شاہ پیر محمد لکھنوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
شاہ پیر محمد لکھنوی
مقبرہ شاہ پیر محمد لکھنوی
پیدائش1619مطابق 1027ھ
موضعا اٹاواں ضلع جونپور اتر پردیش ہندوستان
وفات05اکتوبر 1672ء مطابق 13 جماد الثانی 1083ھ
اسمائے دیگرمولانا شاہ پیر محمد
وجہِ شہرتسلسلہ چشتیہ کے بزرگ
مذہباسلام
مضامین بسلسلہ

تصوف

Maghribi Kufic.jpg



شاہ پیر محمد لکھنوی کی ولادت ماہ رمضان 1027ھ مطابق 1619ء میں ضلع جونپور کے اٹاواں میں ہوئی تھی۔[1]آپ سادات منڈیاہوں (جونپور) میں سے تھے۔

حالات[ترمیم]

شاہ پیر محمد نے کتب درسیہ کی تحصیل جونپور ،حرمین شریفین ،دہلی، اجمیر اور قنوج میں حاصل کی اور بعد میں لکھنؤ پہونچے ۔ آپ شیخ عبد اللہ چشتی ، سیددکھنی کے شاگرد اور پیروکار تھے۔آپ نے دہلی میں علامہ حیدر سے تعلیم حاصل کی اور لکھنؤ میں قاری عبد القادر عمری کے شاگرد رہے۔[2]آپ ایک مدت تک شاہ مینا لکھنوی کے مزار پر رہ کر ریاضت اور مجاہدہ کیا ۔اس کے بعد مولوی عبد القادر کی خدمت فاتحہ فراغ پڑھا ،باطن میں حضرت شاہ مینا کی روح پر فتوح تربیت حاصل کی اس کے بعد شاہ عبداللہ سیاح چشتی کی خدمت میں پہنچے اور ارادت وس خلافت سے سر فراز ہوئے۔لکھنؤ میں سکونت کی اجازت ملی، اپنےپیر کی وصیت کے موافق ہمیشہ افادۂ علم میں مشغول رہے اور جو کچھ فتوحات سے حاصل ہوتا خدا کی راہ میں صرف کر دیتے اور اپنے لیے صرف ایک دن کی خوراک کے علاوہ اور کچھ نہ رکھتے ۔اکثر علمائے نامدار نے فاتحہ فراغ ان سے پڑھی۔[3]آپ نے شادی نہیں کی تھی ۔

وفات[ترمیم]

شاہ پیر محمد لکھنوی کی وفات13جمادی الثانی 1083ھ مطابق 1674میں ہوئی۔[4]آپ کا مقبرہ دریائے گومتی کے کنارے واقع ایک ٹیلہ پر ہے جہاں ایک بڑی وسیع مسجد بھی آپ کے نام سے موسوم ہے جو مسجد ٹیلہ شاہ پیر محمد کے نام سے مشہور ہے۔ آپ کے جانشین آپ کے خلیفہ شیخ محمد آفاق ہوئے۔[5]

ٹیلہ والی مسجد[ترمیم]

شاہ پیر محمد کے حکم سےمغل گورنر فدائی خاں کوکا نے کی تھی ،جس میں آپ نے ایک مدرسہ بھی قائم کیا تھا۔جس میں اس وقت 700 سے زیادہ طلبہ علم دین حاصل کر تے تھے۔1857 کی جنگ آزادی کے دوران یہاں کے استادوں اور طلبہ نے یہاں سے انگریزوں کے خلاف جنگ میں حصہ لیا اور جام شہادت کیا۔جس کے بعد یہاں کے مدرسہ کو انگریزوں نے مسمعار کر دیا تھا ۔کچھ سالوں بعد مسجدمیں نماز کی اجازت مل گئی تھی ۔1901 میں مسجد کو مسلمانوں کے حوالے کیا گیا اورشاہ وارث حسن یہاں کے متولی اور درگاہ کے سجادہ نشین ہوئے جو 1936 میں اپنی وفات تک یہاں کے متولی اور سجادہ نشین ہوئے۔آپ کی وفات کے بعد آپ کے بیٹے مولانا سید شاہ وائظ حسن متولی و سجادہ نشین ہوئے جو اپنی وفات1989 تک اس عہدے پر رہے۔آپ کےآپ کے بیٹے بعد مولانا شاہ سید فضل الرحمن واعظی آپ کے جانشین ہوئے۔2016 میں آپ کی وفات کے بعد آپ کے بیٹے فضل مننان رحمانی آپ کے جانشین ہوئے۔[6]