شجرہ طریقت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

شجرہ طریقت شجرہ نسب کی طرح تصوف و سلوک کی اصطلاح میں شجرہ طریقت بھی استعال ہوتا ہے جسے شجرہ شریف، شجرہ نسبت کہا جاتا ہے۔

رائج طریقہ[ترمیم]

تمام مشائخ و صوفیا میں اپنی نسبت کی حفاظت کے لیے ایک عام طریقہ رائج ہے کہ وہ وقتِ بیعت اپنے مریدین یاطالبین کو تحریر شدہ اپنے سلسلہ طریقت کا شجرہ شریف بھی دیتے ہیں، جس میں ان سے اوپر کے تمام مشائخ عظام کے نام ترتیب وار درج ہوتے ہیں اور ضروری وظائف کے ساتھ مخصوص ہدایات بھی درج ہوتی ہیں۔

عمومی انداز[ترمیم]

شجرہ طریقت میں مشائخ اکرام کے نام بالترتیب اس طرح لکھے ہوتے ہیں کہ یہ کڑی در کڑی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک جا پہنچتا ہے اسی طرح ہرشیخ طریقت جب اپنے مرید کامل کو اپنی خلافت عطا کرتا ہے تو وہ اس کے نام کا اندراج بھی اپنے اس شجرہ میں کردیتا ہے اور اس کو بھی اس کڑی میں شامل کرلیتا ہے۔ جس طرح محدثین اکرام احادیث شریفہ کو اُمت تک محفوظ طریقے سے پہنچانے کے لیے اپنی سندوں کی حفاظت کرتے ہیں اور اپنی سندوں کو اس ترتیب سے روایت کرتے ہیں جس ترتیب سے ان تک روایت پہنچی ہوتی ہے اسی طرح صوفیا اکرام بھی اپنی نسبت کو اسی ترتیب سے بیان کرتے ہیں جس ترتیب سے ان تک نسبت پہنچی ہوتی ہے۔ نسبت کی یہی ترتیب شجرہ ِطریقت کہلاتی ہے۔بعض صوفیا حضرات اپنا شجرہ طریقت منظوم انداز میں طبع کراتے ہیں جو دعائیہ ہوتا ہے اور دعا کی قبولیت کے لیے نسبت کو بطور وسیلہ اشعار میں استعمال کرتے ہیں۔

شجرہ کی ترتیب[ترمیم]

شجراتِ طریقت ترتیب کے لحاظ سے دو طرح کے ہوتے ہیں

  • 1 ترتیب عروجی۔ (اپنے شیخ طریقت کے نام سے شروع کرکے حضور اکرم ﷺ کے اسم مبارک تک)۔
  • 2 ترتیب نزولی ِ (حضور اکرم ﷺ کا نام مبارک سے شروع کرکے اپنے شیخ کے مبارک نام تک )۔

یہ دو اسلوب منظوم شجرات میں بھی مستعمل ہیں۔ مشائخ چشت کے شجرات میں اسلوب اول یعنی بطور سلسلہ روایت مستعمل ہے اور دوسرا اُسلوب سلسلہ نقشبدیہ اور سلسلہ قادریہ کے بعض مشائخ نے اختیار کیا ہے۔ ہر دو اسلوب افادیت میں برابر ہیں اور اسلوب کا اختلاف ہر سلاسل کے امام کا اپنا اپنا ذوق ہے۔

شجرہ پڑھنا[ترمیم]

سلاسل طریقت میں شجرہ کے پڑھنے کی تلقین اس لیے کی جاتی ہے کہ جب کوئی مرید یا طالب اپنے سلسلے کا شجرہ پڑھتا ہےتو اپنے مشائخ کرام کے نام لینے اور ایصال ثواب کرنے کی برکت سے شجرہ پڑھنے والے کو اپنے تمام شجرے میں درج شیوخ طریقت کی روحانی توجہ اور فیوض حاصل ہوتے رہیںاسی طرح مرید کو جب یہ یقین کامل ہوجائے گا کہ میں نے جس پیر کے ہاتھ میں ہاتھ دیا ہے، میرے اس پیر کا سلسلہ شجرے میں درج تمام مشائخ عظام سے ہوتا ہوا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچتا ہے تو اس کے دل میں اپنے پیر اور سلسلے کے تمام مشائخ اکرام کی محبت راسخ ہوجانا لازمی امر ہےاس شجرہ کے پڑھنے میں یہ اعتقاد بھی شامل ہے کہ ان بزرگوں کی ارواح مقدسہ خوش ہوتی ہیں اور ایصال ثواب کرنے والے مرید پر خصوصی نظرِعنائت کرتی ہیں، جس سے وہ مرید دینی اور دنیاوی بے شمار برکتیں حاصل کرتا ہے[1]

  1. نیا سویرا[مردہ ربط]