شجاع الدین بٹ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
شجاع الدین بٹ ٹیسٹ کیپ نمبر 17
ذاتی معلومات
مکمل نامShujauddin Butt
پیدائش10 اپریل 1930(1930-04-10)
لاہور, صوبہ پنجاب, برطانوی راج
وفات7 فروری 2006(2006-20-07) (عمر  75 سال)
انگلستان
بلے بازیRight-handed
گیند بازیSlow left-arm orthodox
حیثیتBatsman
بین الاقوامی کرکٹ
قومی ٹیم
پہلا ٹیسٹ (کیپ 17)10 June 1954  بمقابلہ  England
آخری ٹیسٹ2 February 1962  بمقابلہ  England
قومی کرکٹ
سالٹیم
1947Northern India
1947پنجاب کرکٹ ٹیم (پاکستان)
1948–1952Punjab University
1953–1964Combined Services
1958–1970Bahawalpur
1966راولپنڈی کرکٹ ٹیم
کیریئر اعداد و شمار
مقابلہ ٹیسٹ کرکٹ فرسٹ کلاس کرکٹ
میچ 19 101
رنز بنائے 395 3,490
بیٹنگ اوسط 15.19 25.28
100s/50s 0/0 6/14
ٹاپ اسکور 47 147
گیندیں کرائیں 2,313 18,002
وکٹ 20 319
بولنگ اوسط 38.14 21.91
اننگز میں 5 وکٹ 0 18
میچ میں 10 وکٹ 0 4
بہترین بولنگ 3/18 8/53
کیچ/سٹمپ 8/- 69/-
ماخذ: CricketArchive، 2 March 2013

شجاع الدین بٹ ( پیدائش : 10 اپریل 1930ء | وفات: 16 اپریل 2006ء ) ایک پاکستانی کرکٹر ہیں ۔[1]جنہوں۔نے پاکستان کی طرف سے 19 ٹیسٹ میچ کھیلے وہ ایک آرمی آفیسر تھے جنہوں نے 26 سال کا عرصہ ملک کے اس عسکری ادارے میں گزارا اور 1978 میں لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے سے ریٹائرڈ ہوئے۔

ابتدائی دور[ترمیم]

وہ 1930ء میں لاہور میں پیدا ہوئے تھے اور انہوں نے اپنی تعلیم اسلامیہ کالج لاہور سے حاصل کی۔ آرمی کی سروس کے دوران 1971ء میں وہ بنگلہ دیش میں جنگی قیدی بنا لئے گئے تھے جہاں ان کے 18 ماہ اسیری میں گزرے۔ ان کی کرکٹ کے موضوع پر 1996ء اور 2003ء میں انگریزی زبان میں شائع ہونے والی دو کتابوں نے بہت شہرت حاصل کی۔ انہوں نے پاکستان کے علاوہ بہاولپور' ناردرن انڈیا' پنجاب یونیورسٹی' راولپنڈی اور پاکستان سروسز کی طرف سے بھی فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلی۔ وہ 1948ء میں لاہور کے مقام پر ویسٹ انڈیز کے خلاف سب سے پہلے فرسٹ کلاس کرکٹ میچ میں شرکت کرنے کا اعزاز بھی رکھتے ہیں۔ وہ 1946-47ء میں فرسٹ کلاس کرکٹ میں وارد ہوئے۔ اس وقت ان کی عمر صرف 16 سال تھی جب انہوں نے آزادی سے قبل ناردرن انڈیا کی طرف سے کھیلنے کی ابتداء کی۔ انہوں نے 101 فرسٹ کلاس میچ کھیلے جس میں 6 سنچریوں کی مدد سے 3490 رنز 25.28 کی اوسط سے بنائے۔ 147 ان کا سب سے زیادہ سکور تھا۔ انہوں نے 69 کیچز بھی لئے۔ انہوں نے 319 وکٹ 21.98 کی اوسط سے حاصل کئے اور 53 رنز کے عوض 8 وکٹوں کا حصول ان کی فرسٹ کلاس میں ایک اننگ کی بہترین کارکردگی تھی۔ فرسٹ کلاس کرکٹ میں شجاع اس وقت نظروں میں آئے جب انہوں نے ایم سی سی کی کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان میں کمبائنڈ یونیورسٹی کی طرف سے 112 رنز بنائے۔ صرف 2 روزہ میچ میں اس شاندار کارکردگی کے باوجود انہیں 1951-52ء میں بھارت کا دورہ کرنے والی ٹیم کا حصہ نہ بنایا گیا۔ اسی طرح انہوں نے 1954ء کے دورہ انگلستان میں فرسٹ کلاس میچز میں عمدہ کارکردگی دکھائی جہاں انہوں نے لیسٹرشائر کے خلاف 5/37' ڈیون شائر کے خلاف 3/36 اور 4/42' آکسفور یونیورسٹی کے خلاف 4/45' بل مورگن کے خلاف 3/27 اور 3/46' لنکا شائر کے خلاف 5/26' سمر سیٹ کے خلاف 3/68' واربک شائر کے خلاف 4/31' مڈل سسیکس کے خلاف 4/66 اور 3/85' آل انگلینڈ الیون کے خلاف 2/47 اور انگلستان کے خلاف مانچسٹر کے تیسرے ٹیسٹ میں 3/127 کی عمدہ پرفارمنس دی اور اسی طرح اوول کے ٹیسٹ میں انہوں نے ذوالفقار احمد اور محمود حسین کے ساتھ مل کر 56 رنز جوڑے جس سے ٹیم کا سکور 133 تک پہنچ گیا۔ شجاع الدین بٹ 2 گھنٹوں سے بھی زائد کریز پر رہے اور 16 رنز کے ساتھ ناٹ آئوٹ پویلین لوٹے۔ دوسری اننگ میں شجاع نے حنیف محمد کے ساتھ اننگز کا آغاز کیا۔ اس پورے دورے میں اگر وہ فضل محمود اور محمود حسین کے بعد وکٹوں کے اعتبار سے تیسرے نمبر پر تھے۔ انہوں نے 68 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ اسی طرح عبدالحفیظ کاردار اور مقصود احمد کے بعد وہ سب سے زیادہ کیچز لینے والے کھلاڑی تھے۔ اس کے بعد انہوں نے 1956ء میں پاکستان کے دورے پر آئی ایم سی سی کی ٹیم کے خلاف پاکستان سروسز کی طرف سے سرگودھا کے مقام پر 147 رنز کی باری کھیلنے کے علاوہ 71 رنز کے عوض 6 وکٹیں بھی حاصل کیں۔ اسی طرح پہلے غیر سرکاری ٹیسٹ میں لاہور کے مقام پر 5 وکٹوں کے حصول کیلئے انہوں نے صرف 33 رنز دیئے۔

ٹیسٹ کرکٹ میں آمد[ترمیم]

شجاع الدین بٹ ایک جارحانہ بلے باز کے طور پر پہچان رکھنے والے بائیں ہاتھ کے سلو بائولر تھے۔ انہوں نے 1954ء سے 1962ء تک پاکستان کی طرف سے 19 ٹیسٹ کھیلے۔ انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ کا آغاز 1954ء کے دورہ پاکستان میں لارڈز کے میدان پر کیا تھا۔ انہوں نے اسی سیریز میں اوول کا وہ ٹیسٹ بھی کھیلا جو پاکستان کی شاندار فتح پر منتج ہوا تھا لیکن ٹیسٹ میچوں میں ان کی تسلسل کے ساتھ کارکردگی دیکھنے کو نہ ملی تاہم ان کی کارکردگی فرسٹ کلاسز میچ میں نمایاں تھی لیکن اس کے باوجود انہیں 1952-53ء میں بھارت کے خلاف اولین سیریز میں نظرانداز کردیا گیا تھا حالانکہ شجاع الدین بٹ اس وقت تک فرسٹ کلاس میچوں میں 28.42 کی اوسط سے 68 وکٹ لے چکے تھے۔ ان کا اپنی سرزمین پر بہترین سیزن 1961-62ء تھا جہاں ایک بار پھر انہوں نے 68 وکٹ لئے۔ اس مرتبہ ان کی فی وکٹ اوسط قدرے بہتر 18.52 تھی لیکن پھر بھی وہ سلیکٹر کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہے لیکن 1955-56ء میں نیوزی لینڈ کے خلاف اور 1958-59ء میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ڈھاکہ اور کراچی میں انہیں قومی ٹیم کے ساتھ موقع ملا مگر وہ حقیقی سیزن جس میں ان کی صلاحیتیں کھل کر سامنے آئیں در حقیقت وہ 1959-60ء تھا جب انہوں نے لاہور میں آسٹریلیا کے خلاف 318 منٹ میں 45 قیمتی رنز بنائے۔ اس سکور کی اہمیت اس سے بھی زیادہ تھی کہ پہلی اننگز میں پاکستان کی ٹیم مشکلات سے دوچار تھی اور اس وقت کے کپتان سعید احمد نے انہیں اعتماد دیا اور ہدایت کی کہ ہر حال میں وکٹ پر قیام کو ممکن بنائیں گے۔ انہوں نے سعید احمد کے ساتھ مل کر تیسری وکٹ کیلئے 169 رنز جوڑے۔ ان کی احتیاط کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اپنا پہلا رنز لینے کیلئے 65 منٹ انتظار کیا۔ ان کا یہ ریکارڈ آج بھی قائم ہے کہ انہوں نے اپنا کھاتہ کھولنے کیلئے اتنا انتظار کیا۔ یہ ان کے انہماک کی بدولت تھا کہ پاکستان اس میچ میں یقینی شکست سے محروم رہا۔ 1955-56ء میں نیوزی لینڈ کے دورے میں ان کی شاندار بالوئنگ سامنے آئی جب انہوں نے 33 اوورز میں سے 19 میڈن اوور کے ساتھ 35 رنز دے کر 4 وکٹوں کا حصول ممکن بنایا اور 47 رنز بھی بنا لئے۔ اس اننگز کی خاص بات یہ تھی کہ اسی بدولت کراچی میں پاکستان کی فتح ممکن ہوئی۔ ڈھاکہ اور لاہور کے بقیہ ٹیسٹوں میں بھی ان کو بائولنگ کا موقع ملا۔ اس کے بعد وہ 1956ء میں آسٹریلیا کے خلاف کراچی ٹیسٹ اور 1957-58ء میں ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز کا حصہ رہے۔

ریٹائرمنٹ اور وفات[ترمیم]

کرکٹ سے ریٹائر ہونے کے بعد انہیں 1976-77ء میں پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے دورہ آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز کیلئے منیجر مقرر کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ وہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز سے بھی وابستہ رہے اور پھر پاکستان کرکٹ بورڈ میں انچارج لائبریری/ آرکائیو بھی رہے پھر وہ انگلستان چلے گئے اور وہیں پہ 7 فروری 2006ء کو 75 سال 303 دن کی عمر میں اس دنیا کو خیر باد کہہ گئے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. انگریزی ویکیپیڈیا کے مشارکین. "Shujauddin Butt".