمیہ رائے پور کے مشائخ حضرت شاہ عبد القادر رائے پوریؒ، حضرت شاہ عبد العزیز رائے پوریؒ کے زمانے میں اور اپنے دورِ خلافت میں نمازوں کی امامت کرائی۔ شوال 1429ھ / 2008ء میں آپؒ عارضۂ قلب اور گھٹنوں کی تکلیف کے سبب معذور ہو گئے تو امامت دوسرے کے سپرد کردی۔

جنوری 2009ء سے آپؒ کی زیرسرپرستی ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ لاہور سے ماہنامہ ’’رحیمیہ‘‘ کا آغاز ہوا، جو گزشتہ 4 سالوں میں بڑے اہتمام کے ساتھ مقررہ تاریخ پر قارئین کی رہنمائی کے لیے شائع ہوجاتا ہے۔

مئی 2009ء میں ’’رحیمیہ مطبوعات‘‘ کے نام سے نشر و اشاعت کا ایک ادارہ قائم کیا، جس میں علمائے حق کی کتابیں تحقیق کے ساتھ شائع کرنے کا اہتمام کیا گیا۔

جولائی 2009ء سے آپؒ کی زیرسرپرستی ایک تحقیقی سہ ماہی مجلہ ’’شعور و آگہی‘‘ کا آغاز ہوا، جو اب تک اپنی تحقیقی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے بڑے اہتمام کے ساتھ ہر سہ ماہی میں تسلسل کے ساتھ بروقت شائع ہو رہا ہے۔

2009ء میں آپؒ نے اپنے خلفا اور متوسلین کی تربیت کے لیے حرمین شریفین کا سفر کیا۔ عمرہ کے دوران حرم کی پاک سرزمین میں ان حضرات کی تربیت کا سلسلہ چلتا رہا۔ اسی دوران حرمین شریفین، بالخصوص جامعہ ام القریٰ مکہ مکرمہ اور مدینہ یونیورسٹی کے اساتذۂ حدیث نے آپؒ سے سلسلۂ حدیث کی سند حاصل کی۔

آپؒ نے اپنی پوری زندگی پاکستان اور ہندوستان میں تعلیمی، تربیتی اور اصلاحی دورہ جات کا اہتمام رکھا۔ ہمہ وقت آپؒ نوجوانوں کی تربیت کے لیے اسفار کی صعوبت برداشت کرتے رہے۔ خاص طور پر آپؒ نے ہندوستان میں خانقاہِ عالیہ رحیمیہ رائے پور کے 1999ء اور 2006ء تا 2009ء ہر سال مسلسل اسفار کیے اور وہاں قیام کیا۔

2010ء میں آپؒ نے اپنے خلفا اور متوسلین کے ہمراہ اپنی زندگی کا آخری حج ادا فرمایا۔ اگرچہ اس سے قبل آپ کئی حج ادا کرچکے تھے، لیکن خلفا اور متوسلین کے اصرار پر باوجود ضعف اور کمزوری کے ان کی دل جوئی اور ان کی تعلیم و تربیت اور باطنی نسبت کی ترقی کے لیے یہ سفر حج فرمایا۔ اور اس دوران بہت کچھ باطنی فیوض و برکات سے اپنے متعلقین کو مستفیض فرمایا۔

9؍ ستمبر 2012ء کو آپؒ کو دوسری دفعہ دل کا عارضہ لاحق ہوا اور اس کے بعد تقریباً 18 روز تک بیمار رہ کر مؤرخہ 8؍ ذی قعدہ 1433ھ/ 26؍ ستمبر 2012ء، بروز بدھ، بوقت صبح 9:35 پر تقریباً 90 سال کی عمر میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔[8]

اقوال[ترمیم]

شاہ سعید احمد رائپوری ایک صوفی، عالم اور مفکر تھے جو اپنے ترقی پسند انقلابی نظریات کے لیے جانے جاتے ہیں۔ مندرجہ ذیل ان کے کچھ اقوال ہیں:[7]

  • اگر حکمران نااہل ہوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہو، تو انقلاب کے لیے جدوجہد کرو۔
  • اللہ تعالی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حکم دیا کہ مظلوم عوام کی مدد کرنے کے لیے معاشرے سے ظلم کا خاتمہ کرو۔
  • قرآن مجید کا مقصد اور نظریہ اللہ کی عبادت کرنا اور اس معاشرے سے ظلم و ستم کا خاتمہ کرنا ہے۔ یہ قرآن کا حکم ہے کہ غربت کا خاتمہ ہو، امن کا قیام ہو اور جنگ و جدل کا ماحول ختم ہو۔ یہ قرآن کا حکم ہے کہ اپنے بیوی بچوں، والدین، بہن بھائی، پڑوسیوں اور دیگر عزیزواقارب کے حقوق کو پوراکیا جائے۔ اور اس سے بھی آگے بڑھ کر قرآن ہمیں تمام انسانیت کے حقوق کو پورا کرنے کی ہدایت کرتا ہے۔
  • نماز تو اولیاء پیدا کرتی ہے- اس کی بجائے، آج کل، ہم دیکھتے ہیں کہ اسی نماز پڑھنے والوں کی علامات ظالموں کی سی ہیں۔
  • اللہ کا کہنا ہے کہ نماز میرا حق ہے اور میں اپنے حقوق معاف کر سکتا ہوں۔ جھوٹ بولنا، تہمت لگانا اور دوسروں کو نقصان پہنچانا، یہ حقوق العباد ہیں۔

جانشین، خلفاہ اورمجازین[ترمیم]

26 ستمبر کو ان کی وفات کے بعد تمام خلفاء کی مشاورت سے حضرت مولانا مفتی عبد الخالق آزاد صاحب جانشین مقرر ہوئے۔

  1. مفتی عبد الخالق آزاد رائیپوری، لاہور، پاکستان
  2. مفتی سعید الرحمن، ملتان، پاکستان
  3. مفتی عبد المتین نعمانی، بورے والا، پاکستان
  4. مفتی عبد الغنی قاسمی، لاہور، پاکستان
  5. مفتی عبد القدیر، چشتیاں، پاکستان
  6. مفتی محمد مختار حسن، نوشہرہ، پاکستان
  7. مولانا محمد الیاس میواتی، میوات، بھارت
  8. مفتی عبد السلام، مرادآباد، بھارت
  9. مولانا محمد اختر، سہارنپور، بھارت
  10. مولانا محمد افضل، سعودی عرب
  11. مولانا محمد اشرف عاطف، سعودی عرب
  12. مولانا صاحبزادہ سید رشید احمد، ڈیرہ اسماعیل خان، پاکستان
  13. سید مطلوب علی زیدی، راولپنڈی، پاکستان
  14. ڈاکٹر لیاقت علی شاہ، سکھر، پاکستان
  15. مولانا قاضی محمد یوسف، حسن ابدال، پاکستان
  16. ڈاکٹر مولانا تاج افسر، اسلام آباد، پاکستان
  17. مولانا محمد ناصر عبد العزیز، جھنگ، پاکستان
  18. مولانا عبد اللہ عابد سندھی، شکارپور، پاکستان
  19. صاحبزادہ عبد القادر دینپوری، بہاولنگر، پاکستان
  20. مولانا محمد اشرف انّڑ، حیدرآباد، پاکستان
  21. حاجی محمد بلال بلوچ، قاضی احمد، پاکستان
  22. مفتی محمد انور شاہ، کوئٹہ، پاکستان
  23. حافظ ظفر حیات، مری، پاکستان
  24. حاجی محمد سرور جمیل، لاہور، پاکستان
  25. حاجی محمد یوسف جاوید، عارف والا، پاکستان
  26. حاجی یعقوب علی، ہارون آباد، پاکستان

مجازین جو حضرت رائپوری کی زندگی میں وفات پا گئے مندرجہ ذیل ہیں:

  1. مولانا منظور حسن (مرحوم)، ساہیوال، پاکستان
  2. مولانا حسین احمد علوی (مرحوم)، چشتیاں، پاکستان
  3. راؤ عبد الرؤف خان (مرحوم)، ہارون آباد، پاکستان
  4. مفتی محمد طیّب (مرحوم)، پاکستان

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اعلانِ غم۔
  2. اعلانِ غم۔
  3. "شاہ سعید احمد رائپوری اس دنیا سے رخصت کر گئے"۔ دنیا نیوز۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  4. ^ ا ب کامران، طاہر (2006). "پنجاب میں ‘دیوبندی‘ اسلام کا ارتقاء اور اثرات". مؤرخ: ایک تحقیقی مجلہ 3: 28-50. http://www.gcu.edu.pk/FullTextJour/Hist/V3N205/P28-50.pdf. 
  5. "شاہ ولی اللہ کے خیالات پر سیمینار"۔ ڈان نیوز۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  6. مفتی عبدالخالق آزاد۔ مشائخِ رائپور: خانقاہ عالیہ رحیمیہ اور مشائخِ رائپور کا تعارف۔ لاہور: دارالتحقیق والاشاعت۔ صفحات 198–199۔
  7. ^ ا ب "شاہ سعید احمد رائے پوری اس دنیاسے رخصت"۔
  8. ماہنامہ رحیمیہ لاہور ستمبر اکتوبر 2016