شاہ عنایت اللہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
صوفی
شاہ عنایت اللہ
معروفیتصوفی شاہ عنایت اللہ
پیدائش1655ء بمطابق 1066ھ
وفات7 جنوری 1718ء بمطابق 17 صفر 1130ھ
نسلسندھی
عہدقرون وسط
شعبۂ زندگیسندھ، مغلیہ سلطنت
مذہباسلام
مکتب فکرتصوف
شعبۂ عملعارفانہ کلام، ذکر، سماجی مصلح
اہم نظریاتتصوف، سندھی صوفی شاعری

شاہ عنایت اللہ (1655ء – 1718ء)، المعروف صوفی شاہ عنایت شہید، شاہ شہید، جن کو سندھ کا مصلحِ اول بھی کہا جاتا ہے مغلیہ دور کے ایک صوفی تھے۔[1]

ان کے والد مخدوم صدو لانگاہ تھے۔ 8 جنوری 1718 شاہ عنایت کو قتل کر دیا گیا۔ ان کی خانقاہ پر حملہ ہوا جہاں ایک اندازے کے مطابق 24 ہزار صوفیوں کو قتل کیا گیا۔ان صوفیوں کی اجتماعی قبریں، جن کو 'گنجِ شہیدان' کے نام سے پکارا جاتا ہے، یہاں موجود ہیں۔[2]

نظریات[ترمیم]

انہوں نے سندھ (جھوک نزد ٹھٹھ) میں واپس لوٹنے پر طبقاتی لوٹ مار، جاگیرداروں، پیروں اور میروں کی ناانصافیاں دیکھ کر، اپنے آبائی شہر میں ایک ایسے سماج کی داغ بیل ڈالی جس میں انسانیت کے حقوق کو تحفظ تھا، جہاں محنت سے بہائے گئے پسینے کی قدر تھی، جہاں انسان کی عزت نفس کو غرور کے پاؤں تلے روندا نہیں جاتا تھا۔ یہاں ذات پات و مذہب کی کوئی لکیر نہیں تھی۔ یہاں کے لوگ چاہے مرشد ہوں یا مرید، مالک ہوں یا ہاری، سب مل کر زمین میں ہل چلاتے تھے۔ آمدنی و پیداوار میں سب کا برابر کا حق تھا۔ صوفی شاہ عنایت اس اجتماعی اقتصادی نظام کے رہبر تھے۔ زمین یہ نہیں دیکھتی کہ ہل چلانے والا کون ہے، وہ نہ رنگ دیکھتی ہے اور نہ ذات پوچھتی ہے۔ جس طرح ماں کے لیے سارے بچے ایک جیسے ہیں، اسی طرح زمین کے لیے بھی سارے انسان ایک جیسے ہیں، اور زمین پر سب انسانوں کا مشترکہ حق ہے۔ ان کی اس فکر کو دیکھ کر لوگ ان سے متاثر ہوئے اور اس نظام میں شرکت کے لیے آتے گئے، اور یوں جھوک کو جنوبی سندھ میں ایک مرکزی حیثیت حاصل ہونے لگی۔

جاگیر داروں کا رد عمل[ترمیم]

شاہ عنایت کے نظریات اور عمل مقامی جاگیرداروں کو برے لگتے تھے اسی وجہ صوفی کی اس خانقاہ پر پہلا حملہ تب ہوا جب ٹھٹھہ کا ناظم 'لطف علی' تھا۔ اس حملے میں خانقاہ کے بہت سارے درویش ہلاک ہوئے۔ ان بے گناہوں کے ورثاء نے جب استغاثہ کیا تو حکومت کی جانب سے قاتلوں کی زمینیں مقتولوں کے ورثا کو دلا دی گئیں۔ 1716ء میں لطف علی خان کی جگہ نواب اعظم خان ٹھٹھہ کا ناظم ہو کر آیا، جس کو تاریخ نے کبھی اچھے الفاظ سے یاد نہیں کیا۔ وہ شاہ عنایت کے دشمنوں کی باتوں سے متاثر ہو کر ان سے مل گیا، اور اس نے صوفی شاہ عنایت کی مخالفت میں خانقاہ سے متصل زمینوں، جن کے محصول معاف ہو چکے تھے، پر دوبارہ محصول لگا دیا۔ اعظم خان نے اپنی فوج کے علاوہ یار محمد خان کلہوڑو اور دوسرے رئیسوں کے نام احکام جاری کیے کہ وہ بھی مدد کے طور پر اس فوج میں شامل ہوں۔

جنگ[ترمیم]

یہ 12 اکتوبر 1717ء، منگل کا دن تھا جب جھوک کا گھیراؤ شروع ہوا۔ مقامی جاگیرداروں اور حکومت کی ساری طاقتیں ایک طرف یکجا تھیں، اور سامنے جھوک شریف کے صوفی فقیر تھے جن کے پاس کلہاڑیاں، بھالے اور خنجر تھے۔ وہ رات کو دشمنوں کی فوج پر شب خون مارتے تھے اور کامیاب بھی ہوتے تھے۔ تین ماہ گذر گئے پر جھوک کے فقیروں کو اتنی بڑی فوج شکست نہ دے سکی۔

شاہ عنایت کو قتل کرنے کی سازش[ترمیم]

جنگ کے خاتمے کی کوئی صورت نہ دیکھ کر دشمنوں نے سازشی حربہ استعمال کیا گیا، جس کا مرکزی کردار 'میر شہداد خان تالپور' تھا جو میاں یار محمد کلہوڑو کا انتہائی وفادار تھا۔ وہ اپنے ساتھ قرآن شریف اور امن کے سفید جھںڈے لے کر شاہ عنایت سے ملا اور کہا کہ "میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ناظمِ ٹھٹھہ، شمالی سندھ کے حکمران اور مغل حکومت یہ جنگ نہیں چاہتی۔ کچھ لوگوں نے حکومت کو غلط رپورٹیں بھیجی تھیں جن کی وجہ سے غلط فہمیوں نے جنم لیا، مگر اب یہ غلط فہمیاں دور ہو گئی ہیں۔ اب آپ چل کر آمنے سامنے مذاکرات کریں تاکہ یہ جنگ ختم ہو سکے اور مزید انسانی خون بہنے سے روکا جا سکے۔" یہ ایک ایسی سازش تھی جس کو میٹھی زبان میں چھپا دیا گیا تھا۔ صلح کی باتوں میں یہ تھا کہ درویشوں کے جان و مال کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔ یہ سرد جنوری کی پہلی تاریخ تھی اور ہفتے کا دن تھا۔

شہادت[ترمیم]

صوفی شاہ عنایت، اعظم خان کے پاس پہنچے تو معلوم ہوا کہ یہ صلح نامہ ایک دھوکہ تھا۔ شاہ عنایت کو گرفتار کرلیا گیا۔ اُن پر جھوٹے الزامات لگائے گئے۔ 8 جنوری 1718 بھی ہفتے دن تھا جب جاڑے ایک کی سرد شام کے وقت شاہ عنایت کوشہید کردیا گیا۔ جھوک کی خانقاہ پر حملہ ہوا جہاں ایک اندازے کے مطابق 24 ہزار صوفیوں کو قتل کیا گیا۔


حوالہ جات[ترمیم]

  1. صوفی عنایت اللہ شاہ بن مخدوم فضل اللہ بغدادی شہید (متوفّٰی: 1130ھ) انجمن ضیاءِ طیبہ۔ اخذ کردہ بتاریخ 3 جولائی 2017ء
  2. شیخ، ابوبکر (2 مئی 2016). "صوفی شاہ عنایت: سندھ کے پہلے سوشلسٹ". ڈان نیوز. 

مزید دیکھیں[ترمیم]