شبیر شاہد (شاعر)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

شبیرشاہد اردو اور پنجابی کے نووارد شعراء میں سے ہیںَ۔

نام[ترمیم]

پیدائشی نام شبیر حسین اور قلمی نام شبیرشاہد بطور تخلص استعمال کرتے ہیں۔

پیدائش[ترمیم]

ان کی تاریخ پیدائش 23 مئی 1982ء بروز اتوار ہے۔ والد کا نام خادم حسین جوقوم کھوکھر سے تعلق رکھتےہیں۔

مقام[ترمیم]

ان کی ولادت اوررہائش چک نمبر 108/9 ایل تحصیل و ضلع ساہیوال، (منٹگمری) پنجاب، پاکستان میں ہے۔

تعلیم[ترمیم]

مشاغل[ترمیم]

شبیر شاہد پیشہ کے لحاظ سے پنجاب پولیس میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر (ASI) کے عہدے پر متعین ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ شاعری میں بھی طبع آزمائی کرتے ہیں۔ انہیں پنجابی ادبی سیوک ایوارڈ 2016ء مل چکا ہے، اکثر کلام سہ ماہی مہکاں میں چھپتا ہے۔[1] [2]

مجموعہ کلام[ترمیم]

شبیر شاہد کے دو مجموعات کلام زیر طبع ہیں:

  • عکس بر عکس (اردو غزلیات)
  • اتھرے اتھرو (پنجابی غزلیات)

نمونہ کلام[ترمیم]

نعت[ترمیم]

نعت

کون طیبہ سے انحراف کرے توبہ توبہ خدا معاف کرے
چاند کو چار چاند لگ جائیں ان کے چہرے کا گر طواف کرے
پھر ثنائے نبیؐ کی رم جھم ہو دل تخیل میں اعتکاف کرے
اس کی محبوب رب سے کیا نسبت جو محبت سے اختلاف کرے
عرض شاہد ہے خاک طیبہ سے گرد عصیاں سے پاک صاف کرے


غزل[ترمیم]

غزل

قلم موتی جنے ایسی کرامات جانتا ہوں میں شاعر ہوں محبت کا محبت جانتا ہوں
زباں بے باک ہے ساری کہانی کھول دیگی میرے سر کو قلم کر دو ،حقیقت جانتا ہوں
میری تو خاک بھی احساس سے سینچی گئی ہے مجھے پہچان رشتوں کی مت بتا میں ،جانتا ہوں
تجھےغیور لوگوں سے تحفظ دے رہے ہیں تیرا قانون اور تیری سہولت جانتا ہوں
میں شاہد ہوں میری تخلیق میرے سامنے ہے وجود خاک میں ہونے کی عظمت جانتا ہوں

حوالہ جات[ترمیم]

ترچھا متن

  1. روزنامہ خبریں لاہور،26ستمبر 2016،
  2. اخبارِجہاں لاہور 12-18 ستمبر 2016 ء