شاہ محمد عارف اللہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

الشاہ محمد عارف اللہ قادری ممتاز عالم دین مبلغ عالم اسلام پیر طریقت اپنے وقت کے بہترین عالم دین تھے۔

ولادت[ترمیم]

آپ 29اکتوبر 1909ء 14 شوال 1327ھ کو بھارت کے صوبہ یوپی کے شہرمیرٹھ میں اعلیٰ حضرت فاضل بریلی شاہ احمد رضاخان کے خلیفہ مجاز مولانا الشاہ حبیب اللہ قادری کے گھر پیدا ہوئے۔ چونکہ آپ کے گھر کا ماحول شروع ہی سے نہیں تھا۔ اس لیے آپ بھی بچپن ہی سے دین اسلام اور احکام شریعت کے پابند ہے۔

تعلیم وتربیت[ترمیم]

آپ نے ابتدائی تعلیم مدرسہ امداد الاسلام میرٹھ میں ہی حاصل کی اور عربی فارسی اردو انگریزی کی تعلیم الہ آباد یونیورسٹی سے حاصل کی۔25 نومبر 1933ء کو فارغ التحصیل ہونے پر علما اور مشائخ کی موجودگی میں عربی میں فی البدیہہ تقریرکی۔

درس و تدریس تبلیغ[ترمیم]

تعلیم سے فراغت کے بعد آپ نے اپنے والد کے ارشاد پر میرٹھ شہرکی عظیم جامع مسجد خير المساجد میں خطبہ جمعۃ المبارک عیدین کی امامت وخطابت شروع کی اور پورے ہندوستان میں تبلیغی دورے شروع کیے۔ اور لوگوں کے قلوب اور اذہان کو اپنی خطابت اورعلمی صلاحیتوں سے منور فرماتے رہے۔ اور اتحاد بین المسلمین کے لیے سرگرم رہے۔ آپ کوفن خطابت کا ملکہ حاصل تھا۔ جب آپ خطاب فرماتے تو پورے اجتماع پر سحر طاری ہو جاتا۔ ہو جاتے۔ آپ نہ صرف ایک عالم بلکہ خطیب بے بدل ہونے کے ساتھ ساتھ صاحب فراست صاحب بصیرت بھی تھے۔ لاکھوں کے اجتماع میں لوگوں کے دلوں کی کیفیت سے باخبر رہتے تھے۔ فن خطابت کے ساتھ آپ کو درس وتدریس پربھی خصوصی دسترس حاصل تھی۔

سیرت و کردار[ترمیم]

آپ نیک سیرت انتھائی پرہیز گار اور سنت رسولﷺ کے پابندنماز پنج گانہ کے ساتھ نوافل کا اہتمام اور تہجد کی پابندی آپ کا شعار رہا ہے۔ آپ انتہائی حلیم سخی اور غریب پرور تھے۔ معاملات پر گفتگو طے فرمایا کرتے تھے۔ وعدے کی پاسداری آپ کا معمول تھا۔ وضع داری میں ہے مثل و بے مثال تھے جو آپ سے ایک مرتبہ ملتا وہ بار بار ملنے کی تمنا کرتا تھا۔ آپ نے پوری زندگی سنت رسول ﷺ کی اس قدر پابندی کی کہ کوئی موقع بھی ہاتھ سے جانے نہ دیا۔ ساری زندگی فقیرانہ انداز میں گزار دی۔ دنیاوی مال و متاع سے دور رہے۔ آپ کا لباس ہی آپ کی عالمانہ و جاہت کا آئینہ دار تھا۔ عمامہ اور دستار کوکبھی بھی ترک نہ کیا۔ جلالت آپ کے چہرے سے عیاں رہتی۔

فلاحی سرگرمیاں[ترمیم]

میرٹھ شہر میں آپ کی زیر سرپرستی کی رفاہی اور فلاحی تبلیغی ادارے پروان چڑھے۔ دعوت و تبلیغ کا یہ موقع آپ کے اپنے مقاصد کے بارے میں سچائی لگن اور ارادے کی پختگی کو ظاہر کرنے کے ساتھ ساتھ نبی کریم کے آخری خطبہ حجة الوداع کی تعلیم کے اس حصے کی تکمیل نظر آتا ہے۔ جس میں ہر مسلمان کے لیے یہ لازم قرار دیا گیا ہے کہ وہ دین اسلام کے بارے میں آنے والی نسلوں کو آ گاہ کرتے رہیں۔ آپ گفتار و کردار میں یکساں اور متوازن شخصیت کے حامل تھے۔ جنوبی ایشیا میں ایک علاحدہ مملکت کے قیام کی تحریک چلی تو اتحاد بین مسلمین کے حصول کے پیش نظر اور فروغ دین اسلام کے اعلیٰ مقاصد کے لیے میدان میں عملی طور پر اترے اور ضلع میرٹھ میں مسلم لیگ کی تنظیم میں نواب محمد اسماعیل خان کے ہراول دستہ میں شامل ہو کر مسلم لیگ کو فعال بنانے میں بھر پور کردار ادا کیا۔

تحریک پاکستان[ترمیم]

25 نومبر 1945ء میں سنی بنارس کانفرنس کی داغ بیل ڈالی۔ اسی آل انڈیا سنی کانفرنس میں علمائے اہل سنت اور مشائخ عظام نے اجتماعی طور پر مسلم لیگ کےحق میں تاریخی فتوی جاری کیا تھا۔ جس پر آپ کے دستخط بھی موجود ہیں۔ 12 دسمبر 1945ء کو آپ نے بمبئی میں ایک بہت بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اپنے صدارتی خطبہ میں فرمایا کہ ہندو مسلم اتحاد ناممکن ہے۔ ہم اپنے لیے ایک ایسا علاحدہ وطن چاہتے ہیں۔ جہاں اسلامی شریعت کے مطابق فقہی اصولوں پر حکومت قائم ہو۔ انگریز اور ہندو کی سازشوں کو بے نقاب کرنے اور ان کا مقابلہ کرنے کے لیے علمائے اہل سنت اور مشائخ عظام پر مشتمل ایک کمیٹی بنی۔ آپ اس کے بھی ممبر تھے۔ آپ نے اس مقصد کے لیے دن رات ایک کر کے ہندو اور انگریز کی مشترکہ سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ان کے مکروہ عزائم کو ناکام بنادیا اور مسلمانوں کے مشترکہ مقاصد اور اتحادواتفاق کو فروغ دینے کے لیے بھر پور جدوجہد کی۔ہندوستانی حکومت نے اسلام دوستی اور پاکستان کے حق میں تحریک چلانے کی پاداش میں آپ کو گرفتار کرنے کا حکم دیا اور آپ پرظلم وستم کے دروازے کھول دیے۔ بالآخر ہجرت کو سنت نبوی سمجھتے ہوئے آپ نے ہندوستان سے ہجرت کر کے پہلے کراچی بعد ازاں خوشاب اور پھر مستقل طور پر راولپنڈی کی مرکزی جامع مسجد میں بطور ڈسٹرکٹ خطیب امامت و خطابت کے فرائض سر انجام دیتے رہے۔

تحریک ختم نبوت[ترمیم]

جس طرح آپ متحدہ ہندوستان میں قیام پاکستان اور تحریک خلافت کے لیے کام کرتے رہے۔ اسی طرح خاتم الانبیاء حضور سرکار دو عالم کی ختم نبوت کے لیے 1953ء کی تحریک ختم نبوت میں 313 علما کے ہمراہ جلوس کی قیادت کرتے ہوئے میدان عمل میں نکلے اور اسی تحریک کے دوران میں آپ کو گرفتار کر لیا گیا اور کئی ماہ تک آپ نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ آپ ان دنوں راولپنڈی کی مجلس عاملہ کے صدر بھی رہے۔ جس کا تذکرہ جسٹس منیر انکوائری رپورٹ میں موجود ہے۔ اسی طرح آپ 1973۔ د تحریک ختم نبوت کے بھی سالار ہے۔ اس کے لیے بھی بڑی قربانیاں دیں۔ منکرین ختم نبوت کو کھلے عام مناظرہ کا چیلنج کیا۔ 1974ء میں انگلستان میں منعقد ہونے والی ختم نبوت کانفرنس میں آپ نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے اور ان کو کلیدی عہدوں سے برطرف کرنے اور ان کے تمام لٹریچر ضبط کرنے کے مطالبات کیے اور حضور نبی کریم کو آخری نبی نہ مانے والے قادیانیوں کے گروہ کے لیڈر کو مناظرہ کا چیلنج کیا۔ جے قومی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے جلی سرخیوں سے شائع اور نشر کیا۔ آپ کی تبلیغی اورتحریکی سرگرمیاں وطن عزیز کی سرحد سے پار یو کے، ناروے، ماریش(افریقہ ) اور دیگر ممالک تک جاری و ساری رہیں۔ 1968ء میں انگلستان میں آپ نے 8ماہ کے قیام کے دوران میں جوتبلیغی فرائض سر انجام دیے، اس کے نتیجے میں لاتعدادغیرمسلم کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گئے۔ 1972ء میں ماریش ( افریقہ ) کی حکومت کی دعوت پر آپ وہاں تشریف لے گئے۔ وہاں پر آپ نےدار العلوم علیمیہ کا لج کی نئی عمارت کا سنگ بنیاد رکھا۔ 1925ء میں آپ نے کشمیر کے مجاہدین اسلام کے لیے امدادی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیا۔ 1977ء میں مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئر مین کے منصب پر فائز ہوئے

وفات[ترمیم]

آپ کا وصال با کمال 16 جولائی 1980ء راولپنڈی میں ہوا۔ کمرشل مارکیٹ سٹیلائٹ ٹاؤن راولپنڈی کی عید گاہ میں آپ کو مالک حقیقی کے سپرد کیا گیا۔[1] [2]

  1. تعارف علمائے اہلسنت، مولانا محمد صدیق ہزاروی،صفحہ 129مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ لاہور
  2. تذکرہ اولیائے پوٹھوارصفحہ 173صاحبزادہ مقصود احمد صابری، ہاشمی پبلیکیشنز راولپنڈی