شاہ نیاز احمد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

شاہ نیاز احمد بریلوی سلسلہ چشتیہ نظامیہ کے ایک نامور صوفی، اردو اور فارسی کے بہت اچھے شاعر اور دہلی میں نامور اردو شاعر اور مسلم الثبوت استاذ، مصحفی کے استاذ تھے

ولادت[ترمیم]

آپ 1173ھ میں سرہند میں پیدا ہوئے۔

نام[ترمیم]

آپ کا نام راز احمد رکھا گیا۔ بعد میں شاہ نیاز احمد المعروف شاہ نیاز کے نام سے مشہور ہوئے ۔ واضح ہو کہ یہاں ’’بے نیاز‘‘ کا مطلب صاف ہے کہ وہ مخلوق سے بے نیاز تھے ۔ اسی باعث ’’شاہ نیاز بے  نیاز ‘‘ کے نام سے مشہور ہوئے ۔

خاندان[ترمیم]

شاہ نیاز احمد والد شاہ رحمت اللہ علوی کی طرف سے علوی اور والدہ کی طرف سے حسینی رضوی سیّد تھے۔ آپ شاہانِ بخارا کی اولاد میں سے ہیں۔ ان کا دار الحکومت اندی جان تھا۔ آپ کے ایک بزرگ شاہ آیت اﷲ علوی تاج و تخت چھوڑ کر ملتان آ گئے۔ ان کے پوتے شاہ عظمت اﷲ ملتان سے سرہند میں آکر رہنے لگے۔ وہاں سے شاہ رحمت اﷲ علوی دہلی تشریف لائے۔ آپ کے والد ماجد کا نام شاہ محمد رحمت اﷲ ہے۔ آپ کی والدہ ماجدہ کا نام بی بی لاڈو ہے۔ انھیں بی بی غریب نواز کے لقب سے پکارا جاتا ہے۔ وہ مولانا سیّد سعد الدین کی صاحب زادی تھیں، جو شیخ کلیم اﷲ شاہ جہاں آبادی کے خلیفہ تھے۔

ظاہری و باطنی تعلیم[ترمیم]

پندرہ برس کی عمر میں علوم ظاہری کی تکمیل کرکے دستارِ فضیلت حاصل کی۔ اس کے بعد آپ کی والدہ ماجدہ کی خواہش پر مولانا فخر الدین فخر جہاں نے آپ کو اپنی تربیت میں لے لیا، لیکن بیعت نہیں کیا۔ اس لیے کہ آپ کی بسم اﷲ کے وقت آپ کے نانا مولانا سعید الدین رضوی نے آپ کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا تھا۔ مولانا فخر الدین فخر جہاں ان کا بہت احترام کرتے تھے اور ان کے اس عمل کو بیعت ہی سمجھتے تھے۔ اس ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھنے کو بے ادبی سمجھتے تھے۔ ہاں البتہ اپنا دامن آپ کے ہاتھ میں پکڑا کر بیعت فرمایا اور اسے بیعت طالبی کا نام دیا۔ مولانا فخرنے آپ کو خلافت دے کر روہیل کھنڈ بریلی کو مسکن بنانے کی ہدایت فرمائی۔ اور اس طرح حلقہ روہیل کھنڈ کے بندگان خدا کی ہدایت و تلقین کی ذمہ داری شاہ نیاز بے نیازکو سونپی گئی۔ آپ نے مرشد کے حسب ہدایت بریلی میں محلہ خواجہ قطب کو دینی و روحانی مرکز بنایا جو خانقاہ نیازیہ کے نام سے آج بھی تمام مذاہب کے لوگوں میں رشد و ہدایت اور برکات تقسیم کر رہا ہے۔

شاعری و نمونہ کلام[ترمیم]

شاہ نیاز بے نیاز صاحب دیوان شاعر بھی تھے ۔ او ر ان کی شاعری کا محور وعشق الٰہی تھا ۔ وہ ’’ہمہ اوست ‘‘ کے نظریہ کے قائل تھے ۔ اور یہ نظریہ ان کے ہر شعر سے واضح ہوتا ہے ۔ ان کی شاعری کی یادگار ’’دیوان نیاز بریلوی ‘‘ ہے ۔ دیوان کو ریختہ ڈاٹ کام پر پڑھا جاسکتا ہے[1] اس کے علاوہ ان کی عشق الٰہی پر مبنی شاعری کے متعلق ایک تحریر بھی ہے ،جسے احمد خان نیازی نے سپرد قلم کیا ہے اور اسے مضامین ڈاٹ کام نے شائع کیا ہے اسے بھی دیکھا جاسکتا ہے ۔ [2]

بطورِ تمثیل شاہ نیاز بریلوی کی فارسی و اردو غزل پیش کی جاتی ہے تاکہ قارئین کو ان کے شعری مراتب کا علم ہو سکے۔ یہ واضح رہے کہ مصحفی جیسا شاعر شاہ نیاز بریلوی کا شاگرد تھا ۔ دیوان نیاز بریلوی کے حاشیہ کے مطابق :’ مصحفی ؔ نے شاہ نیاز بریلوی سے قیام دہلی کے دنوں عربی صرف کی مشہور و معروف کتاب ’’میزان الصرف‘‘ پڑھی تھی ۔ اس کے علاوہ شاعری میں بھی مصحفی ؔ نے شاہ نیاز بریلوی سے اصلاح سخن لی تھی۔ جیسا کہ حاشیہ دیوان نیاز سے واضح ہوتا ہے ۔

کافر عشق ز رسم و رہِ ایماں برگشت محو ِ نظارۂ جاناں ز دل و جاں برگشت

بسکہ از چشم سیہ مستِ کسے سرمستم دلم از ذوق ِ مئے ساغر ِ دوراں برگشت

می تواں از دو جہاں ، از دل و جاں برگشتن مگر از عہد ِ وفائے کہ نتواں برگشت

دوش از جلوۂ نازِ تو بہ صحنِ گلشن بلبل از نالۂ در دِ گل ِ خنداں برگشت

نظرِ اہل نظر منتج ِ کشف سب و شہود صوفی ٔ صافیم ، از حجت و برہاں برگشت

قید ِمذہب سبب ِ سلف تجرد تا دید دل بے قید ِ ز ہر گبر و ومسلماں برگشت

ہر کہ سودائے محبت بہ سرِ زلف تو کرد نقد ِ جمعیت ِ دل داد و پریشاں برگشت

نگہِ لطف ِ تو گ رسوئے نیاز آمد نیست روزے از رنج و غم و غصہ تواں جاں برگشت


عید ست ساقیا در ِ میخانہ باز کن پیمانِ توبہ بشکن و پیمانہ ساز کن


ہنگامِ زہد و تقویٰ گذشت و رفت دورِ حقیقت ست ، وداعِ مجاز کن


بنگر بہ پیچ و تاب ِ دل سوگوار من کوتاہی ٔ تطاول ِ زلف دراز کن


بنما بہ ما ، تجلی ٔ جاں بخش دل کشا طرز و ادا و غمزۂ عاشق نواز کن


امروز روزِ عیش و نشاط و سرورہست جودو عطا ، و لطف بہ اہل نیاز کن


گنج قناعت ست کہ دل را غنی کند اے دل اگر غنا طلبی ، ترک ِ تاز کن


تاصبحِ وصل در نہ دہد، ہر شب اے نیاز ؔ چوں شمع آہ و گریہ بسوز و گداز کن


اردو غزل :


جدھر دیکھتا ہوں ، جہاں دیکھتا ہوں خدا ہی کا جلوہ عیاں دیکھتا ہوں


نہ تن دیکھتاہوں ، نہ جاں دیکھتاہو ں تجھی کو نہاں او راور عیاں دیکھتا ہوں


اگر کوئی جانِ جہاں غیر ِ حق ہے سو میں اس کو دھوکا،گماں دیکھتا ہوں


یہ جو کچھ کہ پیدا ہے ، سب عین حق ہے کہ اک بحرِ ہستی رواں دیکھتا ہوں


کہاں غیر ہے اور کسے غیر جانوں سویٰ اللہ کدھر ہے ، کہاں دیکھتاہوں


جسے ذات ِ بے رنگ و بے چوں کہے ہیں بہ ہرنگ جلوہ کناں دیکھتا ہوں


نیاز اب ہوا ناتوانی سے تو پیر ولے عشق تیرا جواں دیکھتا ہوں



افسانہ مرے درد کااس یار سے کہہ دو فرقت کی مصیبت کو دل ِ زار سے سے کہہ دو


جھکتا نہیں یہ دل طرفِ قبلۂ عالم محراب ِ خم ِ ابروئے دلدار سے کہہ دو


اک تو ہی نہیں ، میں بھی ہوں ان آنکھوں کا مارا اے اہل نظر نرگسِ بیمار سے کہہ دو

سسکے ہے پڑا جی تری مژگاں کایہ گھائل تیرِ نگہ ِ دیدۂ خونخوار سے کہہ دو

میں عشق کے ملت میں ہوں اے شیخ و برہمن جا، عشق مرا ، سبحہ و زنار سے کہہ دو


کیا جوش میں ہے ، اب مئے وحدت خم دل میں ابلے ہے پڑی ، رومی ؔ و عطار ؔ سے کہہ دو

شادی[ترمیم]

آپ کی پہلی شادی سلسلہ قادریہ کے ایک بزرگ شاہ عبد اللہ قادری بغدادی کی صاحبزادی کے ساتھ ہوئی۔ جو لاولد ہی اس دنیا سے کوچ کر گئیں۔ ان کی وفات کے بعد آپ نے دوسری شادی کی۔ دوسری بیوی سے ان کے تین بچّے ہوئے، جن میں دو بیٹے اور ایک بیٹی تھی مگر بیٹی چھوٹی عمر میں ہی انتقال کر گئیں۔ بڑے بیٹے کا نام نظام حسین اور چھوٹے کا نام نصیر الدین حسین ہے۔

وفات[ترمیم]

آپ نے پچانوے سال کی عمر پائی۔ آپ کا وصال 6 جمادی الثانی 1250ھ کو ہوا۔ آپ کا مزار بریلی میں ہے۔ آپ کے بڑے صاحب زادے آپ کے سجادہ نشین ہوئے۔[3][4]

حوالہ جات[ترمیم]