شاہ میاں غلام محمد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
شاہ غلام محمد سے مغالطہ نہ کھائیں۔

شاہ میاں غلام محمد فضل احمد معصومی المعروف "حضرت جیو صاحب" اور قطب وقت کہلاتے ہیں۔

نام و نسب[ترمیم]

آپ کا نام شاہ میاں غلام محمد، لقب فضل احمد معصومی ہے اور آپ اسی لقب سے مشہور ہیں۔ عوام الناس اوباً و احتراماً آپ کو حضرت جی (جیو) کے بزرگانہ نام سے پکارتے ہیں۔

ولادت[ترمیم]

آپ کی ولادت 1151ھ میں بمقام سرہند شریف ہوئی۔ آپ کا نسب مجدد الف ثانی کے بڑے بھائی شاہ عبد الرزاق کی وساطت سے امیر المومنین عمر فاروق تک پہنچتا ہے۔ نیز آپ اپنی دادی صاحبہ کی وجہ سے مجدد الف ثانی کی اولاد سے ہیں۔

تعلیم و تصوف[ترمیم]

حفظ قرآن مجید کے بعد تعلیم مذہبی میں منہمک ہو گئے۔ مذہبی علوم سے بہرور ہو کر اپنے نانا جناب شاہ محمد رسا کی خدمت بابرکت میں چوبیس برس رہ کر جامع علوم ظاہری و باطنی، صاحب ذکر و فکر، صاحب مجاہدہ و مشاہدہ، صاحب استقامت و کرامت اور مکارم اخلاق سے متصف ہوئے، انہی سے بیعت ہو کر خلافت حاصل کی اور طریقہ عالیہ قادریہ و چشتیہ میں جناب شیخ عبد اللہ بخاری المقلب حضرت میر سے خرقہ خلافت حاصل کیا۔ آپ کا ارشاد ہے۔

’’ فقیر خدمت حضرت میر صاحب راہم ؒ بسیار کردہ ام، و ایں برکات کہ یافتہ ام از اثر التفات و صحبت ایشاں است‘‘

میں نے حضرت میر صاحبؒ کی بہت خدمت کی ہے۔ یہ تمام برکات یمن اور سعادت انہی کی محبت، شفقت اور توجہ کاملہ کا نتیجہ ہے۔

آپ کی مریدین کو ہر چہار سلسلہ میں مرید فرماتے۔ مگر خصوصاً سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں مرید کرتے اور اس کی وجہ خود بیان کی۔ فرماتے ہیں عہد رسالت مآب ﷺ سے دوری، بدعات و رسومات جاہلیہ کی زیادتی سے بہت فساد پیدا ہو گیا ہے۔ چونکہ اس طریقہ علیہ (نقشبندیہ) میں دیگر سلاسل کی بوجہ اتم و اکمل بہت زیادہ سنت نبوی ﷺ کی متابعت اور التزام شریعت پایاجاتا ہے۔ اس لیے اسی سلسلہ کی تعلیم عام کرتا ہوں۔

قیام پشاور[ترمیم]

پشاور آپ کی مستقل قیام گاہ تھی۔ مگر آپ اکثر ماوراء سرحد کے سفر بھی کرتے پشاور سے لے کر بخارا تک آپ نے پانچ بار سفر کیا۔ ان تمام علاقوں کے لوگ جو راستہ میں پڑتے ہیں آپ کے دست گرفتہ ہوئے۔ حتی کہ بادشاہ بخارا غازی شاہ مراد اور اس کا بیٹا امیر حیدر، مع اپنے دربار کے علما امرا کے طریقہ عالیہ نقشبندیہ میں آپ کے دست حق پرست پر بیعت ہوا۔

چار سو کے قریب آپ کے خلفاء تھے۔ جنھوں نے دین حق کی تبلیغ کی، سنت نبوی کی اشاعت کی۔ اہل سنت و جماعت کے عقائد کی پابندی کی۔ طریقہ نقشبندیہ مجددیہ کی کمال اخلاص اور محبت کے ساتھ خدمت سر انجام دی۔ ان حضرات کا ’’ امر باالمعروف ‘‘ ’’ نہی عن المنکر ‘‘ کا کرنا خاص وصف تھا۔

ذوق عبادت[ترمیم]

آپ کی عبادت کا یہ عالم تھا کہ تیرہ برس کی عمر سے لے کر وفات تک صائم الدھر رہے۔ اکثر اوقات علیحدگی اور چلہ میں رہتے۔ سفر وحضر میں دعائیں اوراد اور وظائف پڑھتے رہتے۔ چاشت کی نماز کے بعد تفسیر حدیث کا درس فرماتے۔ نماز ظہر کے بعد فقہہ پڑھاتے۔ مکتوبات حضرت مجدد الف ثانی ؒ کا درس دیتے۔ عصر کی نماز کے بعد مراقبہ فرماتے۔ مریدین پر توجہ کرتے اور تمام رات اللہ تعالیٰ کے حضور میں قیام کرتے۔

وسعت سخاوت[ترمیم]

سخاوت کا یہ عالم تھے کہ جب آپ پشاور پہنچے تو پشاور پر چاروں طرف سے تباہیوں اور بربادیوں کے بادل امڈ امڈ کر چھا رہے تھے۔ ان مصیبتوں میں سب سے بڑی مصیبت اس وقت قحط تھا۔ لوگ موت کے کنارے سسکیاں بھر رہے تھے۔ چھوٹے چھوٹے بچے والدین کے سامنے تڑپ تڑپ کر جان دے رہے تھے۔ آپ نے اپنے ’’ درویشانہ لنگر ‘‘ کو وسیع سے وسیع تر کر دیا۔ ہزار ہا لوگ اس لنگر سے روزانہ دووقت پیٹ بھر کر روٹی کھاتے۔ بلکہ اکثر غربا اپنے گھروں کو بھی لے جاتے ۔

ایک بار آپ کی خدمت میں ایک طالب علم آیا۔ اس نے سید الکونین، عالم علوم اولین و آخرین سیدنا احمد مجتبے ٰ محمد مصطفٰے ﷺ کی شان اقدس سے ایک نعت پڑھی جب وہ اس شعر پر پہنچا۔

وصف و ثنا کہ لائق نعتت بود کجا است

بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر[ترمیم]

آپ باربار فرماتے کہ خدا تیری زبان پر رحمت کرے۔ جب وہ نعت ختم کر چکاتو آپ نے ایک کنواں اور پانچ جریب زمین جو آپ کی اپنی ملکیت تھی اس طالب علم کو بخش دی اور فرمایا کہ یہ اسی شعر کا صدقہ ہے۔

آپ نے تین بار اللہ تعالیٰ کے نام پر اپنا تمام گھر اور سازو سامان تقسیم کر دیا اور چٹائی تک نہ چھوڑی۔ ایک بار ایک سائل آیا اور سوال۔ اس وقت آپ کے پاس کچھ نہ تھا۔ آپ ؒ نے اپنی پگڑی اور گلے سے کرتا اتار کر اس کو دے دیا اور فرمایا کہ اس کو فروخت کر کے اپنا گزارہ کر لے۔

کرامات[ترمیم]

آپ کی کرامات لکھی جائیں تو پوری کتاب بنتی ہے۔ صاحب تحفۃ المرشد نے اپنی کتاب کے صفحہ 101 سے لے کر صفحہ 128 تک بیان کی ہیں۔ آپ نے مشائخی کا طریقہ وفات سے دوسال قبل ہی بہت کم کر دیا تھا۔ خانقاہ اور مریدین صاحبزادہ فضل حق صاحب کے سپرد کر دی تھی۔ جب وفات کا وقت قریب آیا، تو آپؒ نے تمام فرزندوں اور مریدین کو جمع کیا۔ صبر، تقوی، حدود اللہ کی پابندی اور سنت نبوی ﷺ کی متابعت کی وصیت کی اس وصیت کے بعد کسی اور طرف التفات نہیں اور رفیق اعلیٰ کی طرف متوجہ ہو گئے، ذکر وفکر اور کلمہ توحید پڑھتے رہے۔ حتی کہ ’’ رفیق اعلیٰ ‘‘ سے جا ملے ۔

وفات[ترمیم]

آپ کی وفات یکم محرم الحرام 1232ھ بروزبدھ صبح کے وقت ہوئی۔ ان کے بیٹے فضل حق نے آپ کی وفات ’’آہ مرشد برفت‘‘ سے نکالی۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تذکرہ علما و مشائخ سرحد جلد اوّل، صفحہ 104 تا 1122،محمد امیر شاہ قادری ،مکتبہ الحسن کوچہ آقہ پیر جان یکہ توت پشاور