شاہ چراغ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مسجد شاہ چراغ
Shāh-é-Chérāgh Mosque
Mausoleo de Shah Cheragh, Shiraz, Irán, 2016-09-24, DD 32.jpg
شاہ چراغ
بنیادی معلومات
مقام Flag of ایران شیراز, ایران
متناسقات 29°36′34.58″N 52°32′35.88″E / 29.6096056°N 52.5433000°E / 29.6096056; 52.5433000متناسقات: 29°36′34.58″N 52°32′35.88″E / 29.6096056°N 52.5433000°E / 29.6096056; 52.5433000
مذہبی انتساب اہل تشیع
ملک ایران

شاہ چراغ کے نام سے معروف یہ عمارت ایران کی اسلامی و شیعہ تاریخ میں خاص مقام و منزلت کی حامل ہے۔ یہ عمارت ایران کے شہر شیراز میں واقع ہے۔ اس عمارت میں احمد اور محمد جو امام موسیٰ کاظم کے پسران اور امام رضا کے برادران تھے کی آخری آرام گاہیں ہیں۔ دونوں، احمد و محمد، نے عباسیوں کے ظلم کی وجہ سے شیراز کی جانب ہجرت فرمائی۔ لفظ شاہ۔۔ اور چراغ۔۔ فارسی کے دوالفاظ کا مجموعہ ہے جس کا مطلب ہے روشنی کا بادشاہ۔ اس عمارت کو اس نام کے دئے جانے کی وجہ یہ ہے کہ آئت اللہ دستغیب رحہ نے دور سے دیکھا کہ اس مقام سے نور و روشنی کا ظہور ہورہاہے تو انہوں نے تحقیق کی ٹھانی اور جب وہاں پہنچے تو دیکھا کہ یہ روشنی ایک قبرستان میں موجود ایک مخصوص قبر سے آرہی ہے جب اس قبر کو کھولاگیاتو وہاں سے ایل جسد خاکی ملاجو جنگی لبا س میں ملبوس اور ایک انگوٹھی پہنے ہوئے تھا جس پر کندہ تھا کہ "تمام تعریفیں اللہ کیلئے خاص ہیں ۔۔ احمد بن موسیٰ۔ پس اس سے معلوم ہوا کہ یہ موسیٰ کاظم کے پسران احمد و محمد کی آخری آرامگاہیں ہیں۔

جائزہ[ترمیم]

اس مقبرے کو بطور زیارت گاہ اہمیت اس وقت حاصل ہوئی جب ملکہ تاشی خاتون نے چودھویں صدی میں یہاں ایک مسجد و ایک نظریاتی سکول قائم کیا۔

تاریخ[ترمیم]

اس زیارت گاہ کی شیراز اور اردگرد کے شہروں میں بہت اہمیت ہے۔ احمد غالبن تیسری صدی ہجری کے اوائل میں شیراز آئے تھے اور یہیں فوت ہوئے۔ عمادالدین زنگی کے ایک وزیر مسمی امیر مقرب الدین بدرالدین نے اس مقبرے پر ہجرہ تعمیر کیا۔ جبکہ ملکہ تاشی خاتون کے حکم پر کی جانے والی تعمیر نو سے قبل تک یہاں خستہ حال مسجد بھی قائم تھی۔

نگارخانہ[ترمیم]

ماخذ[ترمیم]

شاہ چراغ کا مقبرہ اور زیارت گاہ